يصف فيها المتقين
ومن خطبة له عليهالسلام
يصف فيها المتقين
رُوِيَ أَنَّ صَاحِباً لأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَعليهالسلام يُقَالُ لَه هَمَّامٌ - كَانَ رَجُلًا عَابِداً فَقَالَ لَه يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ - صِفْ لِيَ الْمُتَّقِينَ حَتَّى كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِمْ - فَتَثَاقَلَعليهالسلام عَنْ جَوَابِه - ثُمَّ قَالَ يَا هَمَّامُ اتَّقِ اللَّه وأَحْسِنْ - فَ( إِنَّ الله مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا والَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ ) - فَلَمْ يَقْنَعْ هَمَّامٌ بِهَذَا الْقَوْلِ حَتَّى عَزَمَ عَلَيْه - فَحَمِدَ اللَّه وأَثْنَى عَلَيْه وصَلَّى عَلَى النَّبِيِّ صلىاللهعليهوآلهوسلم -
ثُمَّ قَالَ عليهالسلام:
أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ اللَّه سُبْحَانَه وتَعَالَى خَلَقَ الْخَلْقَ حِينَ خَلَقَهُمْ - غَنِيّاً عَنْ طَاعَتِهِمْ آمِناً مِنْ مَعْصِيَتِهِمْ - لأَنَّه لَا تَضُرُّه مَعْصِيَةُ مَنْ عَصَاه
لوگ نہیں کر سکتے ہیں۔لیکن میں بہر حال اس قوم میں شمار ہوتا ہوں جنہیں خدا کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں ہوتی ہے۔جن کی نشانیاں صدیقین جیسی ہیں اور جنکا کلام نیک کردار افراد جیسا۔یہ راتوں کو آباد رکھنے والے اور دونوں کے منارے ہیں۔قرآن کی رسی سے متمسک ہیں اور خدا اور رسول کی سنت کو زندہ رکھنے والے ہیں۔ان کے یہاں نہ غرور ہے اور نہ سر کشی ' نہ خیانت ہے اور نہ فساد۔ان کے دل جنت میں لگے ہوئے ہیں اور ان کے جسم عمل میں مصروف ہیں۔
آپ کے خطبہ کا ایک حصہ
( جس میں صاحبان تقویٰ کی تعریف کی گئی ہے)
کہا جاتا ہے کہ امیر المومنین کے کے ایک عابد و زاہد صحابی جن کا نام ہمام تھا ایک دن حضرت سے عرض کرنے لگے کہ حضور مجھ سے متقین کے صفات کچھ اس طرح بیان فرمائیں کہ گویا میں ان کو دیکھ رہا ہوں۔آپ نے جواب سے گریز کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمام اللہ سے ڈرو اورنیک عمل کرو کہ اللہ تقویٰ اور جس عمل والوں کودوست رکھتا ہے۔ ہمام اس مختصر بیان سے مطمئن نہ ہئے تو حضرت نے حمدوثنائے پروردگار اور صلوات و سلام کے بعد ارشاد فرمایا:امابعد! پروردگار نے تمام مخلوقات کواس عالم میں پیدا کیا ہے کہ وہ ان کی اطاعت سے مستغنی اور ان کی نا فرمانی سے محفوظ تھا ۔نہ اسے کسی نا فرمان کی معصیت۔
ولَا تَنْفَعُه طَاعَةُ مَنْ أَطَاعَه فَقَسَمَ بَيْنَهُمْ مَعَايِشَهُمْ - ووَضَعَهُمْ مِنَ الدُّنْيَا مَوَاضِعَهُمْ - فَالْمُتَّقُونَ فِيهَا هُمْ أَهْلُ الْفَضَائِلِ - مَنْطِقُهُمُ الصَّوَابُ ومَلْبَسُهُمُ الِاقْتِصَادُ ومَشْيُهُمُ التَّوَاضُعُ - غَضُّوا أَبْصَارَهُمْ عَمَّا حَرَّمَ اللَّه عَلَيْهِمْ - ووَقَفُوا أَسْمَاعَهُمْ عَلَى الْعِلْمِ النَّافِعِ لَهُمْ - نُزِّلَتْ أَنْفُسُهُمْ مِنْهُمْ فِي الْبَلَاءِ - كَالَّتِي نُزِّلَتْ فِي الرَّخَاءِ - ولَوْ لَا الأَجَلُ الَّذِي كَتَبَ اللَّه عَلَيْهِمْ - لَمْ تَسْتَقِرَّ أَرْوَاحُهُمْ فِي أَجْسَادِهِمْ طَرْفَةَ عَيْنٍ - شَوْقاً إِلَى الثَّوَابِ وخَوْفاً مِنَ الْعِقَابِ - عَظُمَ الْخَالِقُ فِي أَنْفُسِهِمْ فَصَغُرَ مَا دُونَه فِي أَعْيُنِهِمْ - فَهُمْ والْجَنَّةُ كَمَنْ قَدْ رَآهَا فَهُمْ فِيهَا مُنَعَّمُونَ - وهُمْ والنَّارُ كَمَنْ قَدْ رَآهَا فَهُمْ فِيهَا مُعَذَّبُونَ - قُلُوبُهُمْ مَحْزُونَةٌ وشُرُورُهُمْ مَأْمُونَةٌ - وأَجْسَادُهُمْ نَحِيفَةٌ وحَاجَاتُهُمْ خَفِيفَةٌ وأَنْفُسُهُمْ عَفِيفَةٌ - صَبَرُوا أَيَّاماً قَصِيرَةً أَعْقَبَتْهُمْ رَاحَةً طَوِيلَةً - تِجَارَةٌ مُرْبِحَةٌ يَسَّرَهَا لَهُمْ رَبُّهُمْ
نقصان پہنچاسکتی تھی اور نہ کسی اطاعت گزار کی اطاعت فائدہ دے سکتی تھی۔
اس نے سب کی معیشت کو تقسیم کردیا۔اور سب کی دنیا میں ایک منزل قرار دے دی۔اس دنیا میں متقی افراد وہ ہیں جو صاحبان فضائل و کمالات ہوتے ہیں کہ ان کی گفتگو حق و صواب ' ان کا لباس معتدل ' ان کی رفتار متواضع ہوتی ہے۔جن چیزوں کو پروردگارنے حرام قرار دے دیا ہے ان سے نظروں کو نیچا رکھتے ہیں اور اپنے کانوں کو ان علوم کے لئے وقف رکھتے ہیں جوف ائدہ پہنچانے والے ہیں ان کے نفسو بلاء و آزمائش میں ایسے ہی رہتے ہیں جیسے راحت وآرام میں۔اگر پروردگار نے ہر شخص کی حیات کی مدت مقرر نہ کردی ہوتی تو ان کی روحید ان کے جسم میں پلک جھپکنے کے برابر بھی ٹھہر نہیں سکتی تھی کہانہیں ثواب کا شوق ہے اور عذاب کاخوف ۔خالق ان کی نگاہ میں اس قدر عظیم ہے کہ ساری دنیا نگاہوں سے گر گئی ہے۔جنت ان کی نگاہ کے سامنے اس طرح ہے جیسے اس کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہوں اورجہنم کو اس طرح دیکھ رہے ہیں جیسے اس کے عذاب کو محسوس کر رہے ہوں۔ان کے دل نیکیوں کیخزانے ہیں اور ان سے شرکا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ان کے جسم نحیف اور لاغر ہیں اور ان کے ضروریات نہایت درجہ مختصر اور ان کے نفوس بھی طیب و طاہر ہیں۔انہوں نے دنیامیں چند دن تکلیف اٹھا کر ابدی راحت کا انتظام کرلیا ہے اور ایسی فائدہ بخش تجارت کی ہے جس کا انتظام ان کے پروردگار نے کردیا تھا۔
أَرَادَتْهُمُ الدُّنْيَا فَلَمْ يُرِيدُوهَا - وأَسَرَتْهُمْ فَفَدَوْا أَنْفُسَهُمْ مِنْهَا - أَمَّا اللَّيْلَ فَصَافُّونَ أَقْدَامَهُمْ - تَالِينَ لأَجْزَاءِ الْقُرْآنِ يُرَتِّلُونَهَا تَرْتِيلًا - يُحَزِّنُونَ بِه أَنْفُسَهُمْ ويَسْتَثِيرُونَ بِه دَوَاءَ دَائِهِمْ - فَإِذَا مَرُّوا بِآيَةٍ فِيهَا تَشْوِيقٌ رَكَنُوا إِلَيْهَا طَمَعاً - وتَطَلَّعَتْ نُفُوسُهُمْ إِلَيْهَا شَوْقاً وظَنُّوا أَنَّهَا نُصْبَ أَعْيُنِهِمْ - وإِذَا مَرُّوا بِآيَةٍ فِيهَا تَخْوِيفٌ - أَصْغَوْا إِلَيْهَا مَسَامِعَ قُلُوبِهِمْ - وظَنُّوا أَنَّ زَفِيرَ جَهَنَّمَ وشَهِيقَهَا فِي أُصُولِ آذَانِهِمْ - فَهُمْ حَانُونَ عَلَى أَوْسَاطِهِمْ - مُفْتَرِشُونَ لِجِبَاهِهِمْ وأَكُفِّهِمْ ورُكَبِهِمْ وأَطْرَافِ أَقْدَامِهِمْ - يَطْلُبُونَ إِلَى اللَّه تَعَالَى فِي فَكَاكِ رِقَابِهِمْ -
وأَمَّا النَّهَارَ فَحُلَمَاءُ عُلَمَاءُ أَبْرَارٌ أَتْقِيَاءُ - قَدْ بَرَاهُمُ الْخَوْفُ بَرْيَ الْقِدَاحِ - يَنْظُرُ إِلَيْهِمُ النَّاظِرُ فَيَحْسَبُهُمْ مَرْضَى - ومَا بِالْقَوْمِ مِنْ مَرَضٍ ويَقُولُ لَقَدْ خُولِطُوا! ولَقَدْ خَالَطَهُمْ أَمْرٌ عَظِيمٌ -
دنیا نے انہیں بہت چاہا لیکن انہوں نے اسے نہیں چاہا اور اس نے انہیں بہت گرفتارکرنا چاہا لیکن انہوں نے فدیہ دے کر اپنے کوچھڑا لیا۔
راتوں کے وقت مصلیٰ پرکھڑے رہتے ہیں خوش الحانی کے ساتھ تلاوت۔
مختصروضاحت
قرآن کرتے رہتے ہیں۔اپنے نفس کومحزون رکھتے ہیں اور اسی طرح سے گزرتے ہیں تو دل کے کانوں کو اس کی طرف یوں مصروف کردیتے ہیں جیسے جہنم کے شعلوں کی آواز اور وہاں کی چیخ پکار مسلسل ان کے کانوں تک پہنچ رہی ہو۔یہ رکوع میں کمرخمیدہ اور سجدہ میں پیشانی ،ہتھیلی ، انگوٹھوں اور گھٹنوں کو فرش خاک کئے رہتے ہیں۔
پروردگار سے ایک ہی سوال کرتے ہیں کہ ان کی گردنوں کو آتش جہنم سے آزاد کردے۔
اس کے بعد دن کے وقت یہ علماء اور دانش مند نیک کردار اور پرہیز گار ہوتے ہیں جیسے انہیں تیر انداز کے تیر کی طرح خوف خدا نے تراشا ہو۔دیکھنے والا انہیں دیکھ کر بیمار تصور کرتا ہے حالانکہ یہ بیمارنہیں ہیں اور ان کی باتوں کو سن کر کہتا ہے کہ ان کی عقلوں میں فتور ہے حالانکہ ایسا بھی نہیں ہے۔بات صرف یہ ہے کہ انہیں ایک بہت بڑی بات نے مد ہوش بنا رکھا ہے
مختصر وضاحت
یوں تو تلاوت قرآن کا سلسلہ گھروں سے لے کرمسجدوں تک اورگلدستہ اذان سے لے کر ٹووی اسٹیشن تک ہر جگہ حاوی ہے اور حسن قرأت کے مقابلوں میں '' اللہ اللہ '' کی آوازبھی سنائی دیتی ہے لیکن کہاں ہیں وہ تلاوت کرنے والے جن کی شان مولائے کائنات نے بیان کی ہے کہ ہر آیت ان کے کردار کا ایک حصہ بن جائے اور ہر فقرہ درد زندگی کے ایک علاج کی حیثیت پیدا کرلے۔
آیت نعمت پڑھیں تو جنت کا نقشہ نگاہوں میں کھینچ جائے اور تمنائے موت میں بے قرار ہو جائیں اور آیت غضب کی تلاوت کریں تو جہنم کے شعلوں کی آواز کانوں میں گونجنے لگے اورسارا وجود تھرتھرا جائے۔ در حقیقت یہ امیرالمومنین ہی کی زندگی کا نقشہ ہے جسے حضرت نے متقین کے نام سے بیان کیا ہے ورنہ دیدہتاریخ ایسے متقین کی زیارت کے لئے سراپا اشتیاق ہے۔
لَا يَرْضَوْنَ مِنْ أَعْمَالِهِمُ الْقَلِيلَ - ولَا يَسْتَكْثِرُونَ الْكَثِيرَ - فَهُمْ لأَنْفُسِهِمْ مُتَّهِمُونَ ومِنْ أَعْمَالِهِمْ مُشْفِقُونَ - إِذَا زُكِّيَ أَحَدٌ مِنْهُمْ خَافَ مِمَّا يُقَالُ لَه فَيَقُولُ - أَنَا أَعْلَمُ بِنَفْسِي مِنْ غَيْرِي ورَبِّي أَعْلَمُ بِي مِنِّي بِنَفْسِي
اللَّهُمَّ لَا تُؤَاخِذْنِي بِمَا يَقُولُونَ - واجْعَلْنِي أَفْضَلَ مِمَّا يَظُنُّونَ واغْفِرْ لِي مَا لَا يَعْلَمُونَ.
فَمِنْ عَلَامَةِ أَحَدِهِمْ أَنَّكَ تَرَى لَه قُوَّةً فِي دِينٍ - وحَزْماً فِي لِينٍ وإِيمَاناً فِي يَقِينٍ وحِرْصاً فِي عِلْمٍ - وعِلْماً فِي حِلْمٍ وقَصْداً فِي غِنًى وخُشُوعاً فِي عِبَادَةٍ - وتَجَمُّلًا فِي فَاقَةٍ وصَبْراً فِي شِدَّةٍ وطَلَباً فِي حَلَالٍ - ونَشَاطاً فِي هُدًى وتَحَرُّجاً عَنْ طَمَعٍ - يَعْمَلُ الأَعْمَالَ الصَّالِحَةَ وهُوَ عَلَى وَجَلٍ - يُمْسِي وهَمُّه الشُّكْرُ ويُصْبِحُ وهَمُّه الذِّكْرُ - يَبِيتُ حَذِراً ويُصْبِحُ فَرِحاً - حَذِراً لِمَا حُذِّرَ مِنَ الْغَفْلَةِ - وفَرِحاً بِمَا أَصَابَ مِنَ الْفَضْلِ والرَّحْمَةِ - إِنِ اسْتَصْعَبَتْ عَلَيْه نَفْسُه فِيمَا تَكْرَه - لَمْ يُعْطِهَا سُؤْلَهَا فِيمَا تُحِبُّ - قُرَّةُ عَيْنِه فِيمَا لَا يَزُولُ
کہ یہ نہ قلیل عمل سے راضی ہوتے ہیں اور نہ کثیر عمل کو کثیر سمجھتے ہیں ۔ ہمیشہ اپنے نفس ہی کو متہم کرتے رہتے ہیں اور اپنے اعمال ہی سے خوف زدہ رہتے ہیں جب ان کی تعریف کی جاتی ہے تواس سے خوفزدہ ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں خود اپنے نفس کو دوسروں سے بہتر پہنچانتا ہوں اور میرا پروردگار تو مجھ سے بھی بہتر جانتا ہے ۔ خدایا! مجھ سے ان کے اقوال کا محاسبہ نہ کرنا اور مجھے ان کے حسن ظن سے بھی بہتر قرار دے دینا اور پھر ان گناہوں کو معاف بھی کردینا جنہیں یہ سب نہیں جانتے ہیں۔ ان کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ ان کے پاس دین میں قوت ' نرمی میں شدت احتیاط، یقین میں ایمان ' علم کے بارے میں طمع ' حلم کی منزل میں علم ' مالداری میں میانہ روی ' عبادت میں خشوع قلب ' فاقہ میں خود داری ' سختیوں میں صبر ' حلال کی طلب ' ہدایت میں نشاط' لالچ سے پرہیز جیسی تمام باتیں پائی جاتی ہیں۔وہ نیک اعمال بھی انجام دیتے ہیں تو لرزتے ہوئے انجام دیتے ہیں۔شام کے وقت ان کی فکر شکر پروردگار ہوتی ہے اور صبح کے وقت ذکر الٰہی ۔ خوف زدہ عالم میں رات کرتے ہیں اور فرح و سرور میں صبح۔جس غفلت سے ڈرایا گیا ہے اس سے محتاط رہتے ہیں اور جس فضل و رحمت کا وعدہ کیا گیا ہے اس سے خوش رہتے ہیں۔اگر نفس ناگوار ام کے لئے سختی بھی کرے تواس کے مطالبہ کو پورا نہیں کرتے ہیں۔ان کی آنکھوں کو ٹھنڈک لازوال نعمتوں میں ہے اور ان کا پرہیز فانی اشیاء کے بارے میں۔
وزَهَادَتُه فِيمَا لَا يَبْقَى - يَمْزُجُ الْحِلْمَ بِالْعِلْمِ والْقَوْلَ بِالْعَمَلِ - تَرَاه قَرِيباً أَمَلُه قَلِيلًا زَلَلُه خَاشِعاً قَلْبُه - قَانِعَةً نَفْسُه مَنْزُوراً أَكْلُه سَهْلًا أَمْرُه - حَرِيزاً دِينُه مَيِّتَةً شَهْوَتُه مَكْظُوماً غَيْظُه - الْخَيْرُ مِنْه مَأْمُولٌ والشَّرُّ مِنْه مَأْمُونٌ - إِنْ كَانَ فِي الْغَافِلِينَ كُتِبَ فِي الذَّاكِرِينَ - وإِنْ كَانَ فِي الذَّاكِرِينَ لَمْ يُكْتَبْ مِنَ الْغَافِلِينَ - يَعْفُو عَمَّنْ ظَلَمَه ويُعْطِي مَنْ حَرَمَه - ويَصِلُ مَنْ قَطَعَه بَعِيداً فُحْشُه - لَيِّناً قَوْلُه غَائِباً مُنْكَرُه حَاضِراً مَعْرُوفُه، مُقْبِلًا خَيْرُه مُدْبِراً شَرُّه - فِي الزَّلَازِلِ وَقُورٌ وفِي الْمَكَارِه صَبُورٌ - وفِي الرَّخَاءِ شَكُورٌ لَا يَحِيفُ عَلَى مَنْ يُبْغِضُ - ولَا يَأْثَمُ فِيمَنْ يُحِبُّ - يَعْتَرِفُ بِالْحَقِّ قَبْلَ أَنْ يُشْهَدَ عَلَيْه - لَا يُضِيعُ مَا اسْتُحْفِظَ ولَا يَنْسَى مَا ذُكِّرَ - ولَا يُنَابِزُ بِالأَلْقَابِ ولَا يُضَارُّ بِالْجَارِ -
ہے یہ حلم کو علم سے اورقول کو عمل سے ملائے ہوئے ہیں۔تم ہمیشہ ان کی امیدوں کومختصر ' دل کو خاشع ' نفس کو قانع ' کھانے کو معمولی ' معاملات کوآسان ' دین کو محفوظ ' خواہشات کو مردہ اور غصہ کو پیا ہوا دیکھو گے۔
ان سے ہمیشہ نیکیوں کی امید؛
مختصروضاحت
رہتی ہے اورانسان ان کے شر کی طرف سے محفوظ رہتا ہے۔یہ غافلوں میں نظر آئیں تو بھی یاد خدا کرنے والوں میں کہے جاتے ہیں اور یاد کرنے والوں میں نظر آئیں تو بھی غافلوں میں شمار نہیں ہوتے ہیں۔
ظلم کرنے والے کو معاف کر دیتے ہیں۔مجروم رکھنے والے کو عطا کردیتے ہیں۔قطع رحم کرنے والوں سے تعلقات رکھتے ہیں۔لغویات سے دور۔نرم کلام منکرات غائب نیکیاں حاضر۔خیر آتا ہوا شیر جاتا ہوا۔زلزلوں میں باوقار۔دشواریوں میں صابر۔آسانیوں میں شکر گزار ۔دشمن پر ظلم نہیں کرتے ہیں چاہنے والوں کی خاطر گناہ نہیں کرتے ہیں۔گواہی طلب کئے جانے سے پہلے حق کا اتعراف کرتے ہیں۔امانتوں کو ضائع نہیں کرتے ہیں۔جو بات یاددلادی جائے اسے بھولتے نہیں ہیں اور القاب کے ذریعہ ایک دوسرے کو چڑھاتے نہیں ہیں اور ہمسایہ کونقصان نہیں۔
مختصروضاحت
خدا گواہ ہے کہ ایک ایک لفظ آب زد سے لکھنے کے قابل ہے اور انسانی زنندگی میں انقلاب پیداکرنے کے لئے کافی ہے۔صاحبان تقویٰ کی واقعی شان یہی ہے کہ ان سے ہر خیر کی امید کی جائے اور ان کے بارے میں کسی شر کا تصور نہ کیا جائے۔وہ غافلوں کے درمیان بھی رہیں توذکرخدا میں مغشول رہیں اوربے ایمانوں کی بستی میں بھیآباد ہوں تو ایمان و کردار میں فرق نہآئے ۔نفس اتنا پاکیزہ ہو کہ ہر برائی کا جواب نیکی سے دیں اورہر غلطی کو معاف کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔گفتگو اعمال رفتار کردار ہر اعتبارسے طیب و طاہر ہوں اور کوئی ایک لمحہ بھی خوف خدا سے خالی نہ ہو۔
تلاش کیجئے آج کے دور کے صاحبان تقویٰ اور مدیعان پرہیز گاری کی بستی میں ۔کوئی ایک شخص بھی ایساجامع الصفات نظرآتا ہے اور کسی انسان کے کردارمیں بھی مولائے کائنات کے ارشاد کی جھلک نظر آتی ہے۔اور اگر ایسا نہیں ہے تو سمجھئے کہ ہم خیالات کی دنیا میں آباد ہیں اور ہمارا واقعیات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ولَا يَشْمَتُ بِالْمَصَائِبِ ولَا يَدْخُلُ فِي الْبَاطِلِ - ولَا يَخْرُجُ مِنَ الْحَقِّ - إِنْ صَمَتَ لَمْ يَغُمَّه صَمْتُه وإِنْ ضَحِكَ لَمْ يَعْلُ صَوْتُه - وإِنْ بُغِيَ عَلَيْه صَبَرَ حَتَّى يَكُونَ اللَّه هُوَ الَّذِي يَنْتَقِمُ لَه - نَفْسُه مِنْه فِي عَنَاءٍ والنَّاسُ مِنْه فِي رَاحَةٍ - أَتْعَبَ نَفْسَه لِآخِرَتِه وأَرَاحَ النَّاسَ مِنْ نَفْسِه - بُعْدُه عَمَّنْ تَبَاعَدَ عَنْه زُهْدٌ ونَزَاهَةٌ - ودُنُوُّه مِمَّنْ دَنَا مِنْه لِينٌ ورَحْمَةٌ - لَيْسَ تَبَاعُدُه بِكِبْرٍ وعَظَمَةٍ ولَا دُنُوُّه بِمَكْرٍ وخَدِيعَةٍ.
قَالَ فَصَعِقَ هَمَّامٌ صَعْقَةً كَانَتْ نَفْسُه فِيهَا.
فَقَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عليهالسلام أَمَا واللَّه لَقَدْ كُنْتُ أَخَافُهَا عَلَيْه - ثُمَّ قَالَ أَهَكَذَا تَصْنَعُ الْمَوَاعِظُ الْبَالِغَةُ بِأَهْلِهَا؟
فَقَالَ لَه قَائِلٌ فَمَا بَالُكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟
فَقَالَ عليهالسلام وَيْحَكَ إِنَّ لِكُلِّ أَجَلٍ وَقْتاً لَا يَعْدُوه - وسَبَباً لَا يَتَجَاوَزُه فَمَهْلًا لَا تَعُدْ لِمِثْلِهَا - فَإِنَّمَا نَفَثَ الشَّيْطَانُ عَلَى لِسَانِكَ!
پہنچاتے ہیں۔مصائب میں کسی کو طعنے نہیں دیتے ہیں۔ حرف باطل میں داخل نہیں ہوتے ہیں اور کلمہ حق سے باہر نہیں آتے ہیں۔یہ چپ رہیں تو ان کی خموشی ہم و غم کی بنا پر نہیں ہے اور یہ ہنستے ہیں توآواز بلند نہیں کرتے ہیں۔ان پر ظلم کیاجائے تو صبر کر لیتے ہیں تاکہخدا اس کا انتقام لے۔ان کا اپنا نفس ہمیشہ رنج میں رہتا ہے اور لوگ ان کی طرف سے ہمیشہ مطمئن رہتے ہیں۔انہوں نے اپنے نفس کوآخرت کے لئے تھکاڈالا ہے اورلوگ ان کے نفس کی طرف سے آزاد ہوگئے ہیں۔دور رہنے والوں سے ان کی دوری زہد اورپاکیزگی کی بنا پر ہے اور قریب رہنے والوں سے ان کی قربت نرمی اومرحمت کی بناپ ر ہے۔نہ دوری تکبر و برتری کا نتیجہ ہے اور نہ قربت مکرو فریب کا نتیجہ ۔
راوی کہتا ہے کہ یہ سن کر ہمام نے ایک چیخ ماری اوردنیاسے رخصت ہوگئے ۔
تو امیرالمومنین نے فرمایا کہ میں اسی وقت سے ڈر رہا تھا کہ میں جانتا تھا کہ صاحبان تقویٰ کے دلوں پر نصیحت کا اثر اسی طرح ہوا کرتا ہے۔یہ سننا تھا کہ ایک شخص بول پڑا کہ پھر آپ پر ایسا اثر کیوں ہیں ہوا۔
تو آپ نے فرمایا کہ خدا تیراب را کرے۔ہر اجل کے لئے ایک وقت عین ہے جس سے آگے بڑھنا نا ممکن ہے اور ہرشے کے لئے ایک سبب ہے جس سے تجاوز کرنا نا ممکن ہے۔خبردار اب ایسی گفتگو نہ کرنا۔یہ شیطان نے تیری زبان پر اپنا جادو پھونک دیا ہے۔