يصف فيها المتقين

ومن خطبة له عليه‌السلام

يصف فيها المتقين

رُوِيَ أَنَّ صَاحِباً لأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَعليه‌السلام يُقَالُ لَه هَمَّامٌ - كَانَ رَجُلًا عَابِداً فَقَالَ لَه يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ - صِفْ لِيَ الْمُتَّقِينَ حَتَّى كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِمْ - فَتَثَاقَلَعليه‌السلام عَنْ جَوَابِه - ثُمَّ قَالَ يَا هَمَّامُ اتَّقِ اللَّه وأَحْسِنْ - فَ( إِنَّ الله مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا والَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ ) - فَلَمْ يَقْنَعْ هَمَّامٌ بِهَذَا الْقَوْلِ حَتَّى عَزَمَ عَلَيْه - فَحَمِدَ اللَّه وأَثْنَى عَلَيْه وصَلَّى عَلَى النَّبِيِّ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم -

ثُمَّ قَالَ عليه‌السلام:

أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ اللَّه سُبْحَانَه وتَعَالَى خَلَقَ الْخَلْقَ حِينَ خَلَقَهُمْ - غَنِيّاً عَنْ طَاعَتِهِمْ آمِناً مِنْ مَعْصِيَتِهِمْ - لأَنَّه لَا تَضُرُّه مَعْصِيَةُ مَنْ عَصَاه

لوگ نہیں کر سکتے ہیں۔لیکن میں بہر حال اس قوم میں شمار ہوتا ہوں جنہیں خدا کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں ہوتی ہے۔جن کی نشانیاں صدیقین جیسی ہیں اور جنکا کلام نیک کردار افراد جیسا۔یہ راتوں کو آباد رکھنے والے اور دونوں کے منارے ہیں۔قرآن کی رسی سے متمسک ہیں اور خدا اور رسول کی سنت کو زندہ رکھنے والے ہیں۔ان کے یہاں نہ غرور ہے اور نہ سر کشی ' نہ خیانت ہے اور نہ فساد۔ان کے دل جنت میں لگے ہوئے ہیں اور ان کے جسم عمل میں مصروف ہیں۔

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

( جس میں صاحبان تقویٰ کی تعریف کی گئی ہے)

کہا جاتا ہے کہ امیر المومنین کے کے ایک عابد و زاہد صحابی جن کا نام ہمام تھا ایک دن حضرت سے عرض کرنے لگے کہ حضور مجھ سے متقین کے صفات کچھ اس طرح بیان فرمائیں کہ گویا میں ان کو دیکھ رہا ہوں۔آپ نے جواب سے گریز کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمام اللہ سے ڈرو اورنیک عمل کرو کہ اللہ تقویٰ اور جس عمل والوں کودوست رکھتا ہے۔ ہمام اس مختصر بیان سے مطمئن نہ ہئے تو حضرت نے حمدوثنائے پروردگار اور صلوات و سلام کے بعد ارشاد فرمایا:امابعد! پروردگار نے تمام مخلوقات کواس عالم میں پیدا کیا ہے کہ وہ ان کی اطاعت سے مستغنی اور ان کی نا فرمانی سے محفوظ تھا ۔نہ اسے کسی نا فرمان کی معصیت۔

ولَا تَنْفَعُه طَاعَةُ مَنْ أَطَاعَه فَقَسَمَ بَيْنَهُمْ مَعَايِشَهُمْ - ووَضَعَهُمْ مِنَ الدُّنْيَا مَوَاضِعَهُمْ - فَالْمُتَّقُونَ فِيهَا هُمْ أَهْلُ الْفَضَائِلِ - مَنْطِقُهُمُ الصَّوَابُ ومَلْبَسُهُمُ الِاقْتِصَادُ ومَشْيُهُمُ التَّوَاضُعُ - غَضُّوا أَبْصَارَهُمْ عَمَّا حَرَّمَ اللَّه عَلَيْهِمْ - ووَقَفُوا أَسْمَاعَهُمْ عَلَى الْعِلْمِ النَّافِعِ لَهُمْ - نُزِّلَتْ أَنْفُسُهُمْ مِنْهُمْ فِي الْبَلَاءِ - كَالَّتِي نُزِّلَتْ فِي الرَّخَاءِ - ولَوْ لَا الأَجَلُ الَّذِي كَتَبَ اللَّه عَلَيْهِمْ - لَمْ تَسْتَقِرَّ أَرْوَاحُهُمْ فِي أَجْسَادِهِمْ طَرْفَةَ عَيْنٍ - شَوْقاً إِلَى الثَّوَابِ وخَوْفاً مِنَ الْعِقَابِ - عَظُمَ الْخَالِقُ فِي أَنْفُسِهِمْ فَصَغُرَ مَا دُونَه فِي أَعْيُنِهِمْ - فَهُمْ والْجَنَّةُ كَمَنْ قَدْ رَآهَا فَهُمْ فِيهَا مُنَعَّمُونَ - وهُمْ والنَّارُ كَمَنْ قَدْ رَآهَا فَهُمْ فِيهَا مُعَذَّبُونَ - قُلُوبُهُمْ مَحْزُونَةٌ وشُرُورُهُمْ مَأْمُونَةٌ - وأَجْسَادُهُمْ نَحِيفَةٌ وحَاجَاتُهُمْ خَفِيفَةٌ وأَنْفُسُهُمْ عَفِيفَةٌ - صَبَرُوا أَيَّاماً قَصِيرَةً أَعْقَبَتْهُمْ رَاحَةً طَوِيلَةً - تِجَارَةٌ مُرْبِحَةٌ يَسَّرَهَا لَهُمْ رَبُّهُمْ

نقصان پہنچاسکتی تھی اور نہ کسی اطاعت گزار کی اطاعت فائدہ دے سکتی تھی۔

اس نے سب کی معیشت کو تقسیم کردیا۔اور سب کی دنیا میں ایک منزل قرار دے دی۔اس دنیا میں متقی افراد وہ ہیں جو صاحبان فضائل و کمالات ہوتے ہیں کہ ان کی گفتگو حق و صواب ' ان کا لباس معتدل ' ان کی رفتار متواضع ہوتی ہے۔جن چیزوں کو پروردگارنے حرام قرار دے دیا ہے ان سے نظروں کو نیچا رکھتے ہیں اور اپنے کانوں کو ان علوم کے لئے وقف رکھتے ہیں جوف ائدہ پہنچانے والے ہیں ان کے نفسو بلاء و آزمائش میں ایسے ہی رہتے ہیں جیسے راحت وآرام میں۔اگر پروردگار نے ہر شخص کی حیات کی مدت مقرر نہ کردی ہوتی تو ان کی روحید ان کے جسم میں پلک جھپکنے کے برابر بھی ٹھہر نہیں سکتی تھی کہانہیں ثواب کا شوق ہے اور عذاب کاخوف ۔خالق ان کی نگاہ میں اس قدر عظیم ہے کہ ساری دنیا نگاہوں سے گر گئی ہے۔جنت ان کی نگاہ کے سامنے اس طرح ہے جیسے اس کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہوں اورجہنم کو اس طرح دیکھ رہے ہیں جیسے اس کے عذاب کو محسوس کر رہے ہوں۔ان کے دل نیکیوں کیخزانے ہیں اور ان سے شرکا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ان کے جسم نحیف اور لاغر ہیں اور ان کے ضروریات نہایت درجہ مختصر اور ان کے نفوس بھی طیب و طاہر ہیں۔انہوں نے دنیامیں چند دن تکلیف اٹھا کر ابدی راحت کا انتظام کرلیا ہے اور ایسی فائدہ بخش تجارت کی ہے جس کا انتظام ان کے پروردگار نے کردیا تھا۔

أَرَادَتْهُمُ الدُّنْيَا فَلَمْ يُرِيدُوهَا - وأَسَرَتْهُمْ فَفَدَوْا أَنْفُسَهُمْ مِنْهَا - أَمَّا اللَّيْلَ فَصَافُّونَ أَقْدَامَهُمْ - تَالِينَ لأَجْزَاءِ الْقُرْآنِ يُرَتِّلُونَهَا تَرْتِيلًا - يُحَزِّنُونَ بِه أَنْفُسَهُمْ ويَسْتَثِيرُونَ بِه دَوَاءَ دَائِهِمْ - فَإِذَا مَرُّوا بِآيَةٍ فِيهَا تَشْوِيقٌ رَكَنُوا إِلَيْهَا طَمَعاً - وتَطَلَّعَتْ نُفُوسُهُمْ إِلَيْهَا شَوْقاً وظَنُّوا أَنَّهَا نُصْبَ أَعْيُنِهِمْ - وإِذَا مَرُّوا بِآيَةٍ فِيهَا تَخْوِيفٌ - أَصْغَوْا إِلَيْهَا مَسَامِعَ قُلُوبِهِمْ - وظَنُّوا أَنَّ زَفِيرَ جَهَنَّمَ وشَهِيقَهَا فِي أُصُولِ آذَانِهِمْ - فَهُمْ حَانُونَ عَلَى أَوْسَاطِهِمْ - مُفْتَرِشُونَ لِجِبَاهِهِمْ وأَكُفِّهِمْ ورُكَبِهِمْ وأَطْرَافِ أَقْدَامِهِمْ - يَطْلُبُونَ إِلَى اللَّه تَعَالَى فِي فَكَاكِ رِقَابِهِمْ -

وأَمَّا النَّهَارَ فَحُلَمَاءُ عُلَمَاءُ أَبْرَارٌ أَتْقِيَاءُ - قَدْ بَرَاهُمُ الْخَوْفُ بَرْيَ الْقِدَاحِ - يَنْظُرُ إِلَيْهِمُ النَّاظِرُ فَيَحْسَبُهُمْ مَرْضَى - ومَا بِالْقَوْمِ مِنْ مَرَضٍ ويَقُولُ لَقَدْ خُولِطُوا! ولَقَدْ خَالَطَهُمْ أَمْرٌ عَظِيمٌ -

دنیا نے انہیں بہت چاہا لیکن انہوں نے اسے نہیں چاہا اور اس نے انہیں بہت گرفتارکرنا چاہا لیکن انہوں نے فدیہ دے کر اپنے کوچھڑا لیا۔

راتوں کے وقت مصلیٰ پرکھڑے رہتے ہیں خوش الحانی کے ساتھ تلاوت۔

مختصروضاحت

قرآن کرتے رہتے ہیں۔اپنے نفس کومحزون رکھتے ہیں اور اسی طرح سے گزرتے ہیں تو دل کے کانوں کو اس کی طرف یوں مصروف کردیتے ہیں جیسے جہنم کے شعلوں کی آواز اور وہاں کی چیخ پکار مسلسل ان کے کانوں تک پہنچ رہی ہو۔یہ رکوع میں کمرخمیدہ اور سجدہ میں پیشانی ،ہتھیلی ، انگوٹھوں اور گھٹنوں کو فرش خاک کئے رہتے ہیں۔

پروردگار سے ایک ہی سوال کرتے ہیں کہ ان کی گردنوں کو آتش جہنم سے آزاد کردے۔

اس کے بعد دن کے وقت یہ علماء اور دانش مند نیک کردار اور پرہیز گار ہوتے ہیں جیسے انہیں تیر انداز کے تیر کی طرح خوف خدا نے تراشا ہو۔دیکھنے والا انہیں دیکھ کر بیمار تصور کرتا ہے حالانکہ یہ بیمارنہیں ہیں اور ان کی باتوں کو سن کر کہتا ہے کہ ان کی عقلوں میں فتور ہے حالانکہ ایسا بھی نہیں ہے۔بات صرف یہ ہے کہ انہیں ایک بہت بڑی بات نے مد ہوش بنا رکھا ہے

مختصر وضاحت

 یوں تو تلاوت قرآن کا سلسلہ گھروں سے لے کرمسجدوں تک اورگلدستہ اذان سے لے کر ٹووی اسٹیشن تک ہر جگہ حاوی ہے اور حسن قرأت کے مقابلوں میں '' اللہ اللہ '' کی آوازبھی سنائی دیتی ہے لیکن کہاں ہیں وہ تلاوت کرنے والے جن کی شان مولائے کائنات نے بیان کی ہے کہ ہر آیت ان کے کردار کا ایک حصہ بن جائے اور ہر فقرہ درد زندگی کے ایک علاج کی حیثیت پیدا کرلے۔

آیت نعمت پڑھیں تو جنت کا نقشہ نگاہوں میں کھینچ جائے اور تمنائے موت میں بے قرار ہو جائیں اور آیت غضب کی تلاوت کریں تو جہنم کے شعلوں کی آواز کانوں میں گونجنے لگے اورسارا وجود تھرتھرا جائے۔ در حقیقت یہ امیرالمومنین ہی کی زندگی کا نقشہ ہے جسے حضرت نے متقین کے نام سے بیان کیا ہے ورنہ دیدہتاریخ ایسے متقین کی زیارت کے لئے سراپا اشتیاق ہے۔

لَا يَرْضَوْنَ مِنْ أَعْمَالِهِمُ الْقَلِيلَ - ولَا يَسْتَكْثِرُونَ الْكَثِيرَ - فَهُمْ لأَنْفُسِهِمْ مُتَّهِمُونَ ومِنْ أَعْمَالِهِمْ مُشْفِقُونَ - إِذَا زُكِّيَ أَحَدٌ مِنْهُمْ خَافَ مِمَّا يُقَالُ لَه فَيَقُولُ - أَنَا أَعْلَمُ بِنَفْسِي مِنْ غَيْرِي ورَبِّي أَعْلَمُ بِي مِنِّي بِنَفْسِي

اللَّهُمَّ لَا تُؤَاخِذْنِي بِمَا يَقُولُونَ - واجْعَلْنِي أَفْضَلَ مِمَّا يَظُنُّونَ واغْفِرْ لِي مَا لَا يَعْلَمُونَ.

فَمِنْ عَلَامَةِ أَحَدِهِمْ أَنَّكَ تَرَى لَه قُوَّةً فِي دِينٍ - وحَزْماً فِي لِينٍ وإِيمَاناً فِي يَقِينٍ وحِرْصاً فِي عِلْمٍ - وعِلْماً فِي حِلْمٍ وقَصْداً فِي غِنًى وخُشُوعاً فِي عِبَادَةٍ - وتَجَمُّلًا فِي فَاقَةٍ وصَبْراً فِي شِدَّةٍ وطَلَباً فِي حَلَالٍ - ونَشَاطاً فِي هُدًى وتَحَرُّجاً عَنْ طَمَعٍ - يَعْمَلُ الأَعْمَالَ الصَّالِحَةَ وهُوَ عَلَى وَجَلٍ - يُمْسِي وهَمُّه الشُّكْرُ ويُصْبِحُ وهَمُّه الذِّكْرُ - يَبِيتُ حَذِراً ويُصْبِحُ فَرِحاً - حَذِراً لِمَا حُذِّرَ مِنَ الْغَفْلَةِ - وفَرِحاً بِمَا أَصَابَ مِنَ الْفَضْلِ والرَّحْمَةِ - إِنِ اسْتَصْعَبَتْ عَلَيْه نَفْسُه فِيمَا تَكْرَه - لَمْ يُعْطِهَا سُؤْلَهَا فِيمَا تُحِبُّ - قُرَّةُ عَيْنِه فِيمَا لَا يَزُولُ

کہ یہ نہ قلیل عمل سے راضی ہوتے ہیں اور نہ کثیر عمل کو کثیر سمجھتے ہیں ۔ ہمیشہ اپنے نفس ہی کو متہم کرتے رہتے ہیں اور اپنے اعمال ہی سے خوف زدہ رہتے ہیں جب ان کی تعریف کی جاتی ہے تواس سے خوفزدہ ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں خود اپنے نفس کو دوسروں سے بہتر پہنچانتا ہوں اور میرا پروردگار تو مجھ سے بھی بہتر جانتا ہے ۔ خدایا! مجھ سے ان کے اقوال کا محاسبہ نہ کرنا اور مجھے ان کے حسن ظن سے بھی بہتر قرار دے دینا اور پھر ان گناہوں کو معاف بھی کردینا جنہیں یہ سب نہیں جانتے ہیں۔ ان کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ ان کے پاس دین میں قوت ' نرمی میں شدت احتیاط، یقین میں ایمان ' علم کے بارے میں طمع ' حلم کی منزل میں علم ' مالداری میں میانہ روی ' عبادت میں خشوع قلب ' فاقہ میں خود داری ' سختیوں میں صبر ' حلال کی طلب ' ہدایت میں نشاط' لالچ سے پرہیز جیسی تمام باتیں پائی جاتی ہیں۔وہ نیک اعمال بھی انجام دیتے ہیں تو لرزتے ہوئے انجام دیتے ہیں۔شام کے وقت ان کی فکر شکر پروردگار ہوتی ہے اور صبح کے وقت ذکر الٰہی ۔ خوف زدہ عالم میں رات کرتے ہیں اور فرح و سرور میں صبح۔جس غفلت سے ڈرایا گیا ہے اس سے محتاط رہتے ہیں اور جس فضل و رحمت کا وعدہ کیا گیا ہے اس سے خوش رہتے ہیں۔اگر نفس ناگوار ام کے لئے سختی بھی کرے تواس کے مطالبہ کو پورا نہیں کرتے ہیں۔ان کی آنکھوں کو ٹھنڈک لازوال نعمتوں میں ہے اور ان کا پرہیز فانی اشیاء کے بارے میں۔

وزَهَادَتُه فِيمَا لَا يَبْقَى - يَمْزُجُ الْحِلْمَ بِالْعِلْمِ والْقَوْلَ بِالْعَمَلِ - تَرَاه قَرِيباً أَمَلُه قَلِيلًا زَلَلُه خَاشِعاً قَلْبُه - قَانِعَةً نَفْسُه مَنْزُوراً أَكْلُه سَهْلًا أَمْرُه - حَرِيزاً دِينُه مَيِّتَةً شَهْوَتُه مَكْظُوماً غَيْظُه - الْخَيْرُ مِنْه مَأْمُولٌ والشَّرُّ مِنْه مَأْمُونٌ - إِنْ كَانَ فِي الْغَافِلِينَ كُتِبَ فِي الذَّاكِرِينَ - وإِنْ كَانَ فِي الذَّاكِرِينَ لَمْ يُكْتَبْ مِنَ الْغَافِلِينَ - يَعْفُو عَمَّنْ ظَلَمَه ويُعْطِي مَنْ حَرَمَه - ويَصِلُ مَنْ قَطَعَه بَعِيداً فُحْشُه - لَيِّناً قَوْلُه غَائِباً مُنْكَرُه حَاضِراً مَعْرُوفُه، مُقْبِلًا خَيْرُه مُدْبِراً شَرُّه - فِي الزَّلَازِلِ وَقُورٌ وفِي الْمَكَارِه صَبُورٌ - وفِي الرَّخَاءِ شَكُورٌ لَا يَحِيفُ عَلَى مَنْ يُبْغِضُ - ولَا يَأْثَمُ فِيمَنْ يُحِبُّ - يَعْتَرِفُ بِالْحَقِّ قَبْلَ أَنْ يُشْهَدَ عَلَيْه - لَا يُضِيعُ مَا اسْتُحْفِظَ ولَا يَنْسَى مَا ذُكِّرَ - ولَا يُنَابِزُ بِالأَلْقَابِ ولَا يُضَارُّ بِالْجَارِ -

ہے یہ حلم کو علم سے اورقول کو عمل سے ملائے ہوئے ہیں۔تم ہمیشہ ان کی امیدوں کومختصر ' دل کو خاشع ' نفس کو قانع ' کھانے کو معمولی ' معاملات کوآسان ' دین کو محفوظ ' خواہشات کو مردہ اور غصہ کو پیا ہوا دیکھو گے۔

ان سے ہمیشہ نیکیوں کی امید؛

مختصروضاحت

رہتی ہے اورانسان ان کے شر کی طرف سے محفوظ رہتا ہے۔یہ غافلوں میں نظر آئیں تو بھی یاد خدا کرنے والوں میں کہے جاتے ہیں اور یاد کرنے والوں میں نظر آئیں تو بھی غافلوں میں شمار نہیں ہوتے ہیں۔

ظلم کرنے والے کو معاف کر دیتے ہیں۔مجروم رکھنے والے کو عطا کردیتے ہیں۔قطع رحم کرنے والوں سے تعلقات رکھتے ہیں۔لغویات سے دور۔نرم کلام منکرات غائب نیکیاں حاضر۔خیر آتا ہوا شیر جاتا ہوا۔زلزلوں میں باوقار۔دشواریوں میں صابر۔آسانیوں میں شکر گزار ۔دشمن پر ظلم نہیں کرتے ہیں چاہنے والوں کی خاطر گناہ نہیں کرتے ہیں۔گواہی طلب کئے جانے سے پہلے حق کا اتعراف کرتے ہیں۔امانتوں کو ضائع نہیں کرتے ہیں۔جو بات یاددلادی جائے اسے بھولتے نہیں ہیں اور القاب کے ذریعہ ایک دوسرے کو چڑھاتے نہیں ہیں اور ہمسایہ کونقصان نہیں۔

مختصروضاحت

خدا گواہ ہے کہ ایک ایک لفظ آب زد سے لکھنے کے قابل ہے اور انسانی زنندگی میں انقلاب پیداکرنے کے لئے کافی ہے۔صاحبان تقویٰ کی واقعی شان یہی ہے کہ ان سے ہر خیر کی امید کی جائے اور ان کے بارے میں کسی شر کا تصور نہ کیا جائے۔وہ غافلوں کے درمیان بھی رہیں توذکرخدا میں مغشول رہیں اوربے ایمانوں کی بستی میں بھیآباد ہوں تو ایمان و کردار میں فرق نہآئے ۔نفس اتنا پاکیزہ ہو کہ ہر برائی کا جواب نیکی سے دیں اورہر غلطی کو معاف کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔گفتگو اعمال رفتار کردار ہر اعتبارسے طیب و طاہر ہوں اور کوئی ایک لمحہ بھی خوف خدا سے خالی نہ ہو۔

تلاش کیجئے آج کے دور کے صاحبان تقویٰ اور مدیعان پرہیز گاری کی بستی میں ۔کوئی ایک شخص بھی ایساجامع الصفات نظرآتا ہے اور کسی انسان کے کردارمیں بھی مولائے کائنات کے ارشاد کی جھلک نظر آتی ہے۔اور اگر ایسا نہیں ہے تو سمجھئے کہ ہم خیالات کی دنیا میں آباد ہیں اور ہمارا واقعیات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ولَا يَشْمَتُ بِالْمَصَائِبِ ولَا يَدْخُلُ فِي الْبَاطِلِ - ولَا يَخْرُجُ مِنَ الْحَقِّ - إِنْ صَمَتَ لَمْ يَغُمَّه صَمْتُه وإِنْ ضَحِكَ لَمْ يَعْلُ صَوْتُه - وإِنْ بُغِيَ عَلَيْه صَبَرَ حَتَّى يَكُونَ اللَّه هُوَ الَّذِي يَنْتَقِمُ لَه - نَفْسُه مِنْه فِي عَنَاءٍ والنَّاسُ مِنْه فِي رَاحَةٍ - أَتْعَبَ نَفْسَه لِآخِرَتِه وأَرَاحَ النَّاسَ مِنْ نَفْسِه - بُعْدُه عَمَّنْ تَبَاعَدَ عَنْه زُهْدٌ ونَزَاهَةٌ - ودُنُوُّه مِمَّنْ دَنَا مِنْه لِينٌ ورَحْمَةٌ - لَيْسَ تَبَاعُدُه بِكِبْرٍ وعَظَمَةٍ ولَا دُنُوُّه بِمَكْرٍ وخَدِيعَةٍ.

قَالَ فَصَعِقَ هَمَّامٌ صَعْقَةً كَانَتْ نَفْسُه فِيهَا.

فَقَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عليه‌السلام أَمَا واللَّه لَقَدْ كُنْتُ أَخَافُهَا عَلَيْه - ثُمَّ قَالَ أَهَكَذَا تَصْنَعُ الْمَوَاعِظُ الْبَالِغَةُ بِأَهْلِهَا؟

فَقَالَ لَه قَائِلٌ فَمَا بَالُكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟

فَقَالَ عليه‌السلام وَيْحَكَ إِنَّ لِكُلِّ أَجَلٍ وَقْتاً لَا يَعْدُوه - وسَبَباً لَا يَتَجَاوَزُه فَمَهْلًا لَا تَعُدْ لِمِثْلِهَا - فَإِنَّمَا نَفَثَ الشَّيْطَانُ عَلَى لِسَانِكَ!

پہنچاتے ہیں۔مصائب میں کسی کو طعنے نہیں دیتے ہیں۔ حرف باطل میں داخل نہیں ہوتے ہیں اور کلمہ حق سے باہر نہیں آتے ہیں۔یہ چپ رہیں تو ان کی خموشی ہم و غم کی بنا پر نہیں ہے اور یہ ہنستے ہیں توآواز بلند نہیں کرتے ہیں۔ان پر ظلم کیاجائے تو صبر کر لیتے ہیں تاکہخدا اس کا انتقام لے۔ان کا اپنا نفس ہمیشہ رنج میں رہتا ہے اور لوگ ان کی طرف سے ہمیشہ مطمئن رہتے ہیں۔انہوں نے اپنے نفس کوآخرت کے لئے تھکاڈالا ہے اورلوگ ان کے نفس کی طرف سے آزاد ہوگئے ہیں۔دور رہنے والوں سے ان کی دوری زہد اورپاکیزگی کی بنا پر ہے اور قریب رہنے والوں سے ان کی قربت نرمی اومرحمت کی بناپ ر ہے۔نہ دوری تکبر و برتری کا نتیجہ ہے اور نہ قربت مکرو فریب کا نتیجہ ۔

راوی کہتا ہے کہ یہ سن کر ہمام نے ایک چیخ ماری اوردنیاسے رخصت ہوگئے ۔

تو امیرالمومنین نے فرمایا کہ میں اسی وقت سے ڈر رہا تھا کہ میں جانتا تھا کہ صاحبان تقویٰ کے دلوں پر نصیحت کا اثر اسی طرح ہوا کرتا ہے۔یہ سننا تھا کہ ایک شخص بول پڑا کہ پھر آپ پر ایسا اثر کیوں ہیں ہوا۔

تو آپ نے فرمایا کہ خدا تیراب را کرے۔ہر اجل کے لئے ایک وقت عین ہے جس سے آگے بڑھنا نا ممکن ہے اور ہرشے کے لئے ایک سبب ہے جس سے تجاوز کرنا نا ممکن ہے۔خبردار اب ایسی گفتگو نہ کرنا۔یہ شیطان نے تیری زبان پر اپنا جادو پھونک دیا ہے۔

يصف فيها المنافقين

 

ومن خطبة له عليه‌السلام

يصف فيها المنافقين

نَحْمَدُه عَلَى مَا وَفَّقَ لَه مِنَ الطَّاعَةِ - وذَادَ عَنْه مِنَ الْمَعْصِيَةِ ونَسْأَلُه لِمِنَّتِه تَمَاماً - وبِحَبْلِه اعْتِصَاماً - ونَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُه ورَسُولُه - خَاضَ إِلَى رِضْوَانِ اللَّه كُلَّ غَمْرَةٍ وتَجَرَّعَ فِيه كُلَّ غُصَّةٍ - وقَدْ تَلَوَّنَ لَه الأَدْنَوْنَ وتَأَلَّبَ عَلَيْه الأَقْصَوْنَ - وخَلَعَتْ إِلَيْه الْعَرَبُ أَعِنَّتَهَا - وضَرَبَتْ إِلَى مُحَارَبَتِه بُطُونَ رَوَاحِلِهَا - حَتَّى أَنْزَلَتْ بِسَاحَتِه عَدَاوَتَهَا مِنْ أَبْعَدِ الدَّارِ وأَسْحَقِ الْمَزَارِ.

أُوصِيكُمْ عِبَادَ اللَّه بِتَقْوَى اللَّه وأُحَذِّرُكُمْ أَهْلَ النِّفَاقِ - فَإِنَّهُمُ الضَّالُّونَ الْمُضِلُّونَ

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں منافقین کے اوصاف بیان کئے گئے ہیں)

ہم اس پروردگار کا شکرادا کرتے ہیں کہ اس نے اطاعت کی توفیق عطا فرمائی اورمعصیت سے دور رکھا اور پھراس سے احسانات کے مکمل کرنے اوراس کی ریسمان ہدایت سے وابستہ رہنے کی ددعا بھی کرتے ہیں۔ اور اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ محمد (ص) اس کے بندہ ور رسول ہیں۔انہوںنے اسکی رضا کی خاطر ہر مصیبت میں اپنے کو ڈال دیا اور ہغصہ کے گھونٹ کو پی لیا۔قریب والوں نے ان کے سامنے رنگبدل دیا اور دور والوں نے ان پر لشکرکشی کردی۔عربوں نے اپنی زمام کا رخ ان کی طرف موڑ دیا اور اپنی سواریوں کو ان سے جنگ کرنے کے لئے مہمیز کردیا یہاں تک کہ اپنی عورتوں کو دور دراز علاقوں اور دور افتادہ سرحدوں سے لا کر ان کے صحن میں اتاردیا۔

بندگان خدا! میں تمہیں تقویٰ الٰہی کی وصیت کرتا ہوں اورتمہیں منافقین سے ہوشیار کر رہاہوں کہ یہ گمراہ(۱) بھی ہیں۔اور گمراہ کن بھی منحرف بھی ہیں

(۱) اگر ساری دنیا کے جرائم کی فہرست یار کی جائے تو اس میں سر فہرست نفاق ہی کا نام ہوگا جس میں ہر طرح کی برائی اور ہر طرح کا عیب پایا جاتا ہے ۔نفاق اندر سے کفروشرک کی خباثت رکھتا ہے اور باہرسے جھوٹ اور غلط بیانی کی کثابت رکھتا ہے اور ان دونوں سے بد تر دنیا کا کوئی جرم اور کوئی عیب نہیں ہے۔

 

دور حاضر کا دقیق ترین جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہو گا کہ اس دورمیں عالمی سطح پر نفاق کے علاوہ کچھ نہیں رہ گیا ۔ہر شخص جو کچھ کر رہا ہے اس کا باطن اس کے خلاف ہے اور ہر حکومت جس بات کا دعوی ٰ کر رہی ہے اس کی کوئی واقعیت نہیں ہے۔تہذیب کے نام پر فساد ۔مواصلات کے نام پر تباہ کاری ۔امن کے عالم کے نام پر اسلحوں کی دوڑ ۔تعلیم کے نام پر بد اخلاقی اور مذہب کے نام پر لامذہبیت ہی اس دورکا طرہ ٔ امتیاز ہے اور اسی کو زبان شریعت میں نفاق کہا جاتا ہے۔

والزَّالُّونَ الْمُزِلُّونَ - يَتَلَوَّنُونَ أَلْوَاناً ويَفْتَنُّونَ افْتِنَاناً - ويَعْمِدُونَكُمْ بِكُلِّ عِمَادٍ ويَرْصُدُونَكُمْ بِكُلِّ مِرْصَادٍ - قُلُوبُهُمْ دَوِيَّةٌ وصِفَاحُهُمْ نَقِيَّةٌ - يَمْشُونَ الْخَفَاءَ ويَدِبُّونَ الضَّرَاءَ - وَصْفُهُمْ دَوَاءٌ وقَوْلُهُمْ شِفَاءٌ وفِعْلُهُمُ الدَّاءُ الْعَيَاءُ - حَسَدَةُ الرَّخَاءِ ومُؤَكِّدُو الْبَلَاءِ ومُقْنِطُو الرَّجَاءِ - لَهُمْ بِكُلِّ طَرِيقٍ صَرِيعٌ - وإِلَى كُلِّ قَلْبٍ شَفِيعٌ ولِكُلِّ شَجْوٍ دُمُوعٌ - يَتَقَارَضُونَ الثَّنَاءَ ويَتَرَاقَبُونَ الْجَزَاءَ - إِنْ سَأَلُوا أَلْحَفُوا وإِنْ عَذَلُوا كَشَفُوا، وإِنْ حَكَمُوا أَسْرَفُوا - قَدْ أَعَدُّوا لِكُلِّ حَقٍّ بَاطِلًا ولِكُلِّ قَائِمٍ مَائِلًا - ولِكُلِّ حَيٍّ قَاتِلًا ولِكُلِّ بَابٍ مِفْتَاحاً -

اورمنرف سازبھی یہ مسلسل رنگ بدلتے رہتے ہیں اور طرح طرح کے فتنے اٹھاتے رہتے ہیں۔ہرمکرو فریب کے ذریعہ تمہارا ہی قصدکرتے ہیں اور ہر گھات میں تمہاری ہی تاک میں بیٹھتے ہیں۔انکے دل بیمار ہیں اور ان کے چہرے پاک و صاف ۔اندر ہیاندر چال چلتے ہیں اور نقصانات کی خاطر رینگتے ہوئے قدم بڑھاتے ہیں۔ان کا طریقہ دوا جیسا اور ان کا کلام شفا جیسا ہے لیکن ان کا کردار نا قابل علاج مرض ہے ۔یہ راحتوں میں حسد کرنے والے مصیبتوں میں مبتلا کردینے والے اور امیدوں کو نا امید بنا دینے والے ہیں۔جس راہ پر دیکھو ان کامارا ہوا پڑا ہے۔اور جس دل کو دیکھو وہاں تک پہنچنے کا ایک سفارشی ڈھونڈ رکھا ہے۔ اور ہر رنج و غم کے لئے آنسو

(۱) تیاررکھے ہوئے ہیں۔ایک دوسرے کی تعریف میں حصہ لیتے ہیں اور اس کے بدلہ کے منتظر رہتے ہیں سوال کرتے ہیں تو چپک جاتے ہیں اور برائی کرتے ہیں تو رسوا کرکے ہی چھوڑتے ہیں اور فیصلہ کرتے ہیں تو حد سے بڑھ جاتے ہیں۔ہر حق کے لئے ایک باطل تیار کر رکھا ہے اور ہر سیدھے کے لئے ایک کجی کا انتظام کر رکھا ہے۔ہر زندہ کے لئے ایک قاتل موجود ہے اور ہر دروازہ کیلئے ایک کنجی بنا رکھی ہے۔

(۱)حقیقت امر یہ ہے کہ منافقین کا کوئی عمل قابل اعتبار نہیں ہوتا ہے اور ان کی زندگی سراپا غلط بیانی ہوتی ہے۔تعریف کرنے پر آجاتے ہیں تو زمین وآسمان کو قلابے ملادیتے ہیں اوربرائی کرنے پر تل جاتے ہیں توآدمی کو عالمی سطح پرذلیل کرکے چھوڑتے ہیں۔اس لئے کہان کا نہ کوئی ضمیر ہوتاہے اور نہ کوئی معیار۔انہیں صرف موقع پرستی سے کام لینا ہے اور اسی کے اعتبار سیزبان کھولنا ہے۔خطبہ کے عنوان سے یہ اندازہ ہوتا تھا کہی ہ سماج کے چند افراد کا ایک گروہ ہے جس کے کردار کو واضح کیا جا رہا ہے تاکہ لوگ اس کردار سے ہوشیار ہیں اور اپنی زندگی کو نفاق سے بچا کر ایمان اور تقویٰ کے راستہ پر لگا دیں۔لیکن تفصیلات ک دیکھنے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ یہ پورے سماج کا نقشہ ہے اور ساراعالم انسانیت اسی رنگ پر رنگا ہوا ہے۔زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جس میں نفاق کی حکمرانی نہ ہو اور انسان کے کردار کا کوئی رخ ایسا نہیں ہے جسے میں واقعیت اورحقیقت پائی جاتی ہو اورجس نفاق سے پاک و پاکیزہ قرار دیاجاسکے۔

ولِكُلِّ لَيْلٍ مِصْبَاحاً - يَتَوَصَّلُونَ إِلَى الطَّمَعِ بِالْيَأْسِ لِيُقِيمُوا بِه أَسْوَاقَهُمْ - ويُنْفِقُوا بِه أَعْلَاقَهُمْ يَقُولُونَ فَيُشَبِّهُونَ - ويَصِفُونَ فَيُمَوِّهُونَ قَدْ هَوَّنُوا الطَّرِيقَ - وأَضْلَعُوا الْمَضِيقَ فَهُمْ لُمَةُ الشَّيْطَانِ وحُمَةُ النِّيرَانِ -( أُولئِكَ حِزْبُ الشَّيْطانِ - أَلا إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطانِ هُمُ الْخاسِرُونَ ) .

مشکلات کے وقت کی دعا

مشکلات کے وقت کی دعا

يَا مَنْ تُحَلُّ بِهِ عُقَدُ الْمَكَارِهِ، وَ يَا مَنْ يَفْثَأُ بِهِ حَدُّ الشَّدَائِدِ، وَ يَا مَنْ يُلْتَمَسُ مِنْهُ الْمَخْرَجُ إِلَى رَوْحِ الْفَرَجِ،‏ ذَلَّتْ لِقُدْرَتِكَ الصِّعَابُ، وَ تَسَبَّبَتْ بِلُطْفِكَ الْأَسْبَابُ، وَ جَرَى بِقُدرَتِكَ الْقَضَاءُ، وَ مَضَتْ عَلَى إِرَادَتِكَ الْأَشْيَاءُ، فَهِيَ بِمَشِيَّتِكَ دُونَ قَوْلِكَ مُؤْتَمِرَةٌ، وَ بِإِرَادَتِكَ دُونَ نَهْيِكَ مُنْزَجِرَةٌ، أَنْتَ الْمَدْعُوُّ لِلْمُهِمَّاتِ، وَ أَنْتَ الْمَفْزَعُ فِي الْمُلِمَّاتِ، لاَ يَنْدَفِعُ مِنْهَا إِلاَّ مَا دَفَعْتَ، وَ لاَ يَنْكَشِفُ مِنْهَا إِلاَّ مَا كَشَفْتَ،‏ وَ قَدْ نَزَلَ بِي يَا رَبِّ مَا قَدْ تَكَأَّدَنِي ثِقْلُهُ، وَ أَلَمَّ بِي مَا قَدْ بَهَظَنِي حَمْلُهُ،‏ وَ بِقُدْرَتِكَ أَوْرَدْتَهُ عَلَيَّ، وَ بِسُلْطَانِكَ وَجَّهْتَهُ إِلَيَ، فَلاَ مُصْدِرَ لِمَا أَوْرَدْتَ، وَ لاَ صَارِفَ لِمَا وَجَّهْتَ، وَ لاَ فَاتِحَ لِمَا أَغْلَقْتَ، وَ لاَ مُغْلِقَ لِمَا فَتَحْتَ،‏ وَ لاَ مُيَسِّرَ لِمَا عَسَّرْتَ، وَ لاَ نَاصِرَ لِمَنْ خَذَلْتَ،‏ فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ افْتَحْ لِي يَا رَبِّ بَابَ الْفَرَجِ بِطَوْلِكَ، وَ اكْسِرْ عَنِّي سُلْطَانَ الْهَمِّ بِحَوْلِكَ،‏ وَ أَنِلْنِي حُسْنَ النَّظَرِ فِيمَا شَكَوْتُ، وَ أَذِقْنِي حَلاَوَةَ الصُّنْعِ فِيمَا سَأَلْتُ، وَ هَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً وَ فَرَجاً هَنِيئاً، وَ اجْعَلْ لِي مِنْ عِنْدِكَ مَخْرَجاً وَحِيّاً، وَ لاَ تَشْغَلْنِي بِالاِهْتِمَامِ عَنْ تَعَاهُدِ فُرُوضِكَ، وَ اسْتِعْمَالِ سُنَّتِكَ،‏ فَقَدْ ضِقْتُ لِمَا نَزَلَ بِي يَا رَبِّ ذَرْعاً، وَ امْتَلَأْتُ بِحَمْلِ مَا حَدَثَ عَلَيَّ هَمّاً، وَ أَنْتَ الْقَادِرُ عَلَى كَشْفِ مَا مُنِيتُ بِهِ،‏ وَ دَفْعِ مَا وَقَعْتُ فِيهِ، فَافْعَلْ بِي ذَلِكَ وَ إِنْ لَمْ أَسْتَوْجِبْهُ مِنْكَ، يَا ذَا الْعَرْشِ الْعَظِيمِ.[1]

حضرت امام سجادکاارشاد ہے:اے وہ جس کے ذریعہ مصیبتو ں کے بندھن کھل جاتے ہیں۔ اے وہ جس کے باعث سختیوں کی باڑھ کند ہوجاتی ہے۔ اے وہ جس سے تنگی و دشواری سے وسعت و فراخی کی آسائش کی طرف نکال لے جانے کی التجا کی جاتی ہے،تو وہ ہے کہ تیری قدرت کے آگے دشواریاں آسان ہوگئیں، تیرے لطف سے سلسلۂ اسباب برقرار رہا اور تیری قدرت سے قضا کا نفاذ ہوا اور تمام چیزیں تیرے ارادہ کے رخ پر گامزن ہیں ۔وہ بھی کہے تیری مشیت کی پابند اور بن روکے خود ہی تیرے ارادہ سے رکی ہوئی ہیں۔

مشکلات میں تجھے ہی پکارا جاتا ہے اور بلیات میں تو ہی جائے پناہ ہے۔ ان میںسے کوئی مصیبت ٹل نہیں سکتی مگر جسے تو ٹال دے اور کوئی مشکل حل نہیں ہوسکتی مگر جسے تو حل کرے ۔

پروردگار ! مجھ پر ایک ایسی مصیبت نازل ہوئی ہے جس کی سنگینی نے مجھے گرانبار کردیا ہے اور ایک ایسی آفت آپڑی ہے جس سے میری قوت برداشت عاجز ہوچکی ہے۔

تو نے اپنی قدرت سے اس مصیبت کو مجھ پر وارد کیا ہے اور اپنے اقتدار سے میری طرف متوجہ کیا ہے۔تو جسے تو وارد کرے اسے کوئی ہٹانے والااور جسے تو متوجہ کرے اسے کوئی پلٹانے والا اور جسے تو بند کرے اسے کوئی کھولنے والا اور جسے تو کھولے اسے کوئی بند کرنے والا اور جسے تودشوار بنائے اسے کوئی آسان کرنے والا اور جسے تو نظر انداز کرے اسے کوئی مدد دینے والا نہیں ہے۔

رحمت نازل فرما محمد اور ان کی آل پر اور اپنی کرم نوازی سے اے میرے پالنے والے میرے لیے آسائش کا دروازہ کھول دے اور اپنی قوت و توانائی سے غم و اندوہ کا زور توڑ دےاور میری حاجت کو پورا کرکے شیرینی احسان سے مجھے لذت اندوز کراور اپنی طرف سے رحمت اور خوشگوار آسودگی مرحمت فرما اور میرے لیے اپنے لطف خاص سے جلد چھٹکارے کی راہ پیدا کراور اس غم و اندوہ کی وجہ سے اپنے فرائض کی پابندی اور مستحبات کی بجاآوری سے غفلت میں نہ ڈال دے ۔

کیونکہ میں اس مصیبت کے ہاتھوں تنگ آ چکا ہوں اور اس حادثہ کے ٹوٹ پڑنے سے دل رنج و اندوہ سے بھر گیا ہے۔ جس مصیبت میں مبتلا ہوں اس کے دور کرنے اور جس بلا میں پھنسا ہوا ہوں اس سے نکالنے پر تو ہی قادر ہے،لہٰذا اپنی قدرت کو میرے حق میں کار فرما کر ۔ اگرچہ تیری طرف سے میں اس کا سزا وار نہ قرار پا سکوں ۔ اے عرش عظیم کے مالک۔

 


[1]۔صحیفہ سجادیہ، ص82،ساتویں دعا۔

دعاعہد ترجمہ کےساتھ

دعائے عہد

امام جعفر صادق - سے نقل ہوا ہے کہ جو شخص چالیس روز تک ہر صبح اس دعائے عہد کو پڑھے تو وہ امام (عج) کے مدد گاروں میں سے ہو گا اور اگر وہ امامعليه‌السلام کے ظہور سے پہلے فوت ہو جائے تو خدا وند کریم اسے قبر سے اٹھائیگا تاکہ وہ امام کے ہمراہ ہو جائے اللہ تعالیٰ اس دعا کے ہر لفظ کے عوض اسے ایک ہزار نیکیاں عطا کرے گا اور اسکے ایک ہزار گناہ محو کر دے گا وہ دعائے عہد یہ ہے:

اَللّٰهُمَّ رَبَّ النُّورِ الْعَظِیمِ وَرَبَّ الْکُرْسِیِّ الرَّفِیعِ وَرَبَّ الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ وَمُنْزِلَ التَّوْراةِ

اے معبود اے عظیم نورکے پرودگار اے بلند کرسی کے پرودگار اے موجیں مارتے سمندر کے پرودگار اور اے توریت

وَالْاِنْجِیلِ وَالزَّبُورِ وَرَبَّ الظِّلِّ وَالْحَرُورِ وَمُنْزِلَ الْقُرْآنِ الْعَظِیمِ وَرَبَّ الْمَلائِکَةِ

اور انجیل اور زبور کے نازل کرنے والے اور اے سایہ اور دھوپ کے پرودگار اے قرآن عظیم کے نازل کرنے والے اے مقرب

الْمُقَرَّبِینَ وَالْاََنْبِیائِ وَالْمُرْسَلِینَ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ الْکَرِیمِ وَبِنُورِ

فرشتوں اور فرستادہ نبیوں اور رسولوں کے پروردگار اے معبود بے شک میں سوال کرتا ہوں تیری ذات کریم کے واسطے سے تیری

وَجْهِکَ الْمُنِیرِ وَمُلْکِکَ الْقَدِیمِ یَا حَیُّ یَا قَیُّومُ أَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ

روشن ذات کے نور کے واسطے سے اور تیری قدیم بادشاہی کے واسطے سے اے زندہ اے پائندہ تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام

الَّذِی أَشْرَقَتْ بِهِ السَّمٰوَاتُ وَالْاََرَضُونَ وَبِاسْمِکَ الَّذِی یَصْلَحُ بِهِ الْاََوَّلُونَ

کے واسطے سے جس سے چمک رہے ہیں سارے آسمان اور ساری زمینیں تیرے نام کے واسطے سے جس سے اولین وآخرین نے

وَالْاَخِرُونَ یَا حَیّاً قَبْلَ کُلِّ حَیٍّ وَیَا حَیّاً بَعْدَ کُلِّ حَیٍّ وَیَا حَیّاً حِینَ لاَ

بھلائی پائی اے زندہ ہر زندہ سے پہلے اور اے زندہ ہر زندہ کے بعد اور اے زندہ جب کوئی زندہ نہ تھا اے مردوں کو زندہ کرنے

حَیَّ یَا مُحْیِیَ الْمَوْتیٰ وَمُمِیتَ الْاََحْیائِ یَا حَیُّ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ اَللّٰهُمَّ بَلِّغْ مَوْلانَا الْاِمامَ

والے اے زندوں کو موت دینے والے اے وہ زندہ کہ تیرے سوائ کوئی معبود نہیں اے معبود ہمارے مولا امام

الْهادِیَ الْمَهْدِیَّ الْقائِمَ بِأَمْرِکَ صَلَواتُ ﷲ عَلَیْهِ وَعَلَی آبائِهِ الطَّاهِرِینَ عَنْ جَمِیعِ

ہادی مہدی کو جو تیرے حکم سے قائم ہیں ان پر اور ان کے پاک بزرگان پر خدا کی رحمتیں ہوں اور تمام مومن مردوں

الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ فِی مَشارِقِ الْاَرْضِ وَمَغارِبِها سَهْلِها وَجَبَلِها وَبَرِّها وَبَحْرِها

اور مومنہ عورتوں کی طرف سے جو زمین کے مشرقوںاور مغربوں میں ہیں میدانوں اور پہاڑوں اور خشکیوں اور سمندروںمیں

وَعَنِّی وَعَنْ وَالِدَیَّ مِنَ الصَّلَواتِ زِنَةَ عَرْشِ ﷲ وَمِدادَ کَلِماتِهِ وَمَا

میری طرف سے میرے والدین کیطرف سے بہت درود پہنچا دے جو ہم وزن ہو عرش اور اسکے کلمات کی روشنائی کے اور جو چیزیں

أَحْصاهُ عِلْمُهُ وَأَحاطَ بِهِ کِتابُهُ اَللّٰهُمَّ إنِّی أُجَدِّدُ لَهُ فِی صَبِیحَةِ یَوْمِی هذَا

اس کے علم میں ہیں اور اس کی کتاب میں درج ہیں اے معبود میں تازہ کرتا ہوں ان کے لیے آج کے دن کی صبح کو اور جب تک زندہ

وَمَا عِشْتُ مِنْ أَیَّامِی عَهْداً وَعَقْداً وَبَیْعَةً لَهُ فِی عُنُقِی لاَ أَحُولُ عَنْه وَلاَ أَزُولُ أَبَداً اَللّٰهُمَّ

ہوں باقی ہے یہ پیمان یہ بندھن اور ان کی بیعت جو میری گردن پر ہے نہ اس سے مکروں گانہ کبھی ترک کروں گا اے معبود

اجْعَلْنِی مِنْ أَنْصارِهِ وَأَعْوانِهِ وَالذَّابِّینَ عَنْهُ والْمُسارِعِینَ إلَیْهِ فِی قَضائِ حَوَائِجِهِ وَالْمُمْتَثِلِینَ

مجھے ان کے مدد گاروں ان کے ساتھیوں اور ان کا دفاع کرنے والوں قرار دے میں حاجت برآری کیلئے ان کی طرف بڑھنے والوں

لاََِوامِرِهِ وَالْمُحامِینَ عَنْهُ وَالسَّابِقِینَ إلی إرادَتِهِ وَالْمُسْتَشْهَدِینَ بَیْنَ یَدَیْهِ

انکے احکام پر عمل کرنے والوں انکی طرف سے دعوت دینے والوں انکے ارادوں کو جلد پورے کرنے والوں اور انکے سامنے شہید ہونے والوں میں قرار دے

اَللّٰهُمَّ إنْ حالَ بَیْنِی وَبَیْنَهُ الْمَوْتُ الَّذِی جَعَلْتَهُ عَلَی عِبادِکَ حَتْماً مَقْضِیّاً فَأَخْرِجْنِی مِنْ

اے معبود اگر میرے اور میرے امامعليه‌السلام کے درمیان موت حائل ہو جائے جو تو نے اپنے بندوں کے لیے آمادہ کر رکھی ہے تو پھر مجھے قبر

قَبْرِی مُؤْتَزِراً کَفَنِی شاهِراً سَیْفِی مُجَرِّداً قَناتِی مُلَبِّیاً دَعْوَةَ الدَّاعِی فِی الْحاضِرِ وَالْبادِی

سے اس طرح نکالنا کہ کفن میرا لباس ہو میری تلوار بے نیام ہو میرا نیزہ بلند ہو داعی حق کی دعوت پر لبیک کہوں شہر اور گائوں میں

اَللّٰهُمَّ أَرِنِی الطَّلْعَةَ الرَّشِیدَةَ وَالْغُرَّةَ الْحَمِیدَةَ وَاکْحَُلْ ناظِرِی بِنَظْرَةٍ مِنِّی إلَیْهِ وَعَجِّلْ

اے معبود مجھے حضرت کا رخ زیبا آپ کی درخشاں پیشانی دکھا ان کے دیدار کو میری آنکھوں کا سرمہ بنا ان کی کشائش میں

فَرَجَهُ وَسَهِّلْ مَخْرَجَهُ وَأَوْسِعْ مَنْهَجَهُ وَاسْلُکْ بِی مَحَجَّتَهُ وَأَنْفِذْ أَمْرَهُ وَاشْدُدْ أَزْرَهُ

جلدی فرما ان کے ظہور کو آسان بنا ان کا راستہ وسیع کر دے اور مجھ کو ان کی راہ پر چلا ان کا حکم جاری فرما ان کی قوت کو بڑھا

وَاعْمُرِ اَللّٰهُمَّ بِهِ بِلادَکَ وَأَحْیِ بِهِ عِبادَکَ فَ إنَّکَ قُلْتَ وَقَوْلُکَ الْحَقُّ ظَهَرَ الْفَسَادُ

اور اے معبود ان کے ذریعے اپنے شہر آباد کر اور اپنے بندوں کو عزت کی زندگی دے کیونکہ تو نے فرمایا اور تیرا قول حق ہے کہ ظاہر ہوا

فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ أَیْدِی النَّاسِ فَأَظْهِرِ اَللّٰهُمَّ لَنا وَلِیَّکَ وَابْنَ بِنْتِ نَبِیِّکَ

فساد خشکی اور سمندر میں یہ نتیجہ ہے لوگوں کے غلط اعمال و افعال کا پس اے معبود! ظہور کر ہمارے لیے اپنے ولی عليه‌السلام اور اپنے نبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دختر (س) کے فرزند کا

الْمُسَمَّیٰ بِاسْمِ رَسُولِکَ صَلَّی الله عَلَیْهِ وَآلِهِ حَتَّی لاَ یَظْفَرَ بِشَیْئٍ مِنَ الْباطِلِ إلاَّ

جن کا نام تیرے رسول کے نام پر ہے یہاں تک کہ وہ باطل کا نام و نشان مٹا ڈالیں

مَزَّقَهُ وَیُحِقَّ الْحَقَّ وَیُحَقِّقَهُ وَاجْعَلْهُ اَللّٰهُمَّ مَفْزَعاً لِمَظْلُومِ عِبادِکَ وَناصِراً لِمَنْ لاَ یَجِدُ

حق کو حق کہیں اور اسے قائم کریں اے معبود قرار دے انکو اپنے مظلوم بندوں کیلئے جائے پناہ اور ان کے مددگار جن کا تیرے سوا کوئی

لَهُ ناصِراً غَیْرَکَ وَمُجَدِّداً لِمَا عُطِّلَ مِنْ أَحْکامِ کِتابِکَ وَمُشَیِّداً لِمَا وَرَدَ مِنْ أَعْلامِ

مدد گار نہیں بنا ان کو اپنی کتاب کے ان احکام کے زندہ کرنے والے جو بھلا دیئے گئے ان کو اپنے دین کے

دِینِکَ وَسُنَنِ نَبِیِّکَ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وآلِهِ وَاجْعَلْهُ اَللّٰهُمَّ مِمَّنْ حَصَّنْتَهُ مِنْ بَأْسِ

خاص احکام اور اپنے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے طریقوں کو راسخ کرنے والے بنا ان پر اور انکی آلعليه‌السلام پر خدا کی رحمت ہو اور اے معبود انہیں ان لوگوں میں رکھ جنکو تو نے

الْمُعْتَدِینَ اَللّٰهُمَّ وَسُرَّ نَبِیَّکَ مُحَمَّداً صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وآلِهِ بِرُؤْیَتِهِ وَمَنْ تَبِعَهُ عَلَی

ظالموں کے حملے سے بچایا اے معبود خوشنود کر اپنے نبی محمد کو ان کے دیدار سے اور جنہوں نے ان کی دعوت میں

دَعْوَتِهِ وَارْحَمِ اسْتِکانَتَنا بَعْدَهُ اللَّهُمَّ اکْشِفْ هذِهِ الْغُمَّةَ عَنْ هذِهِ الْاَُمَّةِ بِحُضُورِهِ وَ

انکا ساتھ دیا اور ان کے بعد ہماری حالت زار پر رحم فرما اے معبود ان کے ظہور سے امت کی اس مشکل اور مصیبت کو دور کر دے اور

عَجِّلْ لَنا ظُهُورَهُ إنَّهُمْ یَرَوْنَهُ بَعِیداً وَنَرَاهُ قَرِیباً بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ

ہمارے لیے جلد انکا ظہور فرما کہ لوگ انکو دور اور ہم انہیں نزدیک سمجھتے ہیں تیری رحمت کاواسطہ اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے

پھر تین بار دائیں ران پر ہاتھ مارے اور ہر بار کہے:

الْعَجَلَ الْعَجَلَ یَامَوْلایَ یَا صاحِبَ الزَّمانِ

جلد آئیے جلد آئیے اے میرے آقا اے زمانہ حاضر کے امام عليه‌السلام

 

حدیث کساء

عَنْ فاطِمَهَ الزَّهْراَّءِ عَلَیْهَا السَّلامُ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَیْهِ وَآلِهِ قالَ سَمِعْتُ فاطِمَهَ اَنَّها قالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ اَبى رَسُولُ اللَّهِ فى بَعْضِ الاْیّامِ فَقالَ السَّلامُ عَلَیْکِ یا فاطِمَهُ فَقُلْتُ عَلَیْکَ السَّلامُ قالَ اِنّى اَجِدُ فى بَدَنى ضُعْفاً فَقُلْتُ لَهُ اُعیذُکَ بِاللَّهِ یا اَبَتاهُ مِنَ الضُّعْفِ فَقَالَ یا فاطِمَهُ ایتینى بِالْکِساَّءِ الْیَمانى فَغَطّینى بِهِ فَاَتَیْتُهُ بِالْکِساَّءِ الْیَمانى فَغَطَّیْتُهُ بِهِ وَصِرْتُ اَنْظُرُ اِلَیْهِ وَاِذا وَجْهُهُ یَتَلاَْلَؤُ کَاَنَّهُ الْبَدْرُ فى لَیْلَهِ تَمامِهِ وَکَمالِهِجابر بن عبدالله انصاری بی بی فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیھا)بنت رسول الله ﷺ سے روایت کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ میں جناب فاطمة ا لزہراء (سلام اللہ علیھا) سے سنا ہے کہ وہ فرما رہی تھیں کہ ایک دن میرے بابا جان جناب رسول خدا میرے گھر تشریف لائے اور فرمانے لگے: ” سلام ہو تم پر اے فاطمہ(ع)“ میں نے جواب دیا:”آپ پر بھی سلام ہو“۔ پھر آپ نے فرمایا:” میں اپنے جسم میں کمزوری محسوس کررہا ہوں“ میں نے عرض کی:” باباجان خدا نہ کرے جو آپ میں کمزوری آئے“ آپ نے فرمایا:”اے فاطمہ(ع)! مجھے ایک یمنی چادر لاکر اوڑھا دو“ تب میں یمنی چادر لے آئی اور میں نے وہ بابا جان کو اوڑھادی اور میں دیکھ رہی تھی کہ آپکاچہرہ مبارک چمک رہا ہے جس طرح چودھویں رات کو چاند پوری طرح چمک رہا ہو،
فَما کانَتْ اِلاّ ساعَهً وَاِذا بِوَلَدِىَ الْحَسَنِ قَدْ اَقْبَلَ وَقالَ السَّلامُ عَلَیْکِ یا اُمّاهُ فَقُلْتُ وَعَلَیْکَ السَّلامُ یا قُرَّهَ عَیْنى وَثَمَرَهَ فُؤ ادى فَقالَ یا اُمّاهُ اِنّى اَشَمُّ عِنْدَکِ راَّئِحَهً طَیِّبَهً کَاَنَّها راَّئِحَهُ جَدّى رَسُولِ اللَّهِ فَقُلْتُ نَعَمْ اِنَّ جَدَّکَ تَحْتَ الْکِساَّءِ فَاَقْبَلَ الْحَسَنُ نَحْوَ الْکِساَّءِ وَقالَ السَّلامُ عَلَیْکَ یا جَدّاهُ یا رَسُولَ اللَّهِ اَتَاْذَنُ لى اَنْ اَدْخُلَ مَعَکَ تَحْتَ الْکِساَّءِ فَقالَ وَعَلَیْکَ السَّلامُ یا وَلَدى وَیا صاحِبَ حَوْضى قَدْ اَذِنْتُ لَکَ فَدَخَلَ مَعَهُ تَحْتَ الْکِساَّءِپھر ایک ساعت ہی گزری تھی کہ میرے بیٹے حسن(ع) وہاں آگئے اور وہ بولے سلام ہو آپ پر اے والدہ محترمہ(ع)! میں نے کہا اور تم پر سلام ہو اے میری آنکھ کے تارے اور میرے دل کے ٹکڑے۔ وہ کہنے لگے امی جان(ع) ! میں آپکے ہاں پاکیزہ خوشبو محسوس کر رہا ہوں جیسے وہ میرے نانا جان رسول خدا کی خوشبو ہو۔ میں نے کہا ہاں وہ تمہارے نانا جان چادر اوڑھے ہوئے ہیں۔ اس پر حسن(ع) چادر کی طرف بڑھے اور کہا سلا م ہو آپ پر اے نانا جان، اے خدا کے رسول! کیا مجھے اجازت ہے کہ آپ کے پاس چادر میں آجاؤں؟ آپ نے فرمایا تم پر بھی سلام ہو اے میرے بیٹے اور اے میرے حوض کے مالک میں تمہیں اجازت دیتا ہوں پس حسن(ع) آپکے ساتھ چادر میں پہنچ گئے
فَما کانَتْ اِلاّ ساعَهً وَاِذا بِوَلَدِىَ الْحُسَیْنِ قَدْ اَقْبَلَ وَقالَ السَّلامُ عَلَیْکِ یا اُمّاهُ فَقُلْتُ وَعَلَیْکَ السَّلامُ یا وَلَدى وَیا قُرَّهَ عَیْنى وَثَمَرَهَ فُؤ ادى فَقالَ لى یا اُمّاهُ اِنّىَّ اَشَمُّ عِنْدَکِ راَّئِحَهً طَیِّبَهً کَاَنَّها راَّئِحَهُ جَدّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَیْهِ وَآلِهِ فَقُلْتُ نَعَمْ اِنَّ جَدَّکَ وَاَخاکَ تَحْتَ الْکِساَّءِ فَدَنَى الْحُسَیْنُ نَحْوَ الْکِساَّءِ وَقالَ السَّلامُ عَلَیْکَ یا جَدّاهُ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یا مَنِ اخْتارَهُ اللَّهُ اَتَاْذَنُ لى اَنْ اَکُونَ مَعَکُما تَحْتَ الْکِساَّءِ فَقالَ وَعَلَیْکَ السَّلامُ یا وَلَدى وَیا شافِعَ اُمَّتى قَدْ اَذِنْتُ لَکَ فَدَخَلَ مَعَهُما تَحْتَ الْکِساَّءِپھر ایک ساعت ہی گزری ہوگی کہ میرے بیٹے حسین(ع) بھی وہاں آگئے اورکہنے لگے: سلام ہو آپ پر اے والدہ محترمہ(ع)۔ تب میں نے کہا اور تم پربھی سلام ہو اے میرے بیٹے، میرے آنکھ کے تارے اور میرے لخت جگر۔ اس پردہ مجھ سے کہنے لگے:امی جان(ع)! میں آپ کے ہاں پاکیزہ خوشبو محسوس کررہا ہوں جیسے میرے نانا جان رسول خدا کی خوشبو ہو۔ میں نے کہا: ہاں تمہارے نانا جان اور بھائی جان اس چادرمیں ہیں۔ پس حسین(ع) چادر کے نزدیک آئے اور بولے: سلام ہو آپ پر اے نانا جان! سلام ہو آپ پر اے وہ نبی جسے خدانے منتخب کیا ہے۔ کیا مجھے اجازت ہے کہ آپ دونوں کیساتھ چادر میں داخل ہوجاؤں؟ آپ نے فرمایا اور تم پر بھی سلام ہو اے میرے بیٹے اوراے میری امت کی شفاعت کرنے والے ہیں۔ تمہیں اجازت دیتا ہوں ۔ تب حسین(ع) ان دونوں کے پاس چادر میں چلے گئے
فَاَقْبَلَ عِنْدَ ذلِکَ اَبُوالْحَسَنِ عَلِىُّ بْنُ اَبى طالِبٍ وَقالَ السَّلامُ عَلَیْکِ یا بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ فَقُلْتُ وَعَلَیْکَ السَّلامُ یا اَبَا الْحَسَنِ وَ یا اَمیرَالْمُؤْمِنینَ فَقالَ یا فاطِمَهُ اِنّى اَشَمُّ عِنْدَکِ رائِحَهً طَیِّبَهً کَاَنَّها راَّئِحَهُ اَخى وَابْنِ عَمّى رَسُولِ اللَّهِ فَقُلْتُ نَعَمْ ها هُوَ مَعَ وَلَدَیْکَ تَحْتَ الْکِساَّءِ فَاَقْبَلَ عَلِىُّ نَحْوَ الْکِساَّءِ وَقالَ السَّلامُ عَلَیْکَ یا رَسُولَ اللَّهِ اَتَاْذَنُ لى اَنْ اَکُونَ مَعَکُمْ تَحْتَ الْکِساَّءِ قالَ لَهُ وَعَلَیْکَ السَّلامُ یا اَخى یا وَصِیّى وَخَلیفَتى وَصاحِبَ لِواَّئى قَدْ اَذِنْتُ لَکَ فَدَخَلَ عَلِىُّ تَحْتَ الْکِساَّءِاس کے بعد ابوالحسن(ع) علی بن ابیطالب(ع) بھی وہاں آگئے اور بولے سلام ہو آپ پر اے رسول خدا کی دختر! میں نے کہا آپ پر بھی سلام ہو اے اورابولحسن (ع)، اے مومنوں کے امیر وہ کہنے لگے اے فاطمہ(ع)! میں آپ کے ہاں پاکیزہ خوشبو محسوس کر رہا ہوں جیسے میرے برادر اور میرے چچا زاد ،رسول خدا کی خوشبو ہو میں نے جواب دیا ہاں وہ آپ کے دونوں بیٹوں سمیت چادر کے اندر ہیں پھر علی چادر(ع) کے قریب ہوئے اور کہا سلام ہوآپ پر اے خدا کے رسول۔ کیا مجھے اجازت ہے کہ میں بھی آپ تینوں کے پاس چادر میں آجاؤں؟ آپ نے ان سے کہا اور تم پر بھی سلام ہو، اے میرے بھائی، میرے ،قائم مقام ،میرے جانشین اور میرے علم بردار میں تمہیں اجازت دیتا ہوں ۔پس علی(ع) بھی چادر میں پہنچ گئے ۔
ثُمَّ اَتَیْتُ نَحْوَ الْکِساَّءِ وَقُلْتُ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یا اَبَتاهُ یا رَسُولَ اللَّهِ اَتَاْذَنُ لى اَن اَکُونَ مَعَکُمْ تَحْتَ الْکِساَّءِ قالَ وَعَلَیْکِ السَّلامُ یا بِنْتى وَیا بَضْعَتى قَدْ اَذِنْتُ لَکِ فَدَخَلْتُ تَحْتَ الْکِساَّءِپھر میں چادر کے نزدیک آئی اور میں نے کہا: سلام ہو آپ پر اے بابا جان، اے خدا کے رسول کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ میں آپ کے پاس چادر میں آجاؤں؟ آپ نے فرمایا: اور تم پر بھی سلام ہو میری بیٹی اور میری پارہ اے جگر، میں نے تمہیں اجازت دی تب میں بھی چادر میں داخل ہوگئی۔
فَلَمَّا اکْتَمَلْنا جَمیعاً تَحْتَ الْکِساَّءِ اَخَذَ اَبى رَسُولُ اللَّهِ بِطَرَفَىِ الْکِساَّءِ وَاَوْمَئَ بِیَدِهِ الْیُمْنى اِلَى السَّماَّءِ وَقالَ اَللّهُمَّ اِنَّ هؤُلاَّءِ اَهْلُ بَیْتى وَخاَّصَّتى وَحاَّمَّتى لَحْمُهُمْ لَحْمى وَدَمُهُمْ دَمى یُؤْلِمُنى ما یُؤْلِمُهُمْ وَیَحْزُنُنى ما یَحْزُنُهُمْ اَنَا حَرْبٌ لِمَنْ حارَبَهُمْ وَسِلْمٌ لِمَنْ سالَمَهُمْ وَعَدُوُّ لِمَنْ عاداهُمْ وَمُحِبُّ لِمَنْ اَحَبَّهُمْ اِنَّهُمْ مِنّى وَ اَنَا مِنْهُمْ فَاجْعَلْ صَلَواتِکَ وَبَرَکاتِکَ وَرَحْمَتَکَ وَغُفْرانَکَ وَرِضْوانَکَ عَلَىَّ وَعَلَیْهِمْ وَاَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهیراًجب ہم سب چادر میں اکٹھے ہوگئے تو میرے والد گرامی رسول الله نے چادر کے دونوں کنارے پکڑے اور دائیں ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: اے خدا! یقیناً یہ ہیں میرے اہل بیت(ع) ، میرے خاص لوگ، اور میرے حامی،ان کا گوشت میرا گوشت اور ان کا خون میرا خون ہے جو انہیں ستائے وہ مجھے ستاتا ہے اور جو انہیں رنجیدہ کرے وہ مجھے رنجیدہ کرتا ہے ۔ جو ان سے لڑے میں بھی اس سے لڑوں گا جو ان سے صلح رکھے میں بھی اس سے صلح رکھوں گا، میں ان کے دشمن کا دشمن اور ان کے دوست کا دوست ہوں کیونکہ وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔ پس اے خدا تو اپنی عنائتیں اور اپنی برکتیں اور اپنی رحمت اور اپنی بخشش اور اپنی خوشنودی میرے اور ان کیلئے قرار دے، ان سے ناپاکی کو دور رکھ، انکو پاک کر، بہت ہی پاک
فَقالَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ یا مَلاَّئِکَتى وَیا سُکّانَ سَمواتى اِنّى ما خَلَقْتُ سَماَّءً مَبْنِیَّهً وَلا اَرْضاً مَدْحِیَّهً وَلا قَمَراً مُنیراً وَلا شَمْساً مُضِیَّئَهً وَلا فَلَکاً یَدُورُ وَلا بَحْراً یَجْرى وَلا فُلْکاً یَسْرى اِلاّ فى مَحَبَّهِ هؤُلاَّءِ الْخَمْسَهِ الَّذینَ هُمْ تَحْتَ الْکِساَّءِ فَقالَ الاْمینُ جِبْراَّئیلُ یا رَبِّ وَمَنْ تَحْتَ الْکِساَّءِ فَقالَ عَزَّوَجَلَّ هُمْ اَهْلُ بَیْتِ النُّبُوَّهِ وَمَعْدِنُ الرِّسالَهِ هُمْ فاطِمَهُ وَاَبُوها وَبَعْلُها وَبَنُوهااس پر خدائے بزرگ و برتر نے فرمایا: اے میرے فرشتو اور اے آسمان میں رہنے والو بے شک میں نے یہ مضبوط آسمان پیدا نہیں کیا اور نہ پھیلی ہوئی زمین، نہ چمکتا ہوا چاند، نہ روشن تر سورج، نہ گھومتے ہوئے سیارے، نہ تھلکتا ہوا سمندر اور نہ تیرتی ہوئی کشتی، مگر یہ سب چیزیں ان پانچ نفوس کی محبت میں پیدا کی ہیں جو اس چادر کے نیچے ہیں۔ اس پر جبرائیل(ع) امین نے پوچھا اے پروردگار! اس چادر میں کون لوگ ہیں؟ خدائے عز وجل نے فرمایاکہ وہ نبی کے اہلب(ع)یت اور رسالت کا خزینہ ہیں۔ یہ فاطمہ(ع) اور ان کے بابا، ان کے شوہر(ع)، اور ان کے دو بیٹے(ع) ہیں۔
فَقالَ جِبْراَّئیلُ یا رَبِّ اَتَاْذَنُ لى اَنْ اَهْبِطَ اِلَى الاْرْضِ لاِکُونَ مَعَهُمْ سادِساً فَقالَ اللَّهُ نَعَمْ قَدْ اَذِنْتُ لَکَ فَهَبَطَ الاْمینُ جِبْراَّئیلُ وَقالَ السَّلامُ عَلَیْکَ یا رَسُولَ اللَّهِ الْعَلِىُّ الاَْعْلى یُقْرِئُکَ السَّلامَ وَیَخُصُّکَ بِالتَّحِیَّهِ وَالاِْکْرامِ وَیَقُولُ لَکَ وَعِزَّتى وَجَلالى اِنّى ما خَلَقْتُ سَماَّءً مَبْنِیَّهً وَلا اَرْضاً مَدْحِیَّهً وَلا قَمَراً مُنیراً وَلا شَمْساً مُضَّیئَهً وَلا فَلَکاً یَدُورُ وَلا بَحْراً یَجْرى وَلا فُلْکاً یَسْرى اِلاّ لاَِجْلِکُمْ وَمَحَبَّتِکُمْ وَقَدْ اَذِنَ لى اَنْ اَدْخُلَ مَعَکُمْ فَهَلْ تَاْذَنُ لى یا رَسُولَ اللَّهِ فَقالَ رَسُولُ اللَّهِ وَعَلَیْکَ السَّلامُ یا اَمینَ وَحْىِ اللَّهِ اِنَّهُ نَعَمْ قَدْ اَذِنْتُ لَکَ فَدَخَلَ جِبْراَّئیلُ مَعَنا تَحْتَ الْکِساَّءِ فَقالَ لاِبى اِنَّ اللَّهَ قَدْ اَوْحى اِلَیْکُمْ یَقُولُ اِنَّما یُریدُ اللَّهُ لِیُذْهِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَکُمْ تَطْهیراًتب جبرئیل(ع) نے کہااے پروردگار! کیا مجھے اجازت ہے کہ زمین پر اتر جاؤں تا کہ ان میں شامل ہوکر چھٹا فردبن جاؤں؟ خدائے تعالیٰ نے فرمایا: ہاں ہم نے تجھے اجازت دی، پس جبرئیل امین زمین پر اتر آئے اور عرض کی: سلام ہو آپ پر اے خدا کے رسول! خدا ئے بلند و برتر آپ کو سلام کہتا ہے، آپ کو درود اور بزرگواری سے خاص کرتا ہے، اور آپ سے کہتا ہے مجھے اپنے عزت و جلال کی قسم کہ بے شک میں نے نہیں پیدا کیا مضبوط آسمان اور نہ پھیلی ہوئی زمین، نہ چمکتا ہوا چاند، نہ روشن تر سورج نہ گھومتے ہوئے سیارے، نہ تھلکتا ہوا سمندر اور نہ تیرتی ہوئی کشتی مگر سب چیزیں تم پانچوں کی محبت میں پیدا کی ہیں اور خدا نے مجھے اجازت دی ہے کہ آپ کے ساتھ چادر میں داخل ہو جاؤں تو اے خدا کے رسول کیا آپ بھی اجازت دیتے ہیں؟ تب رسول خدا نے فرمایاباباجان سے کہا کہ یقیناً کہ تم پر بھی سلام ہو اے خدا کی وحی کے امین(ع)! ہاں میں تجھے اجازت دیتا ہوں پھر جبرائیل (ع)بھی ہمارے ساتھ چادر میں داخل ہوگئے اور میرے خدا آپ لوگوں کو وحی بھیجتا اور کہتا ہے واقعی خدا نے یہ ارادہ کر لیا ہے کہ آپ لوگوں سے ناپاکی کو دور کرے اے اہل بیت(ع) اور آپ کو پاک و پاکیزہ رکھے
فَقالَ عَلِىُّ لاَبى یا رَسُولَ اللَّهِ اَخْبِرْنى ما لِجُلُوسِنا هذا تَحْتَ الْکِساَّءِ مِنَ الْفَضْلِ عِنْدَاللَّهِ فَقالَ النَّبِىُّ وَالَّذى بَعَثَنى بِالْحَقِّ نَبِیّاً وَاصْطَفانى بِالرِّسالَهِ نَجِیّاً ما ذُکِرَ خَبَرُنا هذا فى مَحْفِلٍ مِنْ مَحافِلِ اَهْلِ الاَْرْضِ وَفیهِ جَمْعٌ مِنْ شَیعَتِنا وَمُحِبّینا اِلاّ وَنَزَلَتْ عَلَیْهِمُ الرَّحْمَهُ وَحَفَّتْ بِهِمُ الْمَلاَّئِکَهُ وَاسْتَغْفَرَتْ لَهُمْ اِلى اَنْ یَتَفَرَّقُوا فَقالَ عَلِىُّ اِذاً وَاللَّهِ فُزْنا وَفازَ شیعَتُنا وَرَبِّ الْکَعْبَهِتب علی(ع) نے میرے باباجان سے کہا:اے خدا کے رسول مجھے بتایئے کہ ہم لوگوں کا اس چادر کے اندر آجانا خدا کے ہاں کیا فضیلت رکھتا ہے؟ تب حضرت رسول خدا نے فرمایا اس خدا کی قسم جس نے مجھے سچا نبی بنایااور لوگوں کی نجات کی خاطر مجھے رسالت کے لیے چنا۔ اہل زمین کی محفلوں میں سے جس محفل میں ہماری یہ حدیث بیان کی جائے گی اور اسمیں ہمارے شیعہ اوردوست دار جمع ہونگے تو ان پر خدا کی رحمت نازل ہوگی فرشتے ان کو حلقے میں لے لیں گے اور جب تک وہ لوگ محفل سے رخصت نہ ہونگے وہ ان کے لیے بخشش کی دعا کریں گے۔ اس پر علی(ع) بولے: خدا کی قسم ہم کامیاب ہوگئے اور رب کعبہ کی قسم ہمارے شیعہ بھی کامیاب ہوں گے
فَقالَ النَّبِىُّ ثانِیاً یا عَلِىُّ وَالَّذى بَعَثَنى بِالْحَقِّ نَبِیّاً وَاصْطَفانى بِالرِّسالَهِ نَجِیّاً ما ذُکِرَ خَبَرُنا هذا فى مَحْفِلٍ مِنْ مَحافِلِ اَهْلِ الاَْرْضِ وَفیهِ جَمْعٌ مِنْ شیعَتِنا وَمُحِبّینا وَفیهِمْ مَهْمُومٌ اِلاّ وَفَرَّجَ اللَّهُ هَمَّهُ وَلا مَغْمُومٌ اِلاّ وَکَشَفَ اللَّهُ غَمَّهُ وَلا طالِبُ حاجَهٍ اِلاّ وَقَضَى اللّهُ حاجَتَهُ فَقالَ عَلِىُّ اِذاً وَاللَّهِ فُزْنا وَسُعِدْنا وَکَذلِکَ شیعَتُنا فازُوا وَسُعِدُوا فِى الدُّنْیا وَالاْخِرَهِ وَرَبِّ الْکَعْبَهتب حضرت رسول نے دوبارہ فرمایا:اے علی(ع) اس خدا کی قسم جس نے مجھے سچا نبی بنایا اور لوگوں کی نجات کی خاطر مجھے رسالت کے لیے چنا، اہل زمین کی محفلوں میں سے جس محفل میں ہماری یہ حدیث بیان کی جائے گی اور اس میں ہمارے شیعہ اور دوستدار جمع ہوں گے تو ان میں جو کوئی دکھی ہوگا خدا اس کا دکھ دور کر دے گا جو کوئی غمز دہ ہوگا، خدا اس کو غم سے چھٹکارا دے گا، جو کوئی حاجت مند ہوگا خدا اس کی حاجت پوری کرے گا تب علی(ع) کہنے لگے بخدا ہم نے کامیابی اور برکت پائی اور رب کعبہ کی قسم کہ اسی طرح ہمارے شیعہ بھی دنیا و آخرت میں کامیاب و سعادت مند ہوں گے۔

قبرکی ندائیں اورغافل انسان

قبرکی ندائیں اورغافل انسان

حضورGفرماتےہیں قبرروزانہ ندائیں دیتی ہےقبرکی آوازآتی ہے۔

1۔یابن آدم تمشی علی ظھری ومسیرک فی بطنی۔اےفرزندآدم توآج میری پشت پہ (تکبرکیساتھ)چل رہاہےلیکن یادرکھناایک دن میرے پیٹ میں آناہے۔

2۔یابن آدم تضحک علی ظھری ثم تبکی فی بطنی۔اےابن آدم آج میری پشت پہ تو ہنس رہاہےپھرکل جب میرے پیٹ میں آئےگا توروئےگا۔

3۔یابن آدم تاکل الحرام علی ظھری ثم تاکلک الدیدان فی بطنی۔اےابن تو آج میری پشت پہ حرام کھارہاہےپھرجب تومیرےپیٹ میں آئےگاتجھےکیڑے،مکوڑے(سانپ،بچھو)کھائینگے۔

4۔یابن آدم انابیت الوحدۃ فاتنی انیسا۔اےفرزندآدم میں تنہائی کاگھرہوں میرےپاس آناتوکوئی دوست،مونس لیکرآنا

5۔یابن آدم انابیت الفقرفاتنی کنزا۔اےابن آدم میں غربت کاگھرہوں میرےپاس آناتوکوئی خزانہ لیکرآنا۔

6۔یاآدم أنا بيتُ التُّرابِ، فاتنی فراشا۔اےابن آدم میں مٹی کاگھرہوں میرےپاس آناتوکوئی بسترلیکرآنا۔

7۔یابن آدم انابیت الظلمۃ فاتنی سراجا۔اےفرزندآدم میں تاریکی کاگھرہوں میرےپاس آناتوکوئی چراغ لیکرآنا۔

8۔یابن آدم وأنا بَيتُ الدُّودِ، فاتنی تریاقا۔

اےابن آدم میں کیڑوں، مکوڑوں(سانپوں،بچھوؤں)کاگھرہوں میرےپاس آناتوکوئی تریاق لیکرآنا۔۔/اےارحم الراحمین ذات ہم سب کی منزل قبر آسان فرما۔۔