پیش گفتار

سجدہ اسلام اور اہل اسلام کی نگاہ میں انسان کا خالق کی بارگاہ میں نہایت فروتنی و بردباری کے ساتھ سر جھکا نے کا نام ہے جو آدمیت کے لئے ” عبودیت “ کی معراج ہے ۔ ا سی لئے قرآن مجید نہ فقط انسان کو ،بلکہ دنیا کی تمام چیزوں کو سجدہ کرنے والے کے عنوان سے تعبیر کرتا ہے ، جیسا کہ قول خداوند عالم ہے :< وَلِلَّہِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ> اور جو کچھ زمین و آسمان میں ہے ، سب اس کیلئے سجدہ کرتے ہیں۔ (۱)
اس بارے میں تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ نماز کی ہر رکعت میں دو سجدے واجب اور فرض ہیں اورانھیں انجا م دینا ضروریات دین و اسلام میںسے ہے لیکن اسکی کیفیت اوراسے انجام دینے کے طریقے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں ۔
تشیع : اس مذہب کے افراد سنت و سیرت نبی (ص)اور آپکے اہل بیت طاہرین (ع)و اصحاب آنحضرت (ص)اور تابعین کی عملی سیرت کی روشنی میں سجدہ اللہ کے لئے فقط زمین اور جو چیز ا س سے اگتی ہے ۔

ادامه نوشته

۔ مجبوری کی حالت میں سجدہ

گذری ہوئی بحثوں اور دلیلوں سے بہت حد تک یہ واضح ہو گیا کہ انسان کو اختیاری حالت میں زمین ( اور جو چیز اس سے اگتی ہے ) پر ہی سجدہ کرنا چاہئے کیونکہ:
۱۔ زمین اور سطح زمین پر سجدہ کرنا سنت نبی (ص) اور آپ کا حکم ہے ۔
۲۔ زمین پر سجدہ کرنا آنحضرت (ص) کی سیرت اور عملی روش ہے ۔
۳۔ زمین پر سجدہ کرنا حضور (ص) کے اصحاب کے حکم کے مطابق ہے ۔
۴۔ زمین پر سجدہ کرنا سیرت صحابہ اور تابعین اور صدر اسلام کے مسلمانوں کا وطیرہ ہے ۔
۵۔ زمین پر سجدہ کرنا ،اہل بیت اطہار (ع)کا حکم ہے ۔
۶۔ زمین پر سجدہ کرنا حضور کی عترت پاک (ع) کی سیرت عملی ہے ۔
یہاں پر ایسی روایتوں کو بیان کرناچاہتا ہوں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ انسان جب بالکل تحمل نہ کر سکے جیسااتنی شدید گرمی یاایسی شدید سردی ہو کہ جو ناقابل برداشت ہویاکسی دوسرے معقول و شرعی عذر کی بنا پر لباس کے کناروں یا کپڑے کے ٹکڑوں پر سجدہ کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔

ادامه نوشته