پیام کربلا اور ہم
لرسوله وللمومنین*، (5) یعنی منبع عزت اللہ ہے یہ دولت جس کو ملتی ہے وہ خدا کی طرف سے ہوتی ہے دنیاوی طاقت کسی کو صاحب عزت نہیں بنا سکتی اگر خدا نہ چاہے۔ (6
آج دنیا وی عزت و شہرت کے لیے ہم اپنی پرواز بلند رکھنا چاہتے ہیں اسی لیے ہر ساعت کوشاںہیںکہSocio-Economic Statusبلند سے بلند تر ہوتا جائے اس خام خیالی نے انسان کو خود سے گمشدہ بنا دیا ہے لہٰذا اسنے اپنے فرائض کو Social Institutionsکے حوالہکرناشروعکردیاجسےPost-modernity کا نام دیا گیا یہ فرائض کی انجام دہی بھی کسی حد تک فقط Social Fobiaکی دین ہے ورنہ جہاں کمسن بچیاں اپنی عصمتوں سے محفوظ نہ ہوں وہاں معرفتِ فرائض کا ذکر ہی کیا ۔
سن٦٠ ہجری میں امام حسین جب حج کا احرام اتار رہے تھے اس وقت مسلمان احرام حج باندھ رہے تھے یعنی روح حج مکہ چھوڑ رہی تھی اور مسلمان امام حسین کا ساتھ نہ دے کر فریضہ حج کی ادائگی کو عبادت سمجھ رہے تھے۔اسلیے کہ امامِ حسین جانتے تھے کہ یہ وقت حج بچانے کا ہے حج کرنے کا نہیں۔
امام حسین دین بچانے کی راہ میں قربانی کی حد تک راضی تھے لہٰذا آپ کے قدم اپنے مقصد کی طرف بڑھ رہے تھے کیوں کہ آپ جانتے تھے کہ زندگی اور موت میں عزت ہے اگر وہ خدا کے لیے ہو اور درباری علماء و ضمیر فروش خدّام حکومت جو اپنی آبرؤں کو حیوان صفت حاکم کے پاس گروی رکھ چکے تھے امام کائنات کے خلاف باطل اقدام کے مردہ فتوے دے رہے تھے ۔ کیوں کہ وہ سمجھتے تھے کہ عزت دربار کی خوشامد اور اس کی وفاداری میں ہے۔ہم کو یہ بات ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ اگر راہ حق ہے تو خواہ راستہ کتنا ہی سنگلاخ کیوں نہ ہو اسی پر باقی رہتے ہوئے موت کا استقبال کرنے کے لیے آمادہ و تیار رہنا چاہیے ۔کیوں کہ اسی میں خدا کی دی ہوئی عزت و طاقت ہے۔ آخر ! موت تو ایک دن سب کا مقدر ہے وہ ذلت کے ساتھ ہو خواہ عزت کے ساتھ یہ انسان کے انتخاب نظر پر منحصر ہے ۔
٣۔اسلام اہل کو اسکا جائز مقام ومنصب دینے اور دلانے کا علمبردار ہے وہ نااہلوں کے ہاتھوں استعداد واہلیت کے شکار کا شدید مخالف ہے کیوں کہ اس سے دین مسخ اور معاشرہ بے آبروہو جاتا ہے ۔ اور نہ ہی وہ سلطنتوں میں ولیِ عہدی کا قائل ہے۔ وہ اہل کا قائل ہے ولی عہد کا قائل نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مکتب تشیع میںامامت و عصمت بڑے اور چھوٹے پر موقوف نہیں ہے بلکہ نظرِ قدرت کے انتخاب پرمحمول ہے اور سلطنتوں میں ولی عہد ہمیشہ بنائے گئے خواہ وہ کتنا ہی نا اہل کیوں نہ ہو کیوں کہ ولی عہدی Heredietry Systemپر قائم ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ سدھار کے مواقع اس میں کم اور سیاست کا بازارزیادہ گرم رہتا ہے اور جہاں نظر قدرت کے اہل تاج عصمت کے ساتھ منصب امامت پر جلوہ افرورز ہوتے ہیں وہاں ایمان کی اقداری کائنات آباد ہوتی ہے جیسا کہ شہزادی فاطمہ زہراؑنے اپنے“خطبۂ فدک” میں فرمایا کہ ہماری اولاد کی اطاعت کے ذریعہ ہی فساد سے نجات اور امن و امان کو قائم کیا جا سکتا ہے ۔ جہاں سلطنتوں کا معیار فریبی سیاست ہو وہاں ظاہر و باطن میں فرق ہو جاتا ہے جسے اصطلاحی زبان میں منافقت کہتے ہیں یہ سیاسی مکر ہی تھا کہ معاویہ اور یزید شراب بھی پیتے تھے اور امام جماعت بھی تھے ان کی مجلسیں لہو و لعب کی مجلسیں ہوتی تھیں جن میں ہر طرح کے خرافات تھے اور اس کے بعد جماعت بھی ہوتی تھی اور یہ جوے بازی کے ساتھ جماعت کی امامت بھی کرتے تھے۔ امام جمعہ بھی تھے اور مجلس بھی پڑھتے تھے خلافت رسولاللہؐ کی آڑ میں انہوں نے رسولاللہؐ کے خلاف قیام کر رکھا تھا ۔ ان کی فریاد “لاالٰہ الاللہ”تھی لیکن الوہیت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے ان کی رفتار اور ان کے اعمال شیطانی تھے لیکن خلیفۂ رسولاللہG ہونے کا نعرہ لگاتے تھے ۔ (7)
امامحسینAنے ان کے اسی سیاسی چہرے سے نقاب الٹ کر ایسا بے نقاب کر دیا کہ بعد کربلا ہر منافق کی پہچان آسان ہو گئی۔ ضرورت ہے بیداری اور چشم بصیرت کی آج ہم کو پہچاننا ہوگا کہ کون حسینی ہے اور کون منافق ہے اس لیے کہ اسلام میں تعلقات اور رشتے معنوی و روحانی اعتبار سے زمین ایمان پر مستحکم ہوتے ہیں نہ کہ مادی جزیرہ پر۔ جیسا کہ حسب ذیل واقعہ سے واضح ہے:کہ ایک روز امام رضا مامون کے پاس بیٹھے تھے آپ کے بھائی زید آئے اور انہوں نے آپ کو سلام کیا پر آپ نے جواب سلام نہیں دیا تو زید نے کہا کہ ہم بھی تو آپ ہی کے باپ کے بیٹے ہیں تو امام نے فرمایا کہ:
زید جب تک تم اللہ کے مطیع وفرمانبردار ہو ہمارے بھائی ہو ورنہ ہمارا تم سے کوئی رشتہ نہیں (8)
دیگر مقامات پر بھی ہم کو ایسے ہی واقعات ملتے ہیں جیسے ابولہب کا رسولاللہؐ سے ایمانی رشتہ نہ ہونے کی بنا پر لعنت کا مستحق ہو گیااور ابو اسحاق مختاربن ابو عبیدہ ثقفی نے انتقام حسین میں اپنے بہنوئی تک کو نہیں بخشا لہٰذا ہمارا ہر رشتہ اس سے ہموار ہونا چاہیے کہ جو صاحب ایمان ہے نہ کہ فاسق و فاجر سے خواہ وہ اپنا حقیقی بھائی ہی کیوں نہ ہو۔
لیکن ہماری اکثریت کا دستور بن چکا ہے کہ ہم ہر اس انسان سے رشتہ قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کو اسلام و شریعت برُا سمجھتی ہے اور فقط رشتہ ہی قائم نہیں کرتے بلکہ اس ذلیل رشتہ پر فخر کرتے ہوئے لوگوں کو مرعوب کرنے کا کام کرتے ہیں یعنی ایک بڑے شر کی نشاندہی کرتے رہتے ہیں تاکہ لوگوں کا سر خوف سے جھکا رہے جبکہ رسول کریمؐنے فرمایا ہے کہ “میری امت کا بدترین شخص وہ ہے جسکی عزت اس کے شر کی وجہ سے کی جائے”ہم کو اس مقام پر فیصلہ کرنا ہوگا کہ راہ خدا کا مسافر ہمیں ہونا ہے یا ظالم اور شرپسند کے سامنے سر جھکا کر ذلت و رسوائی کی غلامی کو قبول کرنا ہے ۔
کربلا ہم کو اجتماعی قوت کے ساتھ باطل طاقتوں کا ڈٹ کر سامنا کرنے کی تلقین کرتی ہے ان عبادتوں اور سجدوں کی کوئی قیمت نہیں جو زمانہ کی شرعی ذمہ داری کو نبھائے بغیر مسجدوں کو آستانۂ عشق الٰہی بنا کر بیٹھ گئے ہیں ورنہ سفیر حسین مسلم ابن عقیل کے پیچھے نماز پڑھنے والوں کی تعداد ١٨ہزار تھی لیکن ابن زیاد سے ٹکرانے کی ہمت سوائے جناب مسلم کے کسی میں نہیں تھی اگر ١٨ہزار کی اجتماعی قوت نے جناب مسلم کی قیادت میں جنگ کی ہوتی تو آپ قتل نہ ہوتے اور ابن زیاد کو ذلت و رسوائی کا جہنم دیکھنا پڑتا ۔
ظالم سے ٹکرانا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے خواہ وہ امیر ہویا غریب ، عالی نسب ہو یاپست نسب، عالم ہو یا جاہل، آزاد ہو یا حبشی غلام لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کمزور نہ تو اپنا حق حاصل کر سکتا ہے اور نہ ہی طاقتور سے ٹکرا سکتا ہے۔ اسکی کمزور طاقت کو اجتماعی قوت میں تبدیل کیا جانا ہر مسلمان کی اسلامی اور شرعی ذمہ داری ہے تاکہ غاصب ِ حق سے اس کا حصہ واپس لیا جا سکے اور ایک کمزور کو اپنی کمزوری یا تاویل اثر کابہانا بنا کر خاموش رہنے کا حق حاصل نہیں ہے بلکہ اسے دشمن سے ٹکرانے کے لئے حصول طاقت کے واسطے سرگرم ہونا پڑے گا جس طریقہ سے غیر مستطیع پر فریضہ حج اسلیے لازم نہیں ہے کہ وہ مالی استطاعت نہیں رکھتا لیکن اسکے لیے یہ استثنائی حکم خاموش بیٹھ جانے کے لیے نہیں ہے بلکہ استطاعت پیدا کرنے کے لیے دی گئی ایک مہلت ہے تاکہ جیسے ہی استطاعت پیدا ہو حج واجب ہو جائے اسی طرح ایک کمزور کو ظالم کے خلاف قیام کرنے کے لیے اسلام میں اتنی مدت کی مہلت دی گئی ہے کہ وہ اپنے میں اسلام دشمن سے ٹکرانے کی طاقت حاصل کر لے ،نہ کہ تاویل اثر کا بہانا بنائے۔
“جس طرح کربلا میں سب کچھ برباد ہو جانے کے بعد شہزادی زینب نے تاویل اثر قائم نہیں کیا بلکہ آپ نے ڈٹ کر ابن زیاد و یزید کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مقابلہ کیا۔یہاں تک کہ ان ظالموں کی آنکھوں میں خوف اور زندگیوں میں بے چینی پیدا ہو گئی ۔”
٤۔ اسلام دین حریت ہے وہ انسان کو خواہشات کے دلدل سے نکال کر اسے آزادی عطا کرنا چاہتا ہے جب وہ مادی خواہشات سے اٹھ کرروحانی کمال کی طرف بڑھتا ہے تو صفات بشری فنا ہو نے لگتے ہیں اور پھر وہ ایک ایسی منزل پر پہنچتا ہے جہاں دنیا سے حقیر اور پست کوئی چیز اسے نظر نہیں آتی۔ وہ روحانی کمال اور معنوی ارتقاء کے لئے جذبۂ قربانی کو فروغ دیتا رہتا ہے۔ جیسے میثم تمارکا اس درخت کو پانی دینا جس پرسولی دی جانا تھی یا پھر حر بن یزید ریاحی کا ایک رات میں بستر استراحت سے قربان گاہ تک کا راستہ طے کرنا۔
تاریخ کے دو حر ہیں ایک کا حسین نے فقط انتظار کیا جسے حر ابن یذید ریاحی اور دوسرے سے ملاقات کرنے خود گئے پر اس نے قربانی پرآمادگی سے انکار کر دیا جسے تاریخ نے حر جعفی کا نام دیا۔
ایک حر دنیا کی پستیوں اور ذلت آمیز گمراہیوں میں ایسا اتر گیا کہ امام وقت کی آواز کو بھی درک نہیں کر سکا اور دوسرا دنیا کی بندشی راحتوں کے حلقے کو توڑ کر کربلا کے منیٰ میں آگیا کیونکہ حر سمجھتے تھے کہ اِدھر اقتدار و حکومت کے باوجود غلامی ہے اورحسین کی طرف قربانی کے ساتھ ایسی حریت و آزاری ہے کہ کائنات کی ہر چیز اس کے لئے مسخر ہے کیونکہ اس کاخدا اس سے راضی ہے۔ یہاں وہ کسی چیز کا طالب نہیں بلکہ کائنات اس کی مطلوب ہوتی ہے اب وہ کسی چیز کا آرزو مند نہیں بلکہ وہ سب کی آرزو بن جاتا ہے۔
کربلا ہر انسان کو حریت وآزادی کی طرف آواز دے رہی ہے آج بھی حسین کی صدا فضا ء کائنات میں گونج رہی ہے اسلیے کہ جب حسین کے سامنے کوئی مددگار نہیں تھا تو آپ نے صداکیوں بلند کی، جبکہ امام کبھی بھی تجاہل نہیں کرتا۔یہ صدائے حسین فقط کربلا کے لئے نہیں تھی بلکہ تاقیامت آنے والی نسلوں اور عالم انسانیت کے واسطے تھی کہ آج بھی حسین تمہارا منتظر ہے جو بھی حر ہو وہ نکل کر آجائے۔
امام حسین کی نگاہ اپنے ہرعاشق کو ایک حر کی حیثیت سے دیکھتا چاہتی ہے لہٰذا ہم کومادی اور دنیاوی غیر ضروری باتوں اور چیزوں سے اوپر اٹھ کر اپنے کو صدائے لبیک بلند کرنے کا اہل بنانا ہوگا کیوں کہ ابھی ایک حسین پردۂ غیبت سے قاتلان ِحسین کا بدلہ لینے آ رہا ہے۔
مشورہ (Suggestion)
١۔ عوامی بیداری مہم چلانا ہوگی اور لوگوں کو سمجھانا ہوگا کہ کربلا ایک درسگاہ اور انسان سازی کا مشن ہے۔ کربلا کو جب سنا اور پڑھا جائے تو درس کربلا پر نظر رکھی جائے کہ آخر حسین ہم سے چاہتے کیا ہیں۔
٢۔ لوگوں کے دلوں سے اس خوف کو باہر نکالنا ہوگاجو دوسرے مذاہب کی مانند امام حسین اور جناب عباس کے واسطے بیٹھ گیا ہے اس خوف نے اجدادی غیر اسلامی روایات کو برقرار رکھنے میں مدد دی ہے۔ اس خوف کو وقتاً فوقتاً اسلامک لیکچرز اور امام حسین کے لطف و کرم کے واقعات کے بیان سے یہ سمجھانا ہوگا کہ امام حسین اور جناب عباس کی رضا اور خوشی اقدارِ عاشورا کے تحفظ اور اطاعت خداوندی میں ہے نہ کہ معاشرہ اور سماج میں اجدادی روایت کو قائم رکھنے میں ۔
٣۔ذاکرین سے سوالات کرنے کا عوام میں حوصلہ پیدا کرنا ہوگا۔ تاکہ تفسیر بالرّائے اور غلط بیانی پر مبنی کند آری سے اس شجر اسلام کو کوئی نقصان نہ پہونچنے پائے جسے امام حسینA اور آل حسین نے اپنے قیمتی اور مقدّس خون سے سینچا ہے.
٤۔ایک ایسا لٹریچر سامنے آنا چاہیے جو آسان زبان میں اسلامی واقعات اور اس کے مطالب کو اس طرح بیان کرے کہ لوگوں میں ذوق مطالعہ پیدا ہو سکے اور علم کی اہمیت و جہالت کے نقصان سے بھی آگاہ کیا جا سکے۔ تاکہ لوگ پوری طرح سمجھ سکیں کہ انہیں بزمِ حسین اور مجلس حسین فقط مادّی روشنی کے درمیان نہیں بلکہ علم و آگاہی اور معرفت کی تجلیوں کے حصار میں منعقد کرنا چاہیے ۔
٥۔سماجی مسائل کا حل قرآنِ کریم ، حدیث اور کربلا کی روشنی میں بنا کسی مخصوص ذات کو ٹارگیٹ کئے حل کرنے کی کوشش کرنا چاہیے اور اس کے لیے پیامِ نو کا سہارا لیا جائے جس میں Effective Social Issuesکو برابر اٹھایا جاتا رہے تاکہ پیام نو کی وحدت Solution of Social Problmesکا آئینہ دار سمجھا جائے ۔
٦۔ احترام منبر تبھی باقی رہ سکتا ہے جب مجالس حسین کا سودہ کرنے والوں کو منبر تک پہونچنے سے روک دیا جائے اور یہ فقط علمی بیداری اور بیجا مذہبی خوف سے نجات کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔
٧۔ عوام کو بھی اپنے میں تبدیلی لانا ہوگی نکاتی مجالس نے کہیں کہیں باطل نکات کو فروغ دے رکھا ہے لہٰذا نکات کی جگہ عوام کو منعقد مجالس میں Matterاور درس پر نظر رکھنی چاہیے۔
٨۔جسکا شر اور ظلم آشکار ہو اس سے کسی بھی قسم کا تعاون تعلیماتِ قرآن کی مخالفت اور خدا سے غداری کا کھلا اعلان ہے لہٰذا شرعی ذمہ داری ہے کہ اس کا ڈٹ کراجتماعی قوت کے ساتھ مقابلہ کیا جائے تاکہ آثارِ اسلام پر ظلم و شر کا دھواں نہ چھانے پائے اور معاشرے میں منکرات کی دخل اندازی کو روکا جا سکے ۔
حواله جات
1- ریاض الاحزان مؤلف آقائی سید محمد حسن قزوینی، صفحہ ١٧٢، جلد دوم
2- امام خمینی، ماخوذ از قیام عاشورا موسّسۂ تنظیم و نشر آثارِ امام خمینی۔
3-ریاض الاحزان صفحہ ١٦١۔4- سورۂ فاطر آیت ١٠۔ 5- سورۂ المنافقون آیت ٨۔
6- اقدار عاشورا، استاد سید جواد نقوی۔
7- قیام عاشورا صفحہ ٣٩
8- مناقب آل ابیطالب ، باب امام رضا ، صفحہ ٢٨٨۔ (نقل از مجلہ ام الائمہ شمارہ ۶)