سلام اور غلامی سے متعلق فلسفیانہ اور تاریخی سوالات

اسلام اور غلامی سے متعلق فلسفیانہ اور تاریخی سوالات

کیا قرآن غلامی کو فطری  قرار دیتا ہے؟

بعض مستشرقین نے یہ شبہ پیدا کیا ہے کہ قرآن نے غلامی کو ایک فطری چیز قرار دے کر اسے اپنے نظام میں قبول کیا ہے۔ یہ سوال اس وجہ سے پیدا ہوا کہ انہوں نے ایک قرآنی آیت کو اس کے سیاق و سباق سے نکال کر اس سے ایک غلط نتیجہ اخذ کیا ہے۔ ہم اگر اس آیت کو اس کے سیاق و سباق میں رکھ کر دیکھیں تو ایسا کوئی نتیجہ وہی اخذ کر سکتا ہے جو علمی دیانت سے واقف نہ ہو۔

وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ وَلَهُ الْمَثَلُ الأَعْلَى فِي السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ. ضَرَبَ لَكُمْ مَثَلاً مِنْ أَنْفُسِكُمْ هَلْ لَكُمْ مِنْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ مِنْ شُرَكَاءَ فِي مَا رَزَقْنَاكُمْ فَأَنْتُمْ فِيهِ سَوَاءٌ تَخَافُونَهُمْ كَخِيفَتِكُمْ أَنفُسَكُمْ كَذَلِكَ نُفَصِّلُ الآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ. بَلْ اتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَهْوَاءَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَمَنْ يَهْدِي مَنْ أَضَلَّ اللَّهُ وَمَا لَهُمْ مِنْ نَاصِرِينَ. (روم 30:27-29)

وہی (خدا) ہی تو ہے جو تخلیق کی ابتدا کرتا ہے، پھر وہی اسے دوہرائے گا اور یہ اس کے لئے آسان تر ہے۔ آسمانوں اور زمین میں اس کی یہ صفت سب سے برتر ہے اور وہی زبردست اور حکمت والا ہے۔ وہ تمہیں خود تمہاری ذات سے ایک مثال دیتا ہے۔ کیا تمہارے ان غلاموں میں سے جو تمہاری ملکیت میں ہیں، تم پسند کرو گے کہ کچھ غلام ہمارے دیے ہوئے مال و دولت میں تمہارے برابر شریک ہو جائیں اور تم ان سے اس طرح ڈرنے لگو جس طرح اپنے برابر کے لوگوں سے ڈرتے ہو۔ اسی طرح ہم عقل مندوں کے لئے اپنی نشانیوں کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔ مگر یہ ظالم بغیر سوچے سمجھے اپنے تخیلات کے پیچھے چل پڑے ہیں۔ اب اس شخص کو کون ہدایت دے سکتا ہے جسے اللہ ہی نے گمراہی کے راستے پر (اس کے رویے کے باعث) چھوڑ دیا ہو۔ ایسے لوگوں کا کوئی مددگار نہیں ہے۔

سورہ روم ایک مکی سورت ہے۔ ان آیات میں اہل مکہ کو توحید اور آخرت کی طرف دعوت دی جا رہی ہے۔ اس کے لئے انہیں یہ بات بطور مثال بیان کی گئی ہے کہ تم لوگ اپنے غلاموں کو تو اپنے برابر سمجھتے نہیں لیکن عجیب بات ہے کہ تم لوگ خدا کے حقیقی بندوں کو اس کے برابر قرار دے دیتے ہو۔ ان آیات میں مشرکین مکہ کے ایک غلط تصور ہی کو لے کر انہیں اسی کی بنیاد پر اتمام حجت کیا گیا ہے۔

          ان آیات سے یہ کہیں اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ قرآن غلامی کو قبول کرتا ہے اور وہ اسے ایک ادارے کے طور پر باقی دیکھنا چاہتا ہے۔ خاص طور پر اگر تفصیل سے ان تمام آیات و احادیث کو سامنے رکھا جائے جو ہم نے باب 7 سے لے کر باب 12 کے درمیان بیان کی ہیں تو کوئی معقول شخص یہ دعوی نہیں کر سکتا۔ دوسری آیات یہ ہیں جنہیں ان کے سیاق و سباق سے الگ کر کے پیش کیا جاتا ہے:

وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ فَمَا الَّذِينَ فُضِّلُوا بِرَادِّي رِزْقِهِمْ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَهُمْ فِيهِ سَوَاءٌ أَفَبِنِعْمَةِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ. وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجاً وَجَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ بَنِينَ وَحَفَدَةً وَرَزَقَكُمْ مِنْ الطَّيِّبَاتِ أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ اللَّهِ هُمْ يَكْفُرُونَ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً مِنْ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ شَيْئاً وَلا يَسْتَطِيعُونَ۔ فَلا تَضْرِبُوا لِلَّهِ الأَمْثَالَ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ۔ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلاً عَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ وَمَنْ رَزَقْنَاهُ مِنَّا رِزْقاً حَسَناً فَهُوَ يُنفِقُ مِنْهُ سِرّاً وَجَهْراً هَلْ يَسْتَوُونَ الْحَمْدُ لِلَّهِ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لا يَعْلَمُونَ۔ وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلاً رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا أَبْكَمُ لا يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ وَهُوَ كَلٌّ عَلَى مَوْلاهُ أَيْنَمَا يُوَجِّهُّ لا يَأْتِ بِخَيْرٍ هَلْ يَسْتَوِي هُوَ وَمَنْ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَهُوَ عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ (النحل 16:71-76)

اللہ نے تم میں سے بعض کو دیگر پر رزق کے معاملے میں بہتر بنایا ہے۔ تو ایسا کیوں نہیں ہے کہ جو رزق کے معاملے میں فوقیت رکھتے ہیں وہ اسے غلاموں کو منتقل کر دیں تاکہ وہ ان کےبرابر آ سکیں۔ تو کیا اللہ کا احسان ماننے سے ان لوگوں کو انکار ہے؟

اور وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے تم میں سے ہی جوڑے بنائے ہیں اور اسی نے ان میں سے تمہیں اولاد اور پوتے پوتیاں عطا کئے ہیں اور تمہارے کھانے پینے کے لئے اچھی اور صاف چیزیں پیدا کی ہیں۔ پھر کیا یہ لوگ (دیکھ بھال کر بھی) باطل پر تو ایمان لاتے ہیں اور اللہ کے احسانات کا انکار کرتے ہیں، اور اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہیں جو انہیں آسمانوں اور زمین میں سے کوئی چیز بطور رزق کے نہیں دینے کی طاقت نہیں رکھتے۔ پس اللہ کے لئے مثالیں نہ بیان کیا کرو۔ بے شک اللہ ہی جانتا ہے جبکہ تم نہیں جانتے۔

اللہ ایک مثال دیتا ہے۔ ایک غلام ہے جو دوسرے کا مملوک ہے اور کسی چیز پر اختیار نہیں رکھتا۔ دوسرا شخص ایسا ہے جسے ہم نے اپنی طرف سے رزق عطا کیا ہے اور وہ اس میں سے کھلے چھپے خرچ کرتا ہے۔ کیا یہ دونوں برابر ہیں؟ (جب تمہارے خیال میں یہ دونوں برابر نہیں ہیں) تو الحمد للہ مگر اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے۔ اللہ دو افراد کی ایک اور مثال بیان کرتا ہے۔ ان میں سے ایک گونگا بہرا ہے اور کچھ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور مکمل طور پر اپنے آقا پر بوجھ بنا ہوا ہے۔ جہاں وہ اسے بھیجتا ہے وہ کوئی سیدھا کام کر کے نہیں آتا۔ دوسرا شخص ایسا ہے جو انصاف کی تلقین کرتا ہے اور سیدھے راستے پر ہے۔ کیا یہ دونوں برابر ہیں؟

ان میں سے پہلی آیت تو کھلم کھلا غلامی کو ختم کرنے سے متعلق ہے۔ یہ حقیقت تھی کہ اس دور کی معاشرت میں غلام کسی طرح بھی آزاد افراد کے برابر نہیں تھے۔ قرآن نے ان غلاموں کو رقم دے کر آزاد افراد کے برابر لانے کا حکم دیا ہے۔

          آخری دو آیات میں اللہ تعالی نے عربوں کو خطاب کرتے ہوئے انہی کی معاشرت میں سے دو مثالیں بیان کی ہے۔ عربوں کے ہاں یہ غلط تصور پایا جاتا تھا کہ معاذ اللہ خدا بھی دنیاوی بادشاہوں کی طرح ہے۔ جس طرح دنیاوی بادشاہ کسی کو نہیں ملتے اور ان سے کچھ عرض کرنے کے لئے ان کے قریبی لوگوں اور درباریوں کے ذریعے ان تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے، اسی طرح ان کا خیال تھا کہ اللہ تعالی تک رسائی حاصل کرنے کے لئے اس کے نیک بندوں کا وسیلہ درکار ہے۔

          اللہ تعالی نے ان کے سامنے یہ مثال دی ہے کہ جس طرح تمہاری معاشرت میں آقا اور غلام کو برابر اختیارات حاصل نہیں ہیں اور غلام کو سامنے رکھ کر آقا پر قیاس نہیں کیا جا سکتا تو یہ کیسے ممکن ہے کہ دنیا کےبادشاہ جو کہ اللہ تعالی کے غلام اور بندے ہیں، پر پوری کائنات کے مالک کو قیاس کر لیا جائے؟ اس سے یہ کہاں سے اخذ کیا جا سکتا ہے کہ قرآن غلامی کو فطری قرار دیتے ہوئے اسے ہمیشہ کے لئے برقرار رکھنا چاہتا تھا۔

          اگر ان آیات کو اپنے سیاق و سباق سے کاٹ کر ایک غلط نتیجہ اخذ کر لیا جائے تو یہ معاملہ تو پھر دنیا کی ہر کتاب کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔ ایسا کرنے والے کارل مارکس کی کتابوں سے کیپیٹل ازم کا جواز اور مہاتما گاندھی کی کتب سے تشدد کا فلسفہ اخذ کر سکتے ہیں۔ ظاہر ہے اس رویے کو علمی بددیانتی کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے۔

 

اسلام دین امن و سلامتی ہے


  اسلام کا معنی و مفہوم

1۔ اسلام دین امن و سلامتی ہے
اسلام خود بھی امن و سلامتی کا دین ہے اور دوسروں کو بھی امن و عافیت کے ساتھ رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ اسلام کے دینِ امن و سلامتی ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے بھیجے ہوئے دین کے لئے نام ہی ’’اسلام‘‘ پسند کیا ہے۔ (1) لفظ اسلام سَلَمَ یا سَلِمَ سے ماخوذ ہے، جس کے معنی امن و سلامتی اور خیر و عافیت کے ہیں۔ اسلام اپنے لغوی معنی کے اعتبار سے سراسر امن (peace) ہے۔ گویا امن و سلامتی کا معنی لفظ اسلام کے اندر ہی موجود ہے۔ لہٰذا اپنے معنی کے اعتبار سے ہی اسلام ایک ایسا دین ہے جو خود بھی سراپا سلامتی ہے اور دوسروں کو بھی امن و سلامتی، محبت و رواداری، اعتدال و توازن اور صبر و تحمل کی تعلیم دیتا ہے۔
قرآن و حدیث میں اگر مسلم اور مومن کی تعریف تلاش کی جائے تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک مسلمان صرف وہ شخص ہے جو تمام انسانیت کے لئے پیکر امن و سلامتی ہو اور مومن بھی وہی شخص ہے جو امن و آشتی، تحمل و برداشت، بقاء باہمی اور احترام آدمیت جیسے اوصاف سے متصف ہو۔ یعنی اجتماعی سطح سے لے کر انفرادی سطح تک ہر کوئی اس سے محفوظ و مامون ہو۔
1. اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللهِ الْاِسْلَامُ.
’’بے شک دین اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے۔‘‘
آل عمران، 3 : 19
2. وَرَضِيْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا.
’’اور تمہارے لیے اسلام کو (بطورِ) دین (یعنی مکمل نظامِ حیات کی حیثیت سے) پسند کرلیا۔‘‘
المائدة، 5 : 3
3. هُوَ سَمّٰکُمُ الْمُسْلِمِيْنَ مِنْ قَبْلُ وَفِيْ هٰذَا.
’’اس (اﷲ) نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے، اس سے پہلے (کی کتابوں میں) بھی اور اس (قرآن) میں بھی۔‘‘
الحج، 22 : 782۔ دین اسلام کے تین درجات
پیغمبر اسلام حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دین اسلام کے درج ذیل تین درجات بیان فرمائے ہیں :اسلامایماناحسان
اَعمال، عقائد اور احوال کے باب میں دین اسلام کے یہ تین مراتب ہیں۔ دین اسلام کی تمام تعلیمات انہی کے گرد گھومتی نظر آتی ہیں۔ جیسا کہ امام بخاری اور امام مسلم کی روایت کردہ حدیث صحیح میں ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر تھے کہ حضرت جبریل علیہ السلام ایک سائل کی صورت میں حاضر مجلس ہوئے اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درج ذیل تین سوال عرض کیے :
مَا الْإِسْلَامُ؟
’’اسلام کیا ہے؟‘‘
اِس پہلے سوال کے جواب میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دین کے اساسی اعمال بیان فرمائے۔
حضرت جبریل علیہ السلام نے دوسرا سوال یہ کیا :
مَا الْإِيمَانُ؟
’’ایمان کیا ہے؟‘‘
اِس کے جواب میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دین کے اساسی عقائد بیان فرمائے۔
حضرت جبریل علیہ السلام نے تیسرا سوال یہ کیا :
مَا الْإِحْسَانُ؟
’’احسان کیا ہے؟‘‘
اِس سوال کے جواب میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دین کی اعلیٰ قلبی کیفیات اور روحانی احوال بیان فرمائے جن سے بندۂ مومن کی باطنی تطہیر اور روحانی ارتقاء و استحکام کے بعد اس کی شخصیت کی تکمیل ہوتی ہے۔
سوالات کے جواب حاصل کرنے کے بعد جب جبریل علیہ السلام واپس چلے گئے تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا :
إِنَّه جِبْرِيْلُ أَتَاکُمْ يُعَلِّمُکُمْ دِيْنَکُمْ.
’’یہ جبریل علیہ السلام تھے جو تمہیں (ان سوالات کے ذریعے) دین کی تعلیم دینے آئے تھے۔‘‘
1. بخاری، الصحيح، کتاب الإيمان، باب سؤالِ جبرِيل النبِي صلی الله عليه وآله وسلم عن الإِيمان و الإِسلامِ والإِحسانِ وعلمِ الساعة، 1 : 27، رقم : 502. مسلم، الصحيح، کتاب الإيمان، باب بيان الإيمان والإسلام والإحسان، 1 : 36، رقم : 8، 93. ترمذی، السنن، کتاب الإيمان، باب ما جاء فی وصف جبريل للنبي صلی الله عليه وآله وسلم الإيمان والإسلام، 5 : 6، رقم : 26014. أبوداود، السنن، کتاب السنة، باب فی القدر، 4 : 222، رقم : 46955. نسائی، السنن، کتاب الإيمان وشرائعه، باب نعت الإسلام، 8 : 97، رقم : 49906. ابن ماجه، السنن، المقدمة، باب في الإيمان، 1 : 24، رقم : 63
اِس مضمون پر مشتمل متعدد احادیث میں دین اسلام کے ان تین مراتب کی تفصیلات واضح کی گئی ہیں۔ اسی طرح قرآن حکیم میں بھی باری تعالیٰ نے مختلف مقامات پر دین اسلام کے یہ تین درجات بیان فرمائے ہیں۔
دین اسلام کے پہلے درجے ’’اسلام‘‘ کے بارے میں قرآن حکیم میں ارشاد ہوتا ہے :
اَلْيَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِيْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْکُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا.
المائدة، 5 : 3
’’آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو (بطور) دین (یعنی مکمل نظام حیات کی حیثیت سے) پسند کر لیا۔‘‘
دین اسلام کے دوسرے درجے ’’ایمان‘‘ کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :
قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّاط قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلٰکِنْ قُوْلُوْا اَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْاِيْمَانُ فِيْ قُلُوْبِکُمْ.
الحجرات، 49 : 14
’’دیہاتی لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں، آپ فرما دیجیے : تم ایمان نہیں لائے، ہاں یہ کہو کہ ہم اسلام لائے ہیں اور ابھی ایمان تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا۔‘‘
دین اسلام کے تیسرے درجے ’’احسان‘‘ کے بارے میں اِرشادِ باری تعالیٰ ہے :
وَمَنْ اَحْسَنُ دِيْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْهَه ِﷲِ وَهُوَ مُحْسِنٌ.
النساء، 4 : 125
’’اور دین اِختیار کرنے کے اعتبار سے اُس شخص سے بہتر کون ہو سکتا ہے جس نے اپنا رُوئے نیاز اللہ کے لیے جھکا دیا اور وہ صاحب احسان بھی ہوا۔‘‘
ایک مقام پر اﷲ تبارک و تعالیٰ نے دین اسلام کے تینوں درجات بالترتیب اکٹھے بیان فرمائے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے :
لَيْسَ عَلَی الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِيْمَا طَعِمُوْا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاَحْسَنُوْاط وَاﷲُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَo
المائدة، 5 : 93
’’ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اس (حرام) میں کوئی گناہ نہیں جو وہ (حکمِ حرمت اترنے سے پہلے) کھا پی چکے ہیں جب کہ وہ (بقیہ معاملات میں) بچتے رہے اور (دیگر احکام الٰہی پر) ایمان لائے اور اعمال صالحہ پر عمل پیرا رہے، پھر (احکام حرمت کے آجانے کے بعد بھی ان سب حرام اشیاء سے) پرہیز کرتے رہے اور (اُن کی حرمت پر صدقِ دل سے) ایمان لائے، پھر صاحبان تقویٰ ہوئے اور (بالآخر) صاحبان احسان (یعنی اﷲ کے خاص محبوب و مقرب و نیکوکار بندے) بن گئے، اور اﷲ اِحسان والوں سے محبت فرماتا ہےo‘‘
سطور بالا میں کی گئی اِس بنیادی بحث سے واضح ہوتا ہے، اور ائمہ دین کا بھی اِسی اَمر پر اِجماع ہے، کہ دین اسلام کاملاً تین درجوں پر مشتمل ہے اور اس کی کل تعلیمات اِنہی تین درجوں میں تقسیم ہیں۔ اگر اِسلام کے عام معنی مراد لیے جائیں تو اس سے مراد مکمل دین ہے اور اگر اس کے خاص معنی مراد لیے جائیں تو اس سے مراد دین کے اساسی اعمال ہوں گے جنہیں اَرکانِ اِسلام سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہی ارکان اسلام ہیں جن سے مسلمانوں کی انفرادی و اجتماعی زندگی عملی سانچے میں ڈھلتی ہے۔ اِسی طرح دین اسلام کی وہ تعلیمات جن کا تعلق اعمال اور احکام کے ساتھ ہے، ’’اسلام‘‘ کے ذیل میں آتی ہیں۔ ان سے مسلمانوں کی عملی و اخلاقی زندگی وجود میں آتی ہے۔ دینِ اِسلام کی وہ تعلیمات جن کا تعلق عقائد و نظریات کے ساتھ ہے، وہ ’’ایمان‘‘ کے ذیل میں آتی ہیں اور ان سے انسانی زندگی کا فکری و نظریاتی پہلو تشکیل پاتا ہے جب کہ دینِ اِسلام کی وہ تعلیمات جن سے اَعلیٰ قلبی کیفیات اور روحانی اَحوال نصیب ہوتے ہیں، وہ ’’احسان‘‘ کے ذیل میں آتی ہیں۔ اِن تعلیمات سے بندۂ مؤمن کی اَخلاقی و روحانی تطہیر ہوتی ہے اور اُس کے قلب و باطن کا روحانی ارتقاء ہوتا ہے جو فی الحقیقت اسلام اور ایمان کا مقصد و مدعا ہوتا ہے۔
اب ہم بالترتیب دین اسلام کے تینوں مراتب کا ذکر لغوی اور اِصطلاحی حوالے سے کرتے ہیں تاکہ یہ خوش گوار حقیقت واضح ہوسکے کہ ان تین مراتب کا امن، امان اور سلامتی کے ساتھ کیا تعلق ہے۔(1) لفظ اسلام کا لغوی معنی اور تحقیق
لفظِ ’اسلام‘ مصدر ہے اور یہ سَلِمَ يَسْلَمُ سَلَامًا وسَلَامَة سے ماخوذ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
اُدْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّةً.
البقرة، 2 : 208
’’اسلام (سلامتی) میں پورے پورے داخل ہو جاؤ۔‘‘
یہاں السِّلْم کا معنی ابو عمرو نے اسلام کیا ہے۔ اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان اقدس ہے :
اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِه وَيَدِه.
1. بخاري، الصحيح، کتاب الإيمان، باب من سلم المسلمون من لسانه ويد، 1 : 13، رقم : 102. مسلم، الصحيح، کتاب الإيمان، باب بيان تفاضل الإسلام وأيّ اًُموره أفضل،1 : 65، رقم : 413. ترمذی، السنن، کتاب الإيمان، باب ما جاء في أن المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده، 5 : 17، رقم : 26274. أحمد بن حنبل، المسند، 3 : 440، رقم : 156735. ابن حبان، الصحيح، 1 : 406، رقم : 180
’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان سلامت رہیں۔‘‘
لہٰذا کسی فرد کے اسلام لانے اور مسلمان ہو جانے کا مطلب سلامتی کے دروازے میں داخل ہو جانا ہے یہاں تک کہ لوگ اس کے شر سے محفوظ ہو جائیں۔
امامِ لغت ابو منصور محمد الازہری (282 ۔ 370ھ) تہذیب اللغۃ میں بیان کرتے ہیں کہ ابو اسحاق الزجاج نے اللہ تعالیٰ کے اس قول۔ ﴿فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَيْکُمْ کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلٰی نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ﴾ (1) (تو آپ (ان سے شفقتاً) فرمائیں کہ تم پر سلام ہو تمہارے رب نے اپنی ذات (کے ذِمّہ کرم) پر رحمت لازم کرلی ہے)۔ کی تفسیر میں فرمایا کہ انہوں نے محمد بن یزید کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ لغتِ عرب میں سَلام کے چار معانی ہیں : ان میں سے ایک یہ کہ سَلام، سَلمت سے مصدر ہے؛ دوسرا یہ کہ سَلامَۃ کی جمع ہے؛ تیسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ کے اَسماے حسنیٰ میں سے ایک اسم مبارک ہے اور چوتھا یہ کہ یہ ایک ایسے درخت کا نام ہے جو سدا بہار شجرِ سایہ دار ہے۔ زجاج نے کہا : وہ سَلام جو سَلَّمْتُ کا مصدر ہے، اس کا معنی انسان کے لئے دعا ہے کہ وہ اپنے دین اور اپنی جان میں آفات سے سلامت رہے اور اس کی تاویل تمام آفات و بَلِیّات سے نجات اور چھٹکارا پانا ہے۔(2)
(1) الانعام، 6 : 54(2) أزهری، تهذيب اللغة، 4 : 292
جنت کو بھی دَارُ السَّلاَم اسی لئے کہا گیا ہے کہ اس میں کوئی فنا اور موت نہ ہو گی۔ نہ کسی کی زندگی کو خطرہ ہوگا نہ کسی کی صحت کو، نہ کسی کی عزت کو پریشانی لاحق ہوگی نہ کسی کی حرمت کو۔ یہ خالصتاً امن و سکون، راحت و عافیت اور مسرت و سلامتی کا گھر ہوگا جس میں کوئی خوف و حزن اور رنج و ملال بھی نہ ہوگا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿لَهُمْ دَارُ السَّلٰمِ عِنْدَ رَبِّهِمْ﴾ (1) (انہی کے لیے ان کے رب کے حضور سلامتی کا گھر ہے)۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَاﷲُ يَدْعُوْا اِلٰی دَارِ السَّلٰمِ﴾ (2) (اور اللہ سلامتی کے گھر (جنت) کی طرف بلاتا ہے)۔ اور دَارُ السَّلاَم سے مراد دَارُ السَّلاَمَۃ ہے یعنی سلامتی والا گھر، کیونکہ حقیقی سلامتی صرف اور صرف جنت میں ہے اور اس میں ایسی بقا ہے جس کے ساتھ فنا نہیں، ایسی غنا ہے جس کے ساتھ فقر نہیں، ایسی عزت ہے جس کے ساتھ ذلت نہیں اور ایسی صحت ہے جس کے ساتھ بیماری نہیں۔
(1) الانعام، 6 : 127(2) يونس، 10 : 25
امام راغب اصفہانی بیان کرتے ہیں : اَلسِّلْم اور اَلسَّلَامَة کا معنی ظاہری اور باطنی آفات سے پاک ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
اِلَّا مَنْ اَتَی اﷲَ بِقَلْبٍ سَلِيْمٍo
الشعراء، 26 : 89
’’مگر وہی شخص (نفع مند ہوگا) جو اللہ کی بارگاہ میں سلامتی والے بے عیب دل کے ساتھ حاضر ہواo‘‘
یعنی ایسا دل جو ظلم و فساد سے خالی ہو۔ پس یہ سلامتی باطن سے متعلق ہے اور اللہ تعالیٰ کے اِرشادِ گرامی ﴿مُسَلَّمَة لاَّ شِيَةَ فِيْهَا﴾ (1) میں سلامتی کا تعلق ظاہر سے ہے۔ اﷲ تبارک و تعالیٰ کے فرامین مقدسہ ﴿وَلٰکِنَّ اﷲَ سَلَّمَ﴾،(2) ﴿اُدْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِيْنَ﴾،(3) ﴿اهْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا﴾،(4) ﴿يَهْدِيْ بِهِ اﷲُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَه سُبُلَ السَّلٰمِ﴾،(5) ﴿وَاِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا﴾،(6) سب میں سلامتی اور امن و عافیت کا ہی معنی ہے۔ اور اﷲ تعالی کے فرامین مبارکہ ﴿سَلٰمٌ قف قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْم﴾ (7) اور ﴿سَلٰمٌ عَلَيْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ﴾ (8) میں بھی سلامتی اور عافیت ہی مذکور ہے۔ لہٰذا یہ وہ پہلا معنی ہے جو اسلام کے لفظ میں لغتاً اور دلالتاً پایا جاتا ہے۔ اس سے یہ چیز اَظہر من الشمس ہوگئی کہ ہر اسم یا فعل جو لفظِ اسلام کی اصل اور مادّہ سے مشتق ہو تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے اندر امن، امان، سلامتی اور عافیت کا معنی رکھتا ہو۔’’بالکل تندرست ہو اس میں کوئی داغ دھبہ بھی نہ ہو۔‘‘ (1)’’لیکن اللہ نے (مسلمانوں کو بزدلی اور باہمی نزاع سے) بچالیا۔‘‘ (2)’’(ان سے کہا جائے گا : ) ان میں سلامتی کے ساتھ بے خوف ہو کر داخل ہو جاؤ۔‘‘ (3)’’ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ (کشتی سے) اتر جاؤ۔‘‘ (4)’’اﷲ اس کے ذریعے ان لوگوں کو جو اس کی رضا کے پیرو ہیں، سلامتی کی راہوں کی ہدایت فرماتا ہے۔‘‘ (5)’’اور جب ان سے جاہل (اکھڑ) لوگ (ناپسندیدہ) بات کرتے ہیں تو وہ سلام کہتے (ہوئے الگ ہو جاتے) ہیں۔‘‘ (6)’’(تم پر) سلام ہو، (یہ) ربِّ رحیم کی طرف سے فرمایا جائے گا۔‘‘ (7)’’(انہیں خوش آمدید کہتے اور مبارک باد دیتے ہوئے کہیں گے : ) تم پر سلامتی ہو تمہارے صبر کرنے کے صلہ میں۔‘‘ (8)
(1) البقرة، 2 : 71(2) الانفال، 8 : 43(3) الحجر، 15 : 46(4) هود، 11 : 48(5) المائدة، 5 : 16(6) الفرقان، 25 : 63(7) يسين، 36 : 58(8) الرعد،13 : 24
باری تعالیٰ نے بھی اپنا ایک نام السّلام بیان فرمایا ہے، جس کا سبب بھی اَلسَّلَامَةُ مِنَ الْعَيْبِ وَالنَّقْصِ وَالْفَنَا یعنی اﷲ تعالی کا ہر عیب، نقص اور فنا سے پاک ہونا ہے۔ اِس سے لفظ ’’اسلام‘‘ کے مذکورہ بالا معنی پر دلالت واقع ہوتی ہے کیونکہ اسم الٰہی ہونے کے باعث یہ لفظ اور اس کا مدلول اپنے اندر سلامتی، حسن، بھلائی اور خیر کے تمام معانی جمع کیے ہوئے ہے اور جملہ عوارض فساد کی مکمل نفی لیے ہوئے ہے۔ اس وجہ سے ہر مسلمان کا شعار ملاقات اور اس کی علامت اسلام ہی تسلیم کو بنا دیا گیا ہے کہ جب بھی دو مسلمان باہم ملیں تو ایک دوسرے کو السلام علیکم کہہ کر امن و سلامتی کی دعا اور پیغام دیں اور ایک دوسرے کے لئے ہر قسم کے شر و فساد اور عدوان و طغیان سے محفوظ رہنے کی نیک خواہش کا اظہار کریں۔ یہی حکم مسلمانوں کو خروج عن الصلٰوۃ پر دیا گیا ہے کہ نماز کا اختتام بھی دائیں بائیں ہر ایک کے لیے سلامتی، امن و امان اور حفاظت و عافیت کے پیغام پر کریں۔
اسی طرح السلام کا ایک اور معنی ’’سرسبز درخت‘‘ ہے۔ لسان العرب اور تہذیب اللغۃ میں امامِ لغت ابو حنیفہ کا قول مروی ہے : اَلسَّلَامُ شَجَرٌ عَظِيْمٌ وَهَوَ أَبَدًا أَخْضَرُ (1) (سلام ایسا شجر عظیم ہے جو ہمیشہ سرسبز و شاداب رہتا ہے)۔ اس کی وجہ بھی ائمہ لغت نے یہی لکھی ہے۔ یہ درخت آفات سے یعنی سوکھنے، جلنے اور جھڑنے سے محفوظ ہوتا ہے اس لئے اسے السلام کہتے ہیں۔ ابن بری نے کہا ہے کہ شجر سایہ دار کو اَلسَّلْمُ کہتے ہیں اور اس کی جمع سلام ہے۔ سو اس کی وجہ تسمیہ بھی ہمیشہ سایہ دار اور سدا بہار رہنا ہے۔ گویا جو شے بھی سایہ دار ہو، نفع بخش ہو اور امن و سلامتی کی آئینہ دار ہو اس میں سِلْم، سَلْم اور سلام کا معنی تصور کیا جائے گا۔
(1) ابن منظور، لسان العرب، 12 : 297
مزید برآں عربی لغت میں سیڑھی کو السُّلَّمُ کہتے ہیں۔ الزجاج نے بیان کیا ہے : السُّلَّمُ سُمِّيَ سُلَّمًا لانّه يُسَلِّمُکَ إِلٰی حَيْثُ تُرِيْدُ (1) (سیڑھی کو بھی سُلَّم اس لئے کہتے ہیں کہ یہ انسان کو جہاں وہ چاہتا ہے سلامتی اور خیریت سے چڑھا دیتی ہے)۔ ورنہ بغیر سیڑھی کے چھت یا بلندی پر چڑھنے کے لیے چھلانگ سمیت جو طریقہ بھی استعمال کیا جائے گا، اس میں گرنے اور زخمی ہو جانے یا ہلاک ہو جانے کا خطرہ برقرار رہے گا۔ جب آپ سیڑھی کا ذریعہ اپنا لیتے ہیں تو خطرات سے محفوظ و مامون ہو جاتے ہیں۔ اس کے اسی سلامتی کے کردار کی وجہ سے لغت عرب میں اسے السُّلَّمُ کا نام دیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں بھی مذکور ہے :
اَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ. (2)
’’یا آسمان میں (چڑھنے والی) کوئی سیڑھی تلاش کرلیں۔‘‘
(1) ابن منظور، لسان العرب، 12 : 299(2) الانعام، 6 : 35
اب لفظ السَّلْمُ کے ایک اور معنی پر غور کیجئے اور وہ ہے ڈول۔ صاحبِ لسان العرب ابن منظور لکھتے ہیں : السَّلْمُ هو الدلو العظيمة (1) (بڑے ڈول کو سَلم کہتے ہیں)۔ آپ خوب جانتے ہیں کہ ڈول وہ برتن ہے جس کے ذریعے کنویں سے پانی نکالتے ہیں۔ مشینی دور سے قبل ڈول کے ذریعے ہی پانی نکالا جاتا تھا۔ سوال یہ ہے کہ ڈول کو سَلْمٌ کا نام کیوں دیا گیا۔ اس سے پانی نکال کر پیاسے اپنی پیاس بجھاتے ہیں۔ ضرورت مند پانی گھروں کو لے جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ پہلے زمانہ میں غسل اور وضو بھی اسی طرح کیا جاتا تھا۔ سو ڈول کی اس حیات بخشی اور نفع رسانی کے باعث اسے سَلْمٌ کا نام دیا گیا کہ اسی کے ذریعے لوگوں کی کنووں کے پانی تک رسائی ہوتی ہے اور پانی سے زندگی، سیرابی، ٹھنڈک، سکون، راحت جان اور سبزی و ہریالی سب کچھ وابستہ ہے۔ اس لیے اس کے حصول کے ذریعے کو سلامتی (سَلْم) کا لقب مل گیا۔
(1) ابن منظور، لسان العرب، 12 : 201
لفظِ اسلام پر لغوی بحث ہم نے بطور نمونہ کی ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ اسلام اپنے لفظ، معنی اور عنوان کے لحاظ سے کلیتاً امن و سلامتی، خیر و عافیت اور حفظ و امان کا نام ہے۔ دوسرے لفظوں میں اسلام فساد و ہلاکت سے نہ صرف محفوظ و مامون ہونے بلکہ ہر ایک کو محفوظ و مامون رکھنے کا نام ہے۔ اس میں اصلاً کسی فساد انگیزی، تباہی و بربادی اور تفرقہ و انتشار کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی تعلیم کا ہر پہلو انتہا پسندی اور دہشت گردی کی نفی کرتا ہے اور اس کی جگہ بھلائی، آبادی، شادابی، سلامتی، ترقی، عافیت اور نفع بخشی کی ترغیب اور ضمانت دیتا ہے۔ سو جس شخص کا طرز عمل اسلام کے اساسی معنی اور اس کے فکری و عملی اطلاق سے متصادم ہو گا اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔
اب مذکورہ بالا معانی کی تائید میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات ملاحظہ فرمائیں :
1۔ حضرت عبداﷲ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِه وَيَدِه.
1. بخاري، الصحيح، کتاب الإيمان، باب من سلم المسلمون من لسانه ويد، 1 : 13، رقم : 102. مسلم، الصحيح، کتاب الإيمان، باب بيان تفاضل الإسلام وأيّ اًُموره أفضل،1 : 65، رقم : 413. ترمذی، السنن، کتاب الإيمان، باب ما جاء في أن المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده، 5 : 17، رقم : 26274. أحمد بن حنبل، المسند، 3 : 440، رقم : 156735. ابن حبان، الصحيح، 1 : 406، رقم : 180
’’مسلمان وہ ہے جس نے اپنی زبان اور اپنے ہاتھ سے دوسرے مسلمانوں کو محفوظ رکھا۔‘‘
2۔ حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :
قُلْتُ : يَا رَسُولَ اﷲِ، أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ : مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ.
1. بخاري، الصحيح، کتاب الإيمان، باب من سلم المسلمون من لسانه ويد، 1 : 13، رقم : 112. مسلم، الصحيح، کتاب الإيمان، باب بيان تفاضل الإسلام وأي أموره أفضل، 1 : 66، رقم : 423. أحمد بن حنبل، المسند، 3 : 372، رقم : 150374. أحمد بن حنبل، المسند، 4 : 114، رقم : 170685. ابن حبان، الصحيح، 11 : 579، رقم : 51766. ابن أبی شيبة، المصنف، 5 : 320، رقم : 264977. حاکم، المستدرک، 1 : 55، رقم : 268. عبد الرزاق، المصنف، 11 : 127، رقم : 20107
’’میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کیا : یا رسول اللہ! کون سا اسلام افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (بہترین اسلام اس شخص کا ہے) جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔‘‘
مذکورہ حدیثِ مبارکہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ کا جواب مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ دے کر لوگوں کے اس اعتراض کو رفع فرما دیا ہے کہ ’’ہم کس کا اسلام مانیں اور کس کا نہ مانیں۔‘‘ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلام کا واضح تصور (crystal clear vision) دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ بہترین اسلام ان لوگوں کا ہے جن کے ہاتھ اور زبان سے تمام طبقاتِ انسانی محفوظ رہیں،جو بقاے باہمی، محبت و رواداری، تحمل و برداشت اور بین المذاہب رواداری کے علم بردار ہوں۔ اس کے برعکس اگر کوئی تبلیغ و تنفیذ دین کے لئے انتہا پسندی، نفرت و تعصب، افتراق و انتشار اور جبر و تشدد کا راستہ اختیار کرے اور پرامن شہریوں کا خون بہائے تو ایسے لوگ، چاہے ظاہری طور پر اعمال شرعی کے پابند ہی کیوں نہ ہوں، ان کا دعویٰ اسلام ہرگز پسندیدہ اور مقبول نہیں ہوسکتا کیونکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حقیقی اسلام کو پرکھنے کا معیار (criterion) بنیادی طور پر امن و سلامتی کو قرار دیا ہے۔
3۔ حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں عرض کیا :
أَيُّ الإِسْلامِ خَيْر؟
’’کون سا اسلام بہتر ہے؟‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتَقْرَأُ السَّلَامَ عَلَی مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ.
1. بخاری، الصحيح، کتاب الإيمان، باب إطعام الطعام مِنَ الإسلام، 1 : 13، رقم : 122. بخاری، الصحيح، کتاب الإيمان، باب إفشاء السلام مِن الإسلام، 1 : 19، رقم : 283. مسلم، الصحيح، کتاب الإيمان، باب بيان تفاضل الإسلام ونصف أموره أفضل، 1 : 65، رقم : 39
’’(بہترین اسلام یہ ہے کہ) تم (دوسروں کو) کھانا کھلاؤ اور (ہر ایک کو) سلام کرو، خواہ تم اسے جانتے ہو یا نہیں جانتے۔‘‘
4۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمان کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :
الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ.
1. نسائي، السنن، کتاب الإيمان وشرائعه، باب صفة المؤمن، 8 : 104، رقم : 49952. نسائی، السنن الکبری، 6 : 530، رقم : 117263. ابن ماجه، السنن، کتاب الفتن، باب حرمة دم المؤمن وماله، 2 : 1298، رقم : 39344. أحمد بن حنبل، المسند، 2 : 379، رقم : 8918
’’(بہترین) مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے تمام لوگ محفوظ رہیں۔‘‘
5۔ امام احمد بن حنبل اپنی مسند میں حضرت عبد اﷲ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں :
أنّ رجلاً قال : يا رسول اﷲ، أیُّ الإسْلام أفضلُ؟ قَالَ صلی الله عليه وآله وسلم : مَنْ سَلِمَ النَّاس مِنْ لِّسَانِه وَيَدِه.
 أحمد بن حنبل، المسند، 2 : 187، رقم : 6753
’’ایک شخص نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا : یا رسول اﷲ! کون سا اسلام افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (اُس شخص کا اسلام سب سے بہتر ہے) جس کی زبان اور ہاتھ سے تمام لوگ محفوظ رہیں۔‘‘
6۔ امام طبرانی حضرت عبد اﷲ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے ہی روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا :
أیُّ الْمُسْلِمِيْنَ خَيْرٌ، يَا رَسُوْلَ اﷲِ؟
’’یا رسول اﷲ! مسلمانوں میں سے کون بہترین ہے؟‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
مَنْ سَلِمَ النَّاسَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ.
طبرانی، المعجم الأوسط، 3 : 287، رقم : 3170
’’(وہ مسلمان بہترین ہے) جس کی زبان اور ہاتھ سے تمام لوگ محفوظ رہیں۔‘‘
7۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
أَکْمَلُ الْمُؤْمِنِيْنَ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِّسَانِهِ وَيَدِهِ.
1. حاکم، المستدرک علی الصحيحين، 1 : 54، رقم : 232. ابن حبان، الصحيح، 1 : 426، رقم : 197
’’سب سے زیادہ کامل ایمان والا وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔‘‘
8۔ حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے مری ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
اَلْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ، مَنْ کَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيْهِ کَانَ اﷲُ فِي حَاجَتِهِ، وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ کُرْبَةً فَرَّجَ اﷲُ عَنْهُ کُرْبَةً مِنْ کُرُبَاتِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اﷲُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
1. بخاری، الصحيح، کتاب المظالم، باب لا يظلم المسلم المسلم ولا سلمه، 2 : 862، رقم : 23102. مسلم، الصحيح، کتاب البر والصلة والآداب، باب تحريم الظلم، 4 : 1996، رقم : 25803. ترمذی، السنن، کتاب الحدود، باب ما جاء فی الستر علی المسلم، 4 : 34، رقم : 14264. أبوداود، السنن، کتاب الادب، باب المؤاخاة، 4 : 273، رقم : 4893
’’ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے۔ جو شخص اپنے کسی (مسلمان) بھائی کی حاجت روائی کرتا ہے اﷲ تعالیٰ اس کی حاجت روائی فرماتا ہے۔ اور جو شخص کسی مسلمان کی (دنیوی) مشکل حل کرتا ہے اﷲ تعالیٰ اس کی قیامت کی مشکلات میں سے کوئی مشکل حل فرمائے گا اور جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے اﷲ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا۔‘‘
9۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ وَلَا يَحْقِرُهُ، اَلتَّقْوَی هَاهُنَا (وَ يُشِيْرُ إِلَی صَدْرِهِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ) بِحَسْبِ امْرِيءٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ، کُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُهُ وَمَالُهُ وَعِرْضُهُ.
1. مسلم، الصحيح، کتاب البر والصلة والآداب، باب تحريم ظلم المسلم وخذله واحتقاره ودمه وعرضه وماله، 4 : 1986، رقم : 25642. أحمد بن حنبل، المسند، 2 : 277، رقم : 77133. عبد بن حميد، المسند، 1 : 420، رقم : 14424. بيهقی، السنن الکبری، 6 : 92، رقم : 112765. بيهقی، شعب الإيمان، 5 : 280، رقم : 6660
’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ اس پر نہ تو ظلم کرتا ہے اور نہ اسے ذلیل کرتا ہے اور نہ ہی اسے حقیر سمجھتا ہے۔ تقویٰ اور پرہیزگاری یہاں ہے (اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ اپنے سینۂ اقدس کی طرف اشارہ کیا)۔ کسی مسلمان کے لئے اتنی برائی کافی ہے کہ وہ اپنے کسی مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔ ایک مسلمان پر دوسرے کا خون، اس کا مال اور اس کی عزت (و آبرو پامال کرنا) حرام ہے۔‘‘
10۔ ایک دوسری متقق علیہ حدیث میں یہی مضمون یوں بیان کیا گیا ہے :
عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ مَسْعُودٍ رضی الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوْقٌ، وَقِتَالُهُ کُفْرٌ.
1. بخاری، الصحيح، کتاب الإيمان، باب خوف المؤمن من أن يحبط عمله وهو لا يشعر، 1 : 27، رقم : 482. مسلم، الصحيح، کتاب الإيمان، باب بيان قول النبي صلی الله عليه وآله وسلم : سباب المسلم فسوق وقتاله کفر، 1 : 81، رقم : 643. ترمذی، السنن، کتاب البر والصلة، 4 : 353، رقم : 19834. نسائي، السنن، کتاب تحريم الدم، باب قتال المسلم، 7 : 121، رقم : 41055. ابن ماجه، السنن، المقدمة، باب في الإيمان، 1 : 27، رقم : 69
’’حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کسی مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔‘‘
مذکورہ حدیث کی رُو سے جب کسی مسلمان کو محض برا بھلا کہنے اور ان سے فساد و قتال کرنے کو فسق و کفر کہا گیا ہے تو ان کے خلاف ہتھیار اٹھانا اور ان کے جان و مال کو تلف کرنا کتنا بڑا جرم ہوگا!
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مذکورہ بالا احادیث مبارکہ میں بعض مقامات پر مطلقاً لفظِ ’’النَّاس‘‘ استعمال کر کے اس حقیقت کی طرف واضح اشارہ فرما دیا ہے کہ مسلمان اور مومن صرف وہی شخص ہو گا جس سے بلا تفریق دین و مذہب ہر شخص کی جان و مال اور عزت و آبرو محفوظ ہو۔ لہٰذا جو شخص آدمیت و انسانیت کا احترام ملحوظ نہ رکھے اور قتل و غارت گری، فساد انگیزی اور جبر و تشدد کا راستہ اختیار کرے، وہ کتنی ہی عبادت و ریاضت کرتا پھرے، ہرگز مومن نہیں ہو سکتا۔ اگر کسی شخص نے ڈاڑھی رکھی ہو، تسبیح و تہلیل بھی کرتا ہو، نماز پنجگانہ ادا کرتا ہو، روزوں کا اہتمام کرتا ہو، تہجد گذار اور قائم اللیل ہو اور دعوت و تبلیغ کے علاوہ ہر سال حج و عمرہ بھی کرتا ہو، الغرض تمام عبادات کے باوجود اس سے لوگوں کی جان و مال محفوظ نہ ہوں تو یہ تمام عبادات اسے اﷲ کے عذاب سے نہیں بچا سکتیں، کیونکہ حقیقی فلاح کا انحصار محض ظاہری عبادات پر نہیں بلکہ قلبِ سلیم پر ہے۔(1) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
اِنَّ اﷲ عزوجل لَا يَنْظُرُ إلَی صُوَرِکُمْ وَاَمْوَالِکُمْ، وَلٰکِنْ يَنْظُرُ إلَی قُلُوْبِکم وَاَعْمَالِکُمْ.
(1) الشعراء، 26 : 89(2) 1. مسلم، الصحيح، کتاب البر والصلة والآداب، باب تحريم ظلم المسلم، 4 : 1987، رقم : 25642. أحمد بن حنبل، المسند، 2 : 258
’’اﷲ تعالی تمہاری صورتوں اور اموال کو نہیں بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔‘‘
یعنی اگر اندر کا انسان نہیں بدلا، وہ وحشی اور درندہ ہے تو باہر کے انسان کو جتنے بھی پارسائی کے لبادے اوڑھا لیں، اس سے اﷲ کو ہرگز دھوکہ نہیں دیا جا سکتا۔(2) لفظ ایمان کا لغوی معنی اور تحقیق
لفظِ ایمان بقول لِحیانی أمِنَ يَأْمَنُ أمْناً وأَمَنًا وأمَانةً وأَمَنَةً سے مصدر ہے۔ اس کے معنی میں بھی اسلام کی طرح ’امن و امان‘ کی ہی کامل دلالت ہے۔ امام لغت ابو منصور محمد الازہری (282۔370ھ) نے تھذیب اللغۃ میں ابو زیاد کا قول نقل کیا ہے : آمَنَ فلانٌ العدوَّ إيمانًا، فأَمِنَ والعدوُّ مُؤْمَنٌ(1) (فلاں شخص نے دشمن کو امان فراہم کی۔ یہ ’ایمان‘ ہے یعنی امان دینا ہے۔ پس وہ امن پاگیا)۔ سو دشمن کو مُؤْمَنْ کہیں گے کیونکہ وہ مامون ہو گیا اور امان دینے والا مُؤْمِنْ کہلائے گا۔ اسی طرح قرآن مجید نے مکہ معظمہ کو شہرِ امن ہونے کی بنا پر ﴿وَهٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِيْنِ﴾(2) (اور اس اَمن والے شہر (مکہ) کی قَسم) کہہ کر قسم سے یاد فرمایا ہے۔ یہاں امین، مامون کے معنی میں آیا ہے۔ ابو نصر الجوہری نے بھی اخفش سے یہی سبب روایت کیا ہے۔
(1) ابن منظور، لسان العرب، 13 : 21(2) التين، 95 : 3
امن، خوف کی ضد ہے اور حضرت مجاہد سمیت کئی طرق سے اﷲ تعالیٰ کا ایک نام بھی الامین مروی ہے۔ اسی طرح المؤمن کا اسم الٰہی ہونا تو خود قرآن مجید میں آیا ہے۔ دونوں کا معنی ایک ہے، یعنی ’’اپنے اولیاء کو خوف سے امان دینے والا۔‘‘ سورہ قریش میں بھی یہی مذکور ہے :
فَلْيَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَيْتِo الَّذِيْ اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْعٍ وَّاٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍo
قريش، 106 : 3، 4
’’پس انہیں چاہیے کہ اس گھر (خانہ کعبہ) کے رب کی عبادت کریں (تاکہ اس کی شکر گزاری ہو)o جس نے انہیں بھوک (یعنی فقر و فاقہ کے حالات) میں کھانا دیا (یعنی رزق فراہم کیا) اور (دشمنوں کے) خوف سے امن بخشا (یعنی محفوظ و مامون زندگی سے نوازا)o‘‘
اِيْمَان اور آمَنَ لغتِ عرب میں دو طرح آتے ہیں : متعدی اور غیر متعدی۔ اس طرح لفظِ مومن کے دو معنی ہوئے : خود امن پانے والا اور دوسروں کو امن فراہم کرنے والا۔ قرآن حکیم میں ’حرمِ مکّہ‘ کا ذکر یوں آیا ہے :
اَوَلَمْ يرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا.
العنکبوت، 29 : 67
’’اور کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے حرمِ (کعبہ) کو جائے امان بنا دیا ہے۔‘‘
پھر ’کعبۃ اﷲ‘ کی نسبت ارشاد فرمایا گیا ہے :
وَاِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَاَمْنًا.
البقرة، 2 : 125
’’اور (یاد کرو) جب ہم نے اس گھر (خانہ کعبہ) کو لوگوں کے لیے رجوع (اور اجتماع) کا مرکز اور جائے امان بنا دیا۔‘‘
مزید برآں ابو اسحاق الزجّاج نے ’’صاحبِ اَمن‘‘ کے لیے آمِنٌ، أَمِنٌ اور أمينٌ سب الفاظ ایک ہی معنی میں بیان کئے ہیں۔ حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ستاروں کو أَمَنَةٌ کہا گیا ہے : النجوم أَمَنَةُ السّماء، فإذا ذهبت النجوم أتی السماء ما توعد. اس کا مطلب یہ ہے کہ ستارے آسمانی کائنات کی امان ہیں۔ جب وہ باہم ٹکرا کر گر جائیں گے تو قیامت آجائے گی یعنی کائنات کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود کو اپنے صحابہ کے لئے أَمَنَةٌ فرمایا : أنا أَمَنَةٌ لأصحابی، فإذا ذهبت أتی أصحابی ما يوعدون (میں اپنے اصحاب کے لئے امان ہوں، جب میں دنیا سے ظاہراً رخصت ہو جاؤں گا تو ان پر مخالفتوں، بغاوتوں اور عداوتوں کے فتنے ٹوٹ پڑیں گے جن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے)۔ سو ایسے ہی ہوا جن کے نتیجے میں کئی خلفاء راشدین اور ہزاروں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شہید ہوئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : أصحابی أمنة لأمتي، فإذا ذهبت أصحابی، أتی أمتی ما يوعد (میرے صحابہ، میری امت کے لئے امان ہیں، جب ان کا زمانہ گزر جائے گا تو امت میں وہ فتنے سر اٹھائیں گے جن کا ذکر کر دیا گیا ہے)۔ (1)
(1) أحمد بن حنبل، المسند، 4 : 398، رقم : 19584
الغرض ہر جگہ أمَنَة، اَمن و امان کے معنی میں بیان ہوا ہے اور یہی لغت میں لفظِ ایمان کی اصل ہے۔ سو معلوم ہوا کہ لفظ ایمان کے مادہ میں اور اس کے تمام مشتقات (derivatives) میں امن و امان ہی کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس شخص کا عمل یا اقدام امن و امان کے خلاف ہے بلکہ اس کی تباہی اور خاتمہ کا باعث ہے، اور وہ اپنی کارروائیوں سے خوف پھیلاتا ہے اور دہشت گردی، قتل و غارت گری اور تباہ کاری کا مرتکب ہوتا ہے، اس کا کوئی تعلق ایمان سے نہیں ہوسکتا۔
لفظِ اِسلام اور اِیمان کی لغوی تحقیق سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ دین کے دونوں درجے، اسلام اور ایمان ہر عمل میں کلیتاً امن و امان اور عافیت و سلامتی کا تقاضا کرتے ہیں۔ امن و امان کو تباہ کرنے کا کوئی بھی عمل ہو، خواہ اسے کوئی بھی نعرہ دیا جائے، اس کے لیے کسی بھی سبب کا سہارا لیا جائے اور اسے کوئی بھی لباس اوڑھایا جائے، وہ نہ اسلام کے دائرے میں ہوگا نہ ایمان کے دائرے میں۔ بلکہ صراحتاً ایمان کے بھی خلاف ہو گا اور اسلام سے بھی متصادم ہوگا۔ اس لئے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایمان کو امن، امان اور امانت داری کے ساتھ مشروط فرمایا ہے۔
لفظِ ایمان کی اسی لغوی اور معنوی اِفادیت کے پیش نظر پیغمبرِ رحمت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے افرادِ ملت کو متعدد ہدایات اِرشاد فرمائی ہیں تاکہ تمام مسلمان محبت و الفت، تحمل و برداشت، احترام آدمیت اور رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ (1) (آپس میں بہت نرم دل اور شفیق ہیں) کی چلتی پھرتی تصویریں بن جائیں اور نتیجتاً پورے کا پورا معاشرہ امن و آشتی اور خیر و عافیت کا گہوارہ بن جائے۔ ذیل میں ایمان کے مذکورہ بالا معانی کی تائید میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات ملاحظہ فرمائیں :
(1) الفتح، 48 : 29
1۔ امام نسائی اور احمد بن حنبل حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مومن کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :
الْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَی دِمَائِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ.
1. نسائي، السنن، کتاب الإيمان وشرائعه، باب صفة المؤمن، 8 : 104، رقم : 49952. أحمد بن حنبل، المسند، 2 : 379، رقم : 8918
’’مومن وہ ہے کہ جس کے پاس لوگ اپنے خون (یعنی جان) اور مال محفوظ سمجھیں۔‘‘
2۔ حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا :
الْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَی أَنْفُسِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ.
1. ابن ماجه، السنن، کتاب الفتن، باب حرمة دم المؤمن وماله، 2 : 1298، رقم : 39342. أحمد بن حنبل في المسند، 6 : 21، رقم : 240043. حاکم، المستدرک علی الصحيحين، 1 : 54، رقم : 244. طبرانی، المعجم الأوسط، 1 : 81، رقم : 232
’’مومن وہ ہے جس کے پاس لوگ اپنے جان و مال کو مامون سمجھیں (اور اسے ان پر امین بنائیں)۔‘‘
3. عَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : أَکْمَلُ الْمُؤْمِنِيْنَ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِّسَانِهِ وَيَدِهِ.
1. حاکم، المستدرک علی الصحيحين، 1 : 54، رقم : 232. ابن حبان، الصحيح، 1 : 426، رقم : 197
’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سب سے کامل ایمان والا وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔‘‘
4۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
مَنْ کَانَ يُؤْمِنُ بِاﷲِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِ جَارَهُ، وَمَنْ کَانْ يُؤْمِنُ بِاﷲِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُکْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ کَانَ يُؤْمِنُ بِاﷲِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ.
1. بخاری، الصحيح، کِتاب الأَدَب، باب مَن کَانَ يُؤْمِنَ بِاﷲ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلاَ يُؤْذِ جَارَهُ، 5 : 2240، رقم : 56722. بخاری، الصحيح، کِتاب الأَدَب، باب إکْرَامِ الضَّيْفِ وَ خِدْمَتِهِ إِيَّاهُ بِنَفْسِهِ، 5 : 2273، رقم : 57853. بخاری، الصحيح، کتاب الرِّقَاقِ، باب حِفْظِ اللِّسَانِ، 5 : 2376، رقم : 61104. مسلم، الصحيح، کتاب الإيمان، باب الحث علی إکرام الجار والضيف ولزوم الصمت إلا عن الخير، 1 : 6968، رقم : 47، 485. ترمذی، السنن، کتاب الصفة والرقائق والورع، باب : (50)، 4 : 659، رقم : 25006. أبو داود، السنن، کتاب الأدب، باب فی حق الجوار، 4 : 339، رقم : 51547. ابن ماجه، السنن، کتاب الأدب، باب حق الجوار، 2 : 1211، رقم : 3672
’’جو اللہ عزوجل پر اور روزِ قیامت پر ایمان رکھتا ہے اپنے ہمسائے کو نہ ستائے، اور جو اللہ عزوجل اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہے اپنے مہمان کی عزت کرے، اور جو اللہ عزوجل اور روزِ قیامت پر ایمان رکھتا ہے اچھی بات کرے یا خاموش رہے۔‘‘
5۔ حضرت ابو شریح رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا :
وَاﷲِ لَا يؤْمِنُ، وَاﷲِ لَا يُؤْمِنُ، وَاﷲِ لَا يُؤْمِنُ. قِيْلَ : مَنْ يَا رَسُوْلَ اﷲِ؟ قَالَ : الَّذِی لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ.
1. بخاری، الصحيح، کتابُ الأدَب، باب إِثْمِ مَن لَا يَأمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ، 5 : 2240، رقم : 56702. مسلم، الصحيح، کتاب الإيمان، باب بيان تحريم ايذاء الجار، 1 : 68، رقم : 463. حاکم، المستدرک علی الصحيحين، 1 : 53، رقم : 72994. طبراني، المعجم الکبير، 22 : 187، رقم : 487
’’خدا کی قسم! وہ ایمان والا نہیں، خدا کی قسم! وہ ایمان والا نہیں، خدا کی قسم! وہ ایمان والا نہیں۔ عرض کیا گیا : یا رسول اللہ! کون (مومن نہیں)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس کا پڑوسی اس کی ایذا رسانی سے محفوظ نہیں۔‘‘
مزید یہ ارشاد گرامی بھی اسی تصور کی تائید کرتا ہے :
لَا إِيْمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَة لَه.
1. ابن حبان، الصحيح، 1 : 422، لرقم : 1942. ابن خزيمة، الصحيح، 4 : 513. بيهقی، السنن الکبری، 4 : 974. ابن أبی شيبة، المصنف، 6 : 1595. طبراني، المعجم الکبير، 8 : 195
’’جس شخص کی زندگی میں امانت نہیں ہے (یعنی وہ لوگوں کی جان و مال اور دیگر حقوق و فرائض پر امین نہیں ہے) وہ قطعاً صاحب ایمان نہیں ہے۔‘‘
اسی لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جب مومن کی تعریف پوچھی گئی کہ مومن کون ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
مَنِ ائْتَمَنَهُ النَّاسُ عَلٰی أَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِم.
1. ابن ماجه، السنن، کتاب الفتن، باب حرمة دم المؤمن وماله، 2 : 1298، رقم : 39342. ابن منظور، لسان العرب، 13 : 24
’’مومن وہ ہے جس کو لوگ اپنے اَموال اور جانوں کا محافظ سمجھیں۔‘‘
یعنی اس کے ہاتھ سے نہ کسی کے مال کو نقصان پہنچے نہ کسی کی جان کو گزند۔
یہ تو لفظِ ایمان کے استعمال کا کم سے کمتر درجہ تھا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو ایمان کا اطلاق اس کردار سے مشروط فرما دیا ہے :
مَا آمَنَ بِی مَنْ بَاتَ شَبْعَاناً وَجَارَه جَائِعٌ.
1. طبرانی، المعجم الکبير، 1 : 259، رقم : 7512. حاکم، المستدرک علی الصحيحين، 2 : 15
’’جس شخص کا پڑوسی بھوکا ہو اور وہ خود پیٹ بھر کر کھانا کھائے اور سو جائے، تو وہ شخص مجھ پر ایمان ہی نہیں لایا۔‘‘
6۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
اَلْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ کَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعضُهُ بَعْضًا (وَشَبَّکَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ).
1. بخاری، الصحيح، کتاب المَظَالِمِ، باب نَصرِ الْمَظْلُوْمِ، 2 : 863، رقم : 23142. مسلم، الصحيح، کتاب البر والصلة والآدب، باب تراحم المؤمنين وتعاطفهم وتعاضدهم، 4 : 1999، رقم : 25853. ترمذی، السنن، کتاب البر والصلة، باب ما جاء فی شفقة المسلم علی المسلم، 4 : 325، رقم : 19284. نسائی، السنن، کتاب الزکاة، باب أجر الخازن إذا تصدق بإذن مولاه، 5 : 79، رقم : 2560
’’ایک مومن دوسرے مومن کے لئے ایک (مضبوط) دیوار کی طرح ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے، اور (اس بات کی وضاحت کے طور پر) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں ڈالیں۔‘‘
7۔ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
مَثَلُ الْمُؤْمِنِيْنَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ، إِذَا اشْتَکَی مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَی لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّی.
1. بخاری، الصحيح، کتاب الأدب، باب رَحْمَةِ النَّاسِ وَ البَهَائِمِ، 5 : 2238، رقم : 56652. مسلم، الصحيح، کتاب البر والصلة والآداب، باب تراحم المؤمنين وتعاطفهم وتعاضدهم، 4 : 1999، رقم : 25863. أحمد بن حنبل، المسند، 4 : 2704. بزار، المسند، 8 : 238، رقم : 32995. بيهقی، السنن الکبری، 3 : 353، رقم : 62236. بيهقی، شعب الإيمان، 6 : 481، رقم : 8985
’’مومنین کی مثال ایک دوسرے پر رحم کرنے، دوستی رکھنے اور شفقت کا مظاہرہ کرنے میں ایک جسم کی طرح ہے۔ چنانچہ جب جسم کے کسی بھی حصہ کو تکلیف پہنچتی ہے تو سارا جسم بے خوابی اور بخار میں اس کا شریک ہوتا ہے۔‘‘(1)
8۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
أَکْمَلُ الْمُؤْمِنِيْنَ إِيْمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا، وَخِيَارُکُمْ خِيَارُکُمْ لِنِسَائِهِمْ.
1. ترمذی، السنن، کتاب الرضاع، باب ما جاء فی حق المرأة علی زوجها، 3 : 466، رقم : 11622. أحمد بن حنبل، المسند، 2 : 472، رقم : 101103. ابن حبان، الصحيح، 2 : 227، رقم : 4794. حاکم، المستدرک، 1 : 43، رقم : 25. دارمی، السنن، 2 : 415، رقم : 27926. أبو يعلی، المسند، 7 : 237، رقم : 4240
’’مومنوں میں سے کامل ترین ایمان اس شخص کا ہے جو ان میں سے بہترین اخلاق کا مالک ہے۔ اور تم میں سے بہترین اشخاص وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے والے ہیں۔‘‘
9۔ حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
لَيْسَ المُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ وَلَا اللَّعَّانِ وَلَا الْفَاحِشِ وَلَا الْبَذِيءِ.
1. ترمذی، السنن، کتاب البر والصلة، باب ما جاء فی اللعنة، 4 : 350، رقم : 19772. بخاری، الأدب المفرد : 116، رقم : 312، 3323. ابن حبان، الصحيح، 1 : 421، رقم : 1924. حاکم، المستدرک، 1 : 57، رقم : 29
’’کوئی بھی مومن بہت زیادہ طعنہ زنی کرنے والا، بہت زیادہ لعنت کرنے والا، بہت زیادہ بداخلاق اور فحش گوئی کرنے والا نہیں ہوتا۔‘‘
10۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مومن کی حرمت کو کعبے کی حرمت سے زیادہ محترم قرار دیا ہے۔ امام ابن ماجہ اور طبرانی سے مروی حدیث مبارکہ ملاحظہ کریں :
عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَطُوفُ بِالْکَعْبَةِ، وَيَقُولُ : مَا أَطْيَبَکِ وَأَطْيَبَ رِيحَکِ، مَا أَعْظَمَکِ وَأَعْظَمَ حُرْمَتَکِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَحُرْمَةُ الْمُؤْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اﷲِ حُرْمَةً مِنْکِ مَالِهِ وَدَمِهِ، وَأَنْ نَظُنَّ بِهِ إِلَّا خَيْرًا.
1. ابن ماجه، السنن، کتاب الفتن، باب حرمة دم المؤمن وما له، 2 : 1297، رقم : 39322. طبراني، مسند الشاميين، 2 : 396، رقم : 15683. منذري، الترغيب والترهيب، 3 : 201، رقم : 3679
’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنھما سے مروی ہے کہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اور یہ فرماتے سنا : (اے کعبہ!) تو کتنا عمدہ ہے اور تیری خوشبو کتنی پیاری ہے، تو کتنا عظیم المرتبت ہے اور تیری حرمت کتنی زیادہ ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! مومن کے جان و مال کی حرمت اﷲ کے نزدیک تیری حرمت سے زیادہ ہے اور ہمیں مومن کے بارے میں نیک گمان ہی رکھنا چاہئے۔‘‘
11۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
ثَلَاثٌ مِنْ أَخْلَاقِ الإِيْمَانِ : مَنْ إِذَا غَضِبَ لَمْ يُدْخِلْهُ غَضَبُهُ فِي بَاطِلٍ، وَمَنْ إِذَا رَضِيَ لَمْ يُخْرِجْهُ رِضَاهُ مِنْ حَقٍّ، وَمَنْ إِذَا قَدَرَ لَمْ يَتَعَاطَ مَا لَيْسَ لَهُ.
1. طبرانی، المعجم الصغير، 1 : 114، رقم : 1642. ديلمی، مسند الفردوس، 2 : 87، رقم : 24663. ابن رجب، جامع العلوم والحکم، 1 : 1484. هيثمی، مجمع الزوائد، 1 : 59
’’تین چیزیں اخلاق ایمان میں سے ہیں : جب کسی کو غصہ آئے تو وہ غصہ اسے (عمل) باطل میں نہ ڈال دے، اور جب کوئی خوش ہو تو وہ خوشی اسے حق سے نکال نہ دے، اور جب کوئی شخص قدرت رکھنے کے باوجود وہ چیز نہیں لیتا جو اس کی نہیں ہے۔‘‘(3) لفظ احسان کا لغوی معنی اور تحقیق
لفظِ احسان، حَسَنَ/حَسُنَ يَحْسُنُ حُسْناً سے ثلاثی مزید فیہ کا مصدر ہے۔ اِس کا معنی حسن و خوبصورتی، خیر و خوبی، نیکی، اچھائی اور بھلائی ہے۔ حُسْن کی ضد ’’القُبْحُ وَالسُّوْئ‘‘ یعنی قباحت، شر، گناہ، بدصورتی، بدی اور برائی ہے۔ جبکہ احسان کی ضد ’’إسَائَة‘‘ ہے۔ اِس کے معنی بھی قباحت اور برائی کے ہیں۔ امام ابو منصور محمد الازہری (282۔370ھ) نے تھذیب اللغۃ میں حَسَنَ اور إحسَان کے بنیادی معنی کے لئے اللیث کا یہ قول روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے :
وَقُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا.
البقرة،2 : 83
’’اور عام لوگوں سے (بھی نرمی اور خوش خُلقی کے ساتھ) نیکی کی بات کہنا۔‘‘
وہ کہتے ہیں کہ اس کا معنی ہے : قَوْلاً حَسَناً یعنی لوگوں کے ساتھ اچھی، خوبصورت اور بھلائی کی بات کیا کرو۔ الزجاج نے اس کے معنی میں یہی کہا ہے کہ لوگوں کے ساتھ ایسے انداز سے بات کیا کرو جس میں حسن، اچھائی، خیر، خوبصورتی اور بھلائی ہو۔ اس لئے کہ حَسُنَ سے ہی حَسِيْن کا لفظ نکلا ہے جیسے عَظُمَ سے عَظِيْم اور کَرُمَ سے کَرِيْم کے لفظ نکلے ہیں۔
المنذری نے ابو الھیثم سے روایت کیا ہے : حُسْنًا اور حَسَنًا سے مراد شَيئٌ حَسِيْنٌ ہے یعنی اس میں ہر کام کی خوبصورتی کی طرف اشارہ ہے خواہ وہ خوبصورتی قول میں ہو یا فعل میں، اخلاق میں ہو یا برتاؤ میں۔ گویا حکم یہ ہے کہ لوگوں کے ساتھ صرف قول ہی خوبصورت اور بھلائی کے انداز میں نہ ہو بلکہ ان کے ساتھ برتاؤ میں بھی بھلائی، نیکی، خیر خواہی، اچھائی اور خوبصورتی کا حقیقی مظاہرہ ہونا چاہیے۔ یہی ’’احسان‘‘ ہے۔
اِسی طرح والدین کے ساتھ احسان کے طرزِ عمل کا حکم بھی اسی لفظ کے ساتھ دیا گیا ہے۔ ارشادِ باری تعالی ہے :
وَوَصَّيْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا.
العنکبوت، 29 : 8
’’اور ہم نے انسان کو اس کے والدین سے نیک سلوک کا حکم فرمایا۔‘‘
گویا والدین کے ساتھ کلام میں، عمل میں، برتاؤ میں الغرض ہر معاملے میں حسن، خوبصورتی، شفقت، بھلائی اور رحمت ملحوظِ خاطر رہنی چاہیے۔ اس پورے طرزِ عمل کو حُسْناً سے تعبیر کیا گیا ہے۔ قرآن مجید نے اِس حکم کی مزید تصریح یوں فرمائی ہے :
وَيَدْرَئُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ.
الرعد، 13 : 22
’’اور وہ نیکی کے ذریعہ برائی کو دور کرتے رہتے ہیں۔‘‘
یعنی مومن اور محسن لوگ سَیِّئَۃ یعنی برائی کا رد حَسَنَۃ یعنی اچھائی سے کرتے ہیں اور بری بات کا جواب اچھی بات سے دیتے ہیں۔ اسی طرح قرآن مجید نے ایک اور اُلوہی قاعدہ یوں بیان کیا ہے :
اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ.
هود، 11 : 114
’’بے شک نیکیاں گناہوں اور برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔‘‘
گویا روحانی اعتبار سے نیکی، عملِ خیر اور بھلائی کی تاثیر اس قدر قوی ہے کہ یہ گناہ اور برائی کو بھی مٹا دیتی ہے۔ اِس کا دوسرا معنی یہ بھی ہے کہ بھلائی اور احسان کا عمل اتنا مؤثر اور طاقت ور ہے کہ برائی اور زیادتی کو بھی شکست دے دیتا ہے اور اس کے برے اثرات کو کالعدم کر دیتا ہے۔ اِس قاعدے کو قرآن مجید نے یوں بھی واضح فرمایا ہے :
وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ.
حم السجدة، 41 : 34
’’اور وہ نیکی اور بدی برابر نہیں ہو سکتی۔‘‘
معلوم ہوا ہے کہ حَسَنَۃ اور سَیِّئَۃ یعنی اچھائی اور برائی کبھی برابر نہیں ہو سکتیں، اور دوسری بنیادی تعلیم یہ دی گئی ہے کہ : مسلمانو! برائی کا جواب برائی سے نہ دو، بلکہ برائی کا جواب بھی اچھائی سے دو، بری بات کے مقابلے میں بھی اچھی اور خوبصورت بات کہو۔ اس لئے کہ احسن قول اور احسن عمل، دونوں برائی کو رد کرکے اُلفت اور تعاون کا ماحول پیدا کرتے ہیں، برائی اِفتراق کی طرف لے جاتی ہے جبکہ اچھائی اتفاق کی طرف، برائی اور زیادتی نفرت پیدا کرتی ہے جب کہ اچھائی اور بھلائی، محبت و یگانگت۔ یہی حقیقتِ احسان ہے۔ اِسی لئے باری تعالیٰ نے مسلمانوں کو دُنیا اور آخرت کے لئے ’’حسنۃ‘‘ طلب کرنے کا حکم فرمایا ہے :
رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِo
البقرة، 2 : 201
’’اے ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا میں (بھی) بھلائی عطا فرما اور آخرت میں (بھی) بھلائی سے نواز اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھo‘‘
یہ امر واضح رہے کہ اس آیت میں ’’حسنۃ‘‘ سے مراد محض اَعمالِ صالحہ اور عبادات نہیں ہیں، کیونکہ آخرت میں تو فقط جزا ہوگی، اعمال نہیں ہوں گے۔ سو آخرت میں کون سے اعمالِ صالحہ اور عبادات کی دعا کی جا رہی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ دونوں جگہ پر ’’حسنۃ‘‘ سے مراد ’’احسان‘‘ ہے۔ یعنی دُنیا میں ہر اچھائی، بھلائی اور احسان کے طرزِ عمل کی توفیق مانگی جا رہی ہے اور ایسی زندگی طلب کی جا رہی ہے جس میں سراسر خیر ہو اور وہ ہر فتنہ و شر اور ظلم و عدوان سے محفوظ و مامون ہو؛ اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے احسان کی خیرات مانگی جا رہی ہے جو عدل سے بھی بلند تر درجہ ہے۔ الغرض دنیا کی ’’حسنۃ‘‘ سے مراد ہر خیر اور بھلائی کا میسر آنا اور ہر شر اور تکلیف سے امن و حفاظت ہے۔ اسی طرح آخرت کی ’’حسنۃ‘‘ سے مراد بھی عذاب آخرت سے امن و حفاظت، روزِ محشر کی مشکلات میں آسانی، حساب و کتاب میں سہولت اور جہنم سے نجات ہے۔ اس معنی کی تصریح امام ابن ابی حاتم رازی سے مروی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے قول سے بھی ہوتی ہے جسے حافظ ابنِ کثیر سمیت دیگر ائمہ تفسیر نے بیان کیا ہے۔ اِسی طرح امام حسن بصری، ابو وائل، السدی، ابن زید، قتادہ، مقاتل، سفیان ثوری اور ابن قتیبہ نے بھی کہا ہے کہ ’’حسنۃ الدنیا‘‘ سے مراد ’’علم، نعمت، عبادت، رزق کی وسعت اور ہر فتنہ و شر سے امن و عافیت‘‘ ہے جبکہ ’’حسنۃ الآخرۃ‘‘ سے بھی مراد ’’جنت، عفو و معافات اور عذاب و مشکلات سے امن و عافیت‘‘ ہے۔ گویا دونوں جگہ ’’حسنۃ‘‘ میں خیر، بھلائی، وسعت و سہولت اور امن و عافیت کا مفہوم پایا جاتا ہے اور دونوں ہی جگہ اس لفظ کے ذریعے تکلیف، اذیت، مصیبت اور عذاب سے نجات طلب کی جا رہی ہے۔ سو یہاں بھی اچھائی، بھلائی، امن اور خیر و عافیت ہی کا تصور نمایاں ہے۔
قرآن مجید میں طرزِ عمل کے دو درجات بیان کئے گئے ہیں : عدل اور احسان۔ ارشادِ ربانی ہے :
اِنَّ اﷲَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ.
النحل، 16 : 90
’’بے شک اللہ (ہر ایک کے ساتھ) عدل اور احسان کا حکم فرماتا ہےo‘‘
امام راغب اصفہانی لکھتے ہیں کہ عدل یہ ہے کہ انسان پر جس قدر دینا واجب ہو اس قدر دے، اور جس قدر لینا اس کا حق ہو اس قدر لے۔ مگر احسان یہ ہے کہ جس قدر دینا واجب ہو اس سے زیادہ دے، اور جس قدر لینے کا حق ہو اس سے کم لے۔ گویا دینے میں بھی دوسروں پر بھلائی اور سخاوت سے کام لے اور دوسروں سے لینے میں بھی بھلائی اور سخاوت کا مظاہرہ کرے۔ اس لئے احسان کا درجہ عدل سے بلند رکھا گیا ہے۔ سو عدل کی جزا عدل ہے جبکہ احسان کی جزا احسان ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُo
الرحمان، 55 : 60
’’نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کچھ نہیں ہےo‘‘
اِس لئے حکم فرمایا گیا ہے کہ جس طرح انسان دُنیا میں ’’احسان‘‘ کی صورت میں دوسروں کو ان کے حق سے زیادہ دیتا ہے، اسی طرح باری تعالیٰ بھی آخرت میں احسان شعار لوگوں کو ان کے حق سے زیادہ عطا فرمائے گا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰی وَزِيَادَةٌ.
يونس، 10 : 26
’’ایسے لوگوں کے لیے جو اِحسان شعار ہیں نیک جزا ہے بلکہ (اس پر) اضافہ بھی ہے۔‘‘
جو لوگ محسنین یعنی احسان شعار ہوں گے ان کے لئے جنت کی جزا ہوگی اور پھر ان کے اس حق سے انہیں بہت ’’زیادہ‘‘ عطا کیا جائے گا۔ مفسرین نے تصریحاً بیان کیا ہے کہ ’’زیادۃ‘‘ سے مراد ’’النظر إلی اﷲ عزوجل‘‘ یعنی دیدارِ الٰہی ہے۔ کیا عجب بات ہے کہ جس طرح اسلام کے ذریعے ’’سلامتی‘‘ کے معنی کو بلند رتبہ عطا فرمانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے خود اپنا ایک نام ’’السّلام‘‘ بیان فرمایا ہے اور ایمان کے ذریعے ’’امن و امان‘‘ کے معنی کو بلند رتبہ دینے کے لئے باری تعالیٰ نے خود اپنا ایک نام ’’المؤمن‘‘ بیان فرمایا ہے۔ اسی طرح احسان کے ذریعے حسن، خوبصورتی، خیر اور بھلائی کے معنی کو بلند رتبہ دینے کے لئے باری تعالیٰ نے اپنے تمام ناموں کو ہی حسن کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ ارشاد فرمایا :
وَِﷲِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی.
الأعراف، 7 : 180
’’اور اللہ ہی کے لیے اچھے اچھے نام ہیں۔‘‘
یعنی اللہ تعالیٰ کے سارے نام ہی نہایت حسن والے ہیں۔(1)
(1) یاد رہے کہ ’’اَلْحُسْنٰی‘‘ أَحْسَن کی تانیث ہے اور یہ اسماء کے جمع ہونے کی وجہ سے آئی ہے۔ اگر یہ ایک اسم ہوتا تو اسے ’’أَحْسَن‘‘ فرمایا جاتا، جس طرح باری تعالیٰ نے سورۃ طٰہٰ کی آیت نمبر 23 میں اپنی ’’آیات‘‘ کے لئے الکبریٰ فرمایا ہے :
لِنُرِيَکَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْکُبْرٰیo
طٰه، 20 : 23
’’یہ اس لیے (کر رہے ہیں) کہ ہم تمہیں اپنی (قدرت کی) بڑی بڑی نشانیاں دکھائیںo‘‘
یہاں پر الکبریٰ، اکبر کی تانیث ہے۔
قرآن مجید نے دوسروں کے ہر حق کی ادائیگی میں بھی حکمِ احسان دیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے :
اَدَآءٌ اِلَيْهِ بِاِحْسَانٍ.
البقرة، 2 : 178
’’اور اسے احسان کے طریق پر ادا کریں۔‘‘
اس لئے باری تعالیٰ نے کبھی اِنَّ اﷲَ لَمَعَ الْمُحْسِنِيْنَ(1) (بے شک اﷲ صاحبانِ احسان کو اپنی معیّت سے نوازتا ہے) فرما کر احسان شعار لوگوں کو اپنی خصوصی سنگت و معیت کا مژدۂ جانفزا سنایا ہے، کبھی اِنَّ اﷲَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْن(2) (بے شک اﷲ اِحسان والوں سے محبت فرماتا ہے) فرما کر احسان شعاروں کو اپنی محبت کے انعامِ لازوال کی خوش خبری سنائی ہے اور کبھی مَا عَلَی الْمُحْسِنِيْنَ مِنْ سَبِيْلٍ(3) (صاحبان احسان پر الزام کی کوئی راہ نہیں) فرما کر احسان شعاروں کو خصوصی حفاظت اور الوہی امان کی ضمانت سے نوازا ہے۔ اور یہ بھی ارشاد فرمایا ہے :
(1) العنکبوت، 29 : 69(2) البقرة، 2 : 195(3) التوبة، 9 : 91
وَمَنْ اَحْسَنُ دِيْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْهَهِ ﷲِ وَهُوَ مُحْسِنٌ.
النساء، 4 : 125
’’اور دین اِختیار کرنے کے اعتبار سے اُس شخص سے بہتر کون ہو سکتا ہے جس نے اپنا رُوئے نیاز اللہ کے لیے جھکا دیا اور وہ صاحبِ احسان بھی ہوا۔‘‘
یعنی اُس شخص سے بہتر دین کس کا ہو سکتا ہے جس کا اسلام یعنی طاعت و انقیاد خالصتاً اللہ کے لئے ہے اور وہ درجۂ احسان پر فائز ہو گیا ہے۔ قرآن مجید میں جب پیغمبر علیہ السلام کو کہا جاتا ہے : اِنَّا نَرٰکَ مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ. (1) (بے شک ہم آپ کو احسان شعار لوگوں میں سے پاتے ہیں)؛ تو یہاں احسان کا معنی بھی یہی بیان کیا گیا ہے کہ ’’إنَّه کَانَ يَنْصُرُ الضَّعِيْفَ، يُعِيْنُ الْمَظْلُوْمَ وَيَعُوْدُ الْمَرِيْضَ‘‘ (وہ کمزوروں کی مدد کیا کرتے تھے، مظلوموں کی داد رسی کرتے تھے اور مریضوں کی دیکھ بھال کرتے تھے)۔ مزید برآں ابومنصور محمد الازہری نے علی بن حمزہ سے روایت کیا ہے اور ابن منظور نے بھی ’’لسان العرب‘‘ میں بیان کیا ہے کہ نہایت سرسبز و شاداب اور خوبصورت درخت کو بھی عربی میں ’’اَلْحَسَن‘‘ کہتے ہیں۔ کیونکہ اُس سے لوگوں کو سایہ اور ٹھنڈک نصیب ہوتی ہے اور اس کی خوبصورتی دیکھنے والوں کو سکون اور راحت دیتی ہے۔ سو اس احسان نما صفت کی وجہ سے وہ بھی حسن کہلاتا ہے۔ اسی طرح ابو نصر الفارابی ’’الصحاح‘‘ میں لکھتے ہیں : چاند کو الحاسن کہتے ہیں، کیونکہ اس کی روشنی رات کے مسافروں کو راستہ دکھاتی ہے اور چاندنی راتیں ہر شخص کو سکون اور راحت بخشتی ہیں۔ مزید یہ کہ چاند، روشنی سے استعارہ ہے اور روشنی، اندھیرے کی نقیض ہے۔ اس لئے احسان نور ہے، ہدایت ہے، لوگوں کے لئے نفع بخشی اور فیض رسانی ہے، رحمت اور راحت و سکون ہے، حسن اور خوبصورتی ہے اور سراسر خیر اور بھلائی ہے۔ اِسی لئے دین اسلام کا تیسرا اور بلند ترین مرتبہ ’’احسان‘‘ ہی کو قرار دیا گیا ہے حتیٰ کہ درجۂ اسلام کا حسن اور کمال ایمان میں رکھا گیا ہے۔ جب کہ درجۂ ایمان کا حسن اور کمال احسان میں رکھا گیا ہے۔ حدیث جبریل ں، جس کا ذکر شروع میں آچکا ہے، کے مطابق اسلام میں قولی و جسمانی طاعت اور فرمانبرداری ہے، ایمان میں اس کی قلبی تصدیق اور تمکّن ہے جبکہ احسان میں دونوں کے روحانی ثمرات اور باطنی احوال کا میسر آجانا ہے۔ احسان، انسان کو اعلیٰ درجے کا اخلاص دے کر اسے اس قدر ظاہری و باطنی سلامتی عطا کر دیتا ہے کہ وہ ہلاکت اور تباہی سے بچ جاتا ہے۔ اسی لئے قرآن مجید نے ہلاکت و تباہی سے بچنے کا طریق بھی ’’احسان‘‘ تجویز فرمایا ہے۔ ارشاد ربانی ہے :
(1) يوسف، 12 : 36
وَاَنْفِقُوْا فِيْ سَبِيْلِ اﷲِ وَلَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْکُمْ اِلَی التَّهْلُکَةِ ج وَاَحْسِنُوْاج اِنَّ اﷲَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَo
البقرة، 2 : 195
’’اور اﷲ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہی ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اور احسان شعار بنو، بے شک اﷲ صاحبان احسان سے محبت فرماتا ہےo‘‘
یہی وجہ ہے کہ ہر شخص پر ہر عمل میں احسان کو واجب قرار دیا گیا ہے، حتی کہ کسی انسان کو قتل کرنے اور جانور کو اذیت دے کر ذبح کرنے سے بھی منع کر دیا گیا۔
ذیل میں ہم نفس مضمون کے حوالے سے چند احادیث ذکر کرتے ہیں۔
1۔ صحیح مسلم اور دیگر کتب حدیث میں حضرت شداد بن اَوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
إِنَّ اﷲَ کَتَبَ الإِحْسَانَ عَلَی کُلِّ شَيئٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُکُمْ شَفْرَتَهُ، فَلْيُرِحْ ذَبِيْحَتَهُ.
1. مسلم، الصحيح، کتاب الصيد والذبائح وما يؤکل من الحيوان، باب الأمر بإحسان الذبح والقتل وتحديد الشفرة، 3 : 1548، رقم : 19552. ترمذی، السنن، کتاب الديات، باب ماجاء فی النهي عن المثلة، 4 : 23، رقم : 14093. أبو داود، السنن، کتاب الضحايا، باب في النهي أن تصبر البهائم والرفق بالذبيحة، 3 : 100، رقم : 28154. نسائی، السنن، کتاب الضحايا، باب الأمر بإحداد الشفرة، 7 : 227، رقم : 44055. ابن ماجه، السنن، کتاب الذبائح، باب إذا ذبحتم فأحسنوا الذبح، 2 : 1058، رقم : 3170
’’اللہ تعالیٰ نے ہر کام میں اِحسان فرض کیا ہے۔ جب تم قتل کرو تو احسن طریقے سے قتل کرو اور جب تم ذبح کرو تو اچھی طرح سے ذبح کرو اور ذبح کرنے والے کو چاہیے کہ چھری کو اچھی طرح تیز کرے اور اپنے ذبح ہونے والے جانور کو آرام دے۔‘‘
2۔ حضرت ابو شریح خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
مَنْ کَانَ يُؤْمِنُ بِاﷲِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُحْسِنْ إِلَی جَارِهِ.
1. مسلم، الصحيح، کتاب الإيمان، باب الحث إلی إکرام الجار، 1 : 69، رقم : 482. ابن ماجه، السنن، کتاب الأدب، باب حق الجار، 2 : 1211، رقم : 36723. دارمي، السنن، 2 : 1344. طبراني، المعجم الکبير، 22 : 192
’’جو شخص اللہ تعالیٰ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ اِحسان سے پیش آئے۔‘‘
3۔ اسی طرح حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
اتَّقِ اﷲَ حَيْثُمَا کُنْتَ، وَأَتْبَعِ السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا، وَخَالِقِ النَّاسَ بخُلُقٍ حَسَنٍ.
1. ترمذی، السنن، کتاب البر والصلة، باب ما جاء في معاشرة الناس، 4 : 355، رقم : 19872. دارمي، السنن، 2 : 415، رقم : 27913. أحمد بن حنبل، المسند، 5 : 153، رقم : 213924. ابن أبی شيبة، المصنف، 5 : 211، رقم : 253245. بزار، المسند، 9 : 416، رقم : 40226. طبرانی، المعجم الکبير، 20 : 144، رقم : 296 (عن معاذ بن جبل رضی الله عنه)
امام ترمذی نے اسے حسن صحیح قرار دیا ہے۔
’’تم جہاں بھی ہو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، گناہ کے بعد نیکی کیا کرو، وہ اسے مٹا دے گی اور لوگوں سے اَخلاقِ حسنہ کے ساتھ پیش آیا کرو۔‘‘
4۔ امام ابن ماجہ اور ابن حبان حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں :
قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُوْلَ اﷲِ، مَتَی أَکُوْنُ مُحْسِنًا؟ قَالَ : إِذَا قَالَ جِيْرَانُکَ : أَنْتَ مُحْسِنٌ، فَأَنْتَ مُحْسِنٌ، وَإِذَا قَالُوْا : إِنَّک مُسِيئٌ فَأَنْتَ مُسِيئٌ.
1. ابن ماجه، السنن، کتاب الزهد، باب الثناء الحسن، 2 : 1411، رقم : 4222، 42232. ابن حبان، الصحيح، 2 : 284، رقم : 5253. حاکم، المستدرک، 1 : 534، رقم : 13994. بيهقی، شعب الإيمان، 7 : 85، رقم : 1399
امام حاکم نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔
’’ایک شخص نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کیا : یا رسول اللہ! میں محسن کب بنوں گا؟ فرمایا : جب تیرا پڑوسی تجھے کہے کہ تو محسن ہے، تو تو محسن ہے، اور جب وہ تجھے کہیں کہ تو برا ہے، تو تو برا ہے۔‘‘
5۔ امام ابو نعیم حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
إِذَا جَمَعَ اﷲُ الْأَوَّلِيْنَ وَالْآخِرِيْنَ يُنَادِي مُنَادٍ فِي صَعِيْدٍ وَاحِدٍ مِنْ بُطْنَانِ الْعَرْشِ.... أَيْنَ الْمُحْسِنُوْنَ؟... قَالُوْا : نَحْنُ الْمُحْسِنُوْنَ. قَالَ : صَدَقْتُمْ، قُلْتُ لِنَبِيِّ : ﴿مَا عَلَی الْمُحْسِنِيْنَ مِنْ سَبِيْلٍ﴾(1) مَا عَلَيْکُم مِنْ سَبِيْلٍ، ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِي. ثُمَّ تَبَسَّمَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم فَقَالَ : لَقَدْ نَجَّاهُمُ اﷲُ مِنْ أَهْوَالِ بِوَائِقِ الْقِيَامَةِ.(2)
(1) التوبة، 9 : 91(2) 1. أبونعيم، کتاب الأربعين : 100، رقم : 512. مناوي، فيض القدير، 1 : 420، رقم : 4
’’اللہ تعالیٰ جب اولین و آخرین کے لوگوں کو جمع فرمائے گا تو ایک پکارنے والا عرش کے پایوں تلے ایک میدان سے صدا دے گا : ۔۔۔ کہاں ہیں صاحبان احسان؟۔۔۔ وہ عرض کریں گے : ہم صاحبان احسان ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تم نے سچ کہا، میں نے اپنے نبی سے فرمایا تھا : ’’صاحبان احسان پر الزام کی کوئی راہ نہیں۔‘‘ لہٰذا تم پر بھی (طعنہ زنی کی) کوئی راہ نہیں۔ میری رحمت کے ساتھ سیدھے جنت میں داخل ہو جاؤ۔ پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تبسم فرمایا اور ارشاد فرمایا : یقینا اللہ تعالیٰ انہیں قیامت کے احوال اور سختیوں سے نجات دے دے گا۔‘‘
6۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں :
إِنَّ مِنْ أَحَبِّکُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبِکُمْ مِنِّي مَجْلِسًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحَاسِنَکُمْ أَخْلَاقًا.
1. ترمذی، السنن، کتاب البر والصلة، باب ماجاء فی معالی الأخلاق، 4 : 370، رقم : 20182. أحمد بن حنبل، المسند، 2 : 185، 217، رقم : 6735، 7035 (عن عبد اﷲ بن عمرو رضی اﷲ عنهما)3. ابن حبان، الصحيح، 2 : 235، رقم : 4854. بيهقی، شعب الإيمان، 6 : 234، رقم : 799
امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔
’’تم میں سب سے زیادہ محبوب اور قیامت کے دن میرے نزدیک ترین بیٹھنے والے وہ لوگ ہیں جو تم میں سے اخلاق میں اچھے ہیں۔‘‘
7۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتی ہیں :
إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيُدْرِکُ بِحُسْنِ خُلُقِهِ دَرَجَةَ الصَّائِمِ الْقَائِمِ.
1. أبو داود، السنن، کتاب الأدب، باب فی حسن الخلق، 4 : 252، رقم : 47982. أحمد بن حنبل، المسند، 6 : 90، رقم : 246393. ابن حبان، الصحيح، 2 : 228، رقم : 4804. حاکم، المستدرک، 1 : 128، رقم : 1995. بيهقی، شعب الإيمان، 6 : 236، رقم : 7997
’’یقینا مومن حسن اخلاق کے ذریعے دن کو روزہ رکھنے والے اور راتوں کو قیام کرنے والے کا درجہ حاصل کر لیتا ہے۔‘‘
8۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں :
حُرِّمَ عَلَی النَّارِ کُلُّ هَيِّنٍ سَهْلٍ قَرِيْبٍ مِنَ النَّاسِ.
1. أحمد بن حنبل، المسند، 1 : 415، رقم : 39382. ابن حبان، الصحيح، 2 : 215، رقم : 4693. طبرانی، المعجم الکبير، 10 : 231، رقم : 105624. أبو يعلی، المسند، 8 : 467، رقم : 50535. بيهقی، شعب الإيمان، 7 : 353، رقم : 2697
’’بے شک وہ شخص آگ پر حرام کر دیا گیا ہے جو نرم خو، خوش اخلاق اور (نیک مجالس میں) لوگوں کے قریب ہے۔‘‘
9۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُنہیں فرمایا :
يَا عَائِشَةُ! إِنَّ اﷲَ رَفِيْقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ کُلِّهِ.
1. بخاری، الصحيح، کتاب استتابة المرتدين والمعاندين وقتالهم، باب إِذَا عرَّضَ الذِّمِّيُ وَ غَيْرُهُ، 6 : 2539، رقم : 65282. ابن ماجه، السنن، کتاب الأدب، باب الرفق، 2 : 1216، رقم : 3688
’’اے عائشہ! بے شک اللہ تعالیٰ نرمی سے سلوک کرنے والا ہے اور ہر ایک معاملہ میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔‘‘
ایک روایت کے مطابق حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
يَا عَائِشَةُ! إِنَّ اﷲَ رَفِيْقٌ وَيُحِبُّ الرِّفْقَ وَيُعْطِي عَلَی الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِي عَلَی الْعُنْفِ.
1. مسلم، الصحيح، کتاب البر والصلة والآداب، باب فضل الرفق، 4 : 2003، رقم : 25932. أبوداود، السنن، کتاب الأدب، باب فی الرفق، 4 : 254، رقم : 48073. أحمد بن حنبل، المسند، 1 : 112، رقم : 902
’’اے عائشہ! اللہ تعالیٰ نرمی کرنے والا ہے اور نرمی کو پسند کرتا ہے اور نرمی پر اتنا عطا فرماتا ہے کہ اتنا سختی پر عطا نہیں کرتا۔‘‘
10۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
کَانَ تَاجِرٌ يُدَايِنُ النَّاسَ، فَإِذَا رَأَی مُعْسِرًا، قَالَ لِفِتْيَانِهِ : تَجَاوَزُوا عَنْهُ لَعَلَّ اﷲَ أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنَّا فَتَجَاوَزَ اﷲُ عَنْهُ.
1. بخاري، الصحيح،کتاب البيوع، باب من أنظر معسراً، 2 : 731، رقم : 19722. مسلم، الصحيح، کتاب المساقاة، باب فضل إنظار المعسر، 3 : 1196، رقم : 1562
’’ایک تاجر لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا۔ جب کسی کو تنگ دست دیکھتا تو اپنے خادموں سے کہتا : اس سے درگزر کرو، شاید اللہ تعالیٰ ہم سے درگزر فرمائے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اُسے معاف کر دیا۔‘‘
11۔ سنن نسائی میں یہی حدیث کچھ تفصیل کے ساتھ یوں بیان ہوئی ہے :
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : إِنَّ رَجُلًا لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ وَکَانَ يُدَاينُ النَّاسَ. فَيَقُولُ لِرَسُولِهِ : خُذْ مَا تَيَسَّرَ وَاتْرُکْ مَا عَسُرَ، وَتَجَاوَزْ لَعَلَّ اﷲَ تَعَالَی أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنَّا. فَلَمَّا هَلَکَ، قَالَ اﷲُ عزوجل لَهُ : هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ قَالَ : لَا، إِلَّا أَنَّهُ کَانَ لِي غُلَامٌ، وَکُنْتُ أدَايِنُ النَّاسَ، فَإِذَا بَعَثْتُهُ لِيَتَقَاضَی، قُلْتُ لَهُ : خُذْ مَا تَيَسَّرَ وَاتْرُکْ مَا عَسُرَ، وَتَجَاوَزْ لَعَلَّ اﷲَ يَتَجَاوَزُ عَنَّا. قَالَ اﷲُ تَعَالَی : قَدْ تَجَاوَزْتُ عَنْکَ.
1. نسائی، السنن، کتاب البيوع، باب حسن المعاملة والرفق في المطالبة، 7 : 381 ، رقم : 46942. احمد بن حنبل، المسند، 2 : 361، رقم : 87153.ابن حبان، الصحيح، 11 : 422، رقم : 54034. حاکم، المستدرک علی الصحيحين، 2 : 33، رقم : 2223
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک شخص نے اس کے سوا بھلائی کا کوئی کام نہیں کیا تھا مگر یہ کہ وہ لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا۔ (جب قرض واپس لینا مقصود ہوتا تو) وہ اپنے ایلچی سے کہتا : جہاں سے آسانی سے موصول ہو وہاں سے وصول کرو لیکن جہاں مقروض مفلس اور تنگ دست ہو تو چھوڑدو اور اُس سے درگزر کرو، شاید اللہ تعالیٰ ہماری خطاؤں اور لغزشوں سے درگزر فرمائے۔ جب وہ فوت ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے دریافت فرمایا : کیا تو نے کوئی نیکی کی تھی؟ اس شخص نے عرض کیا : نہیں، مگر میرا ایک خادم تھا اور میں لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا۔ جب میں اس خادم کو قرض کی وصولی کے لیے بھیجتا تو اُسے ہدایت کرتا کہ آسانی سے ملے تو لے لینا اور جہاں دشواری ہو چھوڑ دینا اور معاف کرنا، شاید اللہ تعالیٰ بھی ہمیں معاف فرما دے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں نے تجھے معاف کر دیا۔‘‘خلاصہ کلام
لفظ اسلام، ایمان اور احسان پر تفصیلی بیان کے بعد یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی ہے کہ یہ تینوں الفاظ اپنے معنی اور مفہوم کے اعتبار سے سراسر امن و سلامتی، خیر و عافیت، تحمل و برداشت، محبت و الفت، احسان شعاری اور احترام آدمیت کی تعلیم دیتے ہیں۔ دین اسلام ایک ایسا ضابطہ حیات ہے جو خود بھی سراپا سلامتی ہے اور دوسروں کو بھی امن و سلامتی، رافت و رحمت، اعتدال و توازن اور صبر و تحمل کی تعلیم دیتا ہے۔ گویا مسلمان صرف وہ شخص ہے جو تمام انسانیت کے لئے پیکرِ امن و سلامتی ہو اور مومن بھی وہی شخص ہے جو امن و آشتی، تحمل و برداشت، بقائے باہمی اور احترام آدمیت جیسے اوصاف سے متصف ہو اور محسن وہ ہے جس میں نہ صرف اسلام اور ایمان دونوں کے روحانی ثمرات اور باطنی احوال جمع ہو جائیں بلکہ وہ نفع بخشی اور فیض رسانی کا باعث ہو۔ مختصر یہ کہ اسلام اپنے وسیع معنی میں ایک ایسا دین ہے جس میں اجتماعی سطح سے لے کر انفرادی سطح تک ہر کوئی محفوظ و مامون ہو جاتا ہے۔

حالت زندگی حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا

حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا

 

تاریخ دوسری فاطمہ کا انتظارکررہی ہے . انتظار کی گھڑی گذرجاتی ہے اور خانہ خورشید بھینی بھینی خوشبو سے بھرجاتا ہے. فاطمہ کے حضور جدید کی ٹھنڈک مدینہ کی فضاؤں پر چھا جاتی ہے اور کوثر سیدہ، وہی چشمہ کوثر پھوٹنے لگتا ہے. میں آپ کی حرم کی باغوں میں پناہ لیتا ہوں اور قدری اس ملکوتی سائے میں سستا لیتا ہوں. نہر استجابت کی کنارے بیٹھ جاتا ہوں اور خود ایک قطرہ بن جاتا ہوں اور آپ کے زائرین کی اشکوں کے دریا کے شفاف پانیوں میں آپ کے ضریح مقدس کو عقیدت کے پھولوں کی مالا پہنا دیتا ہوں اور اس کے روزنوں میں سے آپ کی قبر مطہر کا نظارہ کرتا ہوں. یقین نہیں آتا! کیا میں اتنی آسانی سے آپ کی زیارت کے لئے حاضر ہؤا ہوں! جبکہ آپ کی زیارت کوثر مدینہ کی گمشدہ کی زیارت کے ہم رتبہ ہے. !والدین ماجدین

آپ کے والد ماجد ساتویں امام باب الحوائج حضرت موسیٰ بن جعفر علیہما السلام اور مادر گرامی نجمہ خاتون ہیں جو امام رضا علیہ السلام کی بھی والدہ ماجدہ ہیں ۔ ([1])

ولادت تا ہجرت

حضرت معصومه سلام الله علیها[2] نے پہلی ذی القعدہ ۱۷۳ ء ھ کو مدینہ منورہ کی سرزمین پر اس جہان میں قدم رنجہ فرمایا اور ۲۸ سال کی مختصر سی زندگی میں دس ۱۰ ([3]) یا بارہ۱۲ ([4]) ربیع الثانی ۲۰۱ ھ میں شہر قم میں اس دار فانی کو وداع کردیا ۔

اس عظیم القدر سیدہ نے ابتدا ہے سے ایسے ماحول میں پرورش پائی جہان والدین اور بہن بھائی سب کے سب اخلاقی فضیلتوں سے آراستہ تھے. عبادت و زہد، پارسائی اور تقوی، صداقت اور حلم، مشکلات و مصائب میں صبر و استقامت، جود و سخا، رحمت و کرم، پاکدامنی اور ذکر و یاد الہی، اس پاک سیرت اور نیک سرشت خاندان کی ابھری ہوئی خصوصیات تھیں. سب برگزیدہ اور بزرگ اور ہدایت و رشد کے پیشوا، امامت کے درخشان گوہر اور سفینہ بشریت کے ہادی و ناخدا تھے.

علم و دانش کا سرچشمہ 

حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا نے ایسے خاندان میں پرورش پائی جو علم و تقوا اور اخلاقی فضایل کا سرچشمہ تھا. آپ سلام اللہ علیہا کے والد ماجد حضرت موسی کاظم علیہ السلام کی شہادت کے بعد آپ (ع) کے فرزند ارجمند حضرت امام علی ابن موسی الرضا علیہ السلام نے اپنے بھائیوں اور بہنوں کی سرپرستی اور تعلیم و تربیت کا بیڑا اٹھایا. امام رضا علیہ السلام کی خصوصی توجہات کی وجہ سے امام ہفتم کے سارے فرزند اعلی علمی اور معنوی مراتب پر فائز ہوئے اور اپنے علم و معرفت کی وجہ سے معروف و مشہور ہوگئے.

ابن صباغ ملکی کہتے ہیں: «ابوالحسن موسی المعروف «کاظم» کے ہر فرزند کی اپنی ایک خاص اور مشہور فضیلت ہے.»

اس میں شک نہیں ہے کہ امام موسی کاظم علیہ السلام کے فرزندوں میں حضرت رضا علیہ السلام کے بعد علمی اور اخلاقی حوالے سے حضرت سیدہ معصومہ سلام اللہ علیہا کا علمی اور اخلاقی مقام سب سے اونچا ہے. یہ والا مقام حضرت سیدہ معصومہ کے ناموں اور القاب اور ان کے بارے میں ائمہ کی زبان مبارک سے بیان ہونے والی تعاریف و توصیفات سے آشکار ہے. اور اس حقیقت سے واضح ہوتا ہے کہ سیدہ معصومہ بھی ثانی زہرا حضرت زینب کی مانند «عالمہ غیر مُعَلَّمہ» ہیں.( عالمہ ہیں مگر ان کا استاد نہیں ہے)

فضایل کا مظہر

حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا فضائل و مراتب و مقامات عالیہ کا مظہر ہیں. معصومین علیہم السلام کی روایات آپ سلام اللہ علیہا کے لئے نہایت اونچے مقامات و مراتب کی دلیل ہیں.

روى القاضى نور اللّه عن الصادق عليه السلام قال:ان للّه حرماً و هو مكة ألا انَّ لرسول اللّه حرماً و هو المدينة ألا و ان لاميرالمؤمنين عليه السلام حرماً و هو الكوفه الا و انَّ قم الكوفة الصغيرة ألا ان للجنة ثمانيه ابواب ثلاثه منها الى قم تقبض فيها امراة من ولدى اسمها فاطمہ بنت موسى عليهاالسلام و تدخل بشفاعتها شيعتى الجنة باجمعهم.[5(

قاضی نور الله رحمه روایت کرتے ہیں کہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: «جان لو کہ خدا کے لئے ایک حرم ہے اور وہ مکہ ہے؛ اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے بھی ایک حرم ہے اور وہ مدینہ ہے؛ اور حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام کے لئے بھی ایک حرم ہے اور وہ کوفہ ہے. جان لو کہ قم ہمارا چھوٹا کوفہ ہے، جان لو کہ جنت کی آٹھ دروازے ہیں جن میں سے تین دروازے قم کی جانب کھلتے ہیں. میرے فرزندوں میں سے ایک خاتون – جن کا نام فاطمہ ہے – قم میں رحلت فرمائیں گی جن کی شفاعت سے ہمارے تمام شیعہ بہشت میں وارد ہونگے».

حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کا علمی مقام

حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا عالم تشیع کی نہایت گرانقدر اور والا مقام خاتون ہیں جن کا علمی مقام بہت اونچا ہے.

روایت ہے کہ ایک روز شیعیان محمد و آل محمد (ص) کا ایک گروہ حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی ملاقات کے لئے مدینہ منورہ مشرف ہؤا. چونکہ امام علیہ السلام سفر پر تشریف لے گئے تھے اور یہ لوگ آپ (ع) سے سوالات پوچھنے آئے تھے لہذا انہوں نے اپنے سوالات حضرت فاطمہ معصومہ کے سپرد کئے – جو ابھی نوعمر بچی ہی تھیں – یہ لوگ دوسرے روز ایک بار پھرامام علیہ السلام کی در گاہ پر حاضر ہوئے مگر امام (ع) ابھی نہیں لوتے تھے؛ چنانچہ انہوں نے اپنے سوالات واپس مانگے. مگر انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ سیدہ معصومہ نے ان کے جوابات بھی تحریر کر رکھے تھے. جب ان لوگوں نے اپنے سوالات کے جوابات کا مشاہدہ کیا، بہت خوش ہوئے اور نہایت تشکر اور امتنان کے ساتھ مدینہ چھوڑ کر چلے گئے. اتفاق سے راستے میں ہی ان کا سامنا امام موسی کاظم علیہ السلام سے ہؤا اور انہوں نے اپنا ماجرا امام علیہ السلام کو کہہ سنایا. امام (ع) نے سوالات اور جوابات کا مطالعہ کیا اور فرمایا: باپ اس پر فدا ہو - باپ اس پر فدا ہو - باپ اس پر فدا ہو .

قم کی تقدس کا راز

متعدد احادیث میں قم کے تقدس پر تأکید ہوئی ہے. امام صادق (ع) نے قم کو اپنا اور اپنے بعد آنے والے اماموں کا حرم قرار دیا ہے اور اس کی مٹّی کو پاک و پاکیزہ توصیف فرمایا ہے:.امام علیہ السلام فرماتے ہیں : «الا انَّ حرمى و حرم ولدى بعدى قم»[6](

آگاہ رہو کہ میرا حرم اور میرے بعد آنے والے پیشواؤں کا حرم قم ہے.

امام صادق علیہ السلام ہی اپنی مشہور حدیث میں اہل رے سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ... وان لاميرالمؤمنين عليه السلام حرماً و هو الكوفه الا و انَّ قم الكوفة الصغيرة ألا ان للجنة ثمانيه ابواب ثلاثه منها الى قم... = اور حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام کے لئے بھی ایک حرم ہے اور وہ کوفہ ہے. جان لو کہ قم ہمارا چھوٹا کوفہ ہے، جان لو کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں جن میں سے تین دروازے قم کی جانب کھلتے ہیں.

امام علیہ السلام قم کے تقدس کی سلسلے میں اپنی حدیث کو جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں: « ... تقبض فيها امراة من ولدى اسمها فاطمہ بنت موسى عليهاالسلام و تدخل بشفاعتها شيعتى الجنة با جمعهم = میرے فرزندوں میں سے ایک خاتون – جن کا نام فاطمہ بنت موسی ہے – قم میں رحلت فرمائیں گی جن کی شفاعت سے ہماری تمام شیعہ بہشت میں وارد ہونگے».

راوی کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث امام موسی کاظم علیہ السلام کی ولادت سے بھی پہلے امام صادق علیہ السلام سے سنی تھی. یہ حدیث قم کے تقدس کا پتہ دیتی ہے اور قم کی شرافت و تقدس کے راز سے پردہ اٹھاتی ہیں؛ اور یہ کہ اس شہر کا اتنا تقدس اور شرف – جو روایات سے ثابت ہے - ریحانہ رسول (ص)، کریمہ اہل بیت سلام اللہ علیہا کے وجود مبارک کی وجہ سے ہے جنہوں نے اس سرزمین میں شہادت پاکر اس کی خاک کو حور و ملائک کی آنکھوں کا سرمہ بنادیا ہے.

سیده نے بهی قم کا انتخاب کیا

امام رضا علیہ السلام کے مجبورا شہر مرو سفر کرنے کے ایک سال بعد ۲۰۱ھ قمری میں آپ اپنے بھائیوں کے ہمراہ بھائی کے دیدار اور اپنے امام زمانہ سے تجدید عہد کے قصد سے عازم سفر ہوئیں راستہ میں ساوہ پھنچیں لیکن چونکہ وہاں کے لوگ اس زمانے میں اہلبیت کے مخالف تھے لہٰذا انہوں نے حکومتی کارندوں کے ساتھ مل کر قافلے پر حملہ کردیا اور جنگ چھیڑدی جس کے نتیجے میں قافلے میں سے بہت سارے افراد شہید ہوگئے([7(

حضرت غم و الم کی شدت سے مریض ہوگئیں اور ایک روایت کی مطابق ساوه میں ایک عورت نے آپ کو مسموم کردیا ([8]) جس کی وجه سے آپ (س) بیمار پڑ گئیں اور محسوس کیا کہ اب خراسان نہ جاسکیں گی اور اب زیاده دیر تک زنده بهی نہیں رہیں گی چنانچہ فرمایا : مجھے شہر قم لے چلو کیونکہ میں نے اپنے بابا کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: قم ہمارے شیعوں کا مرکز ہے ۔ ([9]) اس طرح حضرت وہاں سے قم روانہ ہوگئیں ۔

دشمنان اہل بیت کا اس قافلے سے نبرد آزما ہونا اور بعض حضرات کا جام شہادت نوش فرمانا اور وہ دیگر نامساعد حالات ایسے میں حضرت کا حالت مرض میں وہاں سے سفر کرنا، ان تمام باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اس بات کو قبول کرنا بعید نہیں ہے کہ سیده معصومه (س) بهی عباسی جلادون کی حکم پر مسموم کی گئی تِہیں۔

بزرگان قم جب اس مسرت بخش خبر سے مطلع ہوئے تو حضرت کے استقبال کے لئے دوڑ پڑے، مویٰ بن خزرج اشعری نے اونٹ کی زمام ہاتھوں میں سنبھالی اور فاطمہ معصومہ (ص) اہل قم کے عشق اہلبیت سے لبریز سمندر کے درمیان وارد ہوئیں ۔ موسیٰ بن خزرج کے ذاتی مکان میں نزول اجلال فرمایا ۔ ([10])

غروب غمگین

بی بی مکرمہ نے ۱۷ دن اس شہر امامت و ولایت میں گزارے، مسلسل مشغول عبادت رہیں اور اپنے پروردگار سے راز و نیاز کرتی رہیں اس طرح اپنی زندگی کے آخری ایام بھی خضوع و خشوع الٰہی کے ساتھ بسر فرمائے ۔ آخر کار وہ ذوق و شوق نیز وہ تمام خوشیاں جو کوکب ولایت کے آنے اور دختر فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کی زیارت سے اہل قم کو میسر ہوئی تھیں یکایک نجمہ عصمت و طہارت کے غروب سے حزن و اندوہ کے سمندر میں ڈوب گئیں لقاء الله کے لئے بے قرار روح قفس خاکی سے بسوئے افلاک پرواز کرگئی. سیده نے دعوت حق کو لبیک کہی اور عاشقان امامت و ولایت عزادار ہوگئے ۔

یہ سنہ 201 ہجری کا واقعہ ہے. سلام ہو اسلام کی اس عظیم المرتبت خاتون پر روز طلوع سے لے کر لمحہ غروب تک.

سلام و درود معصومہ سلام اللہ علیہا کی روح تابناک پر جن کے حرم منور نے قم کی ریگستانی سرزمین کو نورانیت بخشی. سلام ہو دنیا کی خواتین کی سیدہ (س)، مہر محبت کے پیامبروں کی لاڈلی پر، دختر سرداران جوانان جنت پر.

اے فاطمہ! روز قیامت ہماری شفاعت فرما، کہ آپ اللہ تعالی کی بارگاہ میں خاص مقام و منزلت کی مالک ہیں.

ہاں بی بی معصومہ سلام اللہ علیہا نے حضرت زینب علیا مقام سلام اللہ علیہا کی طرح اپنے پر برکت سفر میں حقیقی پیشواؤں کی حقانیت کے سلسلے میں امامت کی سند پیش کردی اور مأمون کے چہرے سے مکر و فریب کی نقاب نوچ لی۔ قہرمان کربلا کی طرح اپنے بھائی کے قاتل کی حقیقت کو طشت از بام کردیا ۔ فقط فرق یہ تھا کہ اس دور کے حسین علیہ السلام کو مکر و فریب کے ساتھ قتلگاہ بنی عباس میں لے جایا گیا تھا ۔ اسی اثناء میں تقدیر الٰہی اس پر قائم ہوئی کہ اس حامی ولایت و امامت کی قبر مطہر ہمیشہ کے لئے تاریخ میں ظلم و ستم اور بے انصافی کے خلاف قیام کا بہترین نمونہ اور ہر زمانے میں پیروان علی علیہ السلام کے لئے ایک الہام الٰہی قرار پائے۔ آپ (س) جیسوں کی موت شہادت نہ ہو تو کیا ہو؟

آپ (س) نے خاندان پیغمبر صل اللہ علیہ و آلہ کے چند افراد اور محبان اہلبیت کے ہمراہ مدینے سے سفر کر کے ثابت کردیا کہ ہر زمانے میں حقیقی اور خالص محمدی اسلام کے تربیت یافتہ جیالوں نے مادی و طاغوتی طاقتوں کے سامنے حق کا اظہار کیا ہے۔ جیسا کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے یزید کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر فرمایا ” انی استصغرک “ ([11]) میں تجھے حقارت کی نگاہ سے دیکھتی ہوں اور تجھے بہت ذلیل و رسوا سمجھتی ہوں ۔

تدفین کی رسومات

شفیعہ روز جزا کی وفات حسرت آیات کے بعد ان کو غسل دیا گیا ۔ تدفین پہنایا گیا پھر قبرستان بابلان کی طرف آپ کی تشییع کی گئی ۔ لیکن دفن کے وقت مَحرم نہ ہونے کی وجہ سے آل سعد مشکل میں پھنس گئے. آخر کار ارادہ کیا کہ ایک ضعیف العمر بزرگ اس عظیم کام کو انجام دیں، لیکن وہ بزرگ اور دیگر بزرگان اور صلحائے شیعہ اس امر عظیم کی ذمہ داری اٹھانے کے لائق نہ تھے کیونکہ معصومہ اہل بیت (س) کے جنازے کو ہر کوئی سپرد خاک نہیں کرسکتا تھا۔ لوگ اسی مشکل میں اس ضعیف العمر بزرگ کی آمد کے منتظر تھے کہ ناگہاں لوگوں نے دو سواروں کو آتے ہوئے دیکھا وہ ریگزاروں کی طرف سے آرہے تھے۔ جب وہ لوگ جنازے کے نزدیک پھنچے تو نیچے اترے اور کچھ کہے سنے بغیر نماز جنازہ پڑہی اور اس ریحانہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے جسد اطہر کو داخل سرداب دفن کردیا ۔ اور کسی سے گفتگو کئے بغیر سوار ہوئے اور واپس چلے گئے اور کسی نے بھی ان لوگوں کو نہ پہچانا ۔ ([12])

حضرت آیة اللہ العظمیٰ شیخ محمد فاضل لنکرانی (رہ) فرماتے ہیں کہ بہ امر بعید نہیں ہے کہ یہ دو بزرگوار دو امام معصوم رہے ہوں کہ جو اس امر عظیم کی انجام دہی کے لئے قم تشریف لائے اور چلے گئے۔

سیدہ معصومہ (س) کو دفن کرنے کے بعد موسیٰ بن الخزرج نے حصیر و بوریا کا ایک سائبان قبر مطہر پر ڈال دیا وہ ایک مدت تک باقی رہا ۔ مگر حضرت زینب بنت امام محمد تقی الجواد علیہ السلام قم تشریف لائیں تو  انہوں نے مقبرے پر اینٹوں کا قبہ تعمیر کرایا ۔ ([13])

زیارت حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا روایات کی منظر سے

دعا اور زیارت گوشہ تنہائی سے پر کھول کر لقاء اللہ تک عروج کرنے کا نام ہے. خالص معنویت کے شفاف چشمے کے آب گوارا سے بھرا ہؤا شفاف جام ہے؛ اور حضرت معصومہ کے حرم کی زیارت  زمانے کی غبار آلود فضا میں امید کی کرن ہے، غفلت اور بے خبری کے بھنور میں غوطہ کھانے والی روح کی فریاد ہے اور بہشت کی بوستانوں سے اٹھی ہوئی فرح بخش نسیم ہے.

حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے مرقد منور کی زیارت انسان کو خوداعتمادی کا درس دیتی ہے، اس ناامیدی کی گرداب میں ڈوبنے سے بچا دیتی ہے اور اس کو مزید ہمت و محنت کی دعوت دیتی ہے. کریمہ اہل بیت سلام اللہ علیہا کے مزار کی زیارت اس امر کا باعث ہوتی ہے کہ زائر اپنے آپ کا خداوند صمد کے سامنے نیازمنداور محتاج پائے، خدا کے سامنے خضوع و خشوع اختیار کرے، غرور و تکبر کی سواری – جو تمام بدبختیوں اور شقاوتوں کا موجب ہے – سے نیچے اتر آئے اور حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کو اپنے اور خدا کے درمیان واسطہ قرار دے. اسی وجہ سے آپ سلام اللہ علیہا کی زیارت کے لئے عظیم انعامات کا وعدہ دیا گیا ہے.

حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی زیارت کے سلسلے میں ائمہ معصومین سے متعدد احادیث و روایت نقل ہوئی ہیں.

1- قم کے نامور محدث «سعد ابن سعد» کہتے ہیں کہ: «میں امام رضا علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہؤا تو امام ہشتم علیہ السلام نے مجھ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: «ای سعد! ہماری ایک قبر تمہارے ہاں ہے». میں نے عرض کیا:«میری جان آپ پر فدا ہو؛ کیا آپ فاطمہ بنت موسی بن جعفر کے مزار کی بات کررہے ہیں؟ فرمایا: « من زارها فله الجنّة؛ جو شخص ان کے حق کی معرفت رکھتے ہوئے ان کی زیارت کرے، اس کے لئے بہشت ہے».[14]

2- حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں:« من زارها عارفاً بحقّها فله الجنة = جو کوئی ان کی زیارت کرے جنت اس پر واجب اور ان کے حق کی معرفت رکهتا ہو اس پر جنت واجب ہے»[15]. اور ایک اور حدیث میں ہے کہ: « ان کی زیارت بہشت کے ہم پلہ ہے». 

3 – نیز فرمایا:«انّ زیارتها تعدل الجنّة؛ جو شخص ان کی زیارت کرے اس کی جزا بهشت ہے.»

4 – امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: «من زار المعصومة عارفاً بحقّها فله الجنّة؛جو شخص از روئے معرفت آپ کی زیارت کرے اس کا انعام جنت ہے.»[16]

5 – نیز فرمایا «من زار المعصومة بقم کمن زارنی؛ جو شخص قم میں حضرت معصومہ (س) کی زیارت کرے، گویا اس نے میری زیارت کی ہے.»

6- عن عليهماالسلام قال:اس سلسلے میں روایت ہے کہ ابن الرضا امام محمد تقی الجوادعلیہ السلام نے فرمایا:«من زارقبرعمّتى بقم فله الجنة [17]

جو شخص قم میں میری پھوپھی کی زیارت کرے بہشت اس پر واجب ہے».  7– ایک مؤمن امام رضا علیہ السلام کی زیارت کے لئے مشہد گیا اور وہاں سے کربلا روانہ ہؤا اور ہمدان کے راستے کربلا چلا گیا. سفر کے دوران اس نے خواب میں امام رضا علیہ السلام کی زیارت کی اور امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: کیا ہوتا اگر تم سفر کے دوران قم سے عبور کرتے اور میری همشیره کی زیارت کرتے؟»

8 – مولی حیدر خوانساری لکهتے ہیں: روایت ہے کہ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص میری زیارت کے لئے نہ آسکے رے میں میرے بهائی (حمزه ) کی زیارت کرے یا قم میں میری ہمشیره معصومہ کی زیارت کرے اس کو میری زیارت کا ثواب ملے گا.[18]

احادیث کی مختصر شرح

گو کہ یہ ساری احادیث حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی عظمت کی دلیل ہیں مگر این روایات میں بعض نکات قابل تشریح ہیں:

جیسے: جنت کا واجب ہونا، جنت کے برابر ہونا، بہشت کا مالک ہوجانا، جو لفظ «له» سے سمجها جاتا ہے اور ان کی زیارت کا حضرت رضا علیہ السلام کی زیارت کے برابر ہونا اور حضرت رضا علیہ السلام کا اس شیعہ بهائی سے بازخواست کرنا جس نے حضرت معصومہ سلام الله علیہا کی زیارت نہیں کی تهی.

حضرت معصومہ علیہا السلام کی زیارت کی سفارش صرف ایک امام نے نہیں فرمائی ہے بلکہ تین اماموں (علیہم السلام) نے ان کی زیارت کی سفارش فرمائی ہے: امام صادق، امام رضا و امام جواد علیہم السلام. اور دلچسپ امر یہ کہ امام صارف علیہ السلام نے حضرت معصومه کی ولادت با سعادت سے بہت پہلے بلکہ آپ (س) کے والد امام کاظم علیہ السلام کی ولادت سے بهی پہلے ان کی زیارت کی سفارش فرمائی ہے.

دوسرا دلچسپ نکتہ پانچویں روایت ہے جس میں حضرت معصومہ کی زیارت امام رضا علیہ السلام کے ہم پلہ قرار دیا گیا ہے. زید شحّام نے امام صادق علیہ السلام سے سوال کیا کہ :«یا بن رسول الله جس شخص نے آپ میں سے کسی ایک کی زیارت کی اس کی جزا کیا ہے؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: «جس نے ہم میں سے کسی ایک کی زیارت کی «کمن زار رسول الله (ص)؛ اس شخص کی طرح ہے جس نے رسول خدا صلی الله و علیہ و آلہ و سلم کی زیارت کی ہو» چنانچہ جس نے سیده معصومہ (س) کی زیارت کی در حقیقت اس نے رسول خدا کی زیارت کی ہے. اور پهر حضرت رضا علیہ السلام – جو سیدہ معصومہ کی زیارت کو اپنی زیارت کے برابر قراردیتے ہیں – فرماتے ہیں کہ :«الا فمن زارنی و هو علی غسل، خرج من ذنوبه کیوم ولدته امّه؛ آگاه رہو کہ جس نے غسل زیارت کرکے میری زیارت کی وه گناہوں سے اس طرح پاک ہوجاتا ہے جس طرح کہ وه ماں سے متولد ہوتے وقت گناہوں سے پاک تها». ان احادیث سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ سیده معصومه سلام الله کی زیارت گناہوں کا کفاره بهی ہے اور جنت کی ضمانت بهی ہے بشرطیکہ انسان زیارت کے بعد گناہوں سے پرہیز کرے.

دو حدیثوں میں امام صادق اور امام رضا علیہما السلام نے زیارت کی قبولیت اور وجوب جنت کے لئے آپ (س) کے حق کی معرفت کو شرط قرار دیا ہے. اور ہم آپ (س) کی زیارت میں پڑهتے ہیں کہ «يا فاطِمَة ا ِشْفَعی لی فِی الْجَنَّة ِ، فَا ِنَّ لَكَ عِنْدَاللّْہ ِشَأْناً مِنَ الشَّأْن = اے فاطمہ جنت میں میری شفاعت فرما کیونکہ آپ کے لئے خدا کے نزدیک ایک خاص شأن و منزلت ہے» امام صادق علیہ السلام کے ارشاد گرامی کے مطابق تمام شیعیان اہل بیت (ع) حضرت سیده معصومہ سلام الله کی شفاعت سے جنت میں داخل ہونگے اور زیارتنامے میں ہے کہ آپ ہماری شفاعت فرمائیں کیوں کہ آپ کے لئے ایک خاص شأن و منزلت ہے. علماء کہتے ہیں کہ یہ شأن، شأنِ ولایت ہے جو سیده (س) کو حاصل ہے اور اسی منزلت کی بنا پر وه مؤمنین کی شفاعت فرمائیں گی اور اگر کوئی اس شأن کی معرفت رکهتا ہو اور آپ کی زیارت کرے تو اس پر جنت واجب ہے.

زیارت اور اس کا فلسفه:

قاموس شیعہ میں ایک مقدس و معروف کلمہ،کلمہٴ زیارت ہے اسلام میں جن آداب کی بہت زیادہ تأکید ہوئی ہے ان میں سے ایک اہل بیت علیہم السلام اور ان کی اولاد امجاد کی قبور مبارک کی زیارت کے لئے سفر کرنا ہے ۔حدیثوں میں رسول الله صلی الله علیه و آله و سلم اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی جانب سے اس امر کی بڑی تأکید ہے ۔

مثلا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:من زارنی او زار احدا من ذریتی زرتہ یوم القیامة فانقذتہ من اھوائھا۔ [19]

جو میری یا میری اولاد میں سے کسی کی زیارت کرے گا مین قیامت کے دن  اس کے دیدار کو پہنچوں گا اور اسے اس دن کے خوف سے نجات دلاؤں گا ۔

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ من اتی قبر الحسین عارفا بحقہ کان کمن حج مأة حجة مع رسول اللہ[20] 

جو معرفت حقہ کے ساتھ امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرے گا تو گویا اس نے ۱۰۰ سو حج رسول اللہ کے ساتھ انجام دیئے۔

ایک دوسری روایت مین امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:امام حسین علیہ السلام آپ کی زیارت ہزار حج و عمرہ کے برابر ہے۔[21]

امام رضا علیہ السلام نے اپنی زیارت کے لئے فرمایا : جو شخص معرفت کے ساتھ میری زیارت کرے گا میں اس کی شفاعت کروں گا۔[22] 

امام علی نقی علیہ السلام نے فرمایا : جس نے عبد العظیم (ع) کی قبر کی زیارت کی گویا اس نے امام حسین علیہ السلام کی زیارت کی ہے۔[23] 

امام جواد علیہ السلام نے بھی امام رضا علیہ السلام کے لئے فرمایا:

اس شخص پر جنت واجب ہے جو معرفت کے ساتھ (طوس میں) ہمارے باباکی زیارت کرے۔

حضرت معصومہ سلام الله علیہا کی زیارت کف بارف میں وارد ہونے والی روایات بهی مندرجہ بالا سطور میں بیان ہوئیں.

اب سوال یہ ہے کہ ان فضائل و جزا کا فلسفہ کیا ہے؟ کیا یہ تمام اجر و ثواب بغیر کسی ہدف کے فقط ایک بار ظاہری طور پر زیارت کرنے والے کو میسر ہوجائے گا؟

در حقیقت زیارت کا فلسفہ یہ ہے کہ ہم ان کی تعلیمات سے آخرت کے لئے زاد راہ فراہم کریں اور خدا کی راہ میں اسی طرح قدم اٹھائیں جس طرح کہ ان بزرگوں نے اٹھائے. زیارت معصومین (ع) کے سلسلے میں وارد ہونے والی اکثر احادیث میں شرط یہ ہے کہ ان کے حق کی معرفت کے ساتھ ہو تو تب ہی اس کا اخروی ثمرہ ملنے کی توقع کی جاسکے گی.

یہ بزرگ ہستیاں، عالم بشریت کے لئے نمونہ اور مثال ہیں، ہمیں ان کا حق پہچان کر ان کی زیارت کے لئے سفر کی سختیان برداشت کرنی ہیں اور ساتھ ہی خدا کی راہ میں ان کی قربانیوں اور قرآن و اسلام کی حفاظت کی غرض سے ان کی محنت و مشقت سے سبق حاصل کرنا ہے اور اپنی دینی اور دنیاوی حاجات کے لئے ان سے التجا کرنی ہے کہ ہماری شفاعت فرمائیں اور اس کے لئے ان کے حق کی معرفت کی ضرورت ہے۔

حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کا مأثور زیارتنامہ

ہر بارگاہ میں ملاقات (زیارت) کا ایک خاص دستور ہوتاہے. حضرت معصومہ سلام اللہ علیہاکی بارگاہ میں بھی مشرف ہونے کے خاص آداب ہیں یہی وجہ ہے کہ آپ کی زیارت کے لئے معتبر روایتوں سے زیارت نامہ منقول ہے تا کہ مشتاقان زیارت ان نورانی جملوں کی تلاوت فرماکر رشدو کمال کی راہ میں حضرت سے الہام حاصل کرسکیں اور رحمت حق کی بی ساحل سمندر سی اپنی توانائی اور اپنے ظرف کے مطابق کچھ قطرے ہی اٹها سکیں ۔

حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ آپ کے لئے ائمہ معصومین سے مأثور زیارت نامہ وارد ہؤا ہے. سیدة العالمین حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی بعد آپ سلام اللہ علیہا پہلی بی بی ہیں جن کے لئے ائمہ اطہار علیہم السلام کی طرف سے زیارت نامہ وارد ہؤا ہے. تاریخ اسلام میں رسول اللہ (ص) کی والدہ حضرت آمنہ بنت وہب، حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام کی والدہ حضرت فاطمہ بنت اسد، حضرت سیدہ سلام اللہ علیہا کی والدہ ماجدہ حضرت خدیجہ بنت خویلد، حضرت ابوالفضل علیہ السلام کی والدہ فاطمہ بنت ام البنین، شریکة الحسین ثانی زہراء حضرت زینب، حضرت امام علی النقی علیہ السلام کی ہمشیرہ حضرت حکیمہ خاتون اور حضرت امام مہدی علیہ السلام کی والدہ ماجدہ حضرت نرجس خاتون (سلام اللہ علیہن اجمعین) جیسی عظیم عالی مرتبت خواتین ہو گذری ہیں جن کی مقام و منزلت میں شک و شبہے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، مگر ان کے بارے میں معصومین سے کوئی مستند زیارتنامہ وارد نہیں ہؤا ہے. مگر حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے لئے زیارتنامہ وارد ہؤا ہے اور یہ حضرت معصومہ (س) کی عظمت کی نشانی ہے؛ تا کہ شیعیان و پیروکاران اہل بیت عصمت و طہارت بالخصوص خواتین اس عظمت کا پاس رکھیں اور روئے زمین پر عفت و حیاء اور تقوی و پارسائی کے عملی نمونے پیش کرتی رہیں، کہ صرف اسی صورت میں ہے آپ سلام اللہ علیہا کی روح مطہر ہم سے خوشنود ہوگی اور ہماری شفاعت فرمائیں گی۔

حضرت کا معتبر زیارت نامہ

سند زیارت

حضرت معصومہ سلام اللہ علیہاکی ایک معتبر زیارت ہے جسے علامہ مجلسی نے بحار الانوار میں نقل فرمایا ہے. ہم پہلے اس کی سند پیش کرتے ہیں:

علی ابن ابراہیم اپنے پدر سے وہ سعد سے وہ امام علی بن موسی الرضا علیہما السلام سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اے سعد تمھارے نزدیک ہماری ایک قبر ہے !میں نے عرض کیا : میں آپ پر قربان ہوجاوٴں کیا آپ فاطمہ بنت موسی بن جعفر علیہم السلام کی قبر کو بیان فرمارہے ہیں؟ فرمایا :”ہاں“ جو بھی معرفت کے ساتھ ان کی زیارت کرے گا وہ مستحق بہشت ہے۔ جب بھی (تم حرم مشرف ہوتے ہو قبر کو دیکھ کر قبر شریف کے سرہانے (یعنی ضریح کے شمال میں) رو بقبلہ کهڑے ہوجاوٴ اور ۳۴ مرتبہ اللہ اکبر،۳۳ مرتبہ سبحان اللہ،۳۳ مرتبہ الحمد للہ پڑھو (بالکل تسبیحات حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کی مانند) اور پھر کہو۔

متن زیارت

اَلـسَّلامُ عَـلی آدَمَ صَـفْوَة اللّهِ، اَلسَّلامُ عَلی نوُح نَبِی اللّهِ، اَلسَّلامُ عَلی اِبْرهيمَ خَليلِ اللّهِ، اَلسَّلامُ عَلی موُسی كَليمِ اللّهِِ، اَلسَّلامُ عَلی عيسی روُح ِاللّهِِ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا خَيْرَ خَلْقَ اللّهِ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا صَفِی اللّهِ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا مُحَمّدَ بْنَ عَبْد ِاللّهِ، خاتَمَ النَّبِيّينَ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا اَميرَالْمُؤْمِنينَ عَلی بْنَ اَبی طالِب، وَصِی رَسوُلِ اللّهِ، اَلسَّلامُ عَلَيْكِ يا فاطِمَة سَيِّدَة نِساءِ الْعالَمينَ، اَلسَّلامُ عَلَيْكُما يا سِبْطَی نَبِی الرَّحْمَةِ، وَ سَيِّدَی شَباب اھل ِالْجَنَّةِ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا عَلِی بْنَ الْحُسَيْنِ، سَيِّدَ الْعابِدينَ وَ قُرَّة عَيْنِ النّاظِرينَ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا مُحَمَّدَ بْنَ عَلِی، باقِرَ الْعِلْم ِبَعْدَ النَّبِی،اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّد الصّاد ِقَ الْبارَّ الْامينَ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا موُسَی بْنَ جَعْفَر الطّهرَ الطُّهرَ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا عَلِی بْنَ موُ سَی الرِّضَا الْمُرْتَضی، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا مُحَمَّدَ بْنَ عَلِی التَّقِی، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا عَلِی بْنَ مُحَمَّد النَّقِی النّاصِحَ الْأَمينَ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا حَسَنَ بْنَ عَلِی، اَلسَّلامُ عَلَی الْوَصِی مِنْ بَعْدِهِ. اَللّهمَّ صَلِّ عَلی نُورِكَ وَ سِراجِكَ، وَ وَلِی وَلِيِّكَ، وَ وَصِيِّ وَصِيِّكَ، وَ حُجَّتِكَ عَلی خَلْقِكَ . اَلسَّلامُ عَلَيْك ِيابِنْتَ رَسوُل ِاللّهِ، اَلسَّلامُ عَلَيْك ِيابِنْتَ فاطِمَة وَ خَديجَة، اَلسَّلامُ عَلَيْك ِيابِنْتَ اَميرِالْمُؤْمِنينَ، اَلسَّلامُ عَلَيْك ِيابِنْتَ الْحَسَن ِوَ الْحُسَيْن ِاَلسَّلامُ عَلَيْك ِيابِنْتَ وَلِی اللّهِ، اَلسَّلامُ عَلَيْك ِيا اُخْتَ وَلِی اللّهِ، اَلسَّلامُ عَلَيْك ِيا عَمَّة وَلِی اللّهِ، اَلسَّلامُ عَلَيْك ِيابِنْتَ موُسَی بْن ِجَعْفَر، وَ رَحْمَة اللّهِ وَ بَرَكاتُه. اَلسَّلامُ عَلَيْكِ، عَرَّفَ اللّه بَيْنَنا وَ بَيْنَكُمْ فِی الْجَنَّةِ، وَ حَشَرَنا فی زُمْرَتِكُمْ، وَ أَوَرَدْنا حَوْضَ نَبِيِّكُمْ، وَ سَقانا بِكَأْس ِجَدِّ كُمْ مِنْ يَد ِعَلِی ِّبْن ِاَبی طالِب، صَلَواتُ اللّه عَلَيْكُمْ، أَسْئَلُ اللّه أَنْ يُر ِيَنا فيكُمُ السُّروُرَ وَ الْفَرَجَ، وَ أَنْ يَجْمَعَنا وَ إِيّاكُمْ فی زُمْرَة ِجَدِّكُمْ مُحَمَّد، صَلَّی اللّه عَلَيْهِ وَ آلِهِ، وَ أَنْ لا يَسْلُبَنا مَعْر ِفَتَكُمْ، إِنَّه وَلِی قَديرٌ. أَتَقَرَّبُ إِلَی اللّهِ بِحُبِّكُمْ وَ الْبَرائة ِمِنْ أَعْدائِكُمْ، وَ التَّسْليم ِإِلَی اللّهِ، راضِياً بِهِ غَيْرَ مُنْكِر وَ لا مُسْتَكْبِر وَ عَلی يَقين ِما أَتی بِهِ مَحَمَّدٌ - صلی اللہ علیه و آله - وَ بِه راض، نَطْلُبُ بِذلِكَ وَجْهكَ يا سَيِّدی، اَللّهمَّ وَ رِضاكَ وَ الدّارَ الْآخِرَة . يا فاطِمَةُ اِشْفَعی لی فِی الْجَنَّة ِ، فَا ِنَّ لَكَ عِنْدَاللّْهِ شَأْناً مِنَ الشَّأْن ِ. اَللّْهمّ ا ِنی اَسْئَلُكَ أَنْ تَخْتِمَ لی بِالسَّعادَة ِ، فَلاتَسْلُبْ مِنّی ِما أَنَا فيهِ،وَ لاحُولَ وَ لا قُوَة إِلا بالّله الْعَلِی الْعَظيم ِ. اَللّهمَ اسْتَجِبْ لَنا، وَ تَقَبَّلْه بِكَرَمِكَ وَ عِزَّتِكَ، وَ بِرَحْمَتِكَ وَ عافِيَتَكَ، وَ صَلَّی الّله عَلی مُحَمَّد وَ آلِهِ أَجْمَعينَ، وَ سَلَّمَ تَسْليما يا أَرْحَمَ الرّاحِمينَ. [24]

ترجمہ : 

سلام ہو آدم پر  جو برگزیده هی خدا کا ۔ سلام ہو نوح پر جو نبی الله ِہیں. سلام ہو ابراہیم جو خدا کی خلیل ہیں ۔ سلام ہو موسیٰ پر جو کلیم الله ِہیں۔ سلام ہو عیسیٰ پر جو روح الله ِہیں۔

اے رسول خدا آپ پر سلام ہو، اے بہترین مخلوق خدا آپ پر سلام ہو ۔ اے صفی خدا آپ پرسلام ہو ۔اے خاتم انبیاء محمد بن عبداللہ آپ پر سلام ہو ۔

اے امیر المؤمنین علی ابن ابیطالب وصی رسول خدا آپ پر سلام ہو ۔

اے فاطمہ ای سیده خواتین عالمین، آپ پر سلام ہو ۔ اے علی بن حسین ای عبادت گزاروں کے سید و سردار اور ای دیکھنے والوں کی آنکه کی تهندک، آپ پر سلام ہو۔ اے محمد بن علی ای بعد از نبی علم نبی (ص) کی رازون کی تالی کهولنی والی آپ پر سلام ہو۔ اے جعفر بن محمد صادق نیک کردار، امین آپ پر سلام ہو۔ اے موسیٰ بن جعفر پاک وپاکیزہ آپ پر سلام ہو۔ اے علی بن موسیٰ رضا، مرتضی آپ پر سلام ہو۔ اے محمد بن علی پرہیزگار آپ پر سلام ہو۔ اے علی بن محمد نقی خیر خواہ، امین آپ پر سلام ہو۔ اے حسن بن علی آپ پر سلام ہو۔ اے ان کے بعد جو وصی ہیں ان پر سلام ہو۔خدایا تو اپنے نور اور تابناک چراغ، اپنے ولی کے نمائندے، اپنے جانشین اور بندوں پر اپنی حجت کے اوپر سلام نازل فرما ۔ اے بنت رسول خدا آپ پر سلام ہو۔ اے دختر فاطمہ و خدیجہ آپ پر سلام ہو ۔اے دختر امیر المومنین آپ پر سلام ہو ۔اے دختر حسین و حسین آپ پر سلام ہو ۔اے دختر ولی خدا آپ پر سلام ہو ۔ اے ولی خدا کی خواہر آپ پر سلام ہو ۔اے ولی خدا کی پھوپھی آپ پر سلام ہو ۔اے دختر موسی بن جعفر آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت و برکت ہو۔ سلام ہو آپ پر۔خدا جنت میں ہمارے اور آپ کے در میان شناخت قائم فرمائے اور ہم کو آپ لوگوں کے گروہ میں محشور فرمائے۔ آپ کے نبی کے حوض پر وارد فرمائے نیز ہمیں آپ لوگوں پر خدا کا درود ہو۔ میں خدا سے درخواست کرتاہوں کہ وہ ہمیں آپ کے بارے میں خوشحال کرے اور فرج دکھائے۔نیز ہمیں اور آپ کو آپ کے جد محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گروہ میں شمار فرمائے اور ہم سے آپ کی معرفت کو سلب نہ کرے۔ کیونکہ وہی سرپرست اور قدرت والا ہے۔ میں آپ کی محبت اور آپ کے دشمنوں سے برائت کے وسیلے سے خدا کی بارگاہ میں تقرب چاہتاہوں اور اس کی بارگاہ میں سر نیاز خم کرتاہوں۔

نیز اس سے راضی ہوں۔ نہ ہی منکر ہوں نہ ہی مستکبر۔یہ تمام باتیں جو چیزیں محمد لائے ہیں اس پر یقین کے ساتھ کہہ رہاہوں نیز اس سے راضی ہوں۔اے مرے آقا اسی وسیلے سے تری توجہ کا طلبگار ہوں۔ خدایا تری خوشنودی اور خانہٴ آخرت چاہتاہوں۔

اے فاطمہ جنت میں میری شفاعت فرمائیے کیونکہ آپ خدا کے نزدیک ایک خاص شان ومقام کی حامل ہیں ۔خدایا میں تجھ سے درخواست کرتاہوں کہ ہمارا خاتمہ سعادت پر ہو۔پس اس ایمان کو ہم سے نہ چھین جو ہم میں موجود ہے۔تمام حرکت و جنبش خدا ہی کے وسیلے سے ہے جو بزرگ و برتر ہے ۔ خدایا ہماری حاجت کو مستجاب فرما۔ اور اپنے کرم و عزت و رحمت و عافیت سے اسے قبول فرما نیز محمد اور ان کی آل پر درود و سلام نازل فرما۔ اے سب سے زیادہ مہربان ۔

امام رضا (ع) اور لقب «معصومہ»

حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا جنتی خاتون، عبادت اور خدا کی ساتھ راز و نیاز میں ڈوبی ہوئی، بدیوں سے پاک اور عالم خلقت کا شبنم ہیں. شاید اس بی بی کو لقب «معصومہ» اسی لئے ملا ہے کہ ماں زہراء سلام اللہ علیہا کی عصمت آپ (س) کے وجود میں جلوہ گر ہوگئی تھی. بعض روایات کی مطابق یہ لقب حضرت رضا علیہ السلام نے اپنی ہمشیرہ مطہرہ کو عطا فرمایا تھا.جیسا کہ بلند اندیش اور سفید سیرت شیعہ فقیہ علامہ محمد باقر مجلسی (رہ) روایت کرتے ہیں کہ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: «مَنْ زَارَ الْمَعصُومَةَ بِقُمْ كَمَنْ زَارَنى= جو شخص قم میں حضرت معصومہ (س) کی زیارت کرے، گویا کہ اس نے میری زیارت کی ہے»[25].  

کریمة اہل بیت علیہم السلام

یہ لقب امام معصوم کی جانب سے سیدہ معصومہ سلام اللہ علیہا کو عطا ہؤا ہے جو آپ (س) کی مرتبت کی بلندی پر دلالت کرتا ہے.

انسان عبادت و بندگی خداوند عالم کے نتیجے میں مظہر ارادہ حق اور واسطہ فیض الٰہی قرار پا سکتا ہے، یہ ذات اقدس الہی کی عبودیت کا ثمرہ ہے چنانچہ خداوند عالم حدیث قدسی میں فرماتا ہے :

«انا اقول للشیء کن فیکون اطعنی فیما امرتک اجعلک تقول للشیء کن فیکون[26] = اے فرزند آدم میں کسی چیز کے لئے کہتا ہوں کہ ہوجا! پس وہ وجود میں آجا تی ہے، تو بھی میرے بتائے ہوئے راستوں پر چل؛ میں تجھ کو ایسا بنادوں گا کہ کہے گا ہوجا ! وہ شیء موجود ہو جائے گی».

امام صادق علیہ اسلام نے بھی فرمایا :

«العبودیة جوھریة کنہها الربوبیة[27] = یعنی خدا کی بندگی ایک گوہر ہے جس کی نہایت اور اس کا باطن موجودات پر فرمانروائی ہے».

اولیاء خدا جنہوں نے بندگی و اطاعت کی راہ میں دوسروں سے سبقت حاصل فرمائی اور اس راہ کو خلوص کے ساتھ طے کیا وہ اپنی اس با برکت عارضی زندگی میں بھی اور زندگی کے بعد بھی کرامات و عنایات کا منشأ ہیں ۔ اور یه سب ان کی پاکیزہ زندگی کا نتیجہ ہے ۔

آستان قدس فاطمی قدیم الایام سے هی ہزاروں کرامات و عنایات ربانی کا مرکز و معدن رہا ہے، کتنے نا امید قلوب خدا کی فضل و کرم سی پر امید هوئی، کتنے تہی داماں، رحمت ربوبی سے اپنی جھولی بھر چکے؛ اور کتنے ٹهکرائے هوئے اس در پر آکر کریمہ اہلبیت سلام اللہ علیہا کے فیض و کرم سے فیضیاب ہوئے اور خوشحال و شادماں ہوکر لوٹے ہیں اور اولیاء حق کی ولایت کے سائے میں ایمان محکم کے ساتھ اپنی زندگی کی نئی بنیاد رکهی ہے ۔ یہ تمام چیزیں اسی کنیز خدا کی روح کی عظمت اور خداوند متعال کی فیض و کرم کے منبع بے کراں کی نشاندہی کرتی ہیں اور ثابت کرتی ہیں که سیده معصومہ (س) کریمہ اہل بیت (ع)ہیں.

اب ہم دیکهتے ہیں که کریمہ اہل بیت علیہم السلام کا لقب کس طرح ظاهر ہؤا؟.

یه لقب در حقیقت ایک معاصر بزرگ مرجع تقلید کے والد بزرگوار کی رؤیائے صادقہ کے ذریعے ظاہر ہؤا ہے. خواب کچھ یوں ہے:

آیت اللہ العظمی سید شہاب الدین مرعشی نجفی (رہ) کے والد ماجد مرحوم آيت اللّہ سيّد محمود مرعشى نجفى(رہ)، حضرت سیدہ فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی قبر شریف کا مقام معلوم کرنے کی سعی وافر کررہے تھے اور اس سلسلے میں انہوں نے ایک مجرب ختم کا تعین کیا تا کہ اس طرح معلوم ہوجائے کہ ام ابیھا سلام اللہ علیہا کی گمشدہ قبر کہاں ہے؟ چالیس راتیں انہوں نے اپنا ذکر جاری رکھا. چالیسویں شب انہوں نے ختم مکمل کرلی اور دعا و توسل بسیار کے بعد آرام کرنے لگے تو آنکھ لگتے ہی عالم خواب میں حضرت امام محمد باقر(ع) يا حضرت امام جعفر صادق (ع) کی زیارت کا شرف حاصل کیا.

امام علیہ السلام نے انہیں فرمایا:

«عَلَيْكَ بِكَرِيمَةِ اَھل ِ الْبَْيت ِ.»

یعنی کریمہ اہل بیت کی زیارت کی پابندی کرو

انہوں نے سوچا کہ گویا امام علیہ السلام حضرت فاطمة الزہراء سلام اللہ کی زیارت کی سفارش کررہی ہیں. چنانچہ عرض کیا:«میں آپ پر قربان جاؤں میں نے ختم کا چلہ اسی لئے کاٹا ہے کہ میں حضرت فاطمة الزہراء سلام اللہ کی قبرکے صحیح مقام کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں.

امام علیہ السلام نے فرمایا: میری مراد حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی قبر شریف ہے». پھر حضرت (ع) نے مزید فرمایا:«بعض مصلحتوں کی بنا پر خداوند متعال نے ارادہ فرمایا ہے کہ حضرت زہرا(س) کی قبر شریف مخفی ہی رہے. اگر مشیت الہی یہ ہوتی کہ سیدہ فاطمة الزہراء سلام اللہ علیہا کی قبر ظاہر ہو، تو خدا کی طرف سے اس کے لئے جو جلال و جبروت مقدر ہوتی وہی جلال و جبروت خدا نے حضرت معصومہ کے لئے مقدر کر رکھی ہے». آیت اللہ مرعشى نجفى جاگ اٹھے تو فورا قم میں حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی زیارت کی غرض سے قم روانہ ہوئے اور اپنے اہل و عیال کے ہمراہ نجف سے قم تشریف لائے.[28]

اسی بنا پر شیعہ فقہاء، دانشور اور علماء کی زبان میں حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا «کریمہ اہل بیت» کے لقب سے مشہور ہیں.

دیگر القاب :

سیدہ معصومہ (س) کے دو زیارتناموں میں جو اسماء و القاب بیان ہوئے ہیں وہ یہ ہیں:

1-         طاہرہ (پاک و پاکیزہ)

2-         حمیدہ (جس کی ستائش اور تعریف ہوئی ہے)

3-         بِرّہ (نیکوکار)؛

4-         رشیدہ (ہدایت یافتہ و عاقلہ)

5-         تقَِّیہ (پرہیزگار)

6-         رضّیہ (خدا سے راضی)

7-         مرضیّہ ((ان سے خدا راضی و خوشنود ہے)

8-         سیدہ صدیقہ (بہت زیادہ سچی خاتون)

9-         سیدہ رضیّہ مرضّیہ (وہ خاتون جو خدا سے راضی ہیں اور خدا بھی ان سے راضی و خوشنود ہے)

شفاعت حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا

بی شک شفاعت کا والاترین اور بالاترین مقام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا مقام ہے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا مقام قرآن مجید میں مقام محمود قراردیا گیا.[29]

اسی طرح خاندان احمد مختار صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں دو خواتین کے لئے وسیع شفاعت مقرر ہے، جو بہت ہی وسیع اور عالمگیر ہے اور پورے اہل محشر بھی ان دو عالی مرتبت خواتین کی شفاعت کے دائرے میں داخل ہوسکتے ہیں بشرطیکہ وہ شفاعت کے لائق ہوں.

یہ دو عالیقدر خواتین صدیقہ طاہرہ، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور  شفیعہ روز جزا، حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا ہیں. حضرت ام الحسنین علیہا السلام کے مقام شفاعت جاننے کے لئے یہی جاننا کافی ہے کہ شفاعت آپ (س) کا حق مھر ہے اور جب بحکم آلہی آپ (ع) کا نکاح قطب عالم امکان حضرت علی ابن ابیطالب علیہ السلام سے ہورہا تھا، قاصد وحی نے خدا کا بھیجا ہؤا شادی کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حوالی کیا. وہ تحفہ ایک ریشمی کپرا تھا جس پر تحریر تھا:  «امت محمد (ص) کے گنہگاروں کی شفاعت خداوند عالم نے فاطمہ زہراء (س) کا حق مہر قرار دیا»، یہ حدیث اہل سنت کے منابع میں بھی نقل ہوئی ہے.

سیدہ زہراء سلام اللہ علیہا کی بعد کسی بھی خاتون کو شفیعہ روز محشر حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کا مقام شفاعت حاصل نہیں ہے. اسی لئے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: «جان لو کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں جن میں سے تین دروازے قم کی جانب کھلتے ہیں، میرے فرزندوں میں سے ایک خاتون – جن کا نام فاطمہ ہے – قم میں رحلت فرمائیں گی جن کی شفاعت سے ہمارے تمام شیعہ بہشت میں وارد ہونگے».

حضرت امام رضا (ع) سے حضرت معصومہ (س) کی محبت

عرصہ 25 برس تک حضرت رضا علیہ السلام حضرت نجمہ خاتون سلام اللہ علیہا کی اکلوتی فرزند تھی. اور 25 سال بعد نجمہ خاتون (س) کے دامن مبارک سے ایک ستارہ طلوع ہؤا جس کا نام فاطمہ رکھا گیا. امام علیہ السلام نے اپنے والاترین احساساتِ نورانی اپنی کمسن ہمشیرہ کے دل کی اتہاہ مین ودیعت رکھ لین. یہ دو بھائی بہن حیرت انگیز حد تک ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے اور ایک دوسرے کا فراق ان کے لئے ناقابل برداشت تھا. زبان ان دو کے درمیان محبت کی گہرائیاں بیان کرنے سے قاصر ہے. امام موسی کاظم علیہ السلام کے ایک معجزے کے دوران – جس میں سیدہ معصومہ (س) کا بھی کردار ہے – جب نصرانی اس کم سن امامزادی سے پوچھتا ہے: «آپ کون ہیں» ؟ تو آپ (س) جواب دیتی ہیں: «میں معصومہ ہوں امام رضا (ع) کی ہمشیرہ».

سیدہ (س) کے اس بیان سے دو چیزوں کا اظہار ہوتا ہے: ایک یہ کہ آپ (ع) اپنے بھائی سے حد درجہ محبت کرتی تھیں. دوسری یہ کہ آپ (س) امام رضا (ع) کو اپنی شناخت کی علامت سمجھتی تھیں اور امام (ع) کی بہن ہونے کو اپنے لئے اعزاز اور باعث فخر سمجھتی تھیں.

خواتین کی سرور

فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا انفرادی اور ذاتی شخصیت و روحانی کمالات کے لحاظ سے امام موسی بن جعفر (ع) کی اولاد میں علی بن موسی الرضا (ع) کے بعد دوسرے درجے پر فائز تھیں. بالفاظ دیگر اپنے بھائی بہنوں میں آپ (س) کا درجہ امام رضا (ع) کے بعد دوسرا تھا. رجالی منابع کے حوالے سے امام موسی بن جعفر علیہ السلام کی 18 بیٹیاں تھیں اور حضرت معصومہ سب کی سرور تھیں یہی نہیں بلکہ بھائیوں میں بھی امام رضا کے بعد کوئی ان کا ہم پلہ نہ تھا.

محدث بزرگوار شیخ عباس قمی (رہ) امام کاظم (ع) کی بیٹیوں کے بارے میں لکھتے ہیں لکھتے ہیں: جو روایات ہم تک پھنچی ہیں ان سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ ان سب سے افضل و برتر سیدہ جلیلہ حضرت فاطمہ بنت امام موسی بن جعفر (ع) ہیں جو معصومہ کے لقب سے مشہور ہوئی ہیں. 

بے مثال فضیلت

شیخ محمد تقی تُستری، قاموس الرجال میں حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کا ایک مثالی خاتون (اور خواتین کے لئے اسوہ کاملہ) کے عنوان سے تعارف کراتے ہیں جو امام رضا (ع) کے بعد اپنے بھائیوں اور بہنوں کے درمیان بے مثال تھیں. وہ اس سلسلے میں لکھتے ہیں: «امام موسی ابن جعفر علیہ السلام کی اولاد کی کثرت کے باوجود امام رضا علیہ السلام کو چھوڑ کر کوئی بھی حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے ہم پلہ نہیں ہے.».

بے شک فاطمہ دختر موسی بن جعفر (ع) کے بارے میں اس طرح کے اظہارات ان روایات و احادیث پر استوار ہیں جو ائمہ معصومین علیہم السلام سے آپ (ع) کے سلسلے میں وارد ہوئی ہیں. یہ روایات سیدہ معصومہ (س) کے لئے ایسے مراتب و مدارج بیان کرتے ہیں جو آپ (س) کے دیگر بھائیوں اور بہنوں کے لئے بیان نہیں ہوئے ہیں. اور اس طرح فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کا نام  دنیا کی برتر خواتین کے زمرے میں قرار پایا ہے.

بوئے وصال

بے شک اہل بیت رسول (ص) نے نہایت روشن چہرے عالم بشریت کے حوالے کئے ہیں جن کے نام درخشان ستاروں کی مانند فضیلتوں کے  آسمان پر چمک رہے ہیں. ولایت کے ساتویں منظومے کی بزرگ خواتین کے درمیان فاطمہ بنت موسی بن جعفر (ع) درخشان ترین ستارہ ہیں؛ ایسی خاتون جن کی حریم سے علم و معرفت کے پیاسے ایمان کا آب حیات نوش کرتے ہیں اور یہ سلسلہ صدیوں سے جاری ہے. عرفاء آپ کی زندگی کا تجزیہ کرکے، آپ کے ان لمحوں کا سراغ لگاتے ہیں جب آپ (س) آسمانی وجود میں تبدیل ہوئی تھیں اور اس طرح وہ اپنے لئے عروج عارفانہ کی راہیں ڈھونڈتے ہیں اور کائنات کی وسعتوں میں شمیم وصال پہیلادیتے ہیں۔

پیغام کے دو نکتے

1 – اتنا بڑا مقام کیوں ؟

پوچھتے ہیں اتنا اونچا مقام کیوں؟ جبکہ معصومہ سلام اللہ علیہا کی کئی بہنیں تھیں یہ سیدہ ان سے برتر و افضل کیوں تھیں؟

جواب: یہ سوال حضرت زہرا سلام علیہا کے بارے میں بھی پوچھا جاتا ہے؛ اور جواب یہ ہے کہ: یہ دو خواتین ذاتی اور خاندانی شرافت کے ساتھ ساتھ، ایمان اور عمل کے میدان میں بھی ممتاز تھیں اور اس سلسلے میں انہوں نے اپنے انتخاب سے اعلی انسانی اقدار کے اعلی مدارج و مراتب طے کئے تھے اور اپنے عرفان و عمل کی بنا پر اس مقام و منزلت تک عروج کرچکی تھیں.

حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا عمل، عرفان، ایمان، سیاست، اور مقام امامت کی حمایت کے سلسلے میں ممتاز تھیں اور آخرکار اسی راستے میں مرتبت شہادت حاصل کرگئیں.

سیدہ معصومہ نے قم میں اپنی سترہ دن عبادت اور خداوند قدوس کے ساتھ راز و نیاز میں گذاردئے؛ یہاں تک کہ آپ کی قیامگاہ کو «بیت النور»، کا نام دیا گیاہے اور یہ عبادتگاہ اس وقت قم کے میدان میر کے محلے اور مدرسہ ستّیہ میں واقع ہے اور آج بھی یہ مقام آپ (س) کی نورانیت اور اپنے خالق یکتا کے ساتھ آپ(س) کی قربت کے خلوص کی گواہی دے رہا ہے.

«حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی اٹھائیس سالہ پر برکت زندگی کی ثمر بخشی کے اثبات کے لئے یہی جاننا کافی ہے کہ قم میں آپ(س) کے سترہ روزہ قیام نے قم کے حوزہ علمیہ کو بقائے جاودانہ بخشی اور قم نے آپ ہی کی برکت سے دسیوں ہزار محقق، عالم، دانشور، مراجع اور مجتہدین عالم تشیع کی حوالے کردیئے. اکابر علماء جیسے امام رضا (ع) کے صحابی زکریّا بن آدم  اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے وکیل حسن بن اسحاق سے لے کر علمائے مفکر اور مراجع تقلید – جیسے میرزائے قمی، آیت اللہ شیخ ابوالقاسم قمی، آیة اللہ حائری، آیة اللہ صدر، آیة اللہ سید محمد تقی خوانساری، آیة اللہ حجّت، آیة اللہ بروجردی، آیة اللہ سید احمد خوانساری، آیة اللہ گلپایگانی، آیة اللہ مرعشی نجفی، آیة اللہ اراکی، علامہ طباطبایی، استاد شہید مرتضی مطہری و حضرت امام خمینی (اعلی اللہ مقامہم الشّریف) – تک سب کے سب عالم عالمۂ آل عبا حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے وجود کی برکت سے اس سرزمین پر نشو و نما پاچکے ہیں اور بی بی ہی کے وجود نے حوزہ علمیہ کو مرکزیت و محوریت عطا فرمائی ہے اور قم نے آپ ہی کی برکت سے مدینہ فاضلہ کی حیثیت اختیار کی ہوئی ہے ... اسلامی انقلاب در حقیقت اسی سرزمین کا فرزند مطہر ہے وہی جو فیضیہ کی آغوش میں پلا اور بڑھا وہی فیضیہ جس کو مجاورت معصومہ نے فیض بخشا. بت شکن دوران امام خمینی نے اسی مدرسے میں بیٹھ کر عالمی استکبار و استعمار کو للکارا اور یہیں سے اسلامی انقلاب کی شمع جلائی جس نے آج دنیا کے گوشے گوشے میں روشنی کے چرا غ جلائے ہیں اور قوموں کو آج ان دشمنوں کے چہرے نظر آنے لگے ہیں جو ہمیشہ اقوام کو اندہیرے میں بلاکر ان کا استحصال کرتے ہیں. آج انقلاب اسلامی کے چراغ ان کی رسوائی کا سبب بنے ہوئے ہیں اور اسی بنا پر استکبار عالمی کو یہ چراغ ایک آنکھ بھی نہیں بھاتے اور وہ اس کا منبع خشک کرنے کے درپے ہیں. ان کا خیال تھا کہ امام خمینی کی رحلت کے بعد یہ انسانیت ک آفاق پر روشن ہونے والا اسلامی انقلاب کا یہ چراغ بجھ جائے گا مگر پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا([30]) چنانچہ سفینہ انقلاب کو نئے امیر کے حوالے کیا گیا اور استکبار کی نیندیں حرام ہوگئیں کیونکہ رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای مدّظلہ العالی سفینہ انقلاب کو دنیا کی وسعتوں میں آگے کی طرف ہدایت کررہے ہیں اور استکباری منصوبے اب اس کا راستہ روکنے سے عاجز آگئے ہیں. آیة اللہ العظمی خامنہ ای، بھی اسی حوزہ قم کے شاگرد ہیں جو اس انقلاب مبارک کی حفاظت فرمارہے ہیں اور ہزاروں رکاوتوں، سازشوں، عداوتوں، دوستوں کی حماقتوں اور دشمنوں کی شرارتوں کے بیچ سے ہوتے ہوئے اس کاروان کی ہدایت فرما رہے ہیں.

خداوند عالم، انبیاء عظام، ائمہ طاہرین، اولیاء الہی، حقیقی مجاہدین اور سُکّان ارض و سماء کا سلام و درود ہو اس سیدہ کریمہ اہل بیت (ع) پر اس بزرگ خاتون پر، جس کاچشمہ فیض دائما جاری ہے اور جس کا سرچشمہ نور ہر وقت دنیا کی تاریکیوں میں امید ہدایت کی روشن نقاط اجاگر کرتا ہے. درود و سلام ہو اس کوثرِ ولایت پر.

مختصر یہ کہ امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ایمان اور عمل انسان کو مقامات عالیہ اور مراتب و مدارج رفیعہ کے معراج تک پھنچاتا ہے امام (ع) فرماتے ہیں:«فو اللہ ماشیعتنا الاّ من اتّقی اللہ و اطاعہ؛ خدا کی قسم وہ شخص ہمارے شیعوں میں سے نہیں ہے جو متقی و پرہیزگار نہ ہو اور جو خدا کی اطاعت نہ کرتا ہو.

نیز امام پنجم (ع) نے فرمایا: لا تنال ولایتنا الا بالعمل و والورع؛ ہماری دوستی اور ولایت تک پھنچنا نیک عملی اور پرہیزگاری کے سوا ممکن نہیں ہے. 

 

حضرت معصومہ علیہا السلام سے منقول روایتیں

1- عَنْ فَاطِمَةُ بِنْتَ موسَى بْن جَعْفَر (ع) عن فاطمة بنت جعفر الصادق(ع) عن فاطمة بنت محمد الباقر (ع) عن فاطمة بنت علی زین العابدین (ع) عن فاطمة بنت الحسین (ع) عن زینب بنت امیرالمؤمنین (ع) عَنْ فَاطِمَةَ بِنْت ِرَسُول ِاللّهِ صَلَّى اللّه علیہ ِوَ آلہ وِ سَلَّمَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّهِ صَلَّى اللّهِ علیہ ِوَ آلہ ِوَ سَلَّمَ : «ألا مَنْ ماتَ عَلى حُبِّ آل ِمُحَمَّد ماتَ شَهِیداً.

حضرت فاطمہ معصومہ علیہا السلام فاطمہ بنت امام جعفر صادق علیہ السلام سے وہ فاطمہ بنت امام باقر علیہ السلام سے وہ فاطمہ بنت امام سجاد علیہ السلام سے وہ فاطمہ بنت امام حسین علیہ السلام سے وہ زینب بنت امیر الموٴمنین علیہ السلام وہ فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہاسے نقل فرماتی ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فر مایا : آگاہ ہو جاوٴ کہ جو آل محمد کی محبت پر مرے گا وہ شہید مرا ہے۔([31])

2-  حضرت علی علیہ السلام اور ان کے شیعوں کی قدر و منزلت

فاطمہ معصومہ علیہا السلام (اسی مذکورہ سند سے ) فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے نقل فرماتی ہیں کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے فرمایا : جب شب معراج، میں بہشت میں داخل ہوا تو ایک قصر دیکھا جس کا ایک دروازہ یاقوت اور موتیوں سے آراستہ تھا اس کے دروازے پر ایک پردہ آویزاں تھا میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو اس پر لکھا تھا: «لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ علی ولی القوم =خدا کے علاوہ کوئی لائق پرستش نہیں محمد اللہ کے رسول اور علی لوگوں کے رہبر ہیں». اور اس کے پردے پر لکھا تھا بخ بخ من مثل شیعۃ علی خوشابحال خاشابحال علی علیہ السلام کے شیعوں جیسا کون ہے؟ میں اس قصر میں داخل ہو وہاں ایک عمارت دیکھی جو عقیق سرخ سے بنی ہوئی تھی اس کا دروازہ چاندی کا تھا جو زبرجد سے مرصع تھا اس در پر بھی ایک پردہ آویزاں تھا میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو اس پر لکھا تھا: «محمد رسول اللہ علی وصی المصطفیٰ = محمد خدا کے رسول اور علی مصطفیٰ کے وصی ہیں». اس کے پردے پر مرقوم تھا: «بشر بشیعۃ علی بطیب المولد = علی شیعوں کو حلال زادہ ہونے کی مبارک باد دیدو». میں داخل ہوا تو وہاں زبرجد سے بنا ہوا ایک محل دیکھا جس سے بہتر میں نے نہیں دیکھا تھا اس محل کا دروازہ سرخ یاقوت کا تھا جو موتیوں سے مزین تھا اس پر ایک پردہ لٹکا تھا میں نے سر اٹھایا تو دیکھا کہ پردے پر لکھا ہے: «شیعۃ علی ہم الفائزون =  علی کے شیعہ ہی کامیاب ہیں». میں نے جبرئیل سے سوال کیا کہ یہ محل کس کا ہے جبرئیل نے کہا آپ کے چچا زاد بھائی، وصی و جانشین حضرت علی بن ابیطالب علیہ السلام کا ہے قیامت کے دن سب بجز علی کے شیعوں کے ننگے پاوٴں وارد ہونگے۔[32]

 

3- من اصعد الی الله خالص عبادته اهبط الله عزوجل الیه افضل مصلحته

حضرت معصومہ (س) روایت کرتی ہیں کہ حضرت فاطمہ بنت رسول اللہ (ص) نے فرمایا: جو شخص اپنی خالص عبادت اللہ تعالی کی بارگاہ میں بھیجے گا خدا اپنی بہترین مصلحتیں اس کی جانب اتارے گا. ([33])

حدیث غدیر و منزلت

4- عن فاطمۃ بنت علی بن موسی الرضا حدثتنی فاطمہ و زینب و ام کلثوم بنات موسی بن جعفر علیہ السلام قلن حدثتنا فاطمۃ بنت جعفر بن محمد الصادق ، حدثتنی فاطمۃ بنت محمد بن علی ، حدثتنی فاطمۃ بنت علی بن الحسین ، حدثتنی فاطمۃ و سکینۃ ابنتا الحسین بن علی عن ام کلثوم بنت فاطمۃ بنت النبی صلی اللہ علیہ و الہ و سلم عن فاطمۃ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ قالت :«انسیتم قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم یوم غدیر خم : من کنت مولاہ فعلی مولاہ و قولہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : انت منی بمنزلۃ ہارون من موسیٰ».[34]

ترجمہ : فاطمہ بنت امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام،امام موسی کاظم علیہ السلام کی بیٹیوں فاطمہ زینب اور ام کلثوم (سلام اللہ علیہن) سے نقل فرماتی ہیں کہ انہوں نے فاطمہ بنت جعفر صادق (ع)  سے اور انہوں نے فاطمہ بنت محمد بن علی(ع) سے، انہوں نے فاطمہ بنت علی بن الحسین(ع)، فاطمه بنت زین العابدین (ع) نے فاطمه اور سکینه بنت الحسین (ع) سے انہوں نے ام کلثوم دختر فاطمہ بنت رسول الله (ص) سے نقل فرمایا ہے کہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے ان لوگون سے دریافت کیا: کیا تم غدیر خم کے دن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ” من کنت مولاہ فعلی مولاہ (=جس کا میں مولا ہوں پس اس کے علی مولا ہیں،) اور آپ (ص) کا قول انت منی بمنزلۃ ہارون من موسیٰ (=اے علی تم کو مجھ سے وہی نسبت ہے کہ جو ہارون کو موسیٰ سے تھی) بهول گئے؟

 

 

 

 

________________________________________

[1] - دلائل الامامہ ص/ ۳۰۹ ۔

[3] - وسیلہ المعصومہ بنقل نزھۃ الابرار ۔

[4] - مستدرک سفینۃ البحار ج/ ۸ ص/ ۲۵۷ ۔

[5] - سفينه البحار 2/376؛ تاريخ قم /7.

[6] - بحارالانوار ج ٦٠ صفحه ٢١٦

[7] - زندگانی حضرت معصومہ / آقائے منصوری : ص/ ۱۴، بنقل از ریاض الانساب تالیف ملک الکتاب شیرازی ۔

[8] - وسیلۃ المعصومیہ : میرزا ابو طالب بیوک ص/ ۶۸، الحیا ة السیاسبۃ للامام الرضا علیہ السلام: جعفر مرتضیٰ عاملی ص/ ۴۲۸، قیام سادات علوی : علی اکبر تشید ص / ۱۶۸۔

[9] - دریائے سخن تاٴلیف سقازادہ تبریزی : ص/۱۲، بنقل از ودیعہ آل محمد صل اللہ علیہ و آلہ/ آقائے انصاری ۔

[10] - تاریخ قدیم قم ص/ ۲۱۳ ۔

[11] - خطبہ حضرت در شام

[12] - تاریخ قدیم قم ص / ۲۱۴ ۔

[13] - سفینۃ البحار ج/ ۲، ص / ۳۷۶ ۔

[14] -  ثواب الأعمال و عيون اخبار الرضا(ع). عوالم العلوم، ج ٢١، ص ٣٥٣ بحوالۂ اسنى المطالب ص ٤٩ تا ص ٥١.

[15] - بحار ج ٤٨ صفحه ٣٠٧.

[16] - عیون اخبارالرضا (ع).

[17] - كامل الزيارة

[18] - زبدة التصانيف، ج ٦، ص ١٥٩، بحوالۂ كريمۂ اہل بيت، ص ٣.

[19] - کامل الزیارات ص۱۱.

[20] - بحار الانوار ج ۱۰۱، ص ۴۲.

[21] - بحار الانوار ج ۱۰۱، ص ۴۳۔

[22] - بحار الانوار ج ۱۰۲، ص۳۳.

[23] - بحار الانوار ج ۱۰۲، ص۲۶۵.

[24] - بحار الانوار ج /۱۰۲، ص ۲۶۶.

[25] - ناسخ التواريخ، ج ٣، ص ٦٨، بحوالۂ کتاب " كريمۂ اہل بيت"، ص ٣٢.

[26] - مستدرک الوسائل ج/ ۲، ص / ۲۹۸ ۶

[27] - مصباح الشریعۃ باب ۱۰۰

[28] - كريمه اهل بيت، ص٤٣، با تلخيص و تصرّف

[29] - وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا = اور رات کے ایک حصے میں نیند سے اٹهیں اور قرآن (اور نماز) پڑهیں. یہ آپ کے لئے ایک اضافی فریضہ ہے؛ امید رکهیں کہ خدا آپ کو مقام محمود (قابل ستائش و قابل تعریف مقام) عطا فرماکر محشور و مبعوث کرے.(سوره اسراء آیت 79)

[30] - خداوند متعال کا ارشاد گرامی ہے : یُرِيدُونَ أَن يُطْفِؤُواْ نُورَ اللّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى اللّهُ إِلاَّ أَن يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ = وہ اپنے منہ سے خدا کا نور بجھانا چاہتے ہیں لیکن خداوند متعال اپنا نور مکمل کرنے کے سوا کچھ نہیں چاہتا خواہ کفار اکمال و اتمام نور کو ناپسند ہی کیوں نہ کریں!۔ (سوره توبہ آیت 32)

يُرِيدُونَ لِيُطْفِؤُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ = وہ چاہتے ہیں کہ نور خدا کو اپنے منہ سے خاموش کرنا چاہتے ہیں مگر خداوند اپنے نور کو مکمل کرنے والا ہے خواہ کافرین کے لئے ناپسند ہی کیوں نہ ہو!. (سورہ صف آیت 8)

[31] - ۔آثار الحجۃ محمد رازی ص / ۹ ، نقل از اللولؤ الثمینہ ص / ۲۱۷۔

[32] - بحار ج / ۶۸ ، ص / ۷۶ ۔

[33] - بحار الانوار، ج 70، ص 249. ( عدّة الدّاعی ( ص 218 ) ؛ بحارالانوار (ج 67 ، ص 249 ) ؛

میزان الحکمة ( ج 2 ، ص 882 )؛ تفسیر الامام العسکری ( ص 327 ) . 

[34] - الغدیر ج / ۱ ، ص ۱۹۶ ۔

 

 


source : http://qamaandzanjir.blogfa.com

بے نمازیوں کو ہر نماز پر دھمکیاں

بے نمازیوں کو ہر نماز پر دھمکیاں

حضور اکرمGنے فرمایا:جب تم میں سے کوئی شخص "نمازِفجر" چھوڑتا ہے تو آسمان سے ایک منادی اسے "یاخاسر"اے خسارہ اٹھانے والا کے نام سے پکارتا ہے۔

جب تم میں سے کوئی شخص "نمازِظہر" چھوڑتا ہے تو منادی اسے "یاغادر" اے عہد شکن کے نام سے پکارتا ہے۔

جب تم میں سے کوئی شخص "نمازِعصر" چھوڑتا ہے تو منادی اسے "یافاجر" اے فجور کرنے والے کے نام سے پکارتا ہے۔

جب تم میں سے کوئی شخص "نمازِمغرب" چھوڑتا ہے تو منادی اسے "یاکافر" اے کافرکے نام سے پکارتا ہے۔

جب تم میں سے کوئی شخص "نمازِعشاء" چھوڑتا ہے تو منادی اسے ندا کرتا ہے کہ کیا تیرا رب نہیں ہے؟

📚ہدیه الشیعه، صفحہ:326۔

بہترین گناہگار

پیغمبر خدا صلى الله عليہ و آلہ نے فرمایا : تمام انسان خطا اور گناہ کرتے ہیں اور گناہگاروں میں بہترین لوگ وہ ہیں جو توبہ کرتے ہیں۔ ميزان الحكمه ج2 ص 120 ح 2274.

بہترین گناہگار

 

 پیغمبر خدا صلى الله عليہ و آلہ نے فرمایا :تمام انسان خطا اور گناہ کرتے ہیں اور گناہگاروں میں بہترین لوگ وہ ہیں جو توبہ کرتے ہیں۔ 

ميزان الحكمه  ج2 ص 120 ح 2274

 

خطبہ فدکیہ کا متن اور ترجمه

خطبہ فدکیہ کا متن
جب خلیفہ اول اور خلیفہ دوم عمر ابن خطاب نے حضرت فاطمہ سے فدک لینا چاہا اور یہ خبر آپؑ تک پہنچی تو سر پر ردا اوڑھی اور بنی ہاشم کی خواتین کے ایک گروہ میں مسجد کی جانب روانہ ہوئیں جبکہ آپ کی ردا زمین پر لگ رہی تھی۔ آپؑ پیغمبر اکرمؐ کی طرح قدم اٹھاتے ہوئے خلیفہ کے پاس پہنچی جبکہ ابوبکر مہاجر و انصار اور بعض دوسرے لوگوں کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے۔ آپؑ اور دوسروں کے درمیان ایک پردہ ڈالا گیا، پھر آپؑ نے دلسوز آواز میں روئی اور سارے لوگ رونے لگے اور مسجد میں ایک تحریک کی شکل بن گئی۔ کچھ دیر کے لیے آپ کچھ دیر کے لیے خاموش ہوئی تو لوگوں کی سرگوشیاں اور نالہ و زاری بند ہوگئی۔ جذبات کنٹرول ہوگئے۔ پھر آپ نے اپنی بات کو اللہ تعالی کی حمد و ثنا سے شروع کیا، اللہ کے رسول پر درود بھیجا، اور دوبارہ لوگوں کے رونے کی آواز بلند ہوگئی، جب سکوت طاری ہوا تو آپ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے فرمایا:[1]
خطبہ فدکیہ کا متن اور اردو ترجمہ
خطبہ فدکیہ کا متن
اردو ترجمہ
اَلْحَمْدُللَّـهِ عَلی ما اَنْعَمَ، وَ لَهُ الشُّكْرُ عَلی ما اَلْهَمَ، وَ الثَّناءُ بِما قَدَّمَ، مِنْ عُمُومِ نِعَمٍ اِبْتَدَاَها، وَ سُبُوغِ الاءٍ اَسْداها، وَ تَمامِ مِنَنٍ اَوْلاها، جَمَّ عَنِ الْاِحْصاءِ عَدَدُها، وَ نَأی عَنِ الْجَزاءِ اَمَدُها، وَ تَفاوَتَ عَنِ الْاِدْراكِ اَبَدُها، وَ نَدَبَهُمْ لاِسْتِزادَتِها بِالشُّكْرِ لاِتِّصالِها، وَ اسْتَحْمَدَ اِلَی الْخَلائِقِ بِاِجْزالِها، وَ ثَنی بِالنَّدْبِ اِلی اَمْثالِها.
میں خدا كى نعمتوں پر اس كى ستائش کرتی ہوں اور اس كى توفیقات پر شكر ادا كرتى ہوں اس كى بے شمار نعمتوں پر اس كى حمد و ثنا بجالاتى ہوں وہ نعمتیں جن كى كوئی انتہا نہیں اور ان كى تلافى اور تدارك نہیں كیا جاسكتا، ان كى انتہا كا تصور كرنا ممكن بھی نہیں، خدا ہم سے چاہتا ہے كہ ہم اس كى نعمتوں كو جانیں اور ان كا شكر ادا كریں تاكہ اللہ تعالى مقامى نعمتوں كو اور زیادہ كرے۔
وَ اَشْهَدُ اَنْ لااِلهَ اِلاَّ اللَّـهُ وَحْدَهُ لاشَریكَ لَهُ، كَلِمَةٌ جَعَلَ الْاِخْلاصَ تَأْویلَها، وَ ضَمَّنَ الْقُلُوبَ مَوْصُولَها، وَ اَنارَ فِی التَّفَكُّرِ مَعْقُولَها، الْمُمْتَنِعُ عَنِ الْاَبْصارِ رُؤْیتُهُ، وَ مِنَ الْاَلْسُنِ صِفَتُهُ، وَ مِنَ الْاَوْهامِ كَیفِیتُهُ. اِبْتَدَعَ الْاَشْیاءَ لامِنْ شَیءٍ كانَ قَبْلَها، وَ اَنْشَاَها بِلاَاحْتِذاءِ اَمْثِلَةٍ اِمْتَثَلَها، كَوَّنَها بِقُدْرَتِهِ وَ ذَرَأَها بِمَشِیتِهِ، مِنْ غَیرِ حاجَةٍ مِنْهُ اِلی تَكْوینِها، وَ لافائِدَةٍ لَهُ فی تَصْویرِها، اِلاَّ تَثْبیتاً لِحِكْمَتِهِ وَ تَنْبیهاً عَلی طاعَتِهِ، وَ اِظْهاراً لِقُدْرَتِهِ وَ تَعَبُّداً لِبَرِیتِهِ، وَ اِعْزازاً لِدَعْوَتِهِ، ثُمَّ جَعَلَ الثَّوابَ عَلی طاعَتِهِ، وَ وَضَعَ الْعِقابَ عَلی مَعْصِیتِهِ، ذِیادَةً لِعِبادِهِ مِنْ نِقْمَتِهِ وَ حِیاشَةً لَهُمْ اِلی جَنَّتِهِ.
میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اسکا کوئی شریک نہیں، توحید وہ كلمہ كہ اخلاص كو اس كى روح اور حقیقت قرار دیا گیا ہے اور دل میں اس كى گواہى دے تا كہ اس سے نظر و فكر روشن ہو، وہ خدا كہ جس كو آنكھ كے ذریعے دیكھا نہیں جاسكتا اور زبان كے ذریعے اس كى وصف اور توصیف نہیں كى جاسكتى وہ كس طرح كا ہے یہ وہم نہیں آسكتا۔ عالم كو عدم سے پیدا كیا ہے اور اس كے پیدا كرنے میں وہ محتاج نہ تھا اپنى مشیئت كے مطابق خلق كیا ہے۔ جہان كے پیا كرنے میں اسے اپنے كسى فائدے كے حاصل كرنے كا قصد نہ تھا۔ جہان كو پیدا كیا تا كہ اپنى حكمت اور علم كو ثابت كرے اور اپنى اطاعت كى یاد دہانى كرے، اور اپنى قدرت كا اظہار كرے، اور بندوں كو عبادت كے لئے برانگیختہ كرے، اور اپنى دعوت كو وسعت دے، اپنى اطاعت كے لئے جزاء مقرر كى اور نافرمانى كے لئے سزا معین فرمائی۔ تا كہ اپنے بندوں كو عذاب سے نجات دے اور بہشت كى طرف لے جائے۔
وَ اَشْهَدُ اَنَّ اَبی مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ، اِخْتارَهُ قَبْلَ اَنْ اَرْسَلَهُ، وَ سَمَّاهُ قَبْلَ اَنْ اِجْتَباهُ، وَ اصْطَفاهُ قَبْلَ اَنْ اِبْتَعَثَهُ، اِذ الْخَلائِقُ بِالْغَیبِ مَكْنُونَةٌ، وَ بِسَتْرِ الْاَهاویلِ مَصُونَةٌ، وَ بِنِهایةِ الْعَدَمِ مَقْرُونَةٌ، عِلْماً مِنَ اللَّـهِ تَعالی بِمائِلِ الْاُمُورِ، وَ اِحاطَةً بِحَوادِثِ الدُّهُورِ، وَ مَعْرِفَةً بِمَواقِعِ الْاُمُورِ.
میں گواہى دیتى ہوں كہ میرے والد محمدؐ اللہ كے رسول اور اس كے بندے ہیں، پیغمبرى كے لئے بھیجنے سے پہلے اللہ نے ان كو چنا اور قبل اس كے كہ اسے پیدا كرے ان كا نام محمّدؐ ركھا اور بعثت سے پہلے ان كا انتخاب اس وقت كیا جب كہ مخلوقات عالم غیب میں پنہاں اور چھپى ہوئی تھى اور عدم كى سرحد سے ملى ہوئی تھی، چونكہ اللہ تعالى ہر شئی كے مستقبل سے باخبر ہے اور حوادث دہر سے مطلع ہے اور ان كے مقدرات كے موارد اور مواقع سے آگاہ ہے۔
اِبْتَعَثَهُ اللَّـهُ اِتْماماً لِاَمْرِهِ، وَ عَزیمَةً عَلی اِمْضاءِ حُكْمِهِ، وَ اِنْفاذاً لِمَقادیرِ رَحْمَتِهِ، فَرَأَی الْاُمَمَ فِرَقاً فی اَدْیانِها، عُكَّفاً عَلی نیرانِها، عابِدَةً لِاَوْثانِها، مُنْكِرَةً للَّـهِ مَعَ عِرْفانِها.
فَاَنارَ اللَّـهُ بِاَبی مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّـهُ عَلَیهِ و الِهِ ظُلَمَها، وَ كَشَفَ عَنِ الْقُلُوبِ بُهَمَها، وَ جَلی عَنِ الْاَبْصارِ غُمَمَها، وَ قامَ فِی النَّاسِ بِالْهِدایةِ، فَاَنْقَذَهُمْ مِنَ الْغِوایةِ، وَ بَصَّرَهُمْ مِنَ الْعِمایةِ، وَ هَداهُمْ اِلَی الدّینِ الْقَویمِ، وَ دَعاهُمْ اِلَی الطَّریقِ الْمُسْتَقیمِ. ثُمَّ قَبَضَهُ اللَّـهُ اِلَیهِ قَبْضَ رَأْفَةٍ وَ اخْتِیارٍ، وَ رَغْبَةٍ وَ ایثارٍ، فَمُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّـهُ عَلَیهِ و الِهِ مِنْ تَعَبِ هذِهِ الدَّارِ فی راحَةٍ، قَدْ حُفَّ بِالْمَلائِكَةِ الْاَبْرارِ وَ رِضْوانِ الرَّبِّ الْغَفَّارِ، وَ مُجاوَرَةِ الْمَلِكِ الْجَبَّارِ، صَلَّی اللَّـهُ عَلی أَبی نَبِیهِ وَ اَمینِهِ وَ خِیرَتِهِ مِنَ الْخَلْقِ وَ صَفِیهِ، وَ السَّلامُ عَلَیهِ وَ رَحْمَةُاللَّـهِ وَ بَرَكاتُهُ.
ثم التفت الی اهل المجلس و قالت:
خدا نے محمّدؐ كو مبعوث كیا تا كہ اپنے امر كو آخر تك پہنچائے اور اپنے حكم كو جارى كردے، اور اپنے مقصد كو عملى قرار دے۔ لوگ دین میں متفرق تھے اور كفر و جہالت كى آگ میں جل رہے تھے، بتوں كى پرستش كرتے تھے اور خداوند عالم كے دستورات كى طرف توجہ نہیں كرتے تھے۔
پس اللہ تعالی نے میرے باپ محمّدؐ كے وجود مبارك سے تاریكیاں منور کردیا اور جہالت اور نادانى دلوں سے دور کردیا، سرگردانى اور تحیر كے پردے آنكھوں سے ہٹا دیئے۔ میرے باپ لوگوں كى ہدایت كے لئے كھڑے ہوئے اور ان كو گمراہى سے نجات دلائی اور نابینا كو بینا كیا اور دین اسلام كى طرف راہنمائی فرمائی اور سیدھے راستے كى طرف دعوت دی، اس وقت خداوند عالم نے اپنے پیغمبر كى مہربانى اور اس كے اختیار اور رغبت سے اس كى روح قبض فرمائی۔ اب میرے باپ اس دنیا كى سختیوں سے آرام میں ہیں اور آخرت كے عالم میں اللہ تعالى كے فرشتوں اور پروردگار كى رضایت كے ساتھ اللہ تعالى كے قرب میں زندگى بسر كر رہے ہیں، امین اور وحى كے لئے چتے ہوئے پیغمبر پر درود ہو۔
آپ نے اس كے بعد مجمع كو خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔
اَنْتُمْ عِبادَ اللَّـهِ نُصُبُ اَمْرِهِ وَ نَهْیهِ، وَ حَمَلَةُ دینِهِ وَ وَحْیهِ، وَ اُمَناءُ اللَّـهِ عَلی اَنْفُسِكُمْ، وَ بُلَغاؤُهُ اِلَی الْاُمَمِ، زَعیمُ حَقٍّ لَهُ فیكُمْ، وَ عَهْدٍ قَدَّمَهُ اِلَیكُمْ، وَ بَقِیةٍ اِسْتَخْلَفَها عَلَیكُمْ: كِتابُ اللَّـهِ النَّاطِقُ وَ الْقُرْانُ الصَّادِقُ، و النُّورُ السَّاطِعُ وَ الضِّیاءُ اللاَّمِعُ، بَینَةً بَصائِرُهُ، مُنْكَشِفَةً سَرائِرُهُ، مُنْجَلِیةً ظَواهِرُهُ، مُغْتَبِطَةً بِهِ اَشْیاعُهُ، قائِداً اِلَی الرِّضْوانِ اِتِّباعُهُ، مُؤَدٍّ اِلَی النَّجاةِ اسْتِماعُهُ، بِهِ تُنالُ حُجَجُ اللَّـهِ الْمُنَوَّرَةُ، وَ عَزائِمُهُ الْمُفَسَّرَةُ، وَ مَحارِمُهُ الْمُحَذَّرَةُ، وَ بَیناتُهُ الْجالِیةُ، وَ بَراهینُهُ الْكافِیةُ، وَ فَضائِلُهُ الْمَنْدُوبَةُ، وَ رُخَصُهُ الْمَوْهُوبَةُ، وَ شَرائِعُهُ الْمَكْتُوبَةُ.
لوگو تم اللہ تعالى كے امر اور نہى كے نمائندے اور نبوت كے دین اور علوم كے حامل تمہیں اپنے اوپر امین ہونا چاہیئے، جن كو باقى اقوام تك دین كى تبلیغ كرنى ہے تم میں پیغمبرؐ كا حقیقى جانشین موجود ہے اللہ تعالى نے تم سے پہلے عہد و پیمان اور چمكنے والانور ہے اس كى چشم بصیرت روش اور رتبے كے آرزومند ہیں اس كى پیروى كرنا انسان كو بہشت رضوان كى طرف ہدایت كرتا ہے اس كى باتوں كو سننا نجات كا سبب ہوتا ہے اس كے وجود كى بركت سے اللہ تعالى كے نورانى دلائل اور حجت كو دریافت كیا جاسكتا ہے اس كے وسیلے سے واجبات و محرمات اور مستحبات و مباح اور شریعت كے قوانین كو حاصل كیا جاسكتا ہے۔
فَجَعَلَ اللَّـهُ الْایمانَ تَطْهیراً لَكُمْ مِنَ الشِّرْكِ، وَ الصَّلاةَ تَنْزیهاً لَكُمْ عَنِ الْكِبْرِ،
وَ الزَّكاةَ تَزْكِیةً لِلنَّفْسِ وَ نِماءً فِی الرِّزْقِ،
وَ الصِّیامَ تَثْبیتاً لِلْاِخْلاصِ، وَ الْحَجَّ تَشْییداً لِلدّینِ، وَ الْعَدْلَ تَنْسیقاً لِلْقُلُوبِ،
وَ طاعَتَنا نِظاماً لِلْمِلَّةِ، وَ اِمامَتَنا اَماناً لِلْفُرْقَةِ،
وَ الْجِهادَ عِزّاً لِلْاِسْلامِ، وَ الصَّبْرَ مَعُونَةً عَلَی اسْتیجابِ الْاَجْرِ.
اللہ تعالى نے ایمان كو شرك سے پاك ہونے كا وسیلہ قرار دیا ہے۔۔ اللہ نے نماز واجب كى تا كہ تكبر سے روكاجائے زكوة كو وسعت رزق اور تہذیب نفس كے لئے واجب قرار دیا۔ روزے كو بندے كے اخلاص كے اثبات كے لئے واجب كیا۔ حج كو واجب كرنے سے دین كى بنیاد كو استوار كیا، عدالت كو زندگى كے نظم اور دلوں كى نزدیكى كے لئے ضرورى قرار دیا، اہلبیت كى اطاعت كو ملت اسلامى كے نظم كے لئے واجب قرار دیا اور امامت كے ذریعے اختلاف و افتراق كا سد باب كیا اور جہاد کو اسلام کے لئے عزت اور صبر کو اجر حاصل کرنے کے لیے مددگار قرار دیا۔
وَ الْاَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ مَصْلِحَةً لِلْعامَّةِ، وَ بِرَّ الْوالِدَینِ وِقایةً مِنَ السَّخَطِ، وَ صِلَةَ الْاَرْحامِ مَنْساءً فِی الْعُمْرِ وَ مَنْماةً لِلْعَدَدِ، وَ الْقِصاصَ حِقْناً لِلدِّماءِ، وَ الْوَفاءَ بِالنَّذْرِ تَعْریضاً لِلْمَغْفِرَةِ، وَ تَوْفِیةَ الْمَكائیلِ وَ الْمَوازینِ تَغْییراً لِلْبَخْسِ.
امر بالمعروف كو عمومى مصلحت كے ماتحت واجب قرار دیا، ماں باپ كے ساتھ نیكى كو ان كے غضب سے مانع قرار دیا، اجل كے موخر ہونے اور نفوس كى زیادتى كے لئے صلہ رحمى كا دستور دیا، قتل نفس كو روكنے كے لئے قصاص كو واجب قرار دیا۔ نذر كے پورا كرنے كو گناہوں گا آمرزش كا سبب بنایا، ناپ تول میں دقت کو کم فروشی ختم کرنے کا سبب بنادیا۔
وَ النَّهْی عَنْ شُرْبِ الْخَمْرِ تَنْزیهاً عَنِ الرِّجْسِ، وَ اجْتِنابَ الْقَذْفِ حِجاباً عَنِ اللَّـعْنَةِ، وَ تَرْكَ السِّرْقَةِ ایجاباً لِلْعِصْمَةِ، وَ حَرَّمَ اللَّـهُ الشِّرْكَ اِخْلاصاً لَهُ بِالرُّبوُبِیةِ.
فَاتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقاتِهِ، وَ لاتَمُوتُنَّ اِلاَّ وَ اَنْتُمْ مُسْلِمُونَ، وَ اَطیعُوا اللَّـهَ فیما اَمَرَكُمْ بِهِ وَ نَهاكُمْ عَنْهُ، فَاِنَّهُ اِنَّما یخْشَی اللَّـهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ.[2]
ثم قالت:
پلیدى سے محفوظ رہنے كى غرض سے شراب خورى پر پابندى لگائی، بہتان اور زنا كى نسبت دینے كى لعنت سے روكا، چورى نہ كرنے كو پاكى اور عفت كا سبب بتایا۔ اللہ تعالى كے ساتھ شرك، كو اخلاص كے ماتحت ممنوع قرار دیا۔ پس تقوى اور پرہیزگارى كو اپناؤ جسطرح اپنانے کا حق ہے۔ دنیا سے مسلمان ہوئے بغیر مت جانا، اللہ تعالى كے اوامر و نواہى كى اطاعت كرو، صرف علماء اور دانشمند خدا سے ڈرتے ہیں۔ پھر فرمایا:
اَیهَا النَّاسُ! اِعْلَمُوا اَنّی فاطِمَةُ وَ اَبی مُحَمَّدٌ، اَقُولُ عَوْداً وَ بَدْءاً، وَ لااَقُولُ ما اَقُولُ غَلَطاً، وَ لااَفْعَلُ ما اَفْعَلُ شَطَطاً، لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ اَنْفُسِكُمْ عَزیزٌ عَلَیهِ ما عَنِتُّمْ حَریصٌ عَلَیكُمْ بِالْمُؤْمِنینَ رَؤُوفٌ رَحیمٌ.[3]
فَاِنْ تَعْزُوهُ وَتَعْرِفُوهُ تَجِدُوهُ اَبی دُونَ نِسائِكُمْ،وَ اَخَا ابْنِ عَمّی دُونَ رِجالِكُمْ، وَ لَنِعْمَ الْمَعْزِی اِلَیهِ صَلَّی اللَّـهُ عَلَیهِ وَ الِهِ.
فَبَلَّغَ الرِّسالَةَ صادِعاً بِالنَّذارَةِ، مائِلاً عَنْ مَدْرَجَةِ الْمُشْرِكینَ، ضارِباً ثَبَجَهُمْ، اخِذاً بِاَكْظامِهِمْ، داعِیاً اِلی سَبیلِ رَبِّهِ بِالْحِكْمَةِ و الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ، یجُفُّ الْاَصْنامَ وَ ینْكُثُ الْهامَّ، حَتَّی انْهَزَمَ الْجَمْعُ وَ وَ لَّوُا الدُّبُرَ.
اے لوگو! جان لو میں فاطمہ ہوں اور میرے باپ محمدؐ ہیں، اب میں تمہیں ابتداء سے آخر تك كے واقعات اور امور سے آگاہ كرتى ہوں تمہیں علم ہونا چاہیئے میں جھوٹ نہیں بولتى اور گناہ كا ارتكاب نہیں كرتی۔ اللہ تعالى نے تمہارے لئے پیغمبرؐ جو تم میں سے تھا بھیجا ہے تمہارى تكلیف سے اسے تكلیف ہوتى تھى اور وہ تم سے محبت كرتے تھے اور مومنین كے حق میں مہربان اور دل سوز تھے۔ لوگو وہ پیغمبر میرے باپ تھے نہ تمہارى عورت كے باپ، میرے شوہر كے چچازاد بھائی تھے نہ تمہارے مردوں كے بھائی، كتنى عمدہ محمّدؐ سے نسبت ہے۔ جناب محمدؐ نے اپنى رسالت كو انجام دیا اور مشركوں كى راہ و روش پر حملہ آور ہوئے اور ان كى پشت پر سخت ضرب وارد كى ان كا گلا پكڑا اور دانائی اور نصیحت سے خدا كى طرف دعوت دی، بتوں كو توڑا اور ان كے سروں كو سرنگوں كیا كفار نے شكست كھائی اور شكست كھا كر بھاگے۔
حَتَّی تَفَرَّی اللَّـیلُ عَنْ صُبْحِهِ، وَ اَسْفَرَ الْحَقُّ عَنْ مَحْضِهِ، و نَطَقَ زَعیمُالدّینِ، وَ خَرَسَتْ شَقاشِقُ الشَّیاطینِ، وَ طاحَ وَ شیظُ النِّفاقِ، وَ انْحَلَّتْ عُقَدُ الْكُفْرِ وَ الشَّقاقِ، وَ فُهْتُمْ بِكَلِمَةِ الْاِخْلاصِ فی نَفَرٍ مِنَ الْبیضِ الْخِماصِ. وَ كُنْتُمْ عَلی شَفا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ[4]، مُذْقَةَ الشَّارِبِ، وَ نُهْزَةَ الطَّامِعِ، وَ قُبْسَةَ الْعِجْلانِ، وَ مَوْطِیءَ الْاَقْدامِ، تَشْرَبُونَ الطَّرْقَ، وَ تَقْتاتُونَ الْقِدَّ، اَذِلَّةً خاسِئینَ، تَخافُونَ اَنْ یتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِكُمْ، فَاَنْقَذَكُمُ اللَّـهُ تَبارَكَ وَ تَعالی بِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّـهُ عَلَیهِ وَ الِهِ بَعْدَ اللَّـتَیا وَ الَّتی، وَ بَعْدَ اَنْ مُنِی بِبُهَمِ الرِّجالِ، وَ ذُؤْبانِ الْعَرَبِ، وَ مَرَدَةِ اَهْلِ الْكِتابِ.
تاریكیاں دور ہوگئیں اور حق واضح ہوگیا، دین كے رہبر كى زبان گویا ہوئی اور شیاطین خاموش ہوگئے، نفاق كے پیروكار ہلاك ہوئے كفر اور اختلاف كے رشتے ٹوٹ گئے گروہ اہلبیت كى وجہ سے شہادت كا كلمہ جارى كیا، جب كہ تم دوزخ كے كنارے كھڑے تھے اور وہ ظالموں كا تر اور لذیذ لقمہ بن چكے تھے اور آگ كى تلاش كرنے والوں كے لئے مناسب شعلہ تھے۔ تم قبائل كے پاؤں كے نیچے ذلیل تھے گندا پانى پیتے تھے اور حیوانات كے چمڑوں اور درختوں كے پتوں سے غذا كھاتے تھے دوسروں كے ہمیشہ ذلیل و خوار تھے اور اردگرد كے قبائل سے خوف و ہراس میں زندگى بسر كرتے تھے ان تمام بدبختیوں كے بعد خدا نے محمدؐ كے وجود كى بركت سے تمہیں نجات دى حالانكہ میرے باپ كو عربوں میں سے بہادر اور عرب كے بھیڑیوں اور اہل كتاب كے سركشوں سے واسطہ تھا
كُلَّما اَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ اَطْفَأَهَا اللَّـهُ[5]، اَوْ نَجَمَ قَرْنُ الشَّیطانِ، اَوْ فَغَرَتْ فاغِرَةٌ مِنَ الْمُشْرِكینَ، قَذَفَ اَخاهُ فی لَهَواتِها، فَلاینْكَفِیءُ حَتَّی یطَأَ جِناحَها بِأَخْمَصِهِ، وَ یخْمِدَ لَهَبَها بِسَیفِهِ، مَكْدُوداً فی ذاتِ اللَّـهِ، مُجْتَهِداً فی اَمْرِ اللَّـهِ، قَریباً مِنْ رَسُولِ اللَّـهِ، سَیداً فی اَوْلِیاءِ اللَّـهِ، مُشَمِّراً ناصِحاً مُجِدّاً كادِحاً، لاتَأْخُذُهُ فِی اللَّـهِ لَوْمَةَ لائِمٍ. وَ اَنْتُمَ فی رَفاهِیةٍ مِنَ الْعَیشِ، و ادِعُونَ فاكِهُونَ آمِنُونَ، تَتَرَبَّصُونَ بِنَا الدَّوائِرَ، وَ تَتَوَكَّفُونَ الْاَخْبارَ، وَ تَنْكُصُونَ عِنْدَ النِّزالِ، وَ تَفِرُّونَ مِنَ الْقِتالِ.
جتنا وہ جنگ كى آگ كو بھڑكاتے تھے خدا سے خاموش كردیتا تھا جب كوئی شیاطین میں سے سر اٹھاتا یا مشركوں میں سے كوئی بھى كھولتا تو محمدؐ اپنے بھائی على (ع) كو ان كے گلے میں اتار دیتے اور حضرت على (ع) ان كے سر اور مغز كو اپنى طاقت سے پائمال كردیتے اور جب تك ان كى روشن كى ہوئی آگ كو اپنى تلوار سے خاموش نہ كردیتے جنگ كے میدان سے واپس نہ لوٹتے اللہ كى رضا كے لئے ان تمام سختیوں كا تحمل كرتے تھے اور خدا كى راہ میں جہاد كرتے تھے، اللہ كے رسول كے نزدیك تھے۔ على (ع) خدا دوست تھے، ہمیشہ جہاد كے لئے آمادہ تھے، وہ تبلیغ اور جہاد كرتے تھے اور تم اس حالت میں آرام اور خوشى میں خوش و خرم زندگى گزار رہے تھے اور كسى خبر كے منتظر اور فرصت میں رہتے تھے دشمن كے ساتھ لڑائی لڑنے سے ا جتناب كرتے تھے اور جنگ كے وقت فرار كرجاتے تھے
فَلَمَّا اِختارَ اللَّـهُ لِنَبِیهِ‌ دار اَنْبِیائِهِ وَ مَأْوی اَصْفِیائِهِ، ظَهَرَ فیكُمْ حَسْكَةُ النِّفاقِ، وَ سَمَلَ جِلْبابُ الدّینِ، وَ نَطَقَ كاظِمُ الْغاوینَ، وَ نَبَغَ خامِلُ الْاَقَلّینَ، وَ هَدَرَ فَنیقُ الْمُبْطِلینَ، فَخَطَرَ فی عَرَصاتِكُمْ، وَ اَطْلَعَ الشَّیطانُ رَأْسَهُ مِنْ مَغْرَزِهِ، هاتِفاً بِكُمْ، فَأَلْفاكُمْ لِدَعْوَتِهِ مُسْتَجیبینَ، وَ لِلْغِرَّةِ فیهِ مُلاحِظینَ، ثُمَّ اسْتَنْهَضَكُمْ فَوَجَدَكُمْ خِفافاً، وَ اَحْمَشَكُمْ فَاَلْفاكُمْ غِضاباً، فَوَسَمْتُمْ غَیرَ اِبِلِكُمْ، وَ وَرَدْتُمْ غَیرَ مَشْرَبِكُمْ. هذا، وَ الْعَهْدُ قَریبٌ، وَالْكَلْمُ رَحیبٌ، وَ الْجُرْحُ لَمَّا ینْدَمِلُ، وَ الرَّسُولُ لَمَّا یقْبَرُ، اِبْتِداراً زَعَمْتُمْ خَوْفَ الْفِتْنَةِ، اَلا فِی الْفِتْنَةِ سَقَطُوا، وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحیطَةٌ بِالْكافِرینَ.[6]
جب خدا نے اپنے پیغمبر كو دوسرے پیغمبروں كى جگہ كى طرف منتقل كیا تو تمہارے اندرونى كینے اور دوروئی ظاہر ہوگئی دین كا لباس كہنہ ہوگیا اور گمراہ لوگ باتیں كرنے لگے، پست لوگوں نے سر اٹھایا اور باطل كا اونٹ آواز دیتے لگا اور اپنى دم ہلانے لگا اور شیطان نے اپنا سركمین گاہ سے باہر نكالا اور تمہیں اس نے اپنى طرف دعوت دى اور تم نے بغیر سوچے اس كى دعوت قبول كرلى اور اس كا احترام كیا تمہیں اس نے ابھارا اور تم حركت میں آگئے اس نے تمہیں غضبناك ہونے كا حكم دیا اور تم غضبناك ہوگئے۔ لوگو وہ اونٹ جو تم میں سے نہیں تھا تم نے اسے با علامت بناكر اس جگہ بیٹھایا جو اس كى جگہ نہیں تھی، حالانكہ ابھى پیغمبرؐ كى موت كو زیادہ وقت نہیں گزرا ہے ابھى تك ہمارے دل كے زخم بھرے نہیں تھے اور نہ شگاف پر ہوئے تھے، ابھى پیغمبرؐ كو دفن بھى نہیں كیا تھا كہ تم نے فتنے كے خوف كے بہانے سے خلافت پر قبضہ كرلیا، لیكن خبردار رہو كہ تم فتنے میں داخل ہوچكے ہو اور دوزخ نے كافروں كا احاطہ كر ركھا ہے
فَهَیهاتَ مِنْكُمْ، وَ كَیفَ بِكُمْ، وَ اَنَّی تُؤْفَكُونَ، وَ كِتابُ اللَّـهِ بَینَ اَظْهُرِكُمْ، اُمُورُهُ ظاهِرَةٌ، وَ اَحْكامُهُ زاهِرَةٌ، وَ اَعْلامُهُ باهِرَةٌ، و زَواجِرُهُ لائِحَةٌ، وَ اَوامِرُهُ واضِحَةٌ، وَ قَدْ خَلَّفْتُمُوهُ وَراءَ ظُهُورِكُمْ، أَرَغْبَةً عَنْهُ تُریدُونَ؟ اَمْ بِغَیرِهِ تَحْكُمُونَ؟ بِئْسَ لِلظَّالمینَ بَدَلاً، وَ مَنْ یبْتَغِ غَیرَ الْاِسْلامِ دیناً فَلَنْ یقْبَلَ مِنْهُ، وَ هُوَ فِی الْاخِرَةِ مِنَ الْخاسِرینِ.[7]
افسوس تمہیں كیا ہوگیا ہے اور كہاں چلے جارہے ہو؟ حالانكہ اللہ كى كتاب تمہارے درمیان موجود ہے اور اس كے احكام واضح اور اس كے اوامر و نواہى ظاہر ہیں تم نے قرآن كى مخالفت كى اور اسے پس پشت ڈال دیا، كیا تمہارا ارادہ ہے كہ قرآن سے اعراض اور روگردانی كرلو؟ یا قرآن كے علاوہ كسى اور ذریعے سے قضاوت اور فیصلے كرتا چاہتے تو؟ لیكن تم كو علم ہونا چاہیئے كہ جو شخص بھى اسلام كے علاوہ كسى دوسرے دین كو اختیار كرے گا وہ قبول نہیں كیا جائے گا اور آخرت میں وہ خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔
ثُمَّ لَمْ تَلْبَثُوا اِلی رَیثَ اَنْ تَسْكُنَ نَفْرَتَها، وَ یسْلَسَ قِیادَها،ثُمَّ اَخَذْتُمْ تُورُونَ وَ قْدَتَها، وَ تُهَیجُونَ جَمْرَتَها، وَ تَسْتَجیبُونَ لِهِتافِ الشَّیطانِ الْغَوِی، وَ اِطْفاءِ اَنْوارِالدّینِ الْجَلِی، وَ اِهْمالِ سُنَنِ النَّبِی الصَّفِی، تُسِرُّونَ حَسْواً فِی ارْتِغاءٍ، وَ تَمْشُونَ لِاَهْلِهِ وَ وَلَدِهِ فِی الْخَمَرِ وَ الضَّرَّاءِ، وَ نَصْبِرُ مِنْكُمْ عَلی مِثْلِ حَزِّ الْمَدی، وَ وَخْزِ السنان فی الحشا. وَ اَنْتُمُ الانَ تَزْعُمُونَ اَنْ لااِرْثَ لَنا أَفَحُكْمَ الْجاهِلِیةِ تَبْغُونَ، وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللَّـهِ حُكْماً لِقَومٍ یوقِنُونَ، أَفَلاتَعْلَمُونَ؟ بَلی، قَدْ تَجَلَّی لَكُمْ كَالشَّمْسِ الضَّاحِیةِ أَنّی اِبْنَتُهُ.
اتنا صبر بھى نہ كرسكے كہ وہ فتنے كى آگ كو خاموش كرے اور اس كى قیادت آسان ہوجائے بلكہ آگ كو تم نے روشن كیا اور شیطان كى دعوت كو قبول كرلیا اور دین كے چراغ اور سنت رسول خداؐ كے خاموش كرنے میں مشغول ہوگئے ہو۔ كام كو الٹا ظاہر كرتے ہو اور پیغمبرؐ كے اہلبیت كے ساتھ مكر و فریب كرتے ہو، تمہارے كام اس چھرى كے زخم اور نیزے كے زخم كى مانند ہیں جو پیٹ كے اندر واقع ہوئے ہوں۔ كیا تم یہ عقیدہ ركھتے ہو كہ ہم پیغمبرؐ سے میراث نہیں لے سكتے، كیا تم جاہلیت كے قوانین كى طرف لوٹنا چاہتے ہو ؟ حالانكہ اسلام كے قانون تمام قوانین سے بہتر ہیں، كیا تمہیں علم نہیں كہ میں رسول خداؐ كى بیٹى ہوں كیوں نہیں جانتے ہو اور تمہارے سامنے آفتاب كى طرح یہ روشن ہے
اَیهَا الْمُسْلِمُونَ! أَاُغْلَبُ عَلی اِرْثی؟ یابْنَ اَبی قُحافَةَ! اَفی كِتابِ اللَّـهِ تَرِثُ اَباكَ وَ لااَرِثُ اَبی؟ لَقَدْ جِئْتَ شَیئاً فَرِیاً، اَفَعَلی عَمْدٍ تَرَكْتُمْ كِتابَ اللَّـهِ وَ نَبَذْتُمُوهُ وَراءَ ظُهُورِكُمْ، إذْ یقُولُ «وَ وَرِثَ سُلَیمانُ داوُدَ»[8] وَ قالَ فیما اقْتَصَّ مِنْ خَبَرِ زَكَرِیا اِذْ قالَ: «فَهَبْ لی مِنْ لَدُنْكَ وَلِیاً یرِثُنی وَ یرِثُ مِنْ الِ یعْقُوبَ»،[9] وَ قالَ: «وَ اوُلُوا الْاَرْحامِ بَعْضُهُمْ اَوْلی بِبَعْضٍ فی كِتابِ اللَّـهِ»،[10] وَ قالَ «یوصیكُمُ اللَّـهُ فی اَوْلادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیینِ»،[11] وَ قالَ «اِنْ تَرَكَ خَیراً الْوَصِیةَ لِلْوالِدَینِ وَالْاَقْرَبَینِ بِالْمَعْرُوفِ حَقّاً عَلَی الْمُتَّقینَ».[12]
مسلمانوں كیا یہ درست ہے كہ میں اپنے باپ كى میراث سے محروم ہوجاؤں؟ اے ابوبكر آیا خدا كى كتاب میں تو لكھا ہے كہ تم اپنے باپ سے میراث لو اور میں اپنے باپ كى میراث سے محروم رہوں؟ كیا خدا قرآن میں نہیں كہتا كہ سلیمان داود كے وارث ہوئے.وَ وَرِثَ سُلَیمانُ داوُدَ كیا قرآن میں یحیى علیہ السلام كا قول نقل نہیں ہوا كہ خدا سے انہوں نے عرض كى پروردگار مجھے فرزند عنایت فرما تا كہ وہ میرا وارث قرار پائے او آل یعقوب كا بھى وارث ہو كیا خدا قرآن میں نہیں فرماتا كہ بعض رشتہ دار بعض دوسروں كے وارث ہوتے ہیں؟ كیا خدا قرآن میں نہیں فرماتا كہ اللہ نے حكم دیا كہ لڑكے، لڑكیوں سے دوگنا ارث لیں؟ كیا خدا قرآن میں نہیں فرماتا كہ تم پر مقرر كردیا كہ جب تمہارا كوئی موت كے نزدیك ہو تو وہ ماں، باپ اور رشتہ داروں كے لئے وصیت كرے كیونكہ پرہیزگاروں كے لئے ایسا كرنا عدالت كا مقتضى ہے
وَ زَعَمْتُمْ اَنْ لاحَظْوَةَ لی، وَ لااَرِثُ مِنْ اَبی، وَ لارَحِمَ بَینَنا، اَفَخَصَّكُمُ اللَّـهُ بِایةٍ اَخْرَجَ اَبی مِنْها؟ اَمْ هَلْ تَقُولُونَ: اِنَّ اَهْلَ مِلَّتَینِ لایتَوارَثانِ؟ اَوَ لَسْتُ اَنَا وَ اَبی مِنْ اَهْلِ مِلَّةٍ واحِدَةٍ؟ اَمْ اَنْتُمْ اَعْلَمُ بِخُصُوصِ الْقُرْانِ وَ عُمُومِهِ مِنْ اَبی وَابْنِ عَمّی؟ فَدُونَكَها مَخْطُومَةً مَرْحُولَةً تَلْقاكَ یوْمَ حَشْرِكَ.
فَنِعْمَ الْحَكَمُ اللَّـهُ، وَ الزَّعیمُ مُحَمَّدٌ، وَ الْمَوْعِدُ الْقِیامَةُ، وَ عِنْدَ السَّاعَةِ یخْسِرُ الْمُبْطِلُونَ، وَ لاینْفَعُكُمْ اِذْ تَنْدِمُونَ، وَ لِكُلِّ نَبَأٍ مُسْتَقَرٌّ،[13] وَ لَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَنْ یأْتیهِ عَذابٌ یخْزیهِ، وَ یحِلُّ عَلَیهِ عَذابٌ مُقیمٌ.[14]
ثم رمت بطرفها نحو الانصار، فقالت:
كیا تم گمان كرتے ہو كہ میں باپ سے نسبت نہیں ركھتی؟ كیا ارث والى آیات تمہارے لئے مخصوص ہیں اور میرے والد ان سے خارج ہیں یا اس دلیل سے مجھے میراث سے محروم كرتے ہو جو دو مذہب كے ایك دوسرے سے میراث نہیں لے سكتے؟ كیا میں اور میرا باپ ایك دین پر نہ تھے؟ آیا تم میرے باپ اور میرے چچازاد على (ع) سے قرآن كو بہتر سمجھتے ہو؟ اے ابوبكر فدك اور خلافت تسلیم شدہ تمہیں مبارك ہو، لیكن قیامت كے دن تم سے ملاقات كروں گى كہ جب حكم اور قضاوت كرنا خدا كے ہاتھ میں ہوگا اور محمدؐ بہترین پیشوا ہیں۔ اے قحافہ كے بیٹے، میرا تیرے ساتھ وعدہ قیامت كا دن ہے كہ جس دن بیہودہ لوگوں كا نقصان واضح ہوجائے گا اور پھر پشیمان ہونا فائدہ نہ دے گا اور ہر خبر (کے وقوع) کا ایک وقت مقرر ہے اور عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کس پر عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کر دے گا اور کس پر دائمی عذاب نازل ہوتا ہے۔ آپ اس كے بعد انصار كى طرف متوجہ ہوئیں اور فرمایا:
یا مَعْشَرَ النَّقیبَةِ وَ اَعْضادَ الْمِلَّةِ وَ حَضَنَةَ الْاِسْلامِ! ما هذِهِ الْغَمیزَةُ فی حَقّی وَ السِّنَةُ عَنْ ظُلامَتی؟ اَما كانَ رَسُولُ اللَّـهِ صَلَّی اللَّـهُ عَلَیهِ وَ الِهِ اَبی یقُولُ: «اَلْمَرْءُ یحْفَظُ فی وُلْدِهِ»، سَرْعانَ ما اَحْدَثْتُمْ وَ عَجْلانَ ذا اِهالَةٍ، وَ لَكُمْ طاقَةٌ بِما اُحاوِلُ، وَ قُوَّةٌ عَلی ما اَطْلُبُ وَ اُزاوِلُ.
اَتَقُولُونَ ماتَ مُحَمَّدٌ؟ فَخَطْبٌ جَلیلٌ اِسْتَوْسَعَ وَ هْنُهُ، وَاسْتَنْهَرَ فَتْقُهُ، وَ انْفَتَقَ رَتْقُهُ، وَ اُظْلِمَتِ الْاَرْضُ لِغَیبَتِهِ، وَ كُسِفَتِ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ وَ انْتَثَرَتِ النُّجُومُ لِمُصیبَتِهِ، وَ اَكْدَتِ الْامالُ، وَ خَشَعَتِ الْجِبالُ، وَ اُضیعَ الْحَریمُ، وَ اُزیلَتِ الْحُرْمَةُ عِنْدَ مَماتِهِ.
فَتِلْكَ وَاللَّـهِ النَّازِلَةُ الْكُبْری وَ الْمُصیبَةُ الْعُظْمی، لامِثْلُها نازِلَةٌ، وَ لابائِقَةٌ عاجِلَةٌ اُعْلِنَ بِها، كِتابُ اللَّـهِ جَلَّ ثَناؤُهُ فی اَفْنِیتِكُمْ، وَ فی مُمْساكُمْ وَ مُصْبِحِكُمْ، یهْتِفُ فی اَفْنِیتِكُمْ هُتافاً وَ صُراخاً وَ تِلاوَةً وَ اَلْحاناً، وَ لَقَبْلَهُ ما حَلَّ بِاَنْبِیاءِ اللَّـهِ وَ رُسُلِهِ، حُكْمٌ فَصْلٌ وَ قَضاءٌ حَتْمٌ.
«وَ ما مُحَمَّدٌ اِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ اَفَاِنْ ماتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلی اَعْقابِكُمْ وَ مَنْ ینْقَلِبْ عَلی عَقِبَیهِ فَلَنْ یضُرَّ اللَّـهَ شَیئاً وَ سَیجْزِی اللَّـهُ شَیئاً وَ سَیجْزِی اللَّـهُ الشَّاكِرینَ».[15]
اے ملت كے مددگار جوانو اور اسلام كى مدد كرنے والو كیوں حق كے ثابت كرنے میں سستى كر رہے ہو اور جو ظلم مجھ پر ہوا ہے اس سے خواب غفلت میں ہو؟ كیا میرے والد نے نہیں فرمایا كہ كسى كا احترام اس كى اولاد میں بھى محفوظ ہوتا ہے یعنى اس كے احترام كى وجہ سے اس كى اولاد كا احترام كیا كرو؟ كتنا جلدى فتنہ برپا كیا ہے تم نے؟ اور كتنى جلدى ہوى اور ہوس میں مبتلا ہوگئے ہو؟ تم اس ظلم كے ہٹانے میں جو مجھ پر ہوا ہے قدرت ركھتے ہو اور میرے مدعا اور خواستہ كے برلانے پر طاقت ركھتے ہو۔
كیا كہتے ہو كہ محمدؐ مرگئے؟ جى ہاں لیكن یہ ایك بہت بڑى مصیبت ہے كہ ہر روز اس كا شگاف بڑھ رہا ہے اور اس كا خلل زیادہ ہو رہا ہے۔ آنجنابؐ كى غیبت سے زمین تاریك ہوگئی ہے سورج اور چاند بے رونق ہوگئے ہیں آپ كى مصیبت پر ستارے تتربتر ہوگئے ہیں، امیدیں ٹوٹ گئیں، پہاڑ متزلزل اور ریزہ ریزہ ہوگئے ہیں پیغمبرؐ كے احترام كى رعایت نہیں كى گئی،
قسم خدا كى یہ ایک بہت بڑى مصیبت تھى كہ جس كى مثال ابھى تگ دیكھى نہیں گئی اللہ كى كتاب جو صبح اور شام كو پڑھى جا رہى ہے آپ كى اس مصیبت كى خبر دیتى ہے كہ پیغمبرؐ بھى عام لوگوں كى طرح مریں گے، قرآن میں ارشاد ہوتا ہے كہ اور حضرت محمد ؐ نہیں ہیں مگر پیغمبر جن سے پہلے تمام پیغمبر گزر چکے ہیں تو کیا اگر وہ وفات پا جائیں یا قتل کر دیئے جائیں تو تم الٹے پاؤں (کفر کی طرف) پلٹ جاؤگے اور جو کوئی الٹے پاؤں پھرے گا تو وہ ہرگز اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا اور عنقریب خدا شکرگزار بندوں کو جزا دے گا۔
اَیها بَنی قیلَةَ! ءَ اُهْضَمُ تُراثَ اَبی وَ اَنْتُمْ بِمَرْأی مِنّی وَ مَسْمَعٍ وَ مُنْتَدی وَ مَجْمَعٍ، تَلْبَسُكُمُ الدَّعْوَةُ وَ تَشْمَلُكُمُ الْخُبْرَةُ، وَ اَنْتُمْ ذَوُو الْعَدَدِ وَ الْعُدَّةِ وَ الْاَداةِ وَ الْقُوَّةِ، وَ عِنْدَكُمُ السِّلاحُ وَ الْجُنَّةُ، تُوافیكُمُ الدَّعْوَةُ فَلاتُجیبُونَ، وَ تَأْتیكُمُ الصَّرْخَةُ فَلاتُغیثُونَ، وَ اَنْتُمْ مَوْصُوفُونَ بِالْكِفاحِ، مَعْرُوفُونَ بِالْخَیرِ وَ الصَّلاحِ، وَ النُّخْبَةُ الَّتی انْتُخِبَتْ، وَ الْخِیرَةُ الَّتِی اخْتیرَتْ لَنا اَهْلَ الْبَیتِ.
قاتَلْتُمُ الْعَرَبَ، وَ تَحَمَّلْتُمُ الْكَدَّ وَ التَّعَبَ، وَ ناطَحْتُمُ الْاُمَمَ، وَ كافَحْتُمُ الْبُهَمَ، لانَبْرَحُ اَوْ تَبْرَحُونَ، نَأْمُرُكُمْ فَتَأْتَمِرُونَ، حَتَّی اِذا دارَتْ بِنا رَحَی الْاِسْلامِ، وَ دَرَّ حَلَبُ الْاَیامِ، وَ خَضَعَتْ نُعْرَةُ الشِّرْكِ، وَ سَكَنَتْ فَوْرَةُ الْاِفْكِ، وَ خَمَدَتْ نیرانُ الْكُفْرِ، وَ هَدَأَتْ دَعْوَةُ الْهَرَجِ، وَ اسْتَوْسَقَ نِظامُ الدّینِ، فَاَنَّی حِزْتُمْ بَعْدَ الْبَیانِ، وَاَسْرَرْتُمْ بَعْدَ الْاِعْلانِ، وَ نَكَصْتُمْ بَعْدَ الْاِقْدامِ، وَاَشْرَكْتُمْ بَعْدَ الْایمانِ؟
بُؤْساً لِقَوْمٍ نَكَثُوا اَیمانَهُمْ مِنْ بَعْدِ عَهْدِهِمْ، وَ هَمُّوا بِاِخْراجِ الرَّسُولِ وَ هُمْ بَدَؤُكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ، اَتَخْشَوْنَهُمْ فَاللَّـهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُؤمِنینَ.[16]
اے فرزندان قیلہ: (انصار کا گروہ) کیا یہ مناسب ہے كہ میں باپ كى میراث سے محروم رہوں جب كہ تم یہ دیكھ رہے ہو اور سن رہے ہو اور یہاں موجود ہو میرى پكار تم تك پہنچ چكى ہے اور تمام واقعہ سے مطلع ہو، تمہارى تعداد زیادہ ہے اور تم طاقت ور اور اسلحہ بدست ہو، میرے استغاثہ كى آواز تم تك پہنچتى ہے لیكن تم اس پر لبیك نہیں كہتے میرى فریاد كو سنتے ہو لیكن میرى فریاد رسى نہیں كرتے تم بہادرى میں معروف اور نیكى اور خیر سے موصوف ہو، خود نخبہ ہو اور نخبہ كى اولاد ہو تم ہم اہلبیت كے لئے منتخب ہوئے ہو، عربوں كے ساتھ تم نے جنگیں كیں اور سختیوں كو برداشت كیا، قبائل سے لڑے ہو، بہادروں سے پنجہ آزمائی كى ہے جب ہم اٹھ كھڑے ہوتے تھے تم بھى اٹھ كھڑے ہوتے تھے ہم حكم دیتے تھے تم اطاعت كرتے تھے یہاں تک کہ اسلام نے رونق پائی اور غنائم زیادہ ہوئے اور مشركین تسلیم ہوگئے اور ان كا جھوٹا وقار اور جوش ختم ہوگیا، کفر کی آگ بجھ گئی، ہرج و مرج کی صدائیں خاموش ہوگئیں اور دین كا نظام مستحكم ہوگیا، پھر کیوں اقرار کے بعد اپنے ایمان پر حیران ہوگئے؟ ظاہر ہونے کے بعد کیوں چھپ گئے؟ کیوں پیشقدمی کے بعد پیچھے لوٹ گئے اور ایمان کے بعد شرک انتخاب کیا؟ وای ہو ان لوگوں پر جنہوں نے عہد کے بعد اپنی قَسموں کو توڑ ڈالا پیغمبرؐ کو (وطن سے) نکالنے کا ارادہ کیا اور پھر تمہارے برخلاف لڑائی میں پہل بھی کی۔ تم ان سے ڈرتے ہو؟ اللہ زیادہ حقدار ہے اس بات کا کہ اس سے ڈرو اگر تم مؤمن ہو۔
اَلا، وَ قَدْ أَری اَنْ قَدْ اَخْلَدْتُمْ اِلَی الْخَفْضِ، وَ اَبْعَدْتُمْ مَنْ هُوَ اَحَقُّ بِالْبَسْطِ وَ الْقَبْضِ، وَ خَلَوْتُمْ بِالدَّعَةِ، وَ نَجَوْتُمْ بِالضّیقِ مِنَ السَّعَةِ، فَمَجَجْتُمْ ما وَعَبْتُمْ، وَ دَسَعْتُمُ الَّذی تَسَوَّغْتُمْ، فَاِنْ تَكْفُرُوا اَنْتُمْ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمیعاً فَاِنَّ اللَّـهَ لَغَنِی حَمیدٌ.[17]
اَلا، وَ قَدْ قُلْتُ ما قُلْتُ هذا عَلی مَعْرِفَةٍ مِنّی بِالْخِذْلَةِ الَّتی خامَرْتُكُمْ، وَ الْغَدْرَةِ الَّتِی اسْتَشْعَرَتْها قُلُوبُكُمْ، وَ لكِنَّها فَیضَةُ النَّفْسِ، وَ نَفْثَةُ الْغَیظِ، وَ حَوَزُ الْقَناةِ، وَ بَثَّةُ الصَّدْرِ، وَ تَقْدِمَةُ الْحُجَّةِ، فَدُونَكُمُوها فَاحْتَقِبُوها دَبِرَةَ الظَّهْرِ، نَقِبَةَ الْخُفِّ، باقِیةَ الْعارِ، مَوْسُومَةً بِغَضَبِ الْجَبَّارِ وَ شَنارِ الْاَبَدِ، مَوْصُولَةً بِنارِ اللَّـهِ الْمُوقَدَةِ الَّتی تَطَّلِعُ عَلَی الْاَفْئِدَةِ.
فَبِعَینِ اللَّـهِ ما تَفْعَلُونَ، وَ سَیعْلَمُ الَّذینَ ظَلَمُوا اَی مُنْقَلَبٍ ینْقَلِبُونَ، وَ اَنَا اِبْنَةُ نَذیرٍ لَكُمْ بَینَ یدَی عَذابٌ شَدیدٌ، فَاعْمَلُوا اِنَّا عامِلُونَ، وَ انْتَظِرُوا اِنَّا مُنْتَظِرُونَ.
لوگو میں گویا دیكھ رہى كہ تم پستى كى طرف جارہے ہو، اس آدمى كو جو حكومت كرنے كا اہل ہے اسے دور ہٹا رہے ہو اور تم گوشہ میں بیٹھ كر عیش اور نوش میں مشغول ہوگئے ہو زندگى اور جہاد كے وسیع میدان سے قرار كر كے راحت طلبى كے چھوٹے محیط میں چلے گئے ہو، جو كچھ تمہارے اندر تھا اسے تم نے ظاہر كردیا ہے اور جو كچھ پى چكے تھے اسے اگل دیا ہے لیكن آگاہ رہو اگر تم اور تمام روئے زمین كے لوگ كافر ہوجائیں تو خدا تمہارا محتاج نہیں ہے۔ اے لوگو جو كچھ مجھے كہنا چاہیئے تھا میں نے كہہ دیا ہے حالانكہ میں جانتى ہوں كہ تم میرى مدد نہیں كروگے۔ تمہارے منصوبے مجھ سے مخفى نہیں، لیكن كیا كروں دل میں ایك درد تھا كہ جس كو میں نے بہت ناراحتى كے باوجود ظاہر كردیا ہے تا كہ تم پر حجت تمام ہوجائے۔ اب فدك اور خلافت كو خوب مضبوطى سے پكڑے ركھو لیكن تمہیں یہ معلوم ہونا چاہیئے كہ اس میں مشكلات اور دشواریاں موجود ہیں اور اس كا ننگ و عار ہمیشہ كے لئے تمہارے دامن پہ باقى رہ جائے گا، اللہ تعالى كا خشم اور غصہ اس پر مزید ہوگا اور اس كى جزا جہنم كى آگ ہوگى اللہ تعالى تمہارے كردار سے آگاہ ہے، بہت جلد ستم گار اپنے اعمال كے نتائج دیكھ لیں گے۔ لوگو میں تمہارے اس نبى كى بیٹى ہوں كہ جو تمہیں اللہ كے عذاب سے ڈراتا تھا۔ جو كچھ كرسكتے ہو اسے انجام دو ہم بھى تم سے انتقام لیں گے تم بھى انتظار كرو ہم بھى منتظر ہیں
فأجابها أبوبكر عبداللَّـه بن عثمان، و قال:
یا بِنْتَ رَسُولِ اللَّـهِ! لَقَدْ كانَ اَبُوكِ بِالْمُؤمِنینَ عَطُوفاً كَریماً، رَؤُوفاً رَحیماً، وَ عَلَی الْكافِرینَ عَذاباً اَلیماً وَ عِقاباً عَظیماً، اِنْ عَزَوْناهُ وَجَدْناهُ اَباكِ دُونَ النِّساءِ، وَ اَخا اِلْفِكِ دُونَ الْاَخِلاَّءِ، اثَرَهُ عَلی كُلِّ حَمیمٍ وَ ساعَدَهُ فی كُلِّ اَمْرٍ جَسیمِ، لایحِبُّكُمْ اِلاَّ سَعیدٌ، وَ لایبْغِضُكُمْ اِلاَّ شَقِی بَعیدٌ.
فَاَنْتُمْ عِتْرَةُ رَسُولِاللَّـهِ الطَّیبُونَ، الْخِیرَةُ الْمُنْتَجَبُونَ، عَلَی الْخَیرِ اَدِلَّتُنا وَ اِلَی الْجَنَّةِ مَسالِكُنا، وَ اَنْتِ یا خِیرَةَ النِّساءِ وَ ابْنَةَ خَیرِ الْاَنْبِیاءِ، صادِقَةٌ فی قَوْلِكِ، سابِقَةٌ فی وُفُورِ عَقْلِكِ، غَیرَ مَرْدُودَةٍ عَنْ حَقِّكِ، وَ لامَصْدُودَةٍ عَنْ صِدْقِكِ.
وَ اللَّـهِ ما عَدَوْتُ رَأْی رَسُولِاللَّـهِ، وَ لاعَمِلْتُ اِلاَّ بِاِذْنِهِ، وَ الرَّائِدُ لایكْذِبُ اَهْلَهُ، وَ اِنّی اُشْهِدُ اللَّـهَ وَ كَفی بِهِ شَهیداً، اَنّی سَمِعْتُ رَسُولَاللَّـهِ یقُولُ: «نَحْنُ مَعاشِرَ الْاَنْبِیاءِ لانُوَرِّثُ ذَهَباً وَ لافِضَّةًّ، وَ لاداراً وَ لاعِقاراً، وَ اِنَّما نُوَرِّثُ الْكِتابَ وَ الْحِكْمَةَ وَ الْعِلْمَ وَ النُّبُوَّةَ، وَ ما كانَ لَنا مِنْ طُعْمَةٍ فَلِوَلِی الْاَمْرِ بَعْدَنا اَنْ یحْكُمَ فیهِ بِحُكْمِهِ».
اس کے جوا ب میں ابو بکر (عبد اللہ بن عثمان)نے یوں جواب دیتے ہوئے کہا:
دختر رسول خداؐ: آپ کے بابا مومنین پر بہت مہربان۔رحم وکرم کرنے والے اور صاحب عطوفت تھے۔وہ کافروں کے لئے دردناک عذاب اور سخت ترین قہرالہی تھے۔آپ اگر ان کی نسبتوں پر غور کریں تو وہ تمام عورتوں میں صرف آپ کے باپ تھے اور تمام چاہنے والوں میں صرف آپ کے شوہر کے چاہنے والے تھے اور انھوں نے بھی ہر سخت مر حلہ پر نبیؐ کا سا تھ دیا ہے۔آپ کا دوست نیک بخت اور سعید انسان کے علاوہ کوئی نہیں ہو سکتا ہے او ر آ پ کا دشمن شقی اور بد بخت کے علاوہ کوئی نہیں ہوسکتا۔ آپ رسول اکرمؐ کی پاکیزہ عترت اور ان کے منتخب پسندیدہ افراد ہیں۔آپ ہی حضرات راہ خیر میں ہمارے رہنما اور جنت کی طرف ہمیں لے جانے والے ہیں۔اور خود آپ اے تمام خواتین عالم میں منتخب اور خیر الانبیاء کی دختر۔یقیناًاپنے کلام میں صادق اور کمال عقل میں سب پر مقدم ہیں۔آپ کو نہ آپ کے حق سے روکا جا سکتا ہے اور نہ آپ کی صداقت کا انکار کیا جا سکتا ہے مگر خدا کی قسم میں نے رسولؐ کی رأے میں عدول نہیں کیا ہے اور نہ کو ئی کام ان کی اجازت کے بغیر کیا ہے اور میر کارواں قافلہ سے خیانت بھی نہیں کر سکتا ہے۔میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں اور وہی گواہی کے لئے کافی ہے کہ میں نے خود رسول اکرمؐ سے سنا ہے کہ ہم گر وہ انبیأ ۔سونے چاندی اور خانہ وجایداد کا مالک نہیں بناتے ہیں۔ہماری وراثت کتاب، حکمت، علم و نبوت ہے اور جو کچھ مال دنیا ہم سے بچ جاتا ہے وہ ہمارے بعد ولی امر کے اختیار میں ہوتا ہے۔وہ جو چاہے فیصلہ کر سکتا ہے۔
وَ قَدْ جَعَلْنا ما حاوَلْتِهِ فِی الْكِراعِ وَ السِّلاحِ، یقاتِلُ بِهَا الْمُسْلِمُونَ وَ یجاهِدُونَ الْكُفَّارَ، وَ یجالِدُونَ الْمَرَدَةَ الْفُجَّارَ، وَ ذلِكَ بِاِجْماعِ الْمُسْلِمینَ، لَمْ اَنْفَرِدْ بِهِ وَحْدی، وَ لَمْ اَسْتَبِدْ بِما كانَ الرَّأْی عِنْدی، وَ هذِهِ حالی وَ مالی، هِی لَكِ وَ بَینَ یدَیكِ، لاتَزْوی عَنْكِ وَ لانَدَّخِرُ دُونَكِ، وَ اَنَّكِ، وَ اَنْتِ سَیدَةُ اُمَّةِ اَبیكِ وَ الشَّجَرَةُ الطَّیبَةُ لِبَنیكِ، لایدْفَعُ مالَكِ مِنْ فَضْلِكِ، وَ لایوضَعُ فی فَرْعِكِ وَ اَصْلِكِ، حُكْمُكِ نافِذٌ فیما مَلَّكَتْ یدای، فَهَلْ‌ترین اَنْ اُخالِفَ فی ذاكَ اَباكِ (صَلَّی اللَّـهُ عَلَیهِ وَ الِهِ وَ سَلَّمَ).
اور میں نے آپ کے تمام مطلوبہ اموال کو سامان جنگ کے لئے مخصوص کر دیا ہے جس کے ذریعہ مسلمان کفار سے جہاد کریں گے اور سرکش فاجروں سے مقابلہ کریں گے اور یہ کام مسلمانوں کے اتفاق رأے سے کیا ہے(۶) ۔یہ تنہا میری رأے نہیں ہیں اور نہ میں نے ذاتی طور پر طے کیا ہے۔ یہ میرا ذاتی مال اور سرمایہ آپ کے لئے حاضر ہے اور آپ کی خدمت میں ہے جس میں کو ئی کوتاہی نہیں کی جا سکتی ہے۔ آپ تو اپنے باپ کی امت کی سردار ہیں اور اپنی اولاد کے لئے شجرۂ طیبہ ہیں۔آپ کے فضل وشرف کا انکار نہیں کیا جا سکتاہے اور آپ کے اصل و فرع کو گرایا نہیں جا سکتا ہے۔آپ کا حکم تو میری تمام املاک میں بھی نافذ ہے تو کیسے ممکن ہے میں اس مألہ میں آپ کے بابا کی مخالفت کر دوں؟
فقالت:
سُبْحانَ اللَّـهِ، ما كانَ اَبی رَسُولُ اللَّـهِ عَنْ كِتابِ اللَّـهِ صادِفاً، وَ لا لِاَحْكامِهِ مُخالِفاً، بَلْ كانَ یتْبَعُ اَثَرَهُ، وَ یقْفُو سُوَرَهُ، اَفَتَجْمَعُونَ اِلَی الْغَدْرِ اِعْتِلالاً عَلَیهِ بِالزُّورِ، وَ هذا بَعْدَ وَفاتِهِ شَبیهٌ بِما بُغِی لَهُ مِنَ الْغَوائِلِ فی حَیاتِهِ، هذا كِتابُ اللَّـهِ حُكْماً عَدْلاً وَ ناطِقاً فَصْلاً، یقُولُ: «یرِثُنی وَ یرِثُ مِنْ آلِ یعْقُوبَ»[18]، وَ یقُولُ: «وَ وَرِثَ سُلَیمانُ داوُدَ».[19]
بَینَ عَزَّ وَ جَلَّ فیما وَزَّعَ مِنَ الْاَقْساطِ، وَ شَرَعَ مِنَ الْفَرائِضِ وَالْمیراثِ، وَ اَباحَ مِنْ حَظِّ الذَّكَرانِ وَ الْاِناثِ، ما اَزاحَ بِهِ عِلَّةَ الْمُبْطِلینَ وَ اَزالَ التَّظَنّی وَ الشُّبَهاتِ فِی الْغابِرینَ، كَلاَّ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْراً، فَصَبْرٌ جَمیلٌ وَ اللَّـهُ الْمُسْتَعانُ عَلی ما تَصِفُونَ.[20]
یہ سن کر جناب فاطمہ زہرا ؑ نے فرمایا:
سبحان اللہ۔ نہ میرا باپ احکام خدا سے روکنے والا تھا اور نہ اس کا مخالف تھا۔وہ آثار قرآن کا اتباع کرتا تھا اور اس کے سوروں کے ساتھ چلتا تھا۔ کیا تم لوگوں کا مقصد یہ ہے کہ اپنی غداری کا الزام اسکے سر ڈال دو۔ یہ ان کے انتقال کے بعد ایسی ہی سازش ہے جیسی ان کی زندگی میں کی گئی تھی۔ دیکھو یہ کتاب خدا حاکم عادل اور قول فیصل ہے جو اعلان کر رہی ہے کہ خدایا وہ ولی دیدے جو میرا بھی وارث ہو اور آل یعقوب کا بھی وارث ہو اورسلمان ؑ داؤدؑ کے وارث ہوئے۔
خدائے عز و جل نے تمام حصے اور فرا ئض کے تمام احکام بیان کر دیے ہیں جہاں لڑکوں اور لڑکیوں کے حقوق کی بھی وضاحت کر دی ہے اور اس طرح تمام اہل باطل کے بہانوں کو باطل کر دیا ہے اور قیامت تک کے تمام شبہات اور خیالات کو ختم کر دیا ہے۔ یقینایہ تم لوگوں کے نفس نے ایک بات گڑھ لی ہے تو اب میں بھی صبر جمیل سے کام لے رہی ہوں اور اللہ ہی تمہارے بیانات کے بارے میں میرا مدد گار ہے۔
فقال أبوبكر: صَدَقَ اللَّـهُ وَ رَسُولُهُ وَ صَدَقَتْ اِبْنَتُهُ، مَعْدِنُ الْحِكْمَةِ، وَ مَوْطِنُ الْهُدی وَ الرَّحْمَةِ، وَ رُكْنُ الدّینِ، وَ عَینُ الْحُجَّةِ، لااَبْعَدُ صَوابَكِ وَ لااُنْكِرُ خِطابَكِ، هؤُلاءِ الْمُسْلِمُونَ بَینی وَ بَینَكِ قَلَّدُونی ما تَقَلَّدْتُ، وَ بِاتِّفاقٍ مِنْهُمْ اَخَذْتُ ما اَخَذْتُ، غَیرَ مَكابِرٍ وَ لامُسْتَبِدٍّ وَ لامُسْتَأْثِرٍ، وَ هُمْ بِذلِكَ شُهُودٌ.
(اس کے بعد ابوبکر نے کہا) اللہ، رسولؐ اور رسولؐ کی بیٹی سب سچے ہیں۔آپ حکمت کے معادن، ہدایت ورحمت کا مرکز، دین کے رکن ، حجت خدا کا سر چشمہ ہیں۔میں نہ آپ کے حرف راست کو دور پھینک سکتا ہوں اور نہ آپ کے بیان کا انکار کر سکتا ہوں۔مگر یہ ہمارے اورآپ کے سامنے مسلمان ہیں۔جنہوں نے مجھے خلافت کی ذمہ داری دی ہے اور میں نے ان کے اتفاق رائے سے یہ عہدہ سنبھالا ہے۔اس میں نہ میری بڑائی شامل ہے نہ خود رائی اور نہ شوق حکومت۔ یہ سب میری اس بات کے گواہ ہیں۔
فالتفت فاطمة علیهاالسلام الی النساء، و قالت: مَعاشِرَ الْمُسْلِمینَ الْمُسْرِعَةِ اِلی قیلِ الْباطِلِ، الْمُغْضِیةِ عَلَی الْفِعْلِ الْقَبیحِ الْخاسِرِ، اَفَلاتَتَدَبَّرُونَ الْقُرْانَ اَمْعَلی قُلُوبٍ اَقْفالُها، كَلاَّ بَلْ رانَ عَلی قُلُوبِكُمْ ما اَسَأْتُمْ مِنْ اَعْمالِكُمْ، فَاَخَذَ بِسَمْعِكُمْ وَ اَبْصارِكُمْ، وَ لَبِئْسَ ما تَأَوَّلْتُمْ، وَ ساءَ ما بِهِ اَشَرْتُمْ، وَ شَرَّ ما مِنْهُ اِعْتَضْتُمْ، لَتَجِدَنَّ وَ اللَّـهِ مَحْمِلَهُ ثَقیلاً، وَ غِبَّهُ وَ بیلاً، اِذا كُشِفَ لَكُمُ الْغِطاءُ، وَ بانَ ما وَرائَهُ الضَّرَّاءُ، وَ بَدا لَكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ ما لَمْ تَكُونُوا تَحْتَسِبُونَ، وَ خَسِرَ هُنالِكَ الْمُبْطِلُونَ.
جسے سن کر جناب فاطمہ زہراؑ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئیں اورفرمایا:
اے گروہ مسلمین جو حرف باطل کی طرف تیزی سے سبقت کرنے والے اور فعل قبیح سے چشم پوشی کرنے والے ہو۔ کیا تم قرآن پر غور نہیں کرتے ہواور کیا تمھارے دلوں پر تالے پڑے ہؤے ہیں۔یقیناًتمھارے اعمال نے تمھارے دلوں کو زنگ آلود کر دیا ہے اور تمھاری سماعت اور بصارت کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔تم نے بد ترین تاویل سے کام لیا ہے۔
اور بدترین راستہ کی نشان دہی کی ہے اور بد ترین معاوضہ پر سودا کیا ہے۔ عنقریب تم اس بوجھ کی سنگینی کا احساس کرو گے اور اس کے انجام کو بہت درد ناک پاؤ گے جب پردے اٹھا ئے جائیں گے اور پس پردہ کے نقصانات سامنے آجا ئیں گے اور خدا کی طرف سے وہ چیزیں سامنے آجأے گی جن کا تمھیں وہم گمان بھی نہیں ہے اور اہل باطل خسارہ کو بر داشت کریں گے۔
ثم عطفت علی قبر النبی صلی اللَّـه علیه و آله، و قالت:
پھر جناب فاطمہ زہراؑ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئیں اور فرمایا:
قَدْ كانَ بَعْدَكَ اَنْباءٌ وَهَنْبَثَةٌ، لَوْ كُنْتَ شاهِدَها لَمْ تَكْثِرِ الْخُطَبُ،
اِنَّا فَقَدْ ناكَ فَقْدَ الْاَرْضِ وابِلَها، وَ اخْتَلَّ قَوْمُكَ فَاشْهَدْهُمْ وَ لاتَغِبُ،
وَ كُلُّ اَهْلٍ لَهُ قُرْبی وَ مَنْزِلَةٌ، عِنْدَ الْاِلهِ عَلَی الْاَدْنَینِ مُقْتَرِبُ،
اَبْدَتْ رِجالٌ لَنا نَجْوی صُدُورِهِمُ، لمَّا مَضَیتَ وَ حالَتْ دُونَكَ التُّرَبُ
تَجَهَّمَتْنا رِجالٌ وَ اسْتُخِفَّ بِنا، لَمَّا فُقِدْتَ وَ كُلُّ الْاِرْثِ مُغْتَصَبُ،
وَ كُنْتَ بَدْراً وَ نُوراً یسْتَضاءُ بِهِ، عَلَیكَ تُنْزِلُ مِنْ ذِی الْعِزَّةِ الْكُتُبُ،
وَ كانَ جِبْریلُ بِالْایاتِ یؤْنِسُنا، فَقَدْ فُقِدْتَ وَ كُلُّ الْخَیرِ مُحْتَجَبُ،
فَلَیتَ قَبْلَكَ كانَ الْمَوْتُ صادِفُنا، لَمَّا مَضَیتَ وَ حالَتْ دُونَكَ الْكُتُبُ۔
بابا آپؐ کے بعد بڑی نئی نئی خبریں اور مصیبتیں سامنے آئیں کہ اگر آپ سامنے ہوتے تو مصائب کی یہ کثرت نہ ہوتی۔ ہم نے آپ کو ویسے ہی کھو دیا جیسے زمین ابر کرم سے محروم ہو جأے۔ اور اب آپ کی قوم بالکل ہی منحرف ہوگئی ہے۔
ذرا آپ آکر دیکھ تو لیں دنیا کا جو خاندان خدا کی نگاہ میں قرب ومنزلت رکھتا ہے وہ دوسروں کی نگاہ میں محترم ہوتا ہے مگر ہمارا کوئی احترام نہیں ہے کچھ لوگوں نے اپنے دل کے کینوں کا اس وقت اظہار کیا جب آپ اس دنیا سے چلے گئے اور میرے اورآپ کے درمیان خاک قبر حائل ہوگئی۔لوگوں نے ہمارے اوپر ہجوم کرلیا اور آپ کے بعد ہم کو بے قدر وقیمت سمجھ کر ہماری میراث کو ہضم کر لیا۔ آپ کی حیثیت ایک بدر کامل اور نور مجسم کی تھی جس سے روشنی حاصل کی جاتی تھی اور اس پر ربِّ عزت کے پیغامات نازل ہوتے تھے۔
جبریل آیات الہی سے ہمارے لئے سامان انس فراہم کرتے تھے مگر آپ کیا گئے کہ ساری نیکیاں پس پردہ چلی گئیں۔ کاش مجھے آپ سے پہلے موت آگئی ہوتی اور میں آپ کے اور اپنے درمیان خاک کے حائل ہونے سے پہلے مر گئی ہوتی۔
حوالہ جاتاوپر جائیں↑ خطبہ فدکیہ کے لیے مراجعہ کریں: شرح نہج البلاغۃ لابن أبی الحديد، ج :16، ص:211ـ249، بحار الأنوار، ج:43، ص:148.اوپر جائیں↑ سورہ فاطر:28اوپر جائیں↑ سورہ توبہ:128اوپر جائیں↑ سورہ آل عمران:103اوپر جائیں↑ سورہ مائدہ:64اوپر جائیں↑ سورہ توبہ:49اوپر جائیں↑ سورہ آل عمران:85اوپر جائیں↑ سورہ نمل:16اوپر جائیں↑ سورہ مریم: 6اوپر جائیں↑ سورہ انفال:75اوپر جائیں↑ سورہ نساء:11اوپر جائیں↑ سورہ بقرہ:180اوپر جائیں↑ سورہ انعام:67اوپر جائیں↑ سورہ ہود:39اوپر جائیں↑ سورہ آل عمران: 144اوپر جائیں↑ سورہ توبہ:13اوپر جائیں↑ سورہ ابراہیم:8اوپر جائیں↑ سورہ مریم:6اوپر جائیں↑ سورہ نمل:16اوپر جائیں↑ سورہ یوسف:18 
 

   سات چیزیں دوسری سات چیزوں کے بغیر مذاق ہیں

   سات چیزیں دوسری سات چیزوں کے بغیر مذاق ہیں

كَنْزُ الْكَرَاجُكِيِ‏[1]، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ شَاذَانَ الْقُمِّيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ نُوحٍ قَالَ قَالَ الرِّضَا ع‏ سَبْعَةُ أَشْيَاءَ بِغَيْرِ سَبْعَةِ أَشْيَاءَ مِنَ الِاسْتِهْزَاءِ مَنِ اسْتَغْفَرَ بِلِسَانِهِ‏ وَ لَمْ‏ يَنْدَمْ‏ بِقَلْبِهِ‏ فَقَدِ اسْتَهَزَأَ بِنَفْسِهِ وَ مَنْ سَأَلَ اللَّهَ التَّوْفِيقَ وَ لَمْ يَجْتَهِدْ فَقَدِ اسْتَهَزَأَ بِنَفْسِهِ وَ مَنِ اسْتَحْزَمَ وَ لَمْ يَحْذَرْ فَقَدِ اسْتَهَزَأَ بِنَفْسِهِ وَ مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الْجَنَّةَ وَ لَمْ يَصْبِرْ عَلَى الشَّدَائِدِ فَقَدِ اسْتَهَزَأَ بِنَفْسِهِ وَ مَنْ تَعَوَّذَ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ وَ لَمْ يَتْرُكْ شَهَوَاتِ الدُّنْيَا فَقَدِ اسْتَهَزَأَ بِنَفْسِهِ وَ مَنْ ذَكَرَ اللَّهَ وَ لَمْ يَسْتَبِقْ إِلَى لِقَائِهِ فَقَدِ اسْتَهَزَأَ بِنَفْسِهِ.[2]

حضرت امام علی رضا عليہ السّلام فرماتے ہیں:

1-جو شخص زبان سے تو استغفار کرے، لیکن دل سے پشیمان نہ ہو, وه اپنے آپ سے مذاق کر رہا ہے۔

2-جو شخص الله سے توفیق تو طلب کرے، لیکن کوشش اور محنت نہ کرے, وه اپنے آپ سے مذاق کر رہا ہے۔

3-جو شخص طلب کرنے میں تو احتیاط سے کام لے, لیکن گناه انجام دینے میں الله سے نہ ڈرے، وه اپنے آپ سے مذاق کر رہا ہے۔

4-جو شخص الله سے بہشت تو طلب کرے, لیکن مشکلات میں صبر نہ کرے، وه اپنے آپ سے مذاق کر رہا ہے۔

5-جو شخص جہنم سے اللہ کی پناه تو مانگے, لیکن دنیوی لذات اور شہوتوں کو ترک نہ کرے, وه اپنے آپ سے مذاق کر رہا ہے۔

6-  جو شخص الله کا ذکر تو کرے، لیکن اس کی ملاقات کے لئے جلدی نہ کرے، تو وه اپنے آپ سے مذاق کر رہا ہے۔

7-جو شخص موت کو تو یاد کرے, لیکن اس کے لئے خود کو آماده نہ کرے, وه اپنے آپ سے مذاق کر رہا ہے۔

 


[1]۔المصدر: ص 150۔

[2]۔ مجلسى، محمد باقر بن محمد تقى، بحار الأنوار (ط - بيروت) ج‏75، ص356- بيروت، چاپ: دوم، 1403 ق۔

ثواب اعمال


تو الله انکے گناہوں کو ختم کرکے نیک جگہ (بہشت) میں داخل کریگا۔ سات بڑے گناہ ایسے ہیں جو انسان کو جہنمی بناتے ہیں شخص محترم کا قتل ، والدین کی نافرمانی ، سود خوری ، اسلامی ملک میں آنے کے بعد واپس جانا ، پاکدامن عورت پر تہمت لگانا ، مال یتیم کھانا ، اور میدان جہاد سے فرار ۔
(۲) حضرت امام رضا (علیہ السلام) درج ذیل آیت کے معنیٰ کے متعلق فرماتے ہیں
﴿جن کبیرہ گناہوں سے روکا گیا ہے اگر تم ان سے اجتناب کرو گے تو الله تمھارے گناہ ختم کریگا ﴾ جو مؤمن ان گناہوں سے اجتناب اور پرہیز کریگا جنکے ارتکاب پر الله نے جہنم کا وعدہ کررکھا ہے تو الله اسکے گناہوں کو ختم کردیگا۔
 
گناہ سے پشیمانی اور توبہ کاثواب
(۱)راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا۔
خدا نے حضرت داؤد پیغمبر کی طرف وحی کی ۔اے داؤد اگر کوئی مؤمن بندہ گناہ کرتا ہے اور پھر پشیمان ہو کر گناہ سے توبہ کرتا ہے اور اسے میرے سامنے اس گناہ کا تذکرہ کرتے ہوئے شرم آتی ہے تو میں اسے معاف کرونگا لکھنے والے فرشتوں کو یہ گناہ بُھلا دونگا اور اس گناہ کو نیکی میں بدل دونگا مجھے اسکی پروا نہیں ہے کیونکہ میں بہت زیادہ رحم کرنے والا ہوں۔
 
الله کی عظمت کی خاطر قرض دار کو چھوڑ دینے کا ثواب
(۱)حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) نقل کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا۔
جو کوئی کسی قرض دار کو حاکم کے پاس لیجائے اور اسے علم ہو کہ اس نے جھوٹی قسم کھا لینی ہے۔ اور خدا کی عظمت کی خاطر اسے چھوڑ دے تو الله تعالیٰ اسے مقام حضرت ابراہیم خلیل کے علاوہ کوئی دوسرا مقام دینے پر راضی نہ ہوگا۔
 
اچھا استاد ہونے کا ثواب
(۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔
اچھے استاد کیلئے زمین پر چلنے والے جانور ، سمندر کی مچھلیاں اور زمین و آسمان پر رہنے والی ہر بڑی چھوٹی مخلوق استغفار کرتی ہے۔
(۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں ۔
ایک عالم ایک ہزار عابدوں اور ایک ہزار زاہدوں سے بہتر ہے اور جس عالم کے علم سے لوگ استفادہ کریں وہ ستر ہزار عابدوں سے بہتر ہے۔
 
طالب علم کاثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے آباؤ اجداد سے روایت بیان کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا ۔
جو شخص علم حاصل کرنے کی راہ پر چلے تو الله اسے جنت کی راہ پر چلائے گا۔ طالب علم کی رضا کی خاطر فرشتے اپنے پر بچھاتے ہیں زمین و آسمان کی ہر مخلوق حتی دریاؤں کی مچھلیاں بھی طالب علم کیلئے استغفار کرتی ہیں۔ عالم کو عابد پر اسقدر فضیلت حاصل ہے جس طرح چودھوں کے چاند کی ستاروں پر۔ علماء انبیاء کے وارث ہیں اور انبیاء کی وراثت درہم و دینار کے بجائے علم ہوتی ہے جس نے (اس وارثت سے ) کچھ پایا اس نے بہت کچھ حاصل کیا۔
(۲) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔
کسی بھی طالب علم کا شب و روز اس وقت تک ختم نہیں ہوتا جب تک وہ رحمت خداوندی میں داخل نہ ہوجائے۔ اسے فرشتے ندا دیتے ہیں مرحبا اے زائر خدا جس راہ کے راہی بنے ہو یہ جنت کا راستہ ہے۔
 
اہل دین کیساتھ بیٹھنے کا ثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا۔
اہل دین کیساتھ بیٹھنے والوں کیلئے دنیا اور آخرت کا شرف ہے۔
 
ثواب سننے کے بعد عمل کرنے کا ثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔
اگر کوئی یہ سنکر عمل کرے کہ فلاں عملِ خیر کا اتنا ثواب ہے تو اسے وہ ثوا ب ملے گا۔ اگر چہ حضرت رسول خدا نے خاص طور پر اس چیز کے ثواب کی مقدار کے متعلق کچھ ارشاد نہ فرمایا ہو۔
ایسی حق بات کہنے کا ثواب جس پر لوگ عمل کریں
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو شخص حق بات کہے اور لوگ اس پر عمل کریں تو بات کہنے والے کو بھی عمل کرنے والوں کے برابر ثواب ملے گا اور جو شخص گمراہ کرنے والی بات کرے اور لوگ اس پر عمل کریں تو اسے بھی عمل کرنے والوں کے برابر گناہ ملے گا۔
 
اچھی سنت زندہ کرنے کا ثواب
(۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ الله کے بندوں میں جو ایک اچھی سنت زندہ کرے تو اسے عمل کرنے والوں کی مثل اجر وثواب ملے گا اور عمل کرنیوالوں کا ثواب بھی کم نہ ہوگا اور خدا کی بندوں میں جو غلط رسم ایجاد کریگا تو اسے عمل کرنے والوں کی مثل گناہ ملے گا جبکہ عمل کرنے والوں کے گناہوں سے بھی کوئی چیز کم نہ ہوگی۔
 
علم کے مطابق عمل کرنے کا ثواب
(۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص اپنے علم کے مطابق عمل کرے گا تو یہ عمل نہ جاننے والی چیزوں کیلئے کفایت کریگا۔
 
یتیم کی پناہ ، کمزور پر رحم ، والدین پر مہربانی اور غلاموں کیساتھ اچھے سلوک کا ثواب
(۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں چارکاموں کو انجام دینے والے کیلئے الله جنت میں گھر بناتا ہے جو یتیم کو پناہ دے، کمزور پر رحم کرے ، والدین کیساتھ مہربانی اور شفقت سے پیش آئے اور غلاموں کیساتھ پیار و محبت کا سلوک کرے۔
 
لوگوں کی آبرو عزت کی حفاظت اور غصے پر کنٹرول کا ثواب
(۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔
جو لوگوں کی آبرو ریزی نہیں کریگا تو الله تعالیٰ قیامت والے دن اس پر عذاب نہیں کریگا اور جو لوگوں پر غضبناک نہیں ہوگا تو الله تعالیٰ قیامت والے دن اسکے گناہوں سے چشم پوشی کریگا۔
(۲) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا۔
جو اپنے غضب وغصّے پر کنٹرول کریگا توالله اسکے عیب پوشیدہ رکھے گا۔
 
عادل پیشوا، سچے تاجر اور اطاعت گزار بوڑھے کا ثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔
تین قسم کے لوگوں کو الله حساب کے بغیر جنت میں داخل کریگا۔ عادل پیشوا۔ سچا تاجر اور اپنی زندگی الله کی اطاعت میں گزارنے والا بوڑھا شخص۔
 
پرانے گناہ کیلئے نئی نیکی کا ثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔
اپنے نفس کو دھوکہ نہ دے کیونکہ تو اپنے عمل کی سزا و جزاء خود دیکھ لے گا۔ اپنے دن کو ایسے ویسے ضائع نہ کر کیونکہ تیرے ساتھ موجود فرشتے تیرے عمل کو لکھ لیتے ہیں۔ میں نے نئی نیکی کی پرانے گناہ پر تأثیر سے جلد کوئی تاثیر نہیں دیکھی۔ عمل خیر کو چھوٹا نہ سمجھ کیونکہ کل تو دیکھ لے گا کہ یہ تجھے سرور و خوشی بخشے گا۔ کسی شر کو بھی چھوٹا نہ سمجھ کیونکہ کل دیکھ لے گا کہ یہی تجھے اذیت دے گا اور ارشاد رب العزت ہے یقینا نیکیاں گناہوں کو ختم کردیتی ہیں اور یہ یاد کرنے والوں کے لئے (بہت بڑی ) یا د آوری ہے۔
 
چالیس حدیثیں یاد کرنے کا ثواب
(۱) حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا اپنے دینی معاملات میں جس چیز کی احتیاج ہے ، اسکے متعلق میری امت میں جو چالیس حدیثیں یاد کریگا تو قیامت والے دن الله سے فقیہ او رعالم اٹھائے گا۔
 
ترک گناہ کا ثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں حضرت عیسیٰ ابن مریم کا ایک قوم کے پاس سے گزر ہوا وہ گریہ کررہے تھے۔ فرمایا تم کیوں رو رہے ہو انہوں نے کہا ہم اپنے گناہوں پر آنسو بہار ہے ہیں۔ فرمایا اگر یہ گناہ ترک کردیں تو انہیں معاف کردیا جائے گا۔
 
مؤمن کو خوشحال کرنے کا ثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ خداوند متعال نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ میرا جو بندہ نیکی کیساتھ میرے پاس آئے گا تو میں اس پر اپنی جنت مباح کردونگا حضرت داؤد نے پوچھا وہ کون سے نیکی ہے ؟ فرمایا جب میرے بندے کے پاس کوئی مؤمن آئے تو یہ اسے خوشحال کرے خواہ کجھور کے ایک دانے سے ہی خوشحال کیوں نہ کرے۔ حضرت داؤد نے عرض کی پروردگارا جس نے تجھے پہچان لیا تو وہ اس بات کا سزاوار ہے کہ اپنی امید تجھ سے نہ توڑے۔
 
تقوی ، زہد اور نماز میں خدا کی طرف توجہ کا ثواب
(۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا کہ الله تعالیٰ جس مؤمن کو دنیا میں تقوی اور زہد عطا کرتا ہے میں اسکے لئے جنت کا امیدوار ہوں (یعنی دنیا میں تقویٰ اختیار کرنے والا جنتی ہے) پھر فرمایا مجھے یہ بات محبوب ہے کہ مؤمن واجب نماز میں اپنا دل الله کی طرف متوجہ رکھے اور دنیا کا فکر مند نہ ہو کیونکہ جو مؤمن بھی (واجب نماز میں ) اپنے دل کو الله کی طرف متوجہ رکھے گا توالله بھی اس کی طرف رخ (رحمت) کریگا اور مؤمنین کے دلوں کی محبت کو اسکی طرف پھیر دے گا اور پھر خود بھی اس سے محبت کریگا۔
 
مؤمن کی پریشانی دور کرنے ، تنگدستی میں نرمی سے پیش آنے ، عیب چھپانے اور مدد کرنے کا ثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جومؤمن کسی مؤمن کی پریشانی اور مشکل کو دور کریگا تو الله تعالیٰ اس سے دنیا و آخرت کی ستر پریشانیاں اور مشکلیں دور کریگا جو کسی غریب مؤمن کیساتھ نرمی برتے گا توالله تعالیٰ اسکی دنیا و آخرت کی حاجات میں نرمی برتے گا جو شخص کسی مؤمن کے اس عیب کو چھپائے جس سے یہ خوف کھاتا ہے تو خداوند متعال اس کے وہ ستر عیب چھپائے گا جس سے یہ ڈرتا ہے جب ایک مؤمن دوسرے مؤمن بھائی کی مدد کرتا ہے تو الله اسکی مددکرتا ہے اس وعظ و نصیحت سے استفادہ کرو اور نیکی کی طرف رغبت رکھو۔
 
مؤمن کوکھانا کھلانے ، پانی پلانے اورلباس پہنانے کا ثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جومؤمن ماہ رمضان کی کسی رات میں ، مؤمن بھائی کو کھانا کھلائے گا تو الله تعالیٰ اسے تیس مؤمن غلام آزاد کرنے والے کا ثواب عطا کریگا اور اسی عمل کی وجہ سے الله تعالی کی بارگاہ میں اس کی دعائیں مستجاب ہونگیں۔
(۲)حضرت امام زین العابدین (علیہ السلام) ارشاد فرماتے ہیں جو کسی بھوکے مؤمن کو کھانا کھلائے تو الله تعالیٰ اسے جنت کے میوے کھانے کو عنایت کرے گا جو کسی پیاسے مؤمن کو پانی پلائے گا تو الله تعالیٰ اسے جنت کے مختوم شربت سے سیراب کریگا اور جو کسی مؤمن کو لباس پہنائے تو الله تعالیٰ اسے شباب خضر (سبز کپڑے ) زیب تن کرنا نصیب کریگا۔
 
راہ خدا میں مؤمن کو کھانا کھلانے کا ثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو کسی مؤمن بھائی کو الله کی خاطر کھانا کھلائے گا تو اسے اس شخص کا ثواب ملے گا جو فئام لوگوں کو کھانا کھلائے راوی کہتا ہے میں نے پوچھا فئام کیا ہے ؟ فرمایا ایک لاکھ افراد۔
 
تین مؤمنوں کو کھانا کھلانے کا ثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو تین مؤمنین کو کھانا کھلائے گا تو الله اسے تین بہشتوں جنت فردوس ، جنت عدن اور جنت طوبی میں کھانا عطا فرمائے گا طوبی جنت عدن کا ایک درخت ہے جس کو خود خدا نے کا شت کیا ہے۔
 
مؤمن کو سیر کرکے کھانا کھلانے کاثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کائنات میں الله کے علاوہ ، کوئی مخلوق بھی (خواہ مقرب فرشتے ہوں یا نبی مرسل) الله کی کی طرف سے آخرت میں ملنے والے اس ثواب کو نہیں جانتی جو ایک مسلمان کو سیر کر کے کھانا کھلانے کا ہے۔ معاف کئے جانے کا ایک عمل بھوکے مسلمان کو کھاناکھلانا ہے ، راو ی کہتا ہے کہ پھر امام نے اس آیت کی تلاوت کی ﴿یا قحط اور گرسنگی کے دن رشتہ دار یتیم اور خاک نشین مسکین کو کھانا کھلانا﴾
 
چار مسلمانوں کو سیر کرکے کھانا کھلانے کا ثواب
(۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں
جو چار گرسنہ مسلمانوں کو سیر کرکے کھانا کھلائے گا خدا اس کو حضرت اسماعیل کی اولاد میں سے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب عطا کرے گا۔
 
بھوکے موٴمن کوپیٹ بھر کر کھانا کھلانے کا ثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔
جو گرسنہ مسلمان کو سیر کرکے کھانا کھلائے گا خدا بہشت میں اسکے لئے ایسا دستر خوان بچھائے گا کہ اس سے تمام جن وانس (ثقلین) سیر ہوکر اٹھیں گے۔
 
مسلمان غلام آزاد کرنے کا ثواب
(۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا۔
جو الله کی خاطر مسلمان غلام کو آزاد کریگا تو الله تعالیٰ اس غلام کے ہر ہر اعضاء کے بدلے اسکے اعضاء کو جہنم کی آگ سے آزاد کریگا۔
 
الله کی خاطر نیک غلام کو آزاد کرنے کا ثواب
(۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا۔
جو الله کی خاطر کسی نیک اور صالح غلام کو آزاد کریگا تو الله تعالیٰ اس غلام کے ہر ہر اعضاء کے بدلے ، آزاد کرنے والے کے جسم کے اعضاء کو جہنم کی آگ سے آزادی دیگا۔
 
مؤمن غلام کو آزاد کرنے کا ثواب
(۱) حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا۔
جو کسی مؤمن غلام کو آزاد کریگا تو الله ہر عضو کے بدلے میں اسکے اعضاء کو جہنم کی آگ سے آزادی دیگا اور اگر وہ کنیز ہو تو بھی الله ہردو عضو کے بدلے اسکے ایک عضو کو جہنم کی آگ سے آزادی دیگا کیونکہ عورت کے اعضاء مرد کا نصف ہیں (مثلاً دیت) وراثت وغیرہ۔
 
مؤمن کو قرض دینے کا ثواب
(۱)حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا۔
جو کسی مؤمن کو قرض دے اور واپسی تک منتظر رہے تو اسکا مال پاکیزہ رہے گا اور قرض کی واپسی تک وہ ملائکہ کے درود و سلام میں رہے گا۔
(۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا۔
جو مسلمان الله کی خاطر کسی دوسرے مسلمان کو قرض دے تو قرض کی و اپسی تک الله اسکے مال کو صدقہ شمار کرکے اس کا ثواب عطا کرتا ہے۔
(۳) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا۔
قرض کا ثواب اٹھاراں گُنا ہے اگر یہ مرجائے تو یہ مال زکات شمار ہوگا۔
(۴) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا۔
میں ویسے دینے کے بجائے قرض دینا پسند کرتا ہوں نیز فرمایا جو ایک مدّت کیلئے قرض دیتا ہے لیکن معین وقت پر ادا نہیں ہوتا تو جتنے دن اوپر ہوتے جائیں گے ہر روز ایک دینار صدقہ دینے کا ثواب ملتا رہے گا۔
(۵) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا۔
مجھے ہزار درہم ایک مرتبہ صدقہ کے طور پر دینے کے بجائے دو مرتبہ قرض پر دینا زیادہ پسند ہے نیز جیسا کہ قرض دار کیلئے قدرت رکھتے ہوئے تأخیر کرنا جائز نہیں ہے اسی طرح اگر قدرت نہ رکھتا ہو تو اس پر سختی کرنا بھی جائز نہیں ہے۔
 
صدقہ دینے کاثواب
(۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) نے فرمایا ایک عابد شخص نے اسی سال الله کی عبادت کی پھر اسے ایک عورت پسند آئی اور اس نے اس سے نزدیکی کرلی جب اپنا کام کر بیٹھا تو جب ملک الموت آیا تو وہ شخص گونگا ہو گیا اسی لمحے ایک سائل آگیا اس نے اشارے سے کہا کہ میری جیب میں جو روٹی کا ٹکڑا ہے ، اسے لے لے حالانکہ الله تعالیٰ نے اسکا اسی سالہ عمل زنا کی وجہ سے ختم کردیا تھا لیکن اسے ایک روٹی کے ٹکڑے کے عوض معاف کردیا گیا۔
(۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میرے والد کا فرمان ہے کہ قیامت والے دن سب سے پہلے جس چیز کا ثواب ملے گا وہ پانی کو صدقے کے طور پر دینا ہے۔
(۳)راوی کہتا ہے کہ میں حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کے پاس موجود تھا وہاں بیماری کا تذکرہ ہوا تو فرمایا اپنی بیماریوں کا صدقے سے علاج کرو۔ تم اپنی غذا سے ایک دن کی غذا صدقے پر کیوں نہیں دیتے؟ جب ملک الموت کو کسی کی روح قبض کرنے کا حکم ملتا ہے کہ فلاں کی روح قبض کرو لیکن جب یہ صدقہ دے دیتا ہے تو ملک الموت کو کہا جاتا ہے کہ اسکی روح قبض کرنے کا حکم منسوخ ہو گیا ہے۔
(۴) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے ایک شخص سے فرمایا آج تم نے روزہ رکھا تھا۔ اس نے کہا نہیں۔ فرمایا کیا کسی مریض کی عیادت کی ہے ؟ اس نے کہا نہیں۔ فرمایا آیا کسی تشیع جنازہ میں گئے تھے ؟ اس نے کہا نہیں۔ فرمایا کسی غریب کو کھانا کھلایا تھا ؟ کہا نہیں فرمایا اپنے اہل وعیال کے پاس چلے جاؤ اور انکا بوسہ لو تو یہ تیری طرف سے ان کیلئے صدقہ ہوگا۔
(۵) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا کہ غصہ کھائے بغیر کسی بہرے کو بات سمجھانا بھی ایک عمدہ صدقہ ہے۔
(۶) حضرت امام رضا (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں متواتر چند سال شدید قحط پڑا ایک خاتون نے روٹی کا ایک لقمہ کھانے کیلئے منہ میں رکھا ۔کسی سائل نے صدا دی کہ اے کنیزِ خدامجھے بھوک ! لگی ہے اس عورت نے خودسے کہا کہ مجھے صدقہ دینا چاہیئے روٹی کا لقمہ منہ سے نکال کر اُسے دے دیا اس عورت کا ایک چھوٹا سا بیٹا تھا جو صحراء میں لکڑیاں جمع کرنے گیا ہوا تھا بھیڑ یا آیا اور بچے کو اٹھا کرلے گیا ماں بھیڑیے کے پیچھے بھا گی اس وقت الله تعالیٰ نے حضرت جبرائیل کو بھیجا اور اس نے بچے کو بھیڑیے کے منہ سے نکال کر اسکی ماں کو دے دیا اور حضرت جبرائیل نے کہا اے کنیزِ خدا اس لقمے (جو تو نے سائل کو دیا تھا ) کے بدلے اس لقمے ( جو بھیڑیے کے منہ سے نکالا گیا ہے ) پر راضی ہے ۔
(۷) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔
جو شخص رات یا دن میں صدقہ دیتا ہو (خواہ دن یا رات ) تو الله اس سے غم ، درندوں اور بری موت کو دور رکھتا ہے۔
(۸) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے آباؤ اجداد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا صدقہ بری موت سے بچاتا ہے ۔
(۹) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے آباؤ اجداد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا۔
مؤمن کے سایہ کے علاوہ قیامت کی زمین آگ ہے بیشک اسکا صدقہ ہی اسکا سائبان ہوگا۔
(۱۰) حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) سے پوچھا گیاکہ مالدار آدمی کے لئے مال کا صدقہ دینا افضل ہے یا غلام خرید کر (آزاد کرنا) فرمایا۔
مجھے صدقہ دینا زیادہ پسند ہے۔
(۱۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔ نیکی اور صدقہ فقر کو دور کرتا ہے، عمر بڑھا تا ہے اور صدقہ دینے اور نیکی کرنے والے سے ستر قسم کی بری موت دور ہوتی ہے ۔
(۱۲) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا۔
میں نے ایک دن ایک دینار صدقہ دیا تو حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا اے علی (علیہ السلام) کیا نہیں جانتے ! مؤمن ابھی اپنے ہاتھ سے صدقہ نہیں دے پاتامگر یہ کہ ستر شیطانوں کو گردن کو رہا کیا جاتا ہے ۔ وہ سب ملکر کہتے ہیں تم ایسا نہ کرو۔ یہ صدقہ سائل کے ہاتھ میں پہنچنے سے پہلے الله کے ہاتھ میں آتا ہے۔ پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی کیا تم نہیں جانتے کہ الله ہی بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور صدقے لیتا ہے بیشک الله بہت زیادہ توبہ قبول کرنے اور رحم کرنے والا ہے۔
(۱۳) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں ۔
مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ ایک غلام آزاد کرنے کے بجائے حج ادا کروں پھر آپ ایک ایک گنتے ہوئے دس غلام آزاد کرنے تک پہنچے اور پھر دس دس گنتے ہوئے ستر غلام آزاد کرنے کا فرمایا اس طرح مزید فرمایا کہ مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ میں ایک مسلمان گھرانے کی سر پرستی کرتے ہوئے انہیں کھانا کھلاؤں لباس پہناؤں اور انکی عزت و آبرو کی حفاظت کروں بجائے اس کے کہ میں ایک حج ادا کروں پھر آپ ایک ایک گنتے ہوئے دس تک پہنچے اور پھر دس دس گنتے ہوئے ستر حج تک پہنچے ( یعنی ستر حج کے بجائے ایک خاندان کی سر پرستی زیادہ پسند ہے )۔
(۱۴) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔
اگراسی افراد ملکر کوئی اچھا کام کریں تو کسی کا ثواب کم ہوئے بغیر سب کو جدا گانہ ثواب ملے گا۔
(۱۵) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا۔
بے نیازی کی حالت میں ادا کیئے جانے والا صدقہ افضل صدقہ ہے ۔
(۱۶) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) یا حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے پوچھا کہ کونسا صدقہ افضل ہے ؟ فرمایا۔ تھوڑے مال کا صدقہ۔ کیا تم نے الله کا یہ فرمان نہیں سنا کہ دوسروں کو خود پر مقدم رکھو اگر چہ خود بھی اس کے محتاج ہو۔ کیا اب تم نے اسکی فصیلت ملاحظہ کرلی ہے؟۔
(۱۷)راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا۔
ہاتھ سے صدقہ دینا بری موت ،اور ستر قسم کی بلاؤں کو دور کرتا ہے اور ستر شیطانوں کے دھان کھل جاتے ہیں اور وہ سب کہتے ہیں تم یہ کام نہ کرو۔
(۱۸) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے آباؤ اجداد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا سے پوچھا گیا کہ کونسا صدقہ بہتر ہے ۔
فرمایا
دشمن رشتہ دار کو صدقہ دینا بہتر ہے۔
(۱۹) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔
جو ماہ رمضان میں صدقہ دے گا تو الله تعالیٰ اس سے ستر بلائیں دور کرے گا ۔
(۲۰) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے پوچھا گیا کہ جو لوگ دروازے پر مانگنے آتے ہیں کیا انہیں صدقہ دیا جائے یا ان کے بجائے قریبی دشتہ داروں کو دیا جائے ؟
فرمایا۔
قریبی رشتہ داروں کو دو ، اس کا زیادہ ثواب ہے۔
(۲۱) راوی کہتا ہے کہ
حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام)یوم عرفہ کسی سائل کو خالی واپس نہ پلٹاتے تھے۔
(۲۲) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔
جمعہ والے دن خیر و شر (دونوں) کی اجر و سزا برابر ہوتی ہے ۔
(۲۳)ایک سائل جمعرات کی شب حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام)کے پاس آیا آپ نے اسے وآپس بھیج دیا اور پھر اہل مجلس کی طرف دیکھکر فرمایا۔
میرے پاس اتنا موجود تھا کہ میں اسے صدقہ کے طور پر دے دیتا لیکن جمعہ والے دن ادا کیئے جانے والا صدقہ کئی گنا ہوتا ہے۔
 
پنھان صدقہ دینے کا ثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام)روایت کرتے ہیں کہ حضرت زین العابدین (علیہ السلام) نے فرمایا چھپا کر صدقہ دینا الله کے غضب کو ختم کر دیتا ہے۔
 
آشکار صدقہ دینے کا ثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں واضح طور پر دیا جانے والا صدقہ ستر بلاؤں کو دور کرتا ہے اور پوشیدہ طور دیا جانے والا صدقہ الله کے غضب کو ختم کرتا ہے۔
 
رات کے وقت صدقہ دینے کا ثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ رات کو دیا جانے والا صدقہ بُری موت اور ستر قسم کی بلاؤں کو دور کرتا ہے ۔
(۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ حضرت امام زین العابدین (علیہ السلام) نے فرمایا رات کا صدقہ الله کے غضب کو ختم کرتا ہے۔
 
دن میں دیئے جانے والے صدقے کا ثواب
(۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا کہ دن میں دیئے جانے والا صدقہ گناہوں کو اس طرح ختم کردیتا ہے جس طرح پانی نمک کو ۔ رات کا صدقہ الله کے غضب کو ختم کرتا ہے۔
(۲) معّلی بن خنیس کہتے ہیں کہ ایک رات حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) بارش میں گھر سے نکلے میں ان کے پیچھے چل دیا راستے میں حضرت کے ہاتھ سے ایک چیز گری۔ آپ نے بسم الله پڑھ کر کہا پروردگارا میری گمشدہ چیز مجھے لوٹا دے۔ میں ان کے پاس گیا اور سلام کیا آپ نے فرمایا کیا تم معلی ہو ! میں نے کہا جی ہاں۔ میں آپ پر فدا ہو جاؤں ، فرمایا زمین پر ہاتھ پھیر کر دیکھو اگر کوئی چیز ملے تو مجھے بتا نا میں نے جب ڈھونڈ نکالا دیکھا تو روٹیوں کی تھیلی ہے میں نے کہا آپ پر قربان جاؤں میں اسے اٹھا لیتا ہوں فرمایا میں اسے اٹھا نے کیلئے تجھ سے زیادہ سزاوار ہوں لیکن تم میرے ساتھ آؤ ہم دونوں ملکر بنی ساعدہ کے سائبان کی طرف گئے وہاں کچھ لوگ سو رہے تھے حضرت نے سب کے بستر کیساتھ ایک یا دو روٹیاں رکھیں و اپس آتے ہوئے میں نے حضرت سے عرض کی کیا یہ مذہب حقّہ کیساتھ تعلق رکھتے ہیں ؟ فرمایا اگر مذہب حقّہ پر ہوتے تو نمک بھی ساتھ لیجاتا الله کی کوئی مخلوق ایسی نہیں جسے کوئی ذخیرہ کرنے والا نہ ہو مگر صدقہ یہ فقط الله کے ہاتھ میں ہے مزید فرمایا میرے والد جب صدقہ دیتے تو پہلے سائل کے ہاتھ میں رکھتے اور پھر اسکے ہاتھ سے لیکر اسے بوسے دیتے اور اسکی خوشبو سونگھتے اور پھر سائل کو لوٹا دیتے ایسا اسلئے کرتے تھے کیونکہ صدقہ سائل کے ہاتھ میں پہنچنے سے پہلے الله کے ہاتھ میں آتا ہے مزید فرمایا مجھے اچھا لگتا ہے کہ جو کچھ الله کے ہاتھ میں پہنچا ہے میرے ہاتھ بھی آئے کیونکہ صدقہ الله کے ہاتھ میں پہنچنے کے بعد سائل کے ہاتھ آتا ہے اسی طرح تاریکی میں صدقہ دینا ، الله کے غضب اور کبیرہ (بڑے) گناہوں کو ختم کردیتا ہے اور حساب کو آسان بناتا ہے اور دن کا صدقہ مال اور زندگی میں وسعت پیدا کرتا ہے۔ حضرت عیسیٰ ابن مریم کا جب دریا کے ساحل سے گزر ہوا تھا تو انہوں نے اپنا کھانا دریا میں ڈال دیا تھا۔ اس وقت آپ کے ایک حواری نے کہا اے روح الله ،اے کلمة الله آپ نے ایسا کیوں کیا ہے؟ یہ تو آپ کا کھانا تھا ؟ فرمایا میں نے ایسا اسیلئے کیا ہے تا کہ اسے سمندر کے جانور کھائیں۔ اور اس کا الله کی بارگاہ میں بہت ثواب ہے۔
 
صدقہ دینے والے کو دعا کرنے کاثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) روایت کرتے ہیں کہ حضرت امام زین العابدین (علیہ السلام) نے فرمایا۔ جب کوئی شخص کسی ناتواں مسکین کو صدقہ دے اور مسکین اسے دعائیں دے تو اسی لمحے دعا مستجاب ہوگی۔
 
مقروض کو مہلت دینے کا ثواب
(۱) حضرت امام محمدباقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں ۔
قیامت والے دن کچھ لوگ عرش کے سائے میں منور چہروں اور نورانی لباس زیب تن کیئے ہونگے نوارنی کرسیوں پربیٹھے ہونگے تو لوگ انہیں دیکھکر کہیں گے کیا یہ پیغمبر ہیں !!؟
منادی عرش کے نیچے سے ندادے گا یہ پیغمبر نہیں ہیں۔ لوگ کہیں گے یہ شہداء ہیں !!؟ پھر منادی عرش کے نیچے سے ندا دے گا یہ شہداء نہیں ہیں بلکہ یہ لوگ مومنوں کیساتھ نرمی برتے تھے اور تنگدست مقروض کو مہلت دیا کرتے تھے اور ان سے کہتے تھے کہ جب قرض ادا کرنے پر قادر ہونا ، ادا کردینا ۔
 
قرض معاف کرنے کا ثواب
(۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی خدمت میں عرض کی۔
عبدالرحمن بن سیابہ نے ایک شخص سے کچھ پیسے لینے تھے اور وہ مر گیا تھا ہم نے اس سے بات کی کہ مقروض کا قرض معاف کردے ، لیکن وہ نہ مانا۔
حضرت نے فرمایا اس پر افسوس ہے کیا وہ نہیں جانتا تھا کہ معاف کرنے والے ہر درہم کا دس برابر اجر ملے گا۔ اب معاف نہ کرنے کی صورت میں اسے ایک درہم کا ایک درہم ہی ملے گا۔
 
مسلمان بھائی کی عزت و آبرو کی حفاظت کا ثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا۔
جو اپنے مسلمان بھائی کی عزت و آبرو کی حفاظت کریگا اس پر حتماً جنت واجب ہے۔
 
مؤمن بھائی کی حاجات کی بر آوری مشکلات کی دوری ، ظلم کے خلاف مدد، حاجت کے وقت تعاون، پیاسے کی سیرابی ، بھوک میں کھلانے کپڑے پہنانے ، سوار کرانے ، کفایت کرنے، کفن دینے ، شادی کرنے اوربیمارکی عیادت کرنے کا ثواب۔
(۱) حضرت امام زین العابدین (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ مومن بھائی کی حاجت پوری کرنے والا گویا ا لله کی حاجت سے آغاز کرتا ہے تو الله تعالیٰ اس کام کے بدلے اسکی ایک سو حاجتیں پوری کریگا جن میں ایک جنت ہے۔ جو کسی مؤمن بھائی کی مشکلات کو دور کریگا تو الله قیامت والے دن اسکی مشکلات کو دور کریگا خواہ کتنی زیادہ ہی کیوں نہ ہوں۔ جو کسی ظالم کے خلاف مؤمن بھائی کی مدد کریگا تو الله تعالیٰ قدموں کے لڑکھڑانے سے اسکی مدد کریگا تا کہ وہ پل صراط سے عبور کرسکے۔ جو کسی کی حاجت روائی کرنے کی کوشش کریگا یہاں تک کہ اسکی آرزو پوری ہو جائے اور وہ خوش ہوجائے تو گویا اس نے حضرت رسول خدا کو خوشحال کیا ہے۔ جو کسی پیاسے کو سیراب کریگا تو الله تعالیٰ اسے شربت مختوم (منہ بند) سے سیراب کریگا۔ جو کسی بھوکے کو کھاناکھلائے تو الله اسے جنت کے میوے کھلائے گا۔ جو کسی بے لباس کو لباس پہنائے گاتوالله اسے استبرق اور حریر کے لباس عطا کریگا۔ جو بے لباس کے علاوہ کسی کو لباس پہنائے گا تو جب تک وہ ان کپڑوں کو پہنے رکھے گا اوراسکا ایک دھاگہ بھی باقی رہے گا تو یہ الله کی کفالت میں ہوگا۔ جو کسی کی آبرو کی حفاظت کرے گا اور اسکی مدد کرے گا تو الله قیامت والے دن ﴿ولدان مخلدین﴾ ہمیشہ جنت میں رہنے والے بچے سے اسکی خدمت کروائے گا جو کسی کو اپنی سواری پر بٹھائے گاتو اللہ قیامت والے دن اس کو ایک بہشتی اونٹ پر موقف پر لائے گا جسے دیکھکر فرشتے فخر و مباحات کریں گے۔ جو مرنے کے بعد مؤمن بھائی کو کفن پہنائے گا گویا جس دن ماں سے متولد ہوا تھا مرتے دم تک اس کو پہنا ہوا ہے۔ جو شخص کسی کی محبت کرنے اور تسکین قلب عطا کرنے والی بیوی سے شادی کرائے گا تو الله تعالیٰ اسے قبر میں اہل وعیال کو مانوس کرنے والا خوب صورت چہرہ عطا کریگا۔ جو بیماری میں کسی مومن کی عیادت کریگا تو فرشتے اسکے ارد گرد جمع ہو کر اسکے لئے دعا کریں گے یہاں تک کہ وہ عیادت سے واپس آجائے پھر فرشتے اس سے کہیں گے تو پاگ ہو گیا ہے تجھے پاکیزہ جنت مبارک ہو۔ خدا کی قسم میں کسی کی حاجت روائی کو عظمت والے مہینوں میں ، اعتکاف میں بیٹھکر مسلسل دو ماہ روزے رکھنے سے زیادہ محبوب سمجھتا ہوں۔
 
مؤمن بھائی کی زیارت ، مصافحہ اور گلے ملنے کا ثواب
(۱) اسحاق بن عمار کہتے ہیں جب میں کوفہ میں تھا تو بہت سے مؤمنین مجھے ملنے آئے۔ مجھے شہرت پسند نہ تھی۔ خاص طور پر شیعہ ہونے کے لحاظ سے شہرت پسند نہ تھی۔ لہذا میں نے اپنے نوکر سے کہا جو مجھے ملنے آئے تم کہہ دینا کہ میں نہیں ہوں۔ اسی سال حج پر گیا تو حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی زیارت کیلئے گیا۔ ان کا برتاؤ پہلے کی طرح نہ تھا بلکہ آپ ناراض ہوئے۔ میں نے عرض کی آپ پر فدا جاؤں آپ کا رویّہ سخت کیوں ہے۔ فرمایا چونکہ تو مومنین کیساتھ نامناسب برتاؤ رکھتا ہے۔ میں نے کہا آپ پر قربان جاؤں میں شہرت سے خائف تھا وگرنہ خدا جانتا ہے مجھے ان سے کتنی محبت ہے ؟فرمایا اسحاق مؤمنین کی زیارت سے چہرے پر ملال نہ لایا کر۔ جب ایک مؤمن دوسرے مؤمن سے ملتے وقت مرحبا کہتا ہے تو الله تعالیٰ قیامت تک اس کے لئے مرحبا لکھ لیتا ہے۔ جب وہ مصافحہ کرتا ہے تو الله تعالیٰ ان کی انگلیوں کے درمیان ایک سور حمتیں نازل کرتا ہے ان میں ننانوے اپنے دوست سے زیادہ محبت کرنے والوں کیلئے ہیں۔ اس کی دوست سے زیادہ محبت اور توجہ کی وجہ سے الله تعالیٰ اس کی طرف رخ فرمائے گا۔ اور جب مؤمنین آپس میں گلے ملتے ہیں تو الله کی رحمت میں ڈوب جاتے ہیں اور جب یہ الله کی خاطر ، (نہ کہ دنیاوی ہدف و مقصد کی خاطر)ایک دوسرے کے پاس کھڑے ہوتے ہیں تو انہیں کہا جائے گا الله نے تمھیں معاف کردیا گیا ہے لہذا اپنا عمل نئے سِرے سے شروع کرو۔ جب یہ ایک دوسرے سے احوال پرسی کرتے ہیں تو فرشتے ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ ان سے دور ہو جائیں ان کے کچھ راز ہیں جنہیں الله نے بھی چھپارکھا ہے۔ میں نے عرض کی آپ پر فدا جاؤں وہ ہماری گفتگو کیوں نہیں لکھتے جبکہ الله نے فرمایا ہے (انسان)کوئی لفظ نہیں کہتا مگر نگہبان اسکے سامنے آمادہ ہوتا ہے۔ راوی کہتا ہے کہ فرزند رسول خدا نے سرد آہ لی پھر اتنا گریہ کیا کہ ریش مبارک آنسوؤں سے بھیگ گئی۔ اور فرمایا اے اسحاق الله تعالیٰ ملائکہ کو اسلئے ندا دیتا تا کہ انہیں ملاقات کے وقت مؤمنین سے مخفی کر دے اور ملائکہ اسکی گفتگو نہیں لکھتے اور نہ ہی اسکی گفتگو سے آگاہ ہوتے ہیں انکی گفتگو کو فقط عالم سرو اخفاء کا نگہبان (خدا)ہی جانتا ہے۔ اے اسحاق خدا سے اس طرح ڈرو گو یا اسے تم دیکھ رہے ہو کیونکہ اگر تو اسے نہیں دیکھ سکتا تو وہ تو ، تمھیں قطعی طور پر دیکھ رہا ہے۔ اگر یہ خیال کرے کہ وہ تجھے نہیں دیکھتا تو ، تو کافر ہوگا اور اگر یہ عقیدہ ہے کہ الله تجھے دیکھ رہا ہے اور تم اپنے گناہوں کو دوسری مخلوق سے پنھان کرو اور الله کے سامنے آشکار کرو تو پھر تم نے اس کو انتہائی کم دیکھنے والوں میں شمار کرکیا ہے ۔
 
مؤمن کی نصرت ومدد کا ثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو کسی مظلوم مؤمن کی مدد کریگا تو وہ ایک مہینے کے روزے رکھنے اور مسجدالحرام میں اعتکاف بیٹھنے والوں سے افضل ہے اور جو کسی مؤمن بھائی کی نصرت پر قادر ہو اور اس کی مدد کرے تو الله تعالیٰ اسکی دنیا و آخرت میں نصرت کریگا۔ جو کسی مؤمن کی نصرت پر قدرت رکھنے کے باوجود اسکی مدد نہ کرے تو الله بھی دنیا و آخرت میں اسکی مدد نہ کرے گا۔
(۲) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں کسی کے سامنے مؤمن بھائی کی غیبت ہو رہی ہو اور وہ اسکا دفاع کرتے ہوئے اسکی مدد کرے تو الله دنیا و آخرت میں اسکی مدد کریگا اور جس کے سامنے مؤمن کی غیبت ہو اور وہ اسکی مدد کرنے کی قدرت رکھتے ہوئے بھی اسکا دفاع اور مدد نہ کرے تو الله تعالیٰ اسے دنیا و آخرت میں حقیر سمجھے گا۔
 
لوگوں میں صلح کرانے کا ثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں دو دینار صدقہ دینے کے بجائے دو دوستوں میں صلح کروانا زیادہ محبوب رکھتا ہوں حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) فرماتے ہیں کہ میں ایک سال کے نماز روزوں سے بڑھکر دو دوستوں میں صلح کرانے کو پسند کرتا ہوں۔
 
مسلمان کی فریاد پر پہنچنے کا ثواب
(۱) حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) فرماتے ہیں۔
جو کسی مسلمان کی فریاد کو پہنچ کر اسے غم و غصّہ اور پریشانی سے نجات دلائے تو الله اسکے لئے دس نیکیاں لکھتا ہے ، دس درجات بلند کرتا ہے ،دس غلام آزاد کرنے کا ثواب عطا کرتا ہے ، دس مشکلیں دور کرتا ہے اور قیامت والے دن دس شفاعتیں نصیب کرتا ہے۔
 
گفتگو میں کسی مسلمان کی تکریم کرنے کا ثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نقل کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا۔
جو گفتگو میں کسی مسلمان کی تکریم کریگا تو الله اس سے لطف و محبت کریگا ، اسکی پریشانیاں دور کریگا اور جب تک ایسا کرتا رہے گا تو وہ رحمت خداوندی کے سایہ میں رہے گا۔
 
مشکلات میں مسلمان بھائی کی فریاد کو پہنچنے اور اسکی حاجات میں تعاون کرنے کا ثواب
(۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا ۔
جو مشکلات کے وقت کسی مؤمن بھائی کی فریاد کو پہنچے اور اسکی مشکلات کو دور کرے اسکی حاجتیں پوری کرنے میں اسکے ساتھ تعاون کرے تو اس عمل کے بدلے میں اس پر الله کی بہتر رحمتیں ہونگیں ان میں سے ایک رحمت کیساتھ خدا اسکی زندگی کی اصلاح کریگا اور باقی اکہتر رحمتیں قیامت کے خوف اور وحشت کیلئے ذخیرہ کر دے گا۔
 
مؤمن کی پریشانی دور کرنے کا ثواب
(۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا۔
جو کسی مؤمن کی پریشانی دور کریگا الله اس سے آخرت کی پریشانی دور کریگا اور اسے سکون قلب کیساتھ قبر سے نکالے گا۔ جو بھوک میں کسی مسلمان کو کھانا کھلائے گا تو اسے جنت کے پھل کھانے نصیب کریگا ۔
اور جو کسی پیاسے کو پانی پلائے گا تو الله اسے شراب مختوم (مندبند) سے سیراب کریگا۔
 
مؤمن کو خوشحال کرنے کا ثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔
جو کسی مؤمن کو خوش کریگا تو الله تعالیٰ قیامت والے دن اسے خوشحال کرے گا اور اس سے کہا جائے گا کہ جو بھی پسند ہو خدا سے مانگو کیونکہ دنیا میں تجھے محبان خدا کو خوشحال رکھنا پسند تھا۔
لہذا تیری جو تمنا ہے وہ عطا کریگا اور الله جنت کی اتنی نعمتیں عطا کرے گا جو تیرے خواب و خیال میں بھی نہیں ہیں۔
 
ایک مؤمن خاندان کو خوشحال کرنے کا ثواب
(۱) حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) فرماتے ہیں۔
جو کسی مؤمن گھر انے کو خوشیاں نصیب کرتا ہے تو الله تعالیٰ ا ن خوشیوں سے ایک مخلوق پیدا کرے گا جسے قیامت والے دن اس جگہ لایا جائے گا۔
جہاں اسے کوئی مشکل اور پریشانی لاحق ہوگی اور وہ اسے کہے گی اے محبوب خدا نہ گھبرا۔ یہ کہے گا الله تجھ پر رحمت نازل کرے تم کون ہو ؟ اگر پور ی دنیابھی میرے پاس ہوتی تو وہ تیرے مقابلے میں کچھ نہ تھی یہ کہے گی میں وہ خوشی ہوں جو تم نے فلاں خاندان اور گھرانے کو عطاکی تھی۔
 
مؤمن بھائی کو خوشیاں دینے کا ثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ الله جب کسی مؤمن کو قبر سے اٹھائے گا تو اس کیساتھ ساتھ اسکی شبیہ کو بھی قبر سے نکالے گا جو اسکے آگے آگے ہوگی۔ جہاں بھی مؤمن قیامت کی کسی وحشت کو دیکھے گا تو یہ شبیہ اور مثال اس سے کہے گی غمگین نہ ہو خوف نہ کھا الله کی طرف سے تجھے تکریم اور خوشحالی کی بشارت ہو اور یہ اسے الله کی بارگاہ میں حاضر ہونے تک مسلسل خوشخبریاں دیتی رہے گی۔ اس سے آسان حساب و کتاب ہوگا اور اسے جنت میں جانے کا حکم دیا جائے گا اور شبیہ اس کے آگے آگے ہوگی۔ مؤمن اس سے کہے گا الله تجھ پر رحمت کرے تو میرے ساتھ میری قبر میں تھی ، میرے ساتھ قبر سے باہر آنے والی کتنی اچھی چیز ہے کہ جب سے میں نے تجھے دیکھا ہے تو مسلسل مجھے عظمت اور خوشخبریاں دیئے جارہی ہے بتاؤ تو سہی ، کون ہو تم ؟ وہ جواب دے گی میں وہی خوشی ہو جو تم نے مؤمن بھائی کو عطاکی تھی الله نے مجھے اسی سے پیدا کیا ہے تا کہ میں تجھے خوشخبریاں دوں۔
مؤمن کو اتنا صدقہ دینے کا ثواب کہ جس سے وہ سیر ہوجائے
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ کسی مسلمان شخص کو اتنا صدقہ دینا کہ جس سے وہ سیر ہو سکے یہ مجھے ایک أفق افراد کو کھانا کھلانے سے زیادہ محبوب ہے راوی نے پوچھا أفق سے کیا مراد ہے؟ فرمایا ایک لاکھ یا اس سے زیادہ لوگ۔
 
مؤمن کو مٹھائی کھلانے کا ثواب
(۱) داؤد رقی کہتے ہیں کہ میری بیوی رباب نے بتایا کہ ایک دن میں کجھور کا حلوہ تیارکرکے امام جعفر صادق کی خدمت میں لے گئی آپ نے خود بھی تناول فرمایا اور اپنے اصحاب کو بھی دیا اور میں نے ان سے فرماتے ہوئے سنا کہ جو کسی مؤمن کو مٹھائی کا ایک لقمہ کھلائے گا تو الله اس سے روز قیامت کی تلخی دور کریگا۔
 
مؤمن کا جھوٹا پینے کا ثواب
(۱) راوی کہتا ہے کہ معصوم نے فرمایا ۔
جو کسی مؤمن کا جھوٹا تبرک سمجھ کر پیئے گا تو الله تعالیٰ ان دونوں کیلئے ایک فرشتہ خلق کریگا جو قیامت تک ان کے لئے استغفار کرتا رہے گا۔
(۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔
مؤمن کے جھوٹے میں ستر بیماریوں کی شفاء ہے۔
 
مؤمن پر لطف کرنے کا ثواب
(۱) حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) فرماتے ہیں۔
جو الله کی خاطر اپنے بھائی سے کسی قسم کا لطف و محبت کرے گا تو الله بہشتی خدمتگاروں کو اسکی خدمت پر مأمور کریگا۔
 
الله کی خاطر مؤمن سے استفادہ کرنے کا ثواب
(۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام رضا (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا ۔
جو الله کی خاطر کسی بھائی سے استفادہ کرے تو الله اسے جنت کے ایک گھر سے استفادہ کر نا نصیب کریگا۔
 
مؤمن کو خوشحال کرنے کی خاطر ملنے کا ثواب
(۱) حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) فرماتے ہیں ۔
جو مؤمن کی خوشحالی کیلئے اس سے ملاقات کرے گا تو الله اسے قیامت والے دن خوشحال کریگا اور جو کسی مؤمن کی ناراحتی کیلئے اس سے ملنے جائے تو الله تعالیٰ قیامت والے دن اسے ناراحت کریگا۔
 
مسلمان کو عطر لگانے کا ثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔
جو کسی مسلمان کو عطر لگائے گا تو قیامت والے دن الله تعالیٰ اسکے ہر بال کے بدلے میں نور عطا کریگا۔
 
ایک دوسرے کیساتھ خدا کی خاطر محبت کا ثواب
(۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) کو فرماتے ہوئے سنا ۔
الله کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے قیامت کے دن نور کے منبروں پر بیٹھے ہونگے انکے چہرے اور جسم منور ہونگے نیز منبروں کا نور ہر چیز کو منور کررہا ہوگا اور لوگ انہیں الله کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے کے عنوان سے پہچانتے ہونگے ۔
 
کسی وادی میں داخل ہوتے وقت ذکر خدا کا ثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے آباؤ اجداد سے اور وہ حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا ۔
جو شخص کسی وادی میں جائے اور دونوں ہاتھ پھیلا کر ذکرِ خدا اور دعا کرے الله تعالیٰ پوری وادی کو نیکیوں سے بھر دیگا خواہ اس میں کوئی بڑا ہو یا چھوٹا۔
 
سوتے وقت اِنَّ الله یُمسِک السَمٰواتِ … پڑھنے کا ثواب
(۱) حضرت امام رضا (علیہ السلام) اپنے آباؤاجداد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا۔
جو سوتے وقت درج ذیل آیت کی تلاوت کریگا تو اسکا گھر (کبھی)خراب نہ ہوگا ﴿إنَّ الله یُمْسِک السَّمَوٰاتِ وَالْأرضَ أَنْ تَزُولاَ وَلَئِنْ زَاَلتَا إنْ اَمْسَکَھُمَا مِنْ أحْدٍ مِنْ بَعْدِہِ إنّہُ کَانَ حَلیماً غَفُوراً﴾۔
اذان صبح اوراذان مغرب کے وقت درج ذیل دعا پڑھنے کا ثواب
(۱) حضرت امام رضا (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو صبح یا مغرب کی اذان سننے کے بعد درج ذیل دعا پڑھے اور اس دن یارات کو مرجائے تو توبہ کرکے مرا ہے ﴿اَللَّھُمّ إنّی اَسْئَلُکَ بِإقْبَالِ نھَارِک وَ أدْبَارِ لَیْلِک وَحُضُورِ صَلَوا تِک وَ اَصْوَاتِ دُعَائِک أنْ تَتُوبَ عَلَیَّ إنَّکَ أنْتَ التَّوابُ الرّحِیمُ﴾
یہ جانتے ہوئے الله سے دعا مانگنے کا ثواب کہ الله نفع اور ضرر کی قدرت رکھتا ہے
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نقل کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا۔ جو شخص مجھ سے یہ جان کر سؤال کرے کہ صرف میں ہی ضرّر اور نفع دے سکتا ہوں تو میں اسکی دعائیں مستجاب کرونگا۔
 
سوتے وقت درج ذیل دعا پڑھنے کا ثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ جو سوتے وقت تین مرتبہ﴿ اَلْحَمْدُللهِ الّذِی عَلاَ فَقَھَرَ وَ الْحَمْدُ للهِ ِ الّذِی بَطَنَ فَخَبَرَ وَالْحَمْدُ للهِ الَّذِی مَلَک فَقَدَر وَالْحَمْدُ لله الّذِی یُحْیِی الْمُوتٰی وَ یُمِیْتُ الْاَحْیَاءَ وَ ھُوَ عَلیٰ کُلِّ شَیءٍ قَدِیرٍ﴾ پڑھے گا تو ماں کے بطن سے پیدا ہونے والے دن کی طرح گناہوں سے پاک ہو جائے گا۔
 
مسلمان بھائی کے لئے اسکی عدم موجودگی میں دعا کرنے کاثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ جو کسی مسلمان بھائی کے پشت پیچھے دعا کریگا تو یہ اس کے رزق میں وسعت لائے گا۔ اس سے بلائیں دور ہونگیں اور دعا کرنے والے سے فرشتے کہیں گے جو کچھ تو نے اپنے بھائی کیلئے چاہا ہے تجھے اس کے دو برابر عطا ہوگا۔
 
حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی محبت اور ان پر درود وسلام بھیجنے کا ثواب
(۱) حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر درود پانی کے آگ کو ختم کرنے سے زیادہ جلدی گناہوں کو ختم کردیتا ہے اور حضرت پر سلام کرنا چند غلاموں کو آزاد کرنے سے بہتر ہے نیز حضرت سے محبت، جانیں فدا کرنے اور الله کی راہ میں تلوار چلانے سے بڑھکر ہے ۔
 
حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر ایک مرتبہ درود بھیجنے کا ثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جب بھی حضرت کا تذکرہ ہو تو کثرت سے ان پر درود بھیجو۔ جو حضرت پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا تو خدا فرشتوں کی ایک ہزار صف میں ایک ہزار مرتبہ اس پر صلوات بھجے گااور الله کی پیدا کردہ کائنات کی ہر چیز اس پر الله اور ملائکہ کے درود کی خاطر اس پر درود بھیجے گی جاہل مغرور سے اللہ اور رسول بیزار ہیں،لہذا جاہل اور مغرورکے علاوہ کوئی بھی حضرت پر درود بھیجنے سے نہیں کتراتا۔
 
بحق محمد و آل محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کہہ کر الله سے مانگنے کا ثواب
(۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ انسان ستر خریف تک جہنم میں رہے گا اور ہر خریف سترسال کا ہوگا لیکن جب وہ کہے گا پروردگارا محمد و اہل بیت محمد کے حق کے واسطہ مجھ پر رحم فرما تو الله حضرت جبرائیل پر وحی کریگا کہ نیچے جاکر میرے بندے کو آگ سے نجات دو۔ حضرت جبرائیل کہیں گے پروردگارا میں کس طرح آگ میں اتروں ؟ تو الله فرمائے گا کہ میں نے اسے حکم دیا ہے تجھ پر ٹھنڈی ہو جائے اور تجھے کوئی ضرّر نہ پہنچائے حضرت جبرائیل کہیں گے پروردگارا مجھے بتا تیرا بندہ کہاں ہے ؟الله فرمائے گا وہ سجّیل جیسے آگ کے کنویں میں ہے حضرت جبرائیل وہاں جاکر اسے آگ سے نکالیں گے۔ الله پوچھے گا میرے بندے کتنا عرصہ جہنم میں رہے ہو۔ وہ کہے گا پروردگارا اس کا شمار میرے بس میں نہیں۔ الله فرمائے گا مجھے اپنی عزت کی قسم اگر اس طرح سؤال نہ کرتا تو میں تجھے جہنم کی ذلت و خواری میں ہی رکھتا لیکن چونکہ میں نے اپنے اوپر ضروری قرار دے رکھا ہے کہ جو بندہ محمد و اہل بیت محمد کے حق کا واسطہ دیکر سوال کریگا تو میرے اور اسکے درمیان جتنے گناہ ہونگے معاف کردونگا۔ آج میں نے تیرے بھی سب گناہ معاف کردئیے ہیں۔
 
ثواب الاعمال ۶
پیامبر اسلام پر درودبھیجنے کا ثواب
(۱)حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) اپنے آباؤ اجداد سے روایت کرتے ہیں حضرت رسول خدا نے فرمایا۔
قیامت والے دن میں اعمال کے ترازو (میزان) کے پاس ہونگا جس کے گناہ اسکی نیکیوں پر بھاری ہونگے تو اس شخص نے مجھ پر جو درود و سلام بھیجے تھے وہ ترازو میں رکھ کر اس کو سنگین تر کرونگا۔
(۲) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے عرض کی۔
جب میں خانہٴ خدا میں داخل ہو ا تو حضرت پر درود کے علاوہ مجھے کوئی دعا یا د نہیں آرہی تھی ؟ فرمایا خدا کے گھر کسی نے بھی تجھ سے بہتر عمل انجام نہیں دیا۔
(۳) حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔
جبتک محمد و آل محمد پر درود نہ بھیجا جائے تو کوئی دعا آسمان تک نہیں پہنچ سکتی۔
 
فجر کے بعد محمد وآل محمد پر سو مرتبہ درود بھیجنے کا ثواب
(۱) راوی کہتا ہے کہ حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے مجھ سے فرمایا ۔
کیا چاہتے ہو کہ تجھے کوئی چیز کی تعلیم دوں کہ جس سے تیرا چہرہ جہنم کی حرارت سے محفوظ رہے میں نے عرض کی۔ جی ہاں۔
فرمایا۔ (نماز) فجر کے بعد سو مرتبہ کہا کرو
﴿اَللَّھُمّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَآَلِ مُحَمَّدٍ﴾
تا کہ الله تعالیٰ تیرے چہرے کو جہنم کی تپش سے محفوظ رکھے ۔
 
محمد و آل محمد پر درود بھجنے کا ثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ میں نے آسمانی صحیفے میں پڑھا ہے جو محمد وآل محمد پر درود بھیجے گا تو الله اس کے لئے ایک سو نیکیاں لکھے گا اور جو شخص کہے﴿ ﴿اَللَّھُمّ صَل عَلیٰ مُحَمْدٍ وَ أہْلِ بَیْتِہْ﴾ تو الله اسکے لئے ایک ہزار نیکیاں لکھے گا۔
 
روز جمعہ حضرت پر سو مرتبہ درود بھیجنے کا ثواب
(۱) حضرت امام رضا (علیہ السلام) روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا جو روز جمعہ مجھ پر سور بار درود بھیجے گا خداوند متعال اسکی دنیا اور آخرت میں تیس تیس یعنی، ساٹھ حاجتیں پوری کریگا۔
 
بعد از نماز صبح اور مغرب إنَّ الله …… کہنے کا ثواب
(۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام رضا (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا ۔
نماز صبح اور مغرب کے بعد کسی سے بات کرنے اور مصلے سے اٹھنے سے پہلے جو یہ پڑھے گا
﴿إنَّ الله وَ مَلاٰئِکَتَہُ یُصَلُّونَ عَلیٰ النَّبِیْ یٰا أَیُّھا الّذِینَ اَمَنُوا صَلّواُ علیہ وَ سَلِّمُوا تَسْلِیما اَللّھُمَ صَلِّ علیٰ مُحَمّدٍ النَّبِی وَ ذُرِّیَّتِہِ﴾
تو الله تعالیٰ اسکی ایک سو حاجتیں پوری کریگا جسمیں سے ستر دنیا میں اور تیس آخرت میں پوری ہونگیں میں نے عرض کی الله ، فرشتوں اور مؤمنین کے درود سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا ، خدا کا درود نزول رحمت ہے فرشتوں کا درود حضرت کی مدح و ثنا ہے اور مؤمنین کا درود حضرت کیلئے دعا ہے حضرت رسول خدا اور انکی آل پر درود بھیجنے کا ایک راز اس دعا میں ہے
﴿اَللَّھُمّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدفِی الْأوَّلِینَ ، وَصَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَآَلِ مُحَمَّد فِی الْأَخِرِیْنَ اَللَّھُمّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدفِی الْمَلاءِ الأعْلٰی وَصَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّد فِی الْمُرْسَلِیْنَ ۔اَللّھّمَّ اعْطِ مُحَمّداً الوَسِیْلَةَ وَ الشَّرَفَ وَ الْفَضِیلَةَ وَ الدَّرَجَةَ الْکَبِیرةَ۔ اَللَّھُمَّ إنِّی آمَنْتُ بِمُحَمَّدٍوَلَمْ اَرَہ فَلَا تَحْرِمْنِی یَوْمَ القِیَامِہِ رُؤیَتَہُ وارْزُقْنيصُحْبَتہ وَ تَوَ فَّنِی عَلیٰ مِلَّتِہِ واَسْقِنِی مِنْ حَوْضِہِ مَشْرَباً رَویّاً سَائغاً ھَنِیئًا لاَ اظمَأ بَعْدَہ اَبَداً إنَّکَ عَلیٰ کُلِّ شَیءِ قَدِیر اللَّھُمَّ کَمَا آمَنْتُ بِمُحَمَّدٍ وَ لَمْ ارَہ فَعَرِفْنِی فِی الجِنَانِ وَجْھَہُ اَلَّلھُمَّ بَلّغْ رُوْحَ مُحَمَّدٍ عَنّیِ تَحِیْةً کَثیرَةً وَ سَلاَ ماً ﴾
جوشخص ہر روز صبح شام تین مرتبہ درود بھیجے گا اسکے گناہ ختم اور خطا ئیں معاف ہو جائیں گے۔ ہمیشہ خوشحال رہے گا۔ دعائیں مستجاب ہونگیں۔ آرزوئیں پوری ہونگیں۔ رزق زیادہ ہوگا۔ دشمن کے مقابلے میں مدد ہوگی۔ خیر کے اسباب مہیا ہونگے اور اعلی بہشتوں میں انبیاء کی رفاقت نصیب ہوگی۔
 
ایک تہائی یا آدھی یا پوری دعا پیغمبر کیساتھ مختص کرنے کاثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ۔ ایک شخص حضرت رسول خدا کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگا کہ میں نے اپنی ایک تہائی دعا آپ کیساتھ مختص کی ہے فرمایا تیرے لئے بھلائی ہو پھر کہا میں نے اپنی آدھی دعا کو آپ کیساتھ مختص کیا ہے فرمایا اچھا کام کیا ہے پھر کہا اگر میں اپنی پوری دعا آپ کے ساتھ مختص کرتا ہوں فرمایا الله تیری دنیا وآخرت کی تمام حاجتیں بر لائے گا۔ اس وقت ایک مرد نے عرض کی الله آپ کو دین میں موفق رکھے ایک شخص کس طرح اپنی دعا حضرت کیساتھ مختص کرسکتا ہے۔ حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام)نے فرمایا خدا سے کچھ مانگنے سے پہلے محمد و آل محمد پر درود بھیجے۔
 
حضرت پر درود بھیجنے کے بعد اہل بیت پر درود بھیجنے کا ثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) روایت کرتے ہیں ۔ایک دن حضرت رسول خدا نے حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) سے فرمایا کیا میں تجھے ایک خوشخبری سناؤں؟ عرض کی میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ ہی تو ہمیشہ ہر خیر کی خوشخبری سناتے ہیں۔ حضرت نے فرمایا جبرائیل نے تعجب کے ساتھ تھوڑی دیر پہلے مجھے بتایا ہے کہ جو مجھ (محمد) پر درود بھیجنے کے بعد میرے اہلبیت پر درود بھیجے تو اس کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں فرشتے اس پر ستر درود بھیجتے ہیں یقینا اسکے گناہ درخت کے پتوں کی طرح جھڑجاتے ہیں اس وقت الله فرماتا ہے میرے بندے تیری دعا مستجاب ہے اور تو سعادتمند ہے۔ اے میرے فرشتوں تم نے اس پر ستر درود بھیجے اور میں اس پر سات سو رحمتیں نازل کرونگا۔
حضرت نے مزید فرمایا ۔
اگر کوئی مجھ پر تو درود بھیجے اور اہل بیت پر نہ بھیجے تو گو یا اس درود اور آسمان کے درمیان ستر حجاب ہیں۔ خداوند متعال اسے فرماتا ہے تیرے لئے کوئی جواب اور سعادتمندی نہیں۔ اے فرشتو اس کی دعا اوپر نہ لے جانا مگر یہ کہ حضرت کیساتھ عترت اور اہل بیت پر بھی درود بھیجے۔ حضرت نے مزید فرمایا جبتک یہ میرے ساتھ ، میری اہل بیت کو ملحق نہیں کرتا تو اسکی دعا ہمیشہ حجابوں میں رہ جائے گی۔
 
جمعہ کے دن نماز کے بعد حضرت اور انکے اوصیاء پر درود بھیجنے کا ثواب
(۱) راوی نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے پوچھا۔ جمعہ کے دن بہترین عمل کونسا ہے ؟ فرمایا نماز عصر کے بعد محمد و آل محمد پر سو مرتبہ درود بھیجنا اگر اس سے زیادہ درود بھیجا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔
(۲) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) یا حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے مروی ہے ۔
کہ نماز جمعہ کے بعد یہ صلوات پڑھیں
﴿اَللَّھُمّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍاَلْاَ وْصِیاءِ الْمَرْضِیِّینَ بِأَفْضَلِ صَلَوَاتِکَ وَبارِکْ عَلَیْھِمْ بأفْضَلِ بَرَکاتکَ وَالسَّلاَمُ عَلَیْہِ وَعَلَیْھِمْ وَعَلٰی اَرْواحِھِمْ وَ اَجْسَادِھِمْ وَ رَ حْمَةُاللهِ وِ بَرَکَاتُہ ﴾
تا کہ خداوند متعال تیرے لئے ایک لاکھ نیکیاں لکھے او رتیرے ایک لاکھ گناہ مٹادے اور ایک لاکھ حاجتیں پوری کرے اور تیرے ایک لاکھ درجات بلند کرے ۔
(۳)راوی کہتا ہے کہ میں حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کے پاس موجودتھا ایک شخص نے کہا ﴿اَللَّھُمّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَاَہْل بَیْتِ مُحَمَّدٍ﴾حضرت نے فرمایا تم نے اس صلوات میں ہمارا تذکرہ نہیں کیا کیونکہ تجھے علم نہیں ہے کہ اہل بیت تو فقط پنج تن آلِ عبا ہیں !! اس نے پوچھا ہم کس طرح درود بھیجیں فرمایا اس طرح کہا کرو۔ ﴿اَللَّھُمّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَآَلِ مُحَمَّدٍ﴾ تا کہ ہم اور ہمارے شیعہ بھی اس صلوات میں شامل ہوں۔
 
ایک دن میں سو مرتبہ﴿ رَبِّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَ أَھْلِ بَیْتِہ﴾ کہنے کا ثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ جو ایک دن میں سو مرتبہ ﴿ رَبِّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَ أَھْلِ بَیْتِہ﴾کہے گا تو الله اسکی ایک سو حاجتیں پوری کریگا۔ تیس کا تعلق اس دنیا سے ہوگا اور ستر آخرت سے متعلق ہونگیں۔
 
بلند آواز سے حضرت پر درود بھیجنے کا ثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا بلند آواز سے درود بھیجا کرو ، اس سے نفاق جاتا رہتا ہے ۔
 
نماز صبح کے بعد سومرتبہ سبحان الله اور ہر نماز کے بعد اَلَّلھُمَّ اِھْدِنی کہنے کا ثواب
(۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ شبیہ ھذلی نے حضرت رسول خدا کی خدمت میں آکر عرض کی یا رسول الله میں بوڑھا اورسن رسیدہ آدمی ہوں اب جسم میں اتنی جان نہیں رہی کہ میں پہلے کی طرح نماز ، روزہ، حج اور جھاد جیسے اعمال بجا لاؤں یا رسول الله مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جس سے الله مجھے فائدہ دے یا رسول الله میرے ساتھ تخفیف کیجئے حضرت نے فرمایا اپنی بات پھر دہرا اس نے تین مرتبہ اپنی بات کا تکرار کیا تو حضرت نے فرمایا تیرے اردگرد کے تمام درختوں اور زمینوں نے تیری رحمت کی خاطر گر یہ کیا ہے بہر حال جب تم صبح کی نماز سے فارغ ہو جاؤ تو دس مرتبہ یہ دعا پڑھا کرو ﴿ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِیم وَ بِحَمْدِہ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ اِلاَّ بِاللهِ الْعَلِیّ الْعَظِیم﴾ الله تعالی تجھے اس دعا کی بدولت اندھے پن ، جنون ، جزام ، فقر اور دیوار کے نیچے دب کرمرنے سے محفوظ رکھے گا۔ اس نے کہا یارسول الله یہ تو دنیا کیلئے تھا آخرت کیلئے کیا کروں۔ فرمایا ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھا کرو ﴿ اللَّھُمَّ أھْدِنیِ مِنْ عِنْدِک وَ أفِضْ عَلَیَّ مِنْ فَضْلِکَ وَانْشُرْ عَلَیَّ مِنْ رَحمَتِکَ وأنْزِل عَلَیَّ مِنْ بَرَکَاتِکَ﴾ حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ اس نے ان دستورات کو ہاتھ میں پکڑا اور وہ چل دیا حضرت رسول خدا نے فرمایا اگر وہ قیامت والے دن آئے او راس نے ہر نماز کے بعد عمداً اس دعا کو ترک نہ کیا ہو تو الله اسکے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دے گا پھر یہ جس دروازے سے چاہے گا، داخل ہوجائے گا۔
 
خوف ، میلان اور غضب کے وقت نفس پر کنڑول کاثواب
(۱)حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو خوف ، میلان اور غضب کے وقت نفس پر کنڑول رکھے گا تو خدا اس کے جسم کو آگ پر حرام قرار دے گا۔
 
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں مدد کرنے کا ثواب
(۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر خدا کی مخلوق ہیں۔ان دونوں کے ساتھ تعاون کرنے والا اللہ کے ساتھ تعاون کرنے والا ہے۔اور ان کو دھوکہ دینے والا اللہ کو دھوکہ دینے والا ہے۔ اور خدا اس کو ذلیل کرے گا۔
 
سورہ زمر کی آخری آیات سنکر رونے یا رونے کی شکل بنانے کا ثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے انصار کے جوانوں کے پاس آکر فرمایا میں تمھیں ایک چیز سنانا چاہتا ہوں جو اسے سن کر روئے گا ، اسے جنت ملے گی پھر آپ نے سورہ زمر کی آخری آیات کی تلاوت کی ﴿وَ سِیْقَ الَّذِینَ کَفَرُوا اِلیٰ جَہَنَّمَ زُمَراً … تا آخر سورہ﴾تو ایک جوان کے علاوہ سب روئے اس نے کہا یا رسول الله میں نے رونے کی شکل تو بنائی ہے لیکن میری آنکھوں سے آنسو جاری نہ ہوسکے۔ حضرت نے فرمایا میں ان آیات کی دو بارہ تلاوت کرتا ہوں جو رونے والی شکل بنائے گا اسے بھی جنت ملے گی۔ آپ نے دوبارہ تلاوت فرمائی تو اس جوان کے علاوہ سب روئے لیکن اس نے رونے کی شکل بنائی اور سب کے سب جنت میں داخل ہوئے۔
 
اجتماعی دعا کاثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ جب بھی چار آدمی کسی بات پر متفق ہو کر دعا کریں گے تو ان کے متفرق ہونے سے پہلے دعا قبول ہوگی۔
 
پوشیدہ دعا کا ثواب
(۱) حضرت امام رضا (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ ایک شخص کیلئے پوشیدہ طور پر دعا ستر علانیہ دعاؤں کے برابر ہے۔
 
سحری کے وقت دعا کا ثواب
(۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔
کہ الله تعالیٰ مؤمنین کی ہر دعا کو محبوب جانتا ہے میں تمھیں سحری سے طلوع شمس کے وقت دعا کی نصیحت کرتا ہوں کیونکہ ان اوقات میں آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں باد رحمت چلتی ہے۔ رزق تقسیم ہوتا ہے۔ اور بڑی بڑی حاجتیں پوری ہوتی ہیں۔
 
مؤمنین ومؤمنات کیلئے دعا کرنے کا ثواب
(۱) حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔ جو کسی مؤمن بھائی کیلئے دعا کرتاہے تو الله تعالیٰ ہر مؤمن کے بدلے ایک فرشتے کو اس کے لئے دعا کرنے پر مأمور کرتا ہے ۔
(۲) حضرت امام رضا (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔
جو مؤمن کسی زندہ یا مردہ مسلمان مؤمن یامؤمنہ کیلئے دعا کرے گا تو الله تعالیٰ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لیکر قیامت تک تمام مؤمنین ومؤمنات کی تعدادکے برابر اسکے لئے نیکیاں لکھے گا۔
(۳)حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں ۔
جو ہر روزپچیس مرتبہ
﴿ اَللَّھُمَّ اِغْفِرْ لِلْمُوْٰمِنیْنَ وَ المْؤمِنَات وَ الْمُسْلِمِیْنَ واَلْمُسْلِمَات ﴾
کہے گا تو خداوند متعال دنیا سے جانے اور قیامت تک پیدا ہونے والے مؤمنین کے تعداد کے برابر اس کے لئے نیکیاں لکھے گا اس کے گناہ مٹائے گا او ردرجات بلند کریگا ۔
(۴)حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام)اپنے آباؤاجداد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا۔
جو شخص کسی مؤمن یا مؤمنہ کیلئے کوئی دعا کریگا تو الله تعالیٰ دنیا سے جانے والے اور قیامت تک پیدا ہونے والے مؤمنین کی تعداد کے برابر یہی دعا اسکے لئے قبول فرمائے گا۔
جب حکم ملے گا کہ اس بندے کو جہنم میں لے جایا جائے تو مؤمنین و مؤمنات کہیں گے پروردگارا اسی نے ہمارے لئے دعا کی تھی ہم اس کیلئے سفارش کرتے ہیں الله انکی شفاعت کا سنکر اسے جہنم کی آگ سے نجات عطا کرے گا۔
(۵) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نقل کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا۔
جب بھی تم میں سے کوئی دعا مانگناچاہے تو سب کیلئے دعا کرے کیونکہ یہ دعا کی قبولیت کا ذریعہ ہے۔
 
لاحول ولا قوّةکہنے کا ثواب
(۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا کہ جو
﴿ لاَحَوْلَ وَلاَقُوَّةَ اِلاَّ بِالله ِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ﴾
کہے گا تو الله تعالیٰ اسکی وجہ سے اسے ستر بلاؤؤں سے دور رکھے گا ان میں سب سے کم ترین گُھٹ کر مرنا ہے۔
 
ہر روز لاحول ولا کہنے کا ثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔
کہ جو شخص ہر روز سو مرتبہ
﴿ لاَحَوْلَ وَلاَقُوَّةَ اِلاَّ بِالله ِ﴾
کہے گا تو الله اس سے ستر مصیبتیں دور کریگا کہ سب سے کمترین غم و حزن ہے۔
 
گھرسے نکلتے وقت بسم الله و لاحول ولا کہنے کا ثواب
(۱) حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) فرماتے ہیں۔
کہ جوشخص گھر سے نکلتے وقت بِسم الله کہے گا تو دو فرشتے کہیں گے تجھے ہدایت نصیب ہو اگر وہ کہے لاَحَوْلَ وَلاَقُوَّةَ اِلاَّ بِالله ِ توکہتے ہیں تو حفاظت میں ہے ۔
اور اگر ﴿تَوَکَّلْتُ عَلیٰ اللهِ ﴾ کہے تو کہتے ہیں تو بے نیاز ہوگیا ہے اس وقت شیطان کہتا ہے کہ میں کس طرح ایک ہدایت یا فتہ ، حفاظت شدہ اور بے نیاز بندے کو گمراہ کروں۔
 
رات کو سو تکبیریں کہنے کا ثواب
(۱) حضرت امام زین العابدین (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔
جو غروب کے وقت سوتکبیریں کہے گا وہ ایک سو غلام آزاد کرنے والے شخص کی مانند ہے۔
 
تسبیح حضرت فاطمة الزہرا ء کا ثواب
(۱) ابو ہارون مکفوف کہتے ہیں کہ حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے مجھ سے فرمایا۔
اے ابو ہارون!
جس طرح ہم لوگ اپنے بچوں کونماز کی تلقین کرتے ہیں اسی طرح تسبیح حضرت زہراء پڑھنے کا حکم بھی دیتے ہیں تم بھی ہمیشہ یہ تسبیح پڑھاکروکیونکہ اسے نہ پڑھنے والا شخص بدبخت ہے۔
(۲) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔
جو تسبیح حضرت زہرا پڑھنے کے بعد بخشش طلب کرے اسے معاف کردیا جائے گا یہ تسبیح زبان سے تو سو مرتبہ پڑھی جاتی ہے لیکن میزان الہی میں ایک ہزار کے برابر ہے اس تسبیح سے شیطان دور ہوتا ہے اور رحمن راضی ہوتا ہے۔
(۳)راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا۔
مجھے ہر نماز کے بعد اس تسبیح کا پڑھنا ہر روز ہزار رکعت نماز پڑھنے سے زیادہ محبوب ہے۔
(۴) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔
واجب نماز ختم کرکے اٹھنے سے پہلے جو تسبیح حضرت زہرا پڑھے تو الله اسے معاف کردے گا اس تسبیح کو﴿ اَلله ُ اَکْبَرُ﴾ سے شروع کیا جائے۔
 
خاموشی کا ثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ جب تک بندہٴ مؤمن خاموش ہے اسوقت تک وہ نیک لوگوں میں شمار ہے لیکن جب بولتا ہے تو پھر یا نیکوں میں ہوگا یا بدوں میں۔
 
استغفار کرنے کا ثواب
(۱) حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) فرماتے ہیں ۔
ہر مرض کی دوا ہے اور گناہوں کی دوا استغفار ہے۔
(۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔
جو سوتے وقت سو مرتبہ استغفار کرے تو اسکے گناہ درخت کے (سوکھے) پتوں کی طرح جھڑ جائیں گے اور صبح اس کا کوئی گناہ نہ ہوگا۔
(۳) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) سے سنا کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا۔
میرا تم میں موجود ہونا اور تمھارا استغفار کرنا عذاب سے بچاؤ کا محکم قلعہ ہے اب بڑی پناہ تو اس دنیا سے جاچکی ہے باقی ہمارے پاس استغفار ہے بہت زیادہ استغفار کیاکرو کیونکہ اس سے گناہ ختم ہو جاتے ہیں جیسا کہ خدا تعالیٰ کافرمان ہے ﴿جب تک تو ان کے درمیان ہے الله ان پر عذاب نہ کرے گا اور استغفار کرنے والوں کو بھی الله عذاب میں مبتلاء نہیں کریگا﴾۔
(۴) راوی کہتا ہے۔
میں نے حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) کے پاس خط لکھا کہ مجھے ایسے عمل کی تعلیم دیجیئے جسے کرنے سے میں دنیا و آخرت میں آپ کیساتھ رہوں۔
حضرت نے اپنے ہاتھ سے جواب لکھا۔
إِنّا اَنْزَلْنَاہُ کثرت سے پڑھا کرو اور تمھاری زبان استغفار کرنا ترک نہ کرے۔
(۵) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) اپنے آبااؤ اجداد سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا۔
وہ شخص قیامت والے دن خوش قسمت ہے جس کے نامہٴ اعمال میں ہر گناہ کے نیچے أَسْتَغْفِرُالله موجود ہو۔
 
ماہ شعبان میں ہر روز ستر مرتبہ استغفار کرنے کا ثواب
(۱) جو شخص ماہ شعبان میں ہر روز ستر مرتبہ یہ کہے ﴿ اَسْتَغْفِرُ الله َ الّذِی لاَ اِلہَ اِلِاَّ ھُوَ الرَّحمنُ الرَّحیِم اَلْحَیُّ الْقَیُّومُ وَ اتُوبُ اِلَیْہِ﴾ تو اس شخص کا نام افق مبین میں لکھا جائے گا میں نے عرض کی افق مبین کیاہے ؟ فرمایا عرش کے سامنے ایک بہت بڑا دشت و صحرا ہے جسمیں نہریں جاری ہیں اور اس میں ستاروں کی تعداد کے برابر ثواب کے پیالے ہیں یعنی بہت زیادہ ثواب ہے۔
 
نماز صبح کے بعد ستر مرتبہ استغفار کرنے کا ثواب
(۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو نماز صبح کے بعد ستر مرتبہ استغفار کرے تو خدا اسے معاف کردیتا ہے خواہ اس دن اس سے ستر ہزار گناہ ہی کیوں نہ سر زد ہوئے ہوں اور جس نے ستر ہزار گناہوں سے زیادہ گناہ کئے ہیں تو پھر اسکی خیر نہیں۔
خدا کی وحدانیت اور حضرت محمد کی رسالت کی گواہی ، مصیبت کے وقت انا لله و انا الیہ راجعون ، اچھی خبر کے وقت الحمدلله اور ارتکاب گناہ کے وقت استغفر الله کہنے کا ثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے اباؤ اجداد سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص یہ چار کام کرتا ہوتو وہ خدا کے بہت بڑے نور کا مستحق قرار پائے گا ۔اور اس امر کا محافظ یہ ہے کہ الله کے علاوہ کوئی معبود نہیں اورمیں اس کا رسول ہوں۔ نیز مصیبت کے وقت ﴿إنَّا لِلَّہِ وَإنَّا اِلَیْہِ رَاجعُونَ ﴾ کہتا ہو جب اسے اچھی خبر ملے تو اَلحَمدُللهِ کہے اورجب کوئی گناہ کر بیٹھے تو ﴿اَسْتَغْفِرُ اللهَ وَ أَتُوْبُ اِلَیْہِ﴾ کہے ۔
 
جلد ثواب حاصل ہونے والے کام
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے اباؤ اجداد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا جلد حاصل ہونے والے ثواب میں ایک کام نیکی ہے اور جلد عقاب ہونیوالے کاموں میں ظلم ہے عیب کے حوالہ سے ایک شخص کیلئے عیب لگاتے وقت یہی بات کافی ہے کہ اسے دوسروں میں تو عیب نظر آتا ہے اور اپنی ذات کیلئے وہ اندھا بنا بیٹھا ہے یا لوگوں کو تو سرزنش کررہا ہے لیکن خود اسے ترک نہیں کرتا یا اپنے ہم نشینوں کو لایعنی (فضول) باتوں سے اذیت دیتا رہتا ہے۔
 
صبح و شام تین مرتبہ سبحان الله کہنے کا ثواب
(۱) حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ جو رات ہوتے ہی تین مرتبہ کہے
﴿ فَسُبْحَانَ الله ِ حِیْنَ تُمْسُونَ وحِیْنَ تُصْبِحُونَ وَلَہُ الْحَمْدُ فِی السَّمَوٰاتِ وَ الْاَرْضِ وَ عَشِیّاً وَ حِیْنَ تُظْھِرُونَ﴾
تو اس رات کی تمام نیکیاں اس نے حاصل کرلی ہیں اور تمام شر کو دور کر لیا ہے اور جو صبح کے وقت بھی ان آیات کی تلاوت کرے گا تو اسے اس دن کی تمام نیکیاں حاصل ہونگیں اور اس دن کے تمام شر اس سے دور ہونگے۔
 
دنیا میں زہد و تقویٰ کا ثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو شخص روزی کمانے میں شر مندگی محسوس نہیں کرتا اور زندگی کے اخراجات پورے کرلیتا ہے تو وہ خود آسودہ حال ہے اور اچھے عیال کا مالک ہے اور جو دنیا میں زہد اختیار کرتا ہے تو الله اسکے دل کو حکمت (علم) سے منور کرتا ہے اسکی زبان کو گویا بناتا ہے دنیا وی عیب ، بیماریاں اور انکے علاجوں سے محفوظ رکھتا ہے اور اسے صحیح و سالم اس دنیا سے دار السلام (جنت) کی طرف لیجاتا ہے۔
 
دن و رات کے ابتدائی اور آخری حصّے میں عمل خیر انجام دینے کا ثواب
(۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) روایت نقل فرماتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا بتحقیق دن اور رات کے ابتدائی حصّے میں ایک فرشتہ صحیفہ لیکر اتر تا ہے اور انسان کے اعمال لکھتا ہے لہذا دن اور رات کے ابتدائی حصّے میں عمل خیر انجام دو تو انشاء الله الله تعالیٰ ان کے درمیانی اوقات میں بھی تمھیں معاف کردے گا کیونکہ الله تعالیٰ فرماتا ہے ﴿مجھے یاد کرو تا کہ میں تمھیں یاد کروں﴾ مزید فرماتا ہے ﴿الله کا ذکر تو بہت بڑا ہے﴾
 
خوف خدا میں رونے کا ثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔
ہر چیز کا وزن اور پیمانہ ہوا کرتا ہے مگر آنسو کہ اس کا ایک قطرہ آگ کے سمندر کو بجھا دیتا ہے جس کی آنکھیں پُر اشک ہوں تو اس کے چہرے کو کبھی فقر اور ذلت کا سامنانہ کرنا پڑے گا ۔
اور جب اشک جاری ہوں تو الله اسے جہنم کی آگ پر حرام کر دیتا ہے اگر چہ ایک شخص گریہ کر رہا ہو لیکن الله پوری امت پر رحمت کرتا ہے۔
(۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے آباؤ اجداد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا ۔وہ خوش قسمت چہرہ ہے جسکی طرف الله نظر کرم فرمائے اور وہ خوف خدا میں اپنے ان گناہوں پر رُو رہا ہو جس کی خدا کے علاوہ کسی کو خبر تک نہ ہو۔
 
اپنی خواہشات پر رضا خداوندی کو مقّدم کرنے کا ثواب
(۱) راوی کہتاہے کہ میں نے حضرت امام زین العابدین (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا ۔
الله نے فرمایا مجھے اپنی عزت ، عظمت جلالت ، خوبصورتی ، توانائی اور اپنے مقام کی بلندی کی قسم جو شخص میری رضاکو اپنی خواہش پر مقّدم کرتا ہے تو میں اسکی آخرت کا ہدف پورا کرونگا ، اسکے دل کو بے نیاز قرار دونگا اسکے املاک اسکی کفایت کریں گے ، زمین و آسمان اسکے رزق کے ضامن ہونگے نہ چاہنے کے باوجود اسے دنیا (کی دولت ) نصیب ہوگی۔
 
صبح و شام جسکا اصلی ہدف آخرت ہو، اس کا ثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام)نقل فرماتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا۔
جسکا صبح و شام اصلی اور بڑا ہدف آخرت ہو تو الله اس کے دل کو بے نیاز کردیگا اور زندگی کے سامان میسر ہونگے۔ تکمیل رزق سے پہلے دنیا سے نہ جائے گا اور جسکا صبح و شام بڑا مقصد دنیا ہوگا تو الله اسکی آنکھوں میں بھوک رکھ دے گا اسکے امور زندگی ہمیشہ بکھرے رہیں گے اور اُسے وہی ملے گا جو اسکی قسمت ہوگی۔
 
احسان کرنے کا ثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں ۔
جب کوئی مؤمن احسان کرتاہے تو الله اسکے ہر نیک عمل کو سات سو گنا کردیتا ہے اور یہ الله کے اس فرمان کے مطابق ہے ﴿الله جسکے لئے جتنا چاہے اتنا زیادہ کردیتا ہے﴾
 
اللہ کی خاطرمحبت ،عداوت،عطا اور محروم کرنے کا ثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔
ایمان کی ایک محکم ترین نشانی یہ ہے کہ انسان اللہ کی خاطر محبت کرے اور اللہ کے لئے بغض رکھے اور اللہ کی خاطر عطاکرے اور اللہ کے لئے محروم رکھے۔
 
گناہ سے پشیمانی اور استغفار کا ثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔
کوئی مؤمن ایسا نہیں ہے جو شب وروز چالیس گناہ کبیرہ انجام دے اور پھر پشیمان ہوکر یہ کہے ﴿اَسْتَغْفِرُاللهَ الّذِیْ لاَ اِلَہَ اِلاَّ ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ بَدِیعُ السَّمَوَاتِ وَالْأرْضِ ذالْجَلاَلِ وَالْإِکْرَام وَ أَسْئَلُہُ أنْ یَتُوبَ عَلَیَّ﴾ تو الله اسکے گناہ معاف کر دے گا اور جو ہر روز چالیس کبیرہ گناہوں سے زیادہ گناہ انجام دے تو اسکی خیر نہیں۔
 
غریب الوطن مؤمن کی موت کا ثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں ۔ کوئی ایسا مؤمن نہیں جو دیار غربت میں رخت سفر باندھ لے اوراس پر کوئی اشک بہانے والا نہ ہوتو جن زمین کے ٹکڑوں پر وہ عبادت کیا کرتا تھا ، اور جو کپڑے وہ پہنا کرتا تھا ، اسکے لئے گریہ کنا ں ہونگے اور اسکے ساتھ ساتھ آسمان کے وہ دروازے جن سے اسکے اعمال اوپر گئے تھے وہ گریہ کر رہے ہونگے اور مؤکل فرشتے اس پر اشک بہائیں گے۔
 
مؤمن کیساتھ بھلائی کرنے والے کافر کا ثواب
(۱) حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔ بنو اسرائیل کے ایک مؤمن کا ہمسایہ کا فر تھا اور وہ مؤمن کیساتھ اچھا سلوک کیا کرتا تھا اور دنیا میں اچھے کام کرتا تھا جب کافر مرا تو الله تعالیٰ نے جہنم میں اسکے لئے مٹی کا گھر بنایا تا کہ جہنم کی تپش سے محفوظ رہے اور اسے جہنم کے علاوہ کسی اور جگہ سے رزق مہیا کیا اور اسے کہا گیا کہ تمھیں یہ آسانی دنیا میں مؤمن ہمسایہ کے ساتھ حسن سلوک اور نیکی کی وجہ سے دی گئی ہے۔
 
مؤمن بھائی سے نیکی کرنے کا ثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کسی دوسرے مؤمن بھائی سے نیکی کرنے والا حضرت رسول خدا سے نیکی کرنے والے کی مانند ہے۔
 
دودھ کے لئے بھیڑ بکریاں پالنے کا ثواب
(۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا جس گھر میں دودھ دینے والی بھیڑ یا بکری ہوگی اس گھر کے رہنے والے مقدس اور با برکت ہونگے اور اگر دو بکریاں پالے گا تو پھر اس دن میں دو بار تقدیس و تبریک پیش کی جائے گی کسی صحابی نے پوچھا ! ان کی تقدیس کیسے ہوگی ؟ فرمایا ہر روز صبح و شام ایک فرشتہ اسکے نزدیک کھڑا ہو کر کہے گا تم مقدس ہو گئے ہو ، تمھیں تبریک پیش کرتے ہیں تم خود بھی پاک ہوگئے ہو اور تمھاری غذا بھی پاک ہے میں نے عرض کی کہ اس کا کیا معنی ہے کہ تم مقدس ہو گئے ہو ؟ فرمایا اس کا معنی یہ ہے کہ تمھیں پاک کردیا گیا ہے۔
 
نماز ، زکات ، نیکی اور صبر کا ثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں
جب مؤمن اپنی قبر میں جاتا ہے تو اسکے دائیں نماز اور بائیں زکات ہوتی ہے اس پر نیکی کا سایہ ہوتا ہے اور کچھ فاصلے پر صبر بھی موجود ہوتا ہے جب سوال و جواب کرنے والے دونوں فرشتے قبر میں داخل ہوتے ہیں تو صبر نماز ، زکات اور نیکی سے کہتا ہے اپنے دوست کی حفاظت کرو اگر تمھارے لئے ممکن نہ ہو تو پھر میں کوشش کرتا ہوں۔
 
خدا کی خاطر آل محمد سے محبت اور انکے دشمنوں سے بغض رکھنے کا ثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو شخص الله کی خاطر ہم سے محبت اور ہمارے دشمنوں سے عدوات رکھتا ہو (نہ کہ دنیا وی امور ہمارے دشمنوں کے ظلم و ستم سے تنگ آکر عداوات رکھے) اور مرجائے اور اس نے دریا کے قطروں کی تعداد کے برابر بھی گناہ کئے ہوں تب بھی خدا اسے معاف کر دے گا۔
 
ایک سال تک نماز و ترکے قیام میں ستر مرتبہ استغفر الله کہنے کا ثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ جو شخص ایک سال تک نماز و ترکے قیام میں ستر مرتبہ ﴿اَسْتَغْفِرُ الله َ وَ اتُوبُ إلَیْہِ ﴾ کہے گا تو الله تعالیٰ اسے سحری کے وقت استغفار کرنے والوں میں شمار کرے گا اور الله پر اسکی بخشش ضروری ہوجائے گی۔
 
خدا کیلئے مؤمن بھائی کو سلام کرنے کا ثواب
(۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ ایک فرشتے کا کسی دروازے کے نزدیگ کھڑے شخص کے پاس سے گزر ہوا تو فرشتے نے پوچھا اے بندہٴ خدا یہاں کیوں کھڑے ہو ؟ کہا یہاں میرا مؤمن بھائی رہتا ہے میں چاہتا ہوں کہ اسے سلام کرلوں۔ فرشتے نے پوچھا کیا یہ تیرا قریبی رشتہ دار ہے ؟ یا تجھے اسے سے کوئی کام ہے ؟ کہا نہیں یہ نہ تو میرا قریبی رشتہ دار ہے اور نہ مجھے اسکی احتیاج ہے بلکہ یہ تو فقط میرا مسلمان بھائی ہے کہ میں اسکے احترام کیلئے یہاں آیا ہوں اور میں نے خود پر ضروری قرار دیا ہے کہ پروردگار دو جہاں کی رضا کی خاطر اسے سلام کروں فرشتے نے کہا الله نے مجھے تیرے پاس بھیجا ہے وہ تجھے سلام کہہ رہا ہے او راس نے فرمایا ہے( اے میرے عبد!)تیری مراد صرف میں تھا اور تو نے میرا دیدار کیا ہے ، میں نے تجھ پر جنت کو واجب قرار دیا ہے اور اپنے غضب سے تجھے بخشش عطا کی ہے تجھے جہنم کی آگ سے نجات نصیب ہو۔
 
مؤمن کی توبہ نصوح کا ثواب
(۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا کہ جب کوئی توبہٴ نصوح کرتا ہے تو الله اس سے محبت کرتا ہے اور اسکے دنیا وی و اخروی گناہ مخفی کردیتا ہے راوی کہتا ہے کہ الله گناہوں کو کس طرح مخفی کرتا ہے فرمایا گناہ لکھنے والے دونوں فرشتوں کو الله بھلا دیتا ہے اور اسکے اعضاء وجوارح کی طرف وحی کرتا ہے کہ اسکے گناہ کو مخفی رکھنا اسی طرح زمین کے جس جس حصے پر یہ گناہ کا مرتکب ہوا تھا اسے بھی وحی کرتا ہے کہ اسکے گناہوں کو چھپائے رکھنا لہذا جب یہ دربار خداوندی میں حاضر ہوگا تو کائنات کی کوئی چیز بھی ایسی نہ ہوگی جو اسکے چھوٹے سے چھوٹے گناہ کے خلاف گواہی دے سکے۔
 
توقع نہ رکھنے، خوش اخلاقی ، نرم روی ، اور آسان روی کا ثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا کیا میں تمھیں بتاؤں کہ جہنم کن کن لوگوں پر حرام ہوگی، عرض کی ، جی ہاں یا رسول الله فرمایا توقع نہ رکھنے والے ، خوش اخلاق ، نرمی برتنے والے اور آسان روی سے پیش آنے والوں پر جہنم حرام ہوگی۔
 
خوف ِ خدا میں متقربین کے رونے ،محارم خداسے بچتے ہوئے خدا کی عبادت کرنے اور دنیا میں زہد کو زینت قرار دینے والوں کا ثواب
(۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ خداوند متعال نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کو ہ طورپر جو نجات عطا کی تھی ، وہ ان چیزوں میں سے تھی کہ الله نے فرمایا اے موسیٰ متقربین میں سے میرے خوف میں گریہ کرنے والے کی طرح کسی کوتقرب نصیب نہیں ہوتا ۔عبادت گذاروں میں میرے حرام سے بچتے ہوئے عبادت کرنے والے کی مثل کوئی نہیں ۔ اورمجھے زینت دینے والوں میں دنیا کے زاہد جیسا کوئی نہیں ہے کیونکہ زاھد خود کو اس چیزسے مزین نہیں کرتے جس سے بے نیاز ہیں ۔ حضرت نے فرما یا کہ حضرت موسیٰ نے بارگاہ خداوندی میں عرض کی اے کریموں سے بڑھکر کریم ذات ان لوگوں کا کیا ثواب ہے ؟ فرمایا اے موسیٰ میرے خوف سے گریہ کرکے تقرب حاصل کرنے والے میرے ان بہترین دوستوں کیساتھ ہونگے جہاں کوئی دوسرا نہ جاسکے گا اور میرے محارم سے کنارہ کشی کرتے ہوئے میری عبادت کرنے والوں سے مجھے حیاء آتی ہے کہ میں ان کے اعمال کی تفتیش کروں اور جو دنیا کے زہد کیساتھ میرا تقرب حاصل کرتے ہیں انہیں ہر قسم کی بہشت عطا کرونگا کہ وہ جہاں چاہیں رہیں۔
 
مؤمن سے نیکی کرنے کا ثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں قیامت والے دن تم میں سے ایک مؤمن کا ایسے شخص کے نزدیک گزر ہوگا جس کے ساتھ اس کی دنیا میں شناسائی تھی اور اسے جہنم میں داخل کرنے کا حکم دیا جائے گا اور ایک فرشتہ اس ڈیوٹی پر مأمور ہوگا وہ اس سے کہے گا میری فریاد رسی کرو میں نے دنیا میں تیرے ساتھ نیکی اور حاجت روائی کی تھی کیا آج اس کا بدلہ دے سکتے ہو ؟ اس وقت مؤمن اس فرشتے سے کہے گا اسے چھوڑ دو الله مؤمن کی خواہش سنکر فرشتے سے کہے گا مؤمن کا کہا مانو اور اسے چھوڑ دو۔
 
الله کیلئے حُسن ظن کا ثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں آخری بندے کو جہنم میں لیجانے کا حکم دیا جائیگا تو وہ رخ موڑ کر پیچھے دیکھے گا خد اکہے گا اسے روکو جب اسے خدا کے حضور پیش کیا جائے گا تو خدا پوچھے گا تم رخ موڑ موڑ کر کیوں دیکھ رہے تھے ؟ وہ عرض کریگا پروردگارا تیرے متعلق مجھے یہ گمان تک نہ تھا ! خدا کہے گا اے میرے عبد میرے متعلق تیرا کیا گمان تھا ؟ وہ کہے گا خدا یا مجھے یہ گمان تھا کہ تو میری خطاؤں سے درگزر فرمائیگا اپنی جنت کو میرا مسکن بنائے گا خدا کہے گا اے میرے فرشتو ! مجھے اپنی عزت و جلالت کی قسم ،نعمتوں اور بلند مرتبوں کی قسم اس نے پوری زندگی مجھ پر اس طرح کا اچھا گمان نہیں کیا اگر پوری زندگی میں ایک مرتبہ بھی مجھ پر حسن ظن کرلیتا تو یہ جہنم کے خوف سے محفوظ رہتا اسکی دروغگوئی مان لو اور اسے جنت میں لے جاؤ اس وقت حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا جو بندہٴ خدا کے متعلق حسن ظن رکھے گا تو الله اسکے گمان کے مطابق جزا دے گا اور جو سؤ ظن کرے گا تو اسکے ساتھ اسی طرح کا سلوک ہوگا الله کے اس فرمان کا بھی یہی معنیٰ ہے کہ یہ تمھارا گمان تھا جو تم نے اپنے پروردگار کے متعلق کیا تھا اور یہ تمھارا ہی ارادہ تھا لہذا اب تم ہی گھاٹے والوں میں سے ہو۔
 
اپنے اندر نصائح خداوندی پیدا کرنے کا ثواب
(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔
جو شخص بھی اپنے اندر نصائح خداوندی کو پیدا کریگا اسے دو فائدے حاصل ہونگے یعنی اسے قانع کنندہ رزق اور نجات دھندہ رضائے خداوندی حاصل ہوگی۔
 
عقیق کی انگوٹھی پہننے کا ثواب
(۱) حضرت امام رضا (علیہ السلام) روایت کرتے ہیں کہ حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا۔
انگلی میں عقیق کی انگوٹھی پہننے والا محتاج نہ ہوگا اور اچھے طریقے سے اسکی حاجت روائی ہوگی۔
(۲) راوی کہتا ہے کہ
حاکم نے آل ِ حضرت ابی طالب (علیہ السلام) میں سے ایک شخص کو ظلم و زیادتی کرنے کی وجہ سے گرفتا ر کرکے لانے کا حکم دیا راستہ میں اسکی حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا۔ اس کے لئے عقیق کی انگوٹھی لے جائی جائے اور عقیق کی انگوٹھی اس تک پہنچائی جائے۔ اسی وجہ سے اسے حاکم کی طرف سے کسی ظلم و تعدی کا سامنا نہ کرنا پڑا۔
(۳) راوی کہتا ہے کہ حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) نے ایک شخص کو دیکھا جسے کوڑے لگائے گئے تھے فرمایا۔
انگشتر عقیق کہاں ہے ؟ اگر اس کے پاس ہوتی تو اسے کوڑے نہ لگتے۔
(۴) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا۔
عقیق سفر میں حرز ہے۔
(۵) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے آباؤ اجداد سے اور وہ حضرت امیر المؤمنین سے روایت کرتے ہیں ۔
عقیق کی انگوٹھی ہاتھ میں رکھا کرو تا کہ الله تمھیں برکت دے اور تم مصیبت و بلا سے أمن میں رہو۔
(۶) ایک شخص نے حضرت رسول خدا سے رہزنوں کی شکایت کی آپ نے فرمایا۔
تیرے پاس عقیق کی انگوٹھی کیوں نہ تھی ؟ کیونکہ عقیق انسان کی ہر بلاء سے حفاظت کرتا ہے ۔
(۷) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔
جوشخص اپنے ہاتھ میں عقیق کی انگوٹھی پہنے گا تو جبتک اسکے ہاتھ میں ہے مسلسل خوبیاں اور اچھائیاں دیکھتا رہے گا اور ہمیشہ خداوند متعال کی حفاظت میں ہوگا۔
(۸) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے آباؤ اجداد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ۔
جو شخص ﴿مُحَمَّدٌ نَبِیّ الله ِ وَ عَلیٌِّ وَلِیّ اللهِ ﴾کے نقش والی انگوٹھی بنا کر پہنے تو الله تعالیٰ اسے مرگ بد سے محفوظ رکھے گا اور وہ فطرت کے مطابق ہی مرے گا۔
(۹) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔
بارگاہ خداوندی میں (دعا کی خاطر ) اٹھنے والوں ہاتھوں میں عقیق والے ہاتھ سے بڑھکر کوئی ہاتھ خدا کو زیادہ پسند نہیں ہے۔
(۱۰) حضرت امام رضا (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔
جو شخص عقیق کیساتھ رزق حاصل کرنا چاہے تو وہ کثیر سھم پائے گا۔
(۱۱) حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) اپنے آباؤ اجداد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت امام حسین (علیہ السلام) نے فرمایا۔
جب خدا نے حضرت موسیٰ بن عمران کو پیدا کیا اور طور سینا پہاڑ پر اس سے تکلم فرمایا اور پھر زمین پر نظر کرم کی۔ اور اپنے چہرے کے نور سے عقیق کو خلق کیا ۔اس وقت فرمایا !
مجھے اپنی ذات کی قسم ! میں نے خود پر لازم قرار دیا ہے کہ جس ہتھیلی میں عقیق ہوگا اور وہ ولایت علی رکھتا ہوگا میں اسے کبھی عذاب نہیں دونگا۔
 
فیروزے کے انگوٹھی پہننے کا ثواب
(۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا
جس ہاتھ میں فیروزے کے انگوٹھی ہوگی وہ کبھی محتاج نہ ہوگا۔
(۲) راوی کہتا ہے کہ میں حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) کی زیارت کیلئے گیا میں نے حضرت کے ہاتھ میں فیروزے کی انگوٹھی دیکھی جس پر الله الملک کا نقش تھا میں دیکھتا ہی رہ گیا ۔
آپ نے فرمایا۔
تم اس پتھر کو اس طرح کیوں دیکھ رہے ہو ؟ اس پتھر کو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) جنت سے حضرت رسول خدا کے لئے ہدیہ کے طور پر لائے تھے انہوں نے حضرت علی (علیہ السلام) کو عطا کیا فرمایا۔ جانتے ہو اس کا کیانام ہے ؟ عرض کی فیروزہ فرمایا یہ اس کا فارسی نا م ہے۔ کیا اس کا عربی نام بھی جانتے ہو ؟ عرض کی نہیں۔ فرمایا اس کا عربی نا م ظفر (کامیابی) ہے۔
ثواب الاعمال

امام حسن اور یاد آخرت

امام حسنA اور یاد آخرت
آئمہ طاہرینf کی زندگی میں ایک اہم ترین پہلواور ایک اہم ترین سیرت بہت زیادہ آخرت کو یاد کرنا اور اخرت کی تیاری کرنا ہے تمام معصومینf کی سیرت میں یہ نمایاں پہلوہے کہ ہر امام بہت زیادہ آخرت کو یاد کرتے تھے اور انہوں نےکسی بھی وقت نہ آخرت کو فراموش کیا ہے نہ آخرت کی تیاری میں کوتاہی کی ہے آخرت میں نجات کےلئے بہترین اعمال اور عبادات کو انجام دینا اور خدا کی رضا اور خوشنودی اور بارگاہ خداوندی میں بہترین عبادات اور عظیم اطاعتیں خدمات اور نیکیاں اور پروردگار کی رضااور خوشنودی کے اسباب کو فراہم کرناتمام معصومین کی سیرت ہے حضرت امام مجتبیٰ­بھی اس سیرت ارو سنت کو انجام دیتے ہوئے بہت زیادہ موت کو اور آخرت کو یادکیاکرتے تھے اور قیامت کی ایک ایک جگہ اور مواقف اور عظیم مقامات کو یاد کرتے ہوئے روتےتھے اور بہترین طریقے سے زادر راہ آخرت اور بہترین اعمال اورعبادات کو انجام دینے کےلئے کوشش کرتے تھے جناب شیخ صدوقqنے اپنی کتاب امالی میں حضرت امام جعفرصادقAسے امام حسنAکی سیرت اور امام حسنAکی عظیم عبادات اور یاد آخرت کو بیان کرتے ہوئے امام صادقA کا یہ فرمان ذکر کیاہے حضرت امام جعفرصادقAنے فرمایا حسن ابن علیf اپنے زمانے میں سب سے زیادہ عبادت گزار اور سب سے خداکی عبادت کرنے والا اور دنیا میں سب سے زیادہ عبادت گزار اور سب سے زیادہ خدا کی عبادت کرنے والا اور دنیا میں سب سے زیادہ زاہد اور سب سے افضل شخصیت تھےآپ نے پچس25 مرتبہ خانہ خدا کاحج انجام دیاتھا اور جب بھی آپ حج پر تشریف لے جاتےتھے پیدل اور یابرہنہ تشریف لے جاتے تھے اور آپ موت کو یادکرکے روتے تھے اورجب بھی قبر کو یادکرتے قبرکی تاریکیوں اورظلمتوں کو وحشت اورپریشانیوں کو یادکرکے روتے تھے اورقبرسے اٹھانےکامرحلہ اورمیدان حشر میں منتشر ہونے کامرحلہ یادکرکے بہت زیادہ گریہ کرتے تھے اورپل صراط سے گزرنےکاعظیم مرحلہ یادکرکے گریہ کرتے تھے اور خداکے حضور میں قیامت کےدن پیش ہونےکےعظیم موقع کویادکرتےہوئے اس قدر فریاد کرتےتھے اور اس قدر روتے تھے عالم غشی میں چلے جاتےتھے اورآپ جب نماز کےلئے بارگاہ الہیٰمیں کھڑے ہوجاتے تھےخوف خداخشیت الہیٰمیں آپ کے اعضاء کانپتے تھے اورچہرہ متغیر ہوجاتاتھا اور پورے وجود پر خشیت الہیٰ طاری ہوجاتی تھی اور جب آپ جنت اور جہنم کو یاد کرتے تھے سانپ کے ڈسے ہوئے انسان کی طرح مضطرب ہوجاتے تھے اور روتے ہوئے رب العزت سےجنت کا تقاضا اورجہنم سے پناہ مانگتے اورآپ بہت زیادہ قرآن پڑھتے تھے اور جب اس آیت کو پڑھ لتیے}يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا{ رب العزت کی صدا پرلبیک کہتے ہوئے یہ جملہ پڑھتے تھے“لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْك‏”اس رویات کی روشنی میں موتب کو یاد کرتااور قبر کو یادکرتا اور میدان حشر کے ایک ایک مرحلے کو یادکرتے ہوئے رونا اور خدا کے حضور میں قیامت کے دن اپنے اعمال کےحساب و کتاب کےلئے کھڑےہونے کے مرحلے کو یادکرتے ہوئے رونا جہنم کے خوفناک عذاب کو یادکرتے ہوئے تڑپتا اور جہنم کی آگ سے نجات پانے کےلئے کوشش کرنا اور جنت کو پانے کی تیاری کرنا حضرت امام حسن مجتبیٰ کی سیرت میں شامل ہے امام حسنA خود جنت بانٹنے والے ہیں اور جنتیوں کے سردار ہیں آپ کی شان میں سرورکائناتG نےفرمایا ہے میرابیٹاحسن اور حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔
وَ أَمَّا الْحَسَنُ‏ وَ الْحُسَيْنُ فَهُمَا ابْنَايَ وَ رَيْحَانَتَايَ وَ هُمَا سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ.[1]
اس کےباوجود آپ نے موت قبر اور آخرت کو یادکرکے روکردنیا والوں کو یہ درس دیاہے اورپوری زندگی موت اور آخرت کو ہرگز فراموش نہیں کرناچاہئے اورپوری زندگی موت اور آخرت کی یادکرتے ہوئے بہترین تیاری اور بہترین زادراہ آخرت فراہم کرناچاہئے یہ حضرت امام حسنA کی سیرت اور زندگی کاپیام ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ رَحِمَهُ اللَّهُ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْكُوفِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ النَّخَعِيُّ عَنْ عَمِّهِ الْحُسَيْنِ بْنِ يَزِيدَ النَّوْفَلِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ عَنِ الْمُفَضَّلِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ الصَّادِقُ ع حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِيهِ ع‏ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ع كَانَ أَعْبَدَ النَّاسِ‏ فِي‏ زَمَانِهِ‏ وَ أَزْهَدَهُمْ وَ أَفْضَلَهُمْ وَ كَانَ إِذَا حَجَّ حَجَّ مَاشِياً وَ رُبَّمَا مَشَى حَافِياً وَ كَانَ إِذَا ذَكَرَ الْمَوْتَ بَكَى وَ إِذَا ذَكَرَ الْقَبْرَ بَكَى وَ إِذَا ذَكَرَ الْبَعْثَ وَ النُّشُورَ بَكَى وَ إِذَا ذَكَرَ الْمَمَرَّ عَلَى الصِّرَاطِ بَكَى وَ إِذَا ذَكَرَ الْعَرْضَ‏ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى ذِكْرُهُ شَهَقَ شَهْقَةً يُغْشَى عَلَيْهِ مِنْهَا وَ كَانَ إِذَا قَامَ فِي صَلَاتِهِ تَرْتَعِدُ فَرَائِصُهُ بَيْنَ يَدَيْ رَبِّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ كَانَ إِذَا ذَكَرَ الْجَنَّةَ وَ النَّارَ اضْطَرَبَ اضْطِرَابَ السَّلِيمِ وَ يَسْأَلُ اللَّهَ الْجَنَّةَ وَ يَعُوذُ بِهِ مِنَ النَّارِ وَ كَانَ ع لَا يَقْرَأُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ}يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا{إِلَّا قَالَ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ وَ لَمْ يُرَ فِي شَيْ‏ءٍ مِنْ أَحْوَالِهِ إِلَّا ذَاكِراً لِلَّهِ سُبْحَانَهُ وَ كَانَ أَصْدَقَ النَّاسِ لَهْجَةً وَ أَفْصَحَهُمْ مَنْطِقاً وَ لَقَدْ قِيلَ لِمُعَاوِيَةَ ذَاتَ يَوْمٍ لَوْ أَمَرْتَ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ع فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَ لِيَبِينَ لِلنَّاسِ نَقْصُهُ فَدَعَاهُ فَقَالَ لَهُ اصْعَدِ الْمِنْبَرَ وَ تَكَلَّمْ بِكَلِمَاتٍ تَعِظُنَا بِهَا فَقَامَ ع فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَ أَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ عَرَفَنِي فَقَدْ عَرَفَنِي وَ مَنْ لَمْ يَعْرِفْنِي فَأَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَ ابْنُ سَيِّدَةِ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ أَنَا ابْنُ خَيْرِ خَلْقِ اللَّهِ أَنَا ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ أَنَا ابْنُ صَاحِبِ الْفَضَائِلِ أَنَا ابْنُ صَاحِبِ الْمُعْجِزَاتِ وَ الدَّلَائِلِ أَنَا ابْنُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ أَنَا الْمَدْفُوعُ عَنْ حَقِّي أَنَا وَ أَخِي الْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَنَا ابْنُ الرُّكْنِ وَ الْمَقَامِ أَنَا ابْنُ مَكَّةَ وَ مِنًى أَنَا ابْنُ الْمَشْعَرِ وَ الْعَرَفَاتِ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ خُذْ فِي نَعْتِ الرُّطَبِ وَ دَعْ هَذَا فَقَالَ ع الرِّيحُ تَنْفُخُهُ وَ الْحَرُورُ يُنْضِجُهُ وَ الْبَرْدُ يُطَيِّبُهُ ثُمَّ عَادَ ع فِي كَلَامِهِ فَقَالَ أَنَا إِمَامُ خَلْقِ اللَّهِ وَ ابْنُ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ فَخَشِيَ مُعَاوِيَةُ أَنْ يَتَكَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ بِمَا يَفْتَتِنُ بِهِ النَّاسَ فَقَالَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ انْزِلْ فَقَدْ كَفَى مَا جَرَى فَنَزَلَ.[2]حضرت امام سجادA اور یاد آخرت
حضرت امام سجادA کا شمار ان عظیم ہستیوں میں ہے جنہوں نےپوری زندگی خداکی عبادت اور اطاعت میں گزاردی اور اس قدر آپ نے عبادت کی کہ آپ پوری کائنات کے عبادت کرنے والوں کےلئے زینت بن گئے اورتاریخ نے آپ کو زین العابدین کالقب دیااور اس قدر آپAنے سجدے کئے آپ کو رب العالمین نے سیدالساجدین کالقب دیاپوری زندگی کائنات میں آپAسجدہ کرنے والوں کےلئے سید و سردار بن گئے آپ ہمیشہ آخرت کی تیاری کرتے رہے اور بہترین زاد راہ آخرت فراہم کرتے رہے اورخالق کی بارگاہ میں لے جانے کےلئے خدا کی رضا اور خوشنودی کےلئے عظیم اعمال اور عبادات کو انجام دیتےرہے آپ نے عبادت اوربندگی میں وہ مقام پالیا اور ایسے عظیم مقام پرفائز ہوئے جہاں کوئی بھی فائز ہونہ سکا حضرت امام باقرA کافرمانہے میرے پدربزرگوار سیدالساجدین عبادت اور بندگی میں ایسے مقام پرفائز ہوئے جہاں کوئی بھی انسان پہنچ نہ سکا عبادت میں اس عظیم رتبہ اورمقام کو پالیا پوری رات جاگنے کی وجہ سے آپ کاچہرہ زرد پڑگیا تھا اور خوف خدا اور خشیت الہیٰ میں بہت زیادہ رونے کی وجہ سے آنکھیں سرخ ہوگئی تھیں اور کثرت سجود کی وجہ سے پیشانی زخمی ہوگئی تھی اور سجدے کےآثار آپ کی پیشانی پرنمایاں ہوگئے تھے اور بہت زیادہ نماز میں قیام کی وجہ سے پاؤں میں ورم آگئے تھے اور ہر رات آپ ہزار رکعت نماز اداکرتے تھے۔
وَ لَقَدْ دَخَلَ أَبُو جَعْفَرٍ ع عَلَى أَبِيهِ زَيْنِ الْعَابِدِينَ ع فَإِذَا هُوَ قَدْ بَلَغَ‏ مِنَ‏ الْعِبَادَةِ مَا لَمْ يَبْلُغْهُ أَحَدٌ فَرَآهُ قَدِ اصْفَرَّ لَوْنُهُ مِنَ السَّهَرِ وَ رَمَصَتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْبُكَاءِ[3] وَ دَبِرَتْ جَبْهَتُهُ وَ وَرِمَتْ سَاقَاهُ وَ قَدَمَاهُ مِنَ الْقِيَامِ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ أَبُو جَعْفَرٍ ع فَلَمْ أَمْلِكْ حِينَ رَأَيْتُهُ بِتِلْكَ الْحَالَةِ مِنَ الْبُكَاءِ فَبَكَيْتُ رَحْمَةً لَهُ وَ كَانَ يُفَكِّرُ فَالْتَفَتَ إِلَيَّ بَعْدَ هُنَيْئَةٍ مِنْ دُخُولِي فَقَالَ يَا بُنَيَّ أَعْطِنِي بَعْضَ تِلْكَ الصُّحُفِ الَّتِي فِيهَا عِبَادَةُ عَلِيٍّ ع فَأَعْطَيْتُهُ فَقَرَأَ فِيهَا يَسِيراً ثُمَّ تَرَكَهَا مِنْ يَدِهِ تَضَجُّراً وَ قَالَ مَنْ يَقْوَى عَلَى عِبَادَةِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ع.[4]
عَنِ الْبَاقِرِ ع‏ كَانَ أَبِي يُصَلِّي فِي الْيَوْمِ وَ اللَّيْلَةِ أَلْفَ رَكْعَةٍ وَ كَانَتِ الرِّيحُ تُمِيلُهُ بِمَنْزِلَةِ السُّنْبُلَةِ[5] وَ قَدْ بَلَغَ‏ مِنَ‏ الْعِبَادَةِ مَا لَمْ يَبْلُغْهُ أَحَدٌ وَ قَدِ اصْفَرَّ لَوْنُهُ مِنَ السَّهَرِ وَ رَمِضَتْ‏[6] عَيْنَاهُ مِنَ الْبُكَاءِ وَ دَبِرَتْ‏[7] جَبْهَتُهُ وَ انْخَرَمَ‏[8] أَنْفُهُ مِنَ السُّجُودِ وَ وَرِمَتْ‏ سَاقَاهُ وَ قَدَمَاهُ مِنَ الْقِيَامِ فِي الصَّلَاةِ فَبَكَيْتُ حِينَ رَأَيْتُهُ بِتِلْكَ الْحَالِ فَالْتَفَتَ إِلَيَّ وَ قَالَ يَا بُنَيَّ أَعْطِنِي بَعْضَ الصُّحُفِ الَّتِي فِيهَا عِبَادَةُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَأَعْطَيْتُهُ فَقَرَأَ فِيهَا يَسِيراً[9] ثُمَّ تَرَكَهَا وَ قَالَ مَنْ يَقْوَى عَلَى عِبَادَةِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ ع‏[10].[11]سیرت امام سجادA میں آخرت کی بہترین تیاری
آخرت کےلئے تیاری کا بہترین طریقہ جس کے ذریعہ سے بندہ خداسے قریب ہوتاہے اور تمام گناہوں کی مغفرت ہوتی ہے اور روایات کی روشنی میں بندگی کی معراج ہے وکثرت السجود ہے بہت زیادہ سجدہ کرنا سجدوں کو طول دینااور خداکی عظیم نعمتوں کو یادکرتے ہوئے سجدہ شکر کرنااورپھر سجدے میں اپنے گناہوں کو یادکرتےہوئے رونا اورگڑگڑانا یہ آخرت کی بہترین تیاری اورخدا کی رضا اورخوشنودی میں موثر ترین عبادت ہے حضرت امام سجادA نے پوری کائنات میں سب سے زیادہ عبادت کو انجام دیا ہے اسی وجہ سے آپA کو سیدالساجدین کہاجاتاہے اورآپ کو قیامت کے دن زین العابدین اور سیدالساجدین کےلقب سے پکارا جائےگا سرورکائناتGکافرمان ہے قیامت کے دن عرش الہیٰ سےندا آئے گی کہاں ہے وہ ہستی جوتمام عبادت گزاروں کی زینت ہے اس آواز پرلبیک کہتے ہوئے خداکے حضور میں صرف میرابیٹا علی ابن الحسینfتمام اہل محشر کی صفوں سے نکل کر خداکی بارگاہ میں پہنچے گے۔
ایک اور روایت میں حضرت امام سجادAکےسجدوں کاذکرکرتے ہوئے امام محمدباقرA نےفرمایا میرے پدربزرگوار اس قدر سجدے کرتےتھے تمام اعضاء سجودپر سجدے کے آثار نمایاں ہوگئے تھے اور سال میں دومرتبہ پیشانی کے گھٹے کٹواتےتھے اور اسی وجہ سے آپ کا ایک لقب ذوالثفنان تھا امام سجادAکی پیشانی کثرت سجود کی وجہ سے زانوء شتر کی طرح سخت ہوگئی تھی میرے پدربزگوار بہتت سارے مواقع پر سجدہ کیاکرتے تھے جب خداکی دی ہوئی نعمتوں کویادکرتے تھے تو سجدہ کیا کرتے تھے جب خدا کی دی ہوئی نعمتوں کویادکرتے تھے تو سجدہ کیاکرتے تھے جب کوئی پریشانی ٹل جائےتو سجدہ کیاکرتے تھے اور ہرکامیابی پرسجدہ کیاکرتےتھے  اور ہر نماز سے فارغ ہونے کےبعد سجدہ شکر انجام دیتے تھے اوربہت زیادہ سجدہ انجام دینے کی وجہ سے آپ کو سجاد کہاگیاہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ سِمْعَانَ التَّمِيمِيُّ الْخَرْقَانِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَكِّيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ الْأُطْرُوشُ الْحَرَّانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ زِيَادٍ أَبُو سعيد الشوني [شُعَيْبٍ السُّوسِيُ‏] قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ السُّكَّرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَعْنٍ الْأَوْدِيُّ قَالَ‏حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ سُلَيْمٍ قَالَ: كَانَ الزُّهْرِيُّ إِذَا حَدَّثَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ع قَالَ حَدَّثَنِي زَيْنُ الْعَابِدِينَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ فَقَالَ لَهُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ وَ لِمَ تَقُولُ لَهُ زَيْنُ الْعَابِدِينَ قَالَ لِأَنِّي سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ص قَالَ إِذَا كَانَ‏ يَوْمُ‏ الْقِيَامَةِ يُنَادِي‏ مُنَادٍ أَيْنَ زَيْنُ الْعَابِدِينَ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَلَدِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ يَخْطُو بَيْنَ الصُّفُوفِ.[12]
وَ عَنْهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَعْقُوبَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي عَلِيٍّ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُوسَى بْنِ جَعْفَرٍ ع عَنْ أَبِيهِ عَنْ آبَائِهِ عَنِ الْبَاقِرِ ع قَالَ: كَانَ لِأَبِي ع فِي مَوْضِعِ سُجُودِهِ آثَارٌ نَاتِئَةٌ وَ كَانَ يَقْطَعُهَا فِي السَّنَةِ مَرَّتَيْنِ فِي كُلِّ مَرَّةٍ خَمْسَ ثَفِنَاتٍ فَسُمِّيَ‏ ذَا الثَّفِنَاتِ‏ لِذَلِكَ‏.[13]
حضرت امام جعفرصادقA امام سجادAکی عبادت اوربندگی رازو نیاز مناجات اورکثرت سجود کوبیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں علی ابن الحسینAنہایت عظیم عبادت کےمالک تھے عبادت اوربندگی میں بہت زیادہ کوشش کرتےتھے راتوں کو مناجات کرتے ہوئے اور جاگتے ہوئے نماز میں اور سجدوں میں شب بیداری کرتے تھے اور دن کو روزہ رکھاکرتے تھے قائم الیل و صائم النہار تھے یہاں تک کہ کثرت عبادت اوربندگی کی وجہ سے آپ کا بدن نہایت ضعیف اور نحیف ہوگیاتھا۔
المناقب لابن شهرآشوب وَ مِمَّا جَاءَ فِي صَوْمِهِ وَ حَجِّهِ ع مُعَتِّب‏ عَنِ الصَّادِقِ ع قَالَ: كَانَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ ع شَدِيدَ الِاجْتِهَادِ فِي‏ الْعِبَادَةِ نَهَارُهُ صَائِمٌ وَ لَيْلُهُ قَائِمٌ فَأَضَرَّ ذَلِكَ بِجِسْمِهِ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَهْ كَمْ هَذَا الدُّءُوبُ‏[14] فَقَالَ أَتَحَبَّبُ إِلَى رَبِّي لَعَلَّهُ يُزْلِفُنِي.[15]امام سجادA کی مناجات
آخرت کو یاد کرتے ہوئے سحر کے وقت خانہ خدا میں امام سجادA کی مناجات، رات کی تاریکی میں جب لوگ سوجاتے تھے تو مناجات کےلئے اٹھتے تھے اور خانہ کعبہ میں تشریف لاتے تھے اور بارگاہ الہیٰ میں نماز شب اداکرنے کےبعد خوف خدا میں اور یاد آخرت میں گڑگڑاتے تھے جناب طاؤس یمانی کی روایت ہے میں رات کی تاریکی میں اٹھا اور خانہ کعبہ میں نماز شب کےلئے آیاتومیرے کانوں سے یہ آواز ٹکرائی جس میں یہ جملہ موجودتھے خدایا آسمان کے ستارے نمایاں ہوچکے ہیں اورتمام بندے سوچکے ہیں اور بادشاہوں نے اپنے دروازے بندکردئے ہیں اور دروازوں پرمحافظ بیٹھا دئیے ہیں اورتیرا دروازہ سائلین کےلئے کھلا ہواہے تاکہ لوگ تجھ سے مناجات کریں اور تیر ی رحمت اور مغفرت کو طلب کریں پروردگار میں تیرے در رحمت پرآیاہوں تاکہ تجھ سے مغفرت اور رحمت کا تقاضا کروں پروردگارا قیامت کےدن مجھے میرے جدی کی زیارت کرادے اور تیرے ہولناگ عذاب سے مجھے نجات عطاکردے اور میں تیرے دامن رحمت کو تھام لیتاہوں میں جب قریب ہو تو دیکھا کہ امام سجاد اس مناجات کو پکار رہے ہیں اور رور رہے ہیں اور آنکھوں سےآنسوبارش کے قطرات کی طرح ٹپک رہے ہیں حضرت امام سجادA کی آہ وزاری اور عبادت اورمناجات کی حالت کو جب میں نے مشاہدہ کیا میں نے عرض کیا اے میرے آقا اے فرزندرسول آپ کس قدر رورہے ہیں اور بارگاہ الہیٰ میں مناجات کررہے ہیں اس انداز سے ہمیں رونااورگریہ کرنا چاہئے ہم گناہ گار اور خطاکار ہیں آپ کے جدرسول اللہG ہیں اور ماں فاطمہ زہراBہے اور آپ کا بابا حسین ابن علی سید الشہدا Aہے امام Aنے جواب دیا اے طاؤس تم میرے نانا اور میرے بابااور فاطمہ زہراکی بات نہ کرو قیامت کے دن ہر انسان کو اس کے اعمال اور عبادت کے مطابق جزاء اورپاداش دی جائے گی خدانے جنت کو خلق کیاہے اطاعت اور احسان کرنےوالوں کےلئے اگرچہ غلام حبشی ہی کیوں نہ ہو اور پروردگار نے جہنم کو خلق کیاہےت معصیت کار اور گنہگاروں کےلئے اگرچہ یہ گنہگار سیداور قریشی ہی کیوں نہ ہوں کیاتم نے قرآن پاک کی آیت نہیں سنی قیامت کے دن ساری رشتہ داریاں ختم ہوجائیں گی کوئی رشتہ دار کسی کے کام نہیں آئے گا نجات کا معیار صرف عبادت اوربندگی ہے خدا کی اعطاعت ہی قیامت کےدن ضامن نجات ہے پھر آپAنے قسم کھاکر فرمایا اے طاؤس قسم بخدا قیامت کے دن تمہیں کوئی چیز کام نہیں آئے گی مگر وہ نیکیاں جوتم دنیا میں انجام دے چکے ہو اور وہ بہترین اعمال جوتم نے آخرت کی طرف بارگاہ الہیٰ میں بھیچ دئیے ہیں یہ تمہار نجات کا وسیلہ ہے۔
الْأَصْمَعِيُ‏ كُنْتُ أَطُوفُ حَوْلَ الْكَعْبَةِ لَيْلَةً فَإِذَا شَابٌّ ظَرِيفُ الشَّمَائِلِ وَ عَلَيْهِ ذُؤَابَتَانِ وَ هُوَ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ وَ يَقُولُ نَامَتِ الْعُيُونُ وَ عَلَتِ النُّجُومُ وَ أَنْتَ الْمَلِكُ الْحَيُّ الْقَيُّومُ غَلَّقَتِ الْمُلُوكُ أَبْوَابَهَا وَ أَقَامَتْ عَلَيْهَا حُرَّاسَهَا وَ بَابُكَ مَفْتُوحٌ لِلسَّائِلِينَ جِئْتُكَ لِتَنْظُرَ إِلَيَّ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ ثُمَّ أَنْشَأَ يَقُولُ‏
يَا مَنْ يُجِيبُ دُعَا الْمُضْطَرِّ فِي الظُّلَمِ‏ 
يَا كَاشِفَ الضُّرِّ وَ الْبَلْوَى مَعَ السَّقَمِ‏   
قَدْ نَامَ وَفْدُكَ حَوْلَ الْبَيْتِ قَاطِبَةً 
وَ أَنْتَ وَحْـدَكَ يَا قَيُّومُ لَمْ تَنَمِ‏
أَدْعُوكَ رَبِّ دُعَاءً قَدْ أَمَرْتَ بِهِ‏ 
فَارْحَمْ بُكَائِي بِحَقِّ الْبَيْتِ وَ الْحَرَمِ‏
إِنْ كَانَ عَفْوُكَ لَا يَرْجُوهُ ذُو سَرَفٍ‏ 
فَمَنْ يَجُودُ عَلَى الْعَاصِينَ بِالنِّعَمِ‏   
قَالَ فَاقْتَفَيْتُهُ فَإِذَا هُوَ زَيْنُ الْعَابِدِينَ ع.
طَاوُسٌ الْفَقِيهُ‏ رَأَيْتُهُ يَطُوفُ مِنَ الْعِشَاءِ إِلَى السَّحَرِ وَ يَتَعَبَّدُ فَلَمَّا لَمْ يَرَ أَحَداً رَمِقَ السَّمَاءَ بِطَرْفِهِ‏[16]وَ قَالَ إِلَهِي غَارَتْ نُجُومُ سَمَاوَاتِكَ وَ هَجَعَتْ عُيُونُ أَنَامِكَ وَ أَبْوَابُكَ مُفَتَّحَاتٌ لِلسَّائِلِينَ جِئْتُكَ لِتَغْفِرَ لِي وَ تَرْحَمَنِي وَ تُرِيَنِي وَجْهَ جَدِّي مُحَمَّدٍ ص فِي عَرَصَاتِ الْقِيَامَةِ ثُمَّ بَكَى وَ قَالَ وَ عِزَّتِكَ وَ جَلَالِكَ مَا أَرَدْتُ بِمَعْصِيَتِي مُخَالَفَتَكَ وَ مَا عَصَيْتُكَ إِذْ عَصَيْتُكَ وَ أَنَا بِكَ شَاكٌّ وَ لَا بِنَكَالِكَ جَاهِلٌ وَ لَا لِعُقُوبَتِكَ مُتَعَرِّضٌ وَ لَكِنْ سَوَّلَتْ لِي نَفْسِي وَ أَعَانَنِي عَلَى ذَلِكَ سِتْرُكَ الْمُرْخَى بِهِ عَلَيَّ فَأَنَا الْآنَ مِنْ عَذَابِكَ مَنْ يَسْتَنْقِذُنِي وَ بِحَبْلِ مَنْ أَعْتَصِمُ إِنْ قَطَعْتَ حَبْلَكَ عَنِّي فَوَا سَوْأَتَاهْ غَداً مِنَ الْوُقُوفِ بَيْنَ يَدَيْكَ إِذَا قِيلَ لِلْمُخِفِّينَ جُوزُوا وَ لِلْمُثْقِلِينَ حَطُّوا أَ مَعَ الْمُخِفِّينَ أَجُوزُ أَمْ مَعَ الْمُثْقِلِينَ أَحُطُّ وَيْلِي كُلَّمَا طَالَ عُمُرِي كَثُرَتْ خَطَايَايَ وَ لَمْ أَتُبْ أَ مَا آنَ لِي أَنْ أَسْتَحِيَ مِنْ رَبِّي ثُمَّ بَكَى ثُمَّ أَنْشَأَ يَقُولُ‏
أَ تُحْرِقُنِي بِالنَّارِ يَا غَايَةَ الْمُنَى‏ 
فَأَيْـنَ رَجَــائِي ثُمَّ أَيْنَ مَـحَبَّتِي‏
أَتَـيْـتُ بِأَعْــمَــالٍ قِـبـَاحٍ رَدِيَّــةٍ 
وَ مَا فِي الْوَرَى خَلْقٌ جَنَى كَجِنَايَتِي‏   
ثُمَّ بَكَى وَ قَالَ سُبْحَانَكَ تُعْصَى كَأَنَّكَ لَا تُرَى وَ تَحْلُمُ كَأَنَّكَ لَمْ تُعْصَ تَتَوَدَّدُ إِلَى خَلْقِكَ بِحُسْنِ الصَّنِيعِ كَأَنَّ بِكَ الْحَاجَةَ إِلَيْهِمْ وَ أَنْتَ يَا سَيِّدِي الْغَنِيُّ عَنْهُمْ ثُمَّ خَرَّ إِلَى الْأَرْضِ سَاجِداً فَدَنَوْتُ مِنْهُ وَ شِلْتُ رَأْسَهُ وَ وَضَعْتُهُ عَلَى رُكْبَتَيَّ وَ بَكَيْتُ حَتَّى جَرَتْ دُمُوعِي عَلَى خَدِّهِ فَاسْتَوَى جَالِساً وَ قَالَ مَنْ ذَا الَّذِي أَشْغَلَنِي عَنْ ذِكْرِ رَبِّي فَقُلْتُ أَنَا طَاوُسٌ‏ يَا ابْنَ‏ رَسُولِ‏ اللَّهِ‏ مَا هَذَا الْجَزَعُ وَ الْفَزَعُ وَ نَحْنُ يَلْزَمُنَا أَنْ نَفْعَلَ مِثْلَ هَذَا وَ نَحْنُ عَاصُونَ جَافُونَ أَبُوكَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ وَ أُمُّكَ فَاطِمَةُ الزَّهْرَاءُ وَ جَدُّكَ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ فَالْتَفَتَ إِلَيَّ وَ قَالَ هَيْهَاتَ هَيْهَاتَ يَا طَاوُسُ دَعْ عَنِّي حَدِيثَ أَبِي وَ أُمِّي وَ جَدِّي خَلَقَ اللَّهُ الْجَنَّةَ لِمَنْ أَطَاعَهُ وَ أَحْسَنَ وَ لَوْ كَانَ عَبْداً حَبَشِيّاً وَ خَلَقَ النَّارَ لِمَنْ عَصَاهُ وَ لَوْ كَانَ قُرَشِيّاً أَ مَا سَمِعْتَ قَوْلَهُ تَعَالَى}فَإِذا نُفِخَ فِي الصُّورِ فَلا أَنْسابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَ لا يَتَساءَلُونَ‏{وَ اللَّهِ لَا يَنْفَعُكَ غَداً إِلَّا تَقْدِمَةٌ تُقَدِّمُهَا مِنْ عَمَلٍ صَالِحٍ.[17]
امام سجادAمقام مناجات میں موت کی سختیوں کو اور قبر کی تاریکی کو اورقیامت کی سختیوں کو اور ان تمام مقامات میں انسان کی بے بسی اور عاجزی کو بیان کرتے ہوئے اور رب العزت کی بارگاہ میں موت سے لیکر جنت تک تمام خوفناک منازل میں بارگاہ الہیٰ میں نجات طلب کرتے ہوئے اور بارگاہ الہیٰمیں خداکی عنایت اور رحمتوں کاتقاضا کرتےہوئے دعا مانگتے ہیں میرے پروردگار دنیا میں میری غربت پر اور موت کے وقت میری پریشانی پراور قبرمیں میری تنہائی پر اور لحد میں میری  وحشت پر اور مقام حساب میں میری بے بسی پررحم فرما اور مجھے اپنی رحمت کےسائے میں جگہ عطافرما اورمیری لغزشوں اورخطاؤں کو جن سے تو آگاہ ہے مجھے بخش دے اور جب میں جان کنی کے وقت بستر موت پر تڑپ رہاہوں گا اور میرے عزیز واقارب سب بے بس ہونگے پروردگار جب مجھے غسل دیاجارہاہوگا اور میراجنازہ اٹھاکے لےجایاجارہاہوگا اورمجھے اکیلا قبرمیں لٹائیں گےاور اس تاریک اور وحشت ناک منزل پرتیرےعلاوہ کوئی نہیں جو مجھ پر رحم کرے اور میرا انیس اور غم­خوار بنے اس طریقے سے امام سجادA موت اور آخرت کویادکیاہے اور ہمیں ان وحشت ناک منازل کو یادکرنے کاحکم دیاہے۔
...ارْحَمْ‏ فِي‏ هَذِهِ‏ الدُّنْيَا غُرْبَتِي وَ عِنْدَ الْمَوْتِ كُرْبَتِي وَ فِي الْقَبْرِ وَحْدَتِي وَ فِي اللَّحْدِ وَحْشَتِي وَ إِذَا نُشِرْتُ لِلْحِسَابِ بَيْنَ يَدَيْكَ ذُلَّ مَوْقِفِي وَ اغْفِرْ لِي مَا خَفِيَ عَلَى الْآدَمِيِّينَ مِنْ عَمَلِي وَ أَدِمْ لِي مَا بِهِ سَتَرْتَنِي وَ ارْحَمْنِي صَرِيعاً عَلَى الْفِرَاشِ تُقَلِّبُنِي أَيْدِي أَحِبَّتِي وَ تَفَضَّلْ عَلَيَّ مَمْدُوداً عَلَى الْمُغْتَسَلِ يُغَسِّلُنِي صَالِحُ جِيرَتِي وَ تَحَنَّنْ عَلَيَّ مَحْمُولًا قَدْ تَنَاوَلَ الْأَقْرِبَاءُ أَطْرَافَ جَنَازَتِي وَ جُدْ عَلَيَّ مَنْقُولًا قَدْ نَزَلْتُ بِكَ وَحِيداً فِي حُفْرَتِي وَ ارْحَمْ فِي ذَلِكَ الْبَيْتِ‏ الْجَدِيدِ غُرْبَتِي حَتَّى لَا أَسْتَأْنِسَ بِغَيْرِكَ...[18]
دعا ابی  حمزہ ثمال میں حضرت امام سجادAتین اہم مقامات کو یادکرتے ہیں اور بارگاہ الہی ٰمیں روتے ہیں اور دنیاوالوں کو یہ پیغام دیتے ہیں ان تین مقامات کو یادکرکے ہمیشہ رونا چاہئے اور یہ تین اہم مقامات ہمیشہ ہرانسان کی نگاہوں کےسامنےم ہونے چاہئے اور انہی خوفناک مقامات کی پوری زندگی تیاری کرنی چاہئے ان تین مقامات میں سے جن کوامام سجادAیادکرکے ہمیشہ روتے تھے وہ یہ ہیں:
1-موت کا مقام:امام سجادAنےفرمایا:پروردگارا میں اس وقت کو یادکرکے روتاہوں جس وقت میری روح نکل رہی ہوگی اور میں موت کےہاتھوں مجبور بے بس ہوچکاہوں گا۔
2-میں قبرکی تاریکی اورلحد کی تنگی اورمنکر و نکیرکے سوال کو یادکرکے روتاہوں۔
3-میدان حشر کی اس منزل کو یادکرکے روتاہوں جہاں ہر انسان حیران اور پریشان ہوگا اور ہر انسان اپنی پریشانی میں اس قدر گھراہواہوگا کوئی کسی کےلئے سوچ بھی نہیں سکے گا اور کچھ لوگ بہترین اعمال وعبادات کی وجہ سے خوشحال اورخندان ہوں گے اور ان کو جنت کی بشارت ملی چکی ہوگی اور کچھ لوگ اس قدر پریشان اور ذلیل وخوار ہوں گے ذلت وخواری کے آثار چہروں سے آشکار ہوں گے پروردگارا اس خوفناک دن میں میری پناہ گاہ تیری ذات ہے اور میری امید اور توکل وبھروسہ تیری بے  پناہ رحمت ہے اگر اس دن کوئی نجات پائے تو اس کی وجہ تیری رحمت اور خاص عنایت ہے جس کامیں امیدوار ہوں۔
...وَ قَدْ خَفَقَتْ عِنْدَ[19]رَأْسِي أَجْنِحَةُ الْمَوْتِ‏ فَمَا لِي لَا أَبْكِي أَبْكِي لِخُرُوجِ نَفْسِي أَبْكِي لِظُلْمَةِ قَبْرِي أَبْكِي لِضِيقِ لَحْدِي أَبْكِي لِسُؤَالِ مُنْكَرٍ وَ نَكِيرٍ إِيَّايَ أَبْكِي لِخُرُوجِي مِنْ قَبْرِي عُرْيَاناً ذَلِيلًا حَامِلًا ثِقْلِي عَلَى ظَهْرِي أَنْظُرُ مَرَّةً عَنْ يَمِينِي وَ أُخْرَى عَنْ شِمَالِي إِذِ الْخَلَائِقُ فِي شَأْنٍ غَيْرِ شَأْنِي}لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُسْفِرَةٌ ضاحِكَةٌ مُسْتَبْشِرَةٌ وَ وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ عَلَيْها غَبَرَةٌ تَرْهَقُها قَتَرَةٌ{وَ ذِلَّةٌ[20]سَيِّدِي عَلَيْكَ مُعَوَّلِي وَ مُعْتَمَدِي وَ رَجَائِي وَ تَوَكُّلِي وَ بِرَحْمَتِك‏...[21]حضرت امام سجادA کی خدمت خلق اور آخرت کی تیاری
قیامت کے دن انسانوں کی نجات کےلئے اور خدا کی رضا اور خوشنودی کےلئے ایک عظیم عبادت خدمت خلق محروم انسانوں کی سرپرستی اور غریب انسانوں کی مدد اور مجبور انسانوں کی زندگی میں سہارا بننااور ان کی مشکلات کو حل کرنا ہے وہ لوگ­جو زندگی میں لوگوں کی مشکلات کو دور کرتے ہیں اور ان کو تمام سختیوں اورپریشانیوں سےنجات دیتےہیں خداوندمتعالیٰ ایسے لوگوں کو دنیااور آخرت دونوں کی  پریشانیوں سےنجات عطاکرتاہے حضرت امام حسینAکافرمان ہے جوشخص کسی مؤمن کی پریشانی کو دور کرے اورغم واندوہ سے اس کو نجات عطاکرے اللہ تعالیٰ اس شخص کو دنیااور آخرت دونوں کی پریشانیوں سے نجات عطاکرتاہے۔
عَلِيُّ بْنُ عِيسَى فِي كَشْفِ الْغُمَّةِ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ع أَنَّهُ قَالَ فِي خُطْبَةٍ لَهُ: وَ مَنْ‏ نَفَّسَ‏ كُرْبَةَ مُؤْمِنٍ فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ كُرَبَ الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ.[22]
حضرت امام سجادAنےپوری زندگی خدمت خلق کرتے ہوئے محروم انسانوں کی سرپرستی کرتےہوئے یتیموں کی کفالت اور رات کی تاریکیوں میں فقیروں کی گھروں پر ان کی زندگی کی ضروریات پہنجاتے ہوئے اور تمام  مشکلات میں گھرے ہوئے انسانوں کو نجات دیتے ہوئے زندگی گزاری ہے حضرت امام محمدباقرA کافرمان ہے حضرت امام سجادAمدینے میں سوگھروں کی کفالت اور سرپرستی کرتے تھے اور رات کی تاریکی میں ان کی ضروریات کو پہنچاتے تھے اور معذور اورنابینااور زمین گیر انسانوں کو خود اپنے ہاتھ سے کھانا کھلاتے تھے اور آپ ہمیشہ کھاناکھانے سے پہلے غریبوں کےحصے کو جداکرلیتے تھے اور غربیوں کی خدمت اور رسیدگی اور ان کو کھانا کھلانا بہت پسندیدہ عبادت قراردیتے تھے۔
حُمْرَانُ بْنُ أَعْيَنَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع‏ أَنَّهُ كَانَ يَعُولُ مِائَةَ بَيْتٍ مِنْ فُقَرَاءِ الْمَدِينَةِ وَ كَانَ يُعْجِبُهُ أَنْ يَحْضُرَ طَعَامَهُ الْيَتَامَى وَ الْأَضِرَّاءُ وَ الزَّمْنَى وَ الْمَسَاكِينُ الَّذِينَ لَا حِيلَةَ لَهُمْ وَ كَانَ يُنَاوِلُهُمْ بِيَدِهِ وَ مَنْ كَانَ مِنْهُمْ لَهُ عِيَالٌ حَمَلَهُ إِلَى عِيَالِهِ مِنْ‏ طَعَامِهِ‏ وَ كَانَ لَا يَأْكُلُ طَعَاماً حَتَّى يَبْدَأَ فَيَتَصَدَّقَ بِهِ.[23]
ابن زہری جوکہ امام سجادAکےشاگردوں اور علمائے اہل سنت کے بزرگان میں سے ہے کہتے ہیں میں نے ایک رات حضرت امام سجادAسے ملاقات کی بہت تاریک تھی انتہائی سرد اور بارش بھی ہورہی تھی امام سجادAکو دیکھا پشت پرکچھ چیزوں کو اٹھایاہواہے اور کہیں جارہے ہیں میں نے امامA سے سوال کیاکہ کیا کہیں سفر کاارادہ رکھتاہوں اور یہ جوپشت پراٹھارکھاہے یہ سامان سفرہے لیکن جس سفرکامیں ارادہ رکھتاہوں اور جس کےلئے میں تیاری کررہاہوں اور ذاد راہ سفر فراہم کررہاہوں یہ دنیاوی سفر نہیں ہے میں سفر آخرت کا ارادہ رکھتاہوں اور اس سفر کے لئے تیاری کررہاہوں اور اس سفر کےلئے بہترین تیاری گناہوں سے دوری اختیار کرنااور غریبوں کی خدمت کرناہے نیکی اور خدمت سفرآخرت کی بہترین تیاری ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْأَسْتَرْآبَادِيُّ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ: رَأَى الزُّهْرِيُّ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ لَيْلَةً بَارِدَةً مَطِيرَةً وَ عَلَى ظَهْرِهِ دَقِيقٌ وَ حَطَبٌ وَ هُوَ يَمْشِي فَقَالَ لَهُ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ مَا هَذَا قَالَ أُرِيدُ سَفَراً أُعِدُّ لَهُ زَاداً أَحْمِلُهُ إِلَى مَوْضِعٍ حَرِيزٍ فَقَالَ الزُّهْرِيُّ فَهَذَا غُلَامِي يَحْمِلُهُ عَنْكَ فَأَبَى قَالَ أَنَا أَحْمِلُهُ عَنْكَ فَإِنِّي أَرْفَعُكَ عَنْ حَمْلِهِ فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ لَكِنِّي لَا أَرْفَعُ نَفْسِي عَمَّا يُنْجِينِي فِي سَفَرِي وَ يُحْسِنُ وُرُودِي عَلَى مَا أَرِدُ عَلَيْهِ أَسْأَلُكَ بِحَقِّ اللَّهِ لَمَّا مَضَيْتَ لِحَاجَتِكَ وَ تَرَكْتَنِي فَانْصَرَفْتُ عَنْهُ فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ أَيَّامٍ قُلْتُ لَهُ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ لَسْتُ أَرَى لِذَلِكَ السَّفَرِ الَّذِي ذَكَرْتَهُ أَثَراً قَالَ بَلَى يَا زُهْرِيُّ لَيْسَ مَا ظَنَنْتَهُ وَ لَكِنَّهُ الْمَوْتُ وَ لَهُ كُنْتُ أَسْتَعِدُّ إِنَّمَا الِاسْتِعْدَادُ لِلْمَوْتِ‏ تَجَنُّبُ الْحَرَامِ وَ بَذْلُ النَّدَى وَ الْخَيْرِ.[24]عزاداری امام سجادA اور آخرت کی تیاری
ایک عظیم عبادت جو انسان کی نجات میں اور خداکی رضا اور خوشنودی میں بہت زیادہ موثرہے اورقیامت میں انسانوں کی نجات کی ضمانت اور دین کی بقاکاراز ہے وہ مظلوم کربلا کی عزارداری ہے غم حسینAمیں روتے رہنا اور مصائب کربلا کو بیان کرنااور زندگی بھر غم حسین میں روتے رہنا اور حسینA کی مظلومیت اورغربت کو بیان کرتے رہنا یہ امام سجادA کی عظیم سیرت کا حصہ ہے واقعہ کربلا کےبعد حضرت امام سجادAلوگوں کو مصائب کربلا سے اور مظلوم کربلا کی غربت اور شہادت کو زندگی بھر بیان کرتے رہے ورتے رہے اور رلاتے رہے اور جب بھی آپ کےسامنے پانی لاتے تو امام حسینAکی تشنگی کو یادکرکے روتے اوریہ جملہ فرماتے تھے میں کیوں  نہ روؤں میرے باباکی تشنگی کویادکرکے وہ دریا جس سے وحشی طیور تمام حیوانات سیراب ہورہے تھے اور میرےبابا کو اس پانی سے محروم کیاگیا او رتشنہ اور پیاسے شہید کیاگیا۔
الصَّادِقُ ع‏ بَكَى عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ عِشْرِينَ سَنَةً وَ مَا وُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهِ طَعَامٌ إِلَّا بَكَى حَتَّى قَالَ مَوْلًى لَهُ جُعِلْتُ فِدَاكَ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ إِنِّي‏أَخَافُأَنْ‏ }تَكُونَ مِنَ الْهالِكِينَ قالَ إِنَّما أَشْكُوا بَثِّي وَ حُزْنِي إِلَى اللَّهِ وَ أَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ ما لا تَعْلَمُونَ{ إِنِّي لَمْ أَذْكُرْ مَصْرَعَ بَنِي فَاطِمَةَ إِلَّا خَنَقَتْنِي الْعَبْرَةُ وَ فِي رِوَايَةٍ أَ مَا آنَ لِحُزْنِكَ أَنْ يَنْقَضِيَ فَقَالَ لَهُ وَيْحَكَ إِنَّ يَعْقُوبَ النَّبِيَّ كَانَ لَهُ اثْنَا عَشَرَ ابْناً فَغَيَّبَ اللَّهُ وَاحِداً مِنْهُمْ }فَابْيَضَّتْ عَيْناهُ‏{ مِنْ كَثْرَةِ بُكَائِهِ عَلَيْهِ وَ احْدَوْدَبَ‏[25] ظَهْرُهُ مِنَ الْغَمِّ وَ كَانَ ابْنُهُ حَيّاً فِي الدُّنْيَا وَ أَنَا نَظَرْتُ إِلَى أَبِي وَ أَخِي وَ عَمِّي وَ سَبْعَةَ عَشَرَ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي مَقْتُولِينَ حَوْلِي فَكَيْفَ يَنْقَضِي حُزْنِي وَ قَدْ ذَكَرَ فِي الْحِلْيَةِ نَحْوَهُ- وَ قِيلَ إِنَّهُ بَكَى حَتَّى خِيفَ عَلَى عَيْنَيْهِ.
وَ كَانَ إِذَا أَخَذَ إِنَاءً يَشْرَبُ مَاءً بَكَى حَتَّى يَمْلَأَهَا دَمْعاً فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ فَقَالَ وَ كَيْفَ‏ لَا أَبْكِي‏ وَ قَدْ مُنِعَ أَبِي مِنَ الْمَاءِ الَّذِي كَانَ مُطْلَقاً لِلسِّبَاعِ وَ الْوُحُوشِ.[26]
ان روایات کی روشنی میں جوشخص امام سجادAکی سیرت کو اپنانا چاہئے اور قیامت کے دن آل محمدf کےساتھ محشور ہوناچاہئے او رحضورGاورآئمہ طاہرینfکی روز جزاء شفاعت پانا چاہیں وہ عبادت اور بندگی کے ساتھ  ہی ساتھ اور فرائض اور واجبات کو انجام دیتے ہوئے مظلوم کربلا کی عزاداری کو اپنی زندگی کاحصہ قراردیں اور غم حسین ابن علی میں فرش عزا بچھاتے رہیں مجلس امام حسینAزیارت امام حسینA اور عزاداری امام حسینA کوبہت زیادہ اہمیت دیں سرورکائناتGنے مظلوم کربلا کے عزاداروں کو نجات اورشفاعت کی خوشخبری دی ہے اور فرمایا قیامت کے دن ہر آنکھ اپنےگناہوں اور خطاؤں پرگریہ کرےگی اور پریشان حال ہوگی سوائے ان آنکھوں کے جوغم حسین میں روتی رہیں اور عزاداری کرتی رہیں قیامت کے دن یہ آنکھیں خوشحال ہوں گی اور ان کو جنت کی بشارت مل چکی ہوگی اور قیامت کے دن میری اور میری بیٹی کی شفاعت پائیں گے۔
أَقُولُ رَأَيْتُ فِي بَعْضِ تَأْلِيفَاتِ بَعْضِ الثِّقَاتِ مِنَ الْمُعَاصِرِينَ‏ رُوِيَ أَنَّهُ لَمَّا أَخْبَرَ النَّبِيُّ ص ابْنَتَهُ فَاطِمَةَ بِقَتْلِ وَلَدِهَا الْحُسَيْنِ وَ مَا يَجْرِي عَلَيْهِ مِنَ الْمِحَنِ‏ بَكَتْ فَاطِمَةُ بُكَاءً شَدِيداً وَ قَالَتْ يَا أَبَهْ مَتَى يَكُونُ ذَلِكَ قَالَ فِي زَمَانٍ خَالٍ مِنِّي وَ مِنْكِ وَ مِنْ عَلِيٍّ فَاشْتَدَّ بُكَاؤُهَا وَ قَالَتْ يَا أَبَهْ فَمَنْ يَبْكِي عَلَيْهِ وَ مَنْ يَلْتَزِمُ بِإِقَامَةِ الْعَزَاءِ لَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ يَا فَاطِمَةُ إِنَّ نِسَاءَ أُمَّتِي يَبْكُونَ عَلَى نِسَاءِ أَهْلِ بَيْتِي وَ رِجَالَهُمْ يَبْكُونَ عَلَى رِجَالِ أَهْلِ بَيْتِي وَ يُجَدِّدُونَ الْعَزَاءَ جِيلًا بَعْدَ جِيلٍ فِي كُلِّ سَنَةٍ فَإِذَا كَانَ الْقِيَامَةُ تَشْفَعِينَ أَنْتِ لِلنِّسَاءِ وَ أَنَا أَشْفَعُ لِلرِّجَالِ وَ كُلُّ مَنْ بَكَى مِنْهُمْ عَلَى مُصَابِ الْحُسَيْنِ أَخَذْنَا بِيَدِهِ وَ أَدْخَلْنَاهُ الْجَنَّةَ يَا فَاطِمَةُ كُلُ‏ عَيْنٍ‏ بَاكِيَةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا عَيْنٌ بَكَتْ عَلَى مُصَابِ الْحُسَيْنِ فَإِنَّهَا}ضاحِكَةٌ مُسْتَبْشِرَةٌ{بِنَعِيمِ الْجَنَّةِ.[27]امام سجادA کے اقوال میں آخرت کی تیاری کا حکم
حضرت امام سجادAنےجس طرح اپنی سیرت کردار اور عمل سے آخرت کو یادرکھنے اور آخرت کی تیاری کاحکم دیاہے اسی طریقے سے متعدد روایات اور تعلیمات میں حضرت امام سجادAنےتمام کائنات کے انسانوں کو آخرت کی طرف متوجہ کیاہے اور آخرت کی بہترین تیاری اور آمادگی کاحکم دیاہے اور دنیا کو مسافرخانہ اورآخرت کو ابدی ٹھکانہ قرار دیاہے ہے آپ نے ارشاد فرمایا اے بندگانت خدا تقویٰالہیٰاختیار کرو اور ہمیشہ غور وفکر کے ساتھ زندگی کرو اور اپنی آخرت کو بنانے کےلئے بہترین عمل انجام دو تمہیں دنیا میں بھیجا ہے آخرت کی تیاری کےلئے اور تمہیں دنیا میں بیہودہ اور بے مقصد خلق نہیں کیاہے خداوندمتعال نے انبیاء کرےذریعہ سے اپنی معرفت کرائی ہے اور بندگی کاحکم دیاہے اور تمہاری ہدایت کےلئے رسولوں کوبھیجاہے اور تمہارے لئے آئین زندگی بناکر قرآن نازل کیاہے اور اس کتاب میں تمام حلال حرام اور قانون الہیٰکوبیان فرمایاہے اورخدانے تم پر تمام حجتیں پوری کردی ہیں دیکھنے کےلئے آنکھیں دی ہیں اوربولنے کےلئے زبان اور معرفت کےلئے عقل وشعور اور حق وباطل کا راستہ تمہیں دکھایاہے یہ سب تم پرحجت ہے اورجتنا ممکن ہے تقویٰالہیٰاختیار کرتے رہو اور فرائض کوانجام دیتے رہو اور دنیا تم سے پشت کرچکی ہے اور آخرت تمہارے سامنے آچکی ہے اور دنیا اور آخرت دونوں کے چاہنے والےہیں تم آخرت کے چاہنے والوں میں سے ہوجاؤ اور دنیا میں زہد اختیار کرنے والے اور آخرت کی طرف راغب رہنے والے لوگوں میں شامل ہوجاؤ اور جان لو جولوگ جنت کے مشتاق ہیں وہ نیکیوں کی طرف پہل کرتے ہیں اور خواہشات نفسانی سے اپنے آپ کو روکتے ہیں اور جہنم کی آگ سے ڈرتے رہتےت ہیں اور گناہوں سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں بیشک جوحقیقی معنوں میں بندگان خداہیں اور واقعی مؤمن کے دل آخرت طرف متوجہ اورمائل ہیں گویا کہ وہ اہل جنت کو دیکھ رہے ہیں اور جنت کےاعلیٰ درجات میں جنتت کی نعمتوں سے بہرہ مندہیں وہ اہل جہنم کوبھی دنیا میں دیکھ رہے ہیں کس طرح وہ عذاب میں مبتلا ہیں واقعی بندگان خدا اور سچے مؤمن لوگ ان کے شرسے محفوظ ہیں ان کے دل قیامت کےبارے میں پریشان ہیں اپنے دامن کو گناہوں سے روکےہوئے ہیں دنیا کی قلیل زندگی میں صبر کرتے ہیں اور ایک طولانی راحت وسکون کو پاتے ہیں رات کی تاریکی میں اٹھتے ہیں اور اپنی نجات کےلئے بارگاہ الہیٰ میں دعامانگتے ہیں امر عظیم قیامت اور جہنم کی یادنے ان کو پریشان کیاہواہے اور ان کی پوری زندگی توجہ آخرت کی طرف ہے۔
...فَاتَّقُوا اللَّهَ عِبَادَ اللَّهِ وَ تَفَكَّرُوا وَ اعْمَلُوا لِمَا خُلِقْتُمْ لَهُ فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ‏ يَخْلُقْكُمْ‏ عَبَثاً وَ لَمْ يَتْرُكْكُمْ سُدًى قَدْ عَرَّفَكُمْ نَفْسَهُ وَ بَعَثَ إِلَيْكُمْ رَسُولَهُ وَ أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ كِتَابَهُ فِيهِ حَلَالُهُ وَ حَرَامُهُ وَ حُجَجُهُ وَ أَمْثَالُهُ فَاتَّقُوا اللَّهَ فَقَدِ احْتَجَّ عَلَيْكُمْ رَبُّكُمْ فَقَالَ‏}أَ لَمْ نَجْعَلْ لَهُ عَيْنَيْنِ. وَ لِساناً وَ شَفَتَيْنِ. وَ هَدَيْناهُ النَّجْدَيْنِ‏{[28]فَهَذِهِ حُجَّةٌ عَلَيْكُمْ‏}فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ‏{فَإِنَّهُ‏}لا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ‏{وَ لَا تُكْلَانَ إِلَّا عَلَيْهِ وَ صَلَّى اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ نَبِيِّهِ وَ آلِهِ...[29]
مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبَانٍ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ ص‏ إِنَ‏ الدُّنْيَا قَدِ ارْتَحَلَتْ‏ مُدْبِرَةً وَ إِنَّ الْآخِرَةَ قَدِ ارْتَحَلَتْ مُقْبِلَةً[30] وَ لِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا بَنُونَ فَكُونُوا مِنْ أَبْنَاءِ الْآخِرَةِ- وَ لَا تَكُونُوا مِنْ أَبْنَاءِ الدُّنْيَا أَلَا وَ كُونُوا مِنَ الزَّاهِدِينَ فِي الدُّنْيَا الرَّاغِبِينَ فِي الْآخِرَةِ أَلَا إِنَّ الزَّاهِدِينَ فِي الدُّنْيَا اتَّخَذُوا الْأَرْضَ بِسَاطاً وَ التُّرَابَ فِرَاشاً وَ الْمَاءَ طِيباً وَ قُرِّضُوا مِنَ الدُّنْيَا تَقْرِيضاً[31] أَلَا وَ مَنِ اشْتَاقَ إِلَى الْجَنَّةِ سَلَا عَنِ الشَّهَوَاتِ وَ مَنْ أَشْفَقَ مِنَ النَّارِ رَجَعَ عَنِ الْمُحَرَّمَاتِ‏[32] وَ مَنْ زَهِدَ فِي الدُّنْيَا هَانَتْ عَلَيْهِ الْمَصَائِبُ أَلَا إِنَّ لِلَّهِ عِبَاداً كَمَنْ رَأَى أَهْلَ الْجَنَّةِ فِي الْجَنَّةِ مُخَلَّدِينَ وَ كَمَنْ رَأَى أَهْلَ النَّارِ فِي النَّارِ مُعَذَّبِينَ شُرُورُهُمْ مَأْمُونَةٌ وَ قُلُوبُهُمْ مَحْزُونَةٌ- أَنْفُسُهُمْ عَفِيفَةٌ وَ حَوَائِجُهُمْ خَفِيفَةٌ صَبَرُوا أَيَّاماً قَلِيلَةً فَصَارُوا بِعُقْبَى رَاحَةٍ طَوِيلَةٍ أَمَّا اللَّيْلَ فَصَافُّونَ أَقْدَامَهُمْ تَجْرِي دُمُوعُهُمْ عَلَى خُدُودِهِمْ وَ هُمْ يَجْأَرُونَ‏[33] إِلَى رَبِّهِمْ يَسْعَوْنَ فِي فَكَاكِ رِقَابِهِمْ وَ أَمَّا النَّهَارَ فَحُلَمَاءُ عُلَمَاءُ بَرَرَةٌ أَتْقِيَاءُ كَأَنَّهُمْ الْقِدَاحُ قَدْ بَرَاهُمُ‏[34] الْخَوْفُ مِنَ الْعِبَادَةِ يَنْظُرُ إِلَيْهِمُ النَّاظِرُ فَيَقُولُ مَرْضَى وَ مَا بِالْقَوْمِ مِنْ مَرَضٍ أَمْ خُولِطُوا[35] فَقَدْ خَالَطَ الْقَوْمَ أَمْرٌ عَظِيمٌ مِنْ ذِكْرِ النَّارِ وَ مَا فِيهَا.[36]عوامل نجات امام سجادA کی نگاہ میں
حضرت امام سجادA نے تمام انسانوں کو دنیا اور آخرت دونوں میں نجات کے عوامل اوراسباب سے آگاہ کیاہے خاص طورپر وہ عوامل اور اسباب وہ اعمال اور عبادات جوانسان کےلئے قبر اور قیامت میں نجات کاسبب بنے اور انسان کو ہمیشہ کےلئے کامیاب اوردائمی اورابدی زندگی یعنی آخرت میں خوش بخت اور خوش نصیب بنادے ان عوامل سے امام سجادA نے واضح لفظوں میں بیان فرمایاہے اب جوشخص نجات کے خواہاں ہوں وہ حضرت امام سجادA کی تعلیمات کی روشنی میں ان عوامل اور اسباب پرتوجہ دیں جن چیزوں کو امام سجادAنے انجام دینے کےلئے کہاہے انہیں بجالائیں اورجن چیزوں سے اجتناب کرنے کا حکم دیاہے ان سے پوری زندگی پرہیز کریں حضرت امام سجادA نےفرمایا تین چیزیں مؤمن کو نجات دینےوالی ہیں یہ تین چیزیں دنیا میں بھی باعث نجات اور آخرت میں بھی وہ عوامل نجات یہ ہیں۔
1-زبان کو قابو میں رکھنا: لوگوں کی برائی کرنے اورغیبت کرنے سے زبان کی حفاظت باعث نجات ہے اور یہی بات پیغمبراسلامG کے فرمان میں بھی آئی ہے آپ Gنے فرمایا:
نجات المؤمن [في‏] حفظ لسانه‏.
مؤمن کی نجات زبان کی حفاظت میں ہے۔
2-اپنے آپ کو مشغول رکھنا ان اعمال اورعبادات اور ان کاموں میں جودنیا اور آخرت میں مفید اور نجات دہندہ ہو۔
3-بہت زیادہ رونا اپنے گناہوں اور خطاؤں کو یادکرکے۔
جولوگ  اپنے گناہوں پرروتاہے اور ندامت اور پشیمانی کےآنسو سے گناہوں کے دھبے کو دھولیتاہے یہ شخص دنیا وآخرت کے عذاب وعقاب سے نجات پاتاہے اسی وجہ سے آپ نے ایک اور روایت میں فرمایا ہے دو قطرے خدا کےلئے بہت محبوب ہیں۔
1-شہید کے خون کاقطرہ جودین کی حیات اور انسانوں کی نجات کاسبب ہے۔
2-آنکھوں کے آنسوؤں کاقطرہ جورات کی تاریکی میں خوف خدا اور گناہوں کویاد کرتے ہوئے گرے یہ آنسو انسان کےلئے نجات کا سبب ہے۔
المحاسن أَبِي عَنْ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ عِيسَى عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ يُونُسَ عَنِ الثُّمَالِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ ع‏ يَقُولُ‏ مَا مِنْ خُطْوَةٍ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ مِنْ خُطْوَتَيْنِ خُطْوَةٍ يَسُدُّ بِهَا الْمُؤْمِنُ صَفّاً فِي اللَّهِ وَ خُطْوَةٍ إِلَى ذِي رَحِمٍ قَاطِعٍ وَ مَا مِنْ جُرْعَةٍ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ مِنْ جُرْعَتَيْنِ جُرْعَةِ غَيْظٍ رَدَّهَا مُؤْمِنٌ بِحِلْمٍ وَ جُرْعَةِ مُصِيبَةٍ رَدَّهَا مُؤْمِنٌ بِصَبْرٍ وَ مَا مِنْ‏ قَطْرَةٍ أَحَبَ‏ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ مِنْ قَطْرَتَيْنِ قَطْرَةِ دَمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَ قَطْرَةِ دَمْعَةٍ فِي سَوَادِ اللَّيْلِ لَا يُرِيدُ بِهَا عَبْدٌ إِلَّا اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَ‏.[37]
وَ قَالَ ع‏ ثَلَاثٌ‏ مُنْجِيَاتٌ‏ لِلْمُؤْمِنِ كَفُّ لِسَانِهِ عَنِ النَّاسِ وَ اغْتِيَابِهِمْ وَ إِشْغَالُهُ نَفْسَهُ بِمَا يَنْفَعُهُ لِآخِرَتِهِ وَ دُنْيَاهُ وَ طُولُ الْبُكَاءِ عَلَى خَطِيئَتِهِ.[38]
ایک اور روایت میں امام سجادAنے دنیا اور آخرت دونوں میں نجات کےعوامل واسباب کو بیان کرتے ہوئے فرمایا جن مؤمن کی زندگی میں تین صفات موجود ہوں وہ دنیا میں خدا کی خاص رحمت کےسائے میں رہیں گے اورقیامت کےدن عرش الہیٰ کےسائے میں رہیں گے اور قیامت کے دن سب پریشان ہوں گے اس عظیم پریشانی سے یہ لوگ سکون میں ہوں گے اور محفوظ رہیں گے اور وہ تین صفات یہ ہیں:
1-جن چیزوں کی تم لوگوں سے خواہش رکھتے ہو(مثلاً عزت اور احترام کرنا)وہی چیز لوگوں کےلئے پیش کرو اور انجام دو۔
2- جب تک یقین نہ ہو یہ کام خدا کی اطاعت میں ہے یا معصیت و نافرمانی میں کوئی قدم نہ بڑھائیں (ہر قدم معرفت اور شناخت کے ساتھ اٹھائیں)۔
3-کسی شخص کی برائی اورعیب جوئی نہ کریں جب تک اس عیب کو اپنی ذات سے دور نہ کریں(اپنے عیب کی فکر میں رہیں اور اپنی اصلاح کریں دوسروں کی عیب جوئی سے پہلے)۔
وَ قَالَ ع‏ ثَلَاثٌ‏ مَنْ‏ كُنَ‏ فِيهِ‏ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ كَانَ فِي كَنَفِ اللَّهِ‏[39]وَ أَظَلَّهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي ظِلِّ عَرْشِهِ وَ آمَنَهُ مِنْ فَزِعِ الْيَوْمِ الْأَكْبَرِ مَنْ أَعْطَى مِنْ نَفْسِهِ‏ مَا هُوَ سَائِلُهُمْ لِنَفْسِهِ وَ رَجُلٌ لَمْ يُقَدِّمْ يَداً وَ لَا رِجْلًا حَتَّى يَعْلَمَ أَنَّهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ قَدَّمَهَا أَوْ فِي مَعْصِيَتِهِ وَ رَجُلٌ لَمْ يَعِبْ أَخَاهُ بِعَيْبٍ حَتَّى يَتْرُكَ ذَلِكَ الْعَيْبَ مِنْ نَفْسِهِ وَ كَفَى بِالْمَرْءِ شُغُلًا بِعَيْبِهِ لِنَفْسِهِ عَنْ عُيُوبِ النَّاسِ.[40]
ایک اور روایت میں حضرت امام سجادAنے پانچ عظیم نجات کےعوامل اوراسباب کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے پانچ چیزیں انسان کےلئےنجات کا باعث ہیں محبوب خدا عذاب سے نجات  مقرب راہ حق اورخدا کے پاس عظیم مقام ومنزلت کاباعث ہے ان عوامل نجات کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:
1-بہترین عمل انجام دینا یہ باعث نجات ہے اور بہترین عمل انجام دینے والا خدا کا محبوب ترین انسان ہے۔
2-آخرت کی طرف اور خدا کی عظیم عنایات کی طرف راغب ہوناخدا کے نہایت عظیم ہے وہ شخص جو آخرت کی طرف یا عنایات الہیٰ نزدیک کی طرف بہت زیادہ راغب ہے۔
3-وہ شخص عذاب الہیٰسے نجات یافتہ ہے جو بہت زیادہ خوف خدا اور خشیت الہیٰ دل میں رکھتے ہیں۔
4-وہ شخص جواپنے گھروالوں کو اہل وعیال کو خوشحال رکھتے ہیں اور ان کے لئے گشائش اور سہولت فراہم کرتے ہیں یہ شخص مقرب درگاہ حق ہے یہ مقربین میں سے ہے۔
5-جوسب سے زیادہ تقویٰ اور پرہیزگاری کامالک ہے اس کا خدا کے پاس سب سے زیادہ مقام اور منزلت ہے تقویٰ عامل نجات بھی ہے باعث کرامت اور بزرگی بھی ہے۔
مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مَحْبُوبٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ عَطِيَّةَ[41] عَنْ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ع قَالَ كَانَ يَقُولُ‏ إِنَ‏ أَحَبَّكُمْ‏ إِلَى‏ اللَّهِ‏ عَزَّ وَ جَلَّ أَحْسَنُكُمْ عَمَلًا وَ إِنَّ أَعْظَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَمَلًا أَعْظَمُكُمْ فِيمَا عِنْدَ اللَّهِ رَغْبَةً وَ إِنَّ أَنْجَاكُمْ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ أَشَدُّكُمْ خَشْيَةً لِلَّهِ وَ إِنَّ أَقْرَبَكُمْ مِنَ اللَّهِ أَوْسَعُكُمْ خُلُقاً وَ إِنَّ أَرْضَاكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَسْبَغُكُمْ عَلَى عِيَالِهِ وَ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عَلَى اللَّهِ أَتْقَاكُمْ لِلَّهِ.[42]
ان روایات کی روشنی میں عوامل نجات کا خلاصہ یہ ہے:زبان کی حفاظت کرنا ہرگناہ سے خاص طورپر غیبت اور برائیوں سے۔اپنے آپ کو مشغول رکھنا دنیا اور آخرت کےلئے مفید کاموں میں۔اپنے گناہوں پرہبت زیادہت رونا اور توبہ کرنا۔جن چیزوں کی خواہش لوگوں سے رکھتے ہووہ لوگوں کےلئے انجام دینا۔معرفت اور شناخت کےساتھ قدم اٹھانا جلدبازی اور احساسات سے اجتناب کرنا۔اپنے عیوب کی اصلاح کرنا اور دوسروں کے عیوب کی طرف توجہ نہ دینا۔بہترین عمل کو انجام دینا۔خدا کے وعدوں اور آخرت پرامید وار رہنا۔عذاب الہیٰاورجہنم سےڈرتےرہنا۔بہترین اورپسندیدہ اخلاق اختیار کرنا۔بچوں پرتوجہ دینا اور ان کی مادی و معنوی ضروریات کو فراہم کرنا۔تقویٰاورپرہیزگاری اختیار کرتے ہوئےواجبات کو انجام دینا اور محرمات سے اجتناب کرنا۔
یہ وہ عوامل نجات ہیں جو امام سجادA نے بشر کی سعادت اورنجات کےلئے بیان فرمائے ہیں موت کو یاد رکھنا اور روز قیامت کی ایک ایک وحشت ناک اور انتہائی عظیم مواقف کی یادکرتے ہوئے ان موارد پرنجات پانے کےلئے عملی کوشش کرنا عوامل نجات کہلاتاہے۔
اسی وجہ سے صحیفہ سجادیہ میں دعائے استعازہ میں امام سجادAنے اس موت سے خدا کی بارگاہ میں پنان طلب کی ہے جو بغیر تیاری کے آجائے اور قیامت کی عظیم حسرت بزرگ ترین مصیبت اور بدترین عاقبت اورانجام سے خداکی بارگاہ میں پناہ طلب کی ہے آپ نے فرمایا:
(1)اللَّهُمَّ إِنيِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَيَجَانِ الْحِرْصِ، وَ سَوْرَةِ الْغَضَبِ، وَ غَلَبَةِ الْحَسَدِ، وَ ضَعْفِ الصَّبْرِ، وَ قِلَّةِ الْقَنَاعَةِ، وَ شَكَاسَةِ الْخُلُقِ، وَ إِلْحَاحِ الشَّهْوَةِ، وَ مَلَكَةِ الْحَمِيَّةِ (2) وَ مُتَابَعَةِ الْهَوَى، وَ مُخَالَفَةِ الْهُدَى، وَ سِنَةِ الْغَفْلَةِ، وَ تَعَاطِي الْكُلْفَةِ، وَ إِيثَارِ الْبَاطِلِ عَلَى الْحَقِّ، وَ الْإِصْرَارِ عَلَى الْمَأْثَمِ، وَ اسْتِصْغَارِ الْمَعْصِيَةِ، وَ اسْتِكْبَارِ الطَّاعَةِ. (3) وَ مُبَاهَاةِ الْمُكْثِرِينَ، وَ الْإِزْرَاءِ بِالْمُقِلِّينَ، وَ سُوءِ الْوِلَايَةِ لِمَنْ تَحْتَ أَيْدِينَا، وَ تَرْكِ الشُّكْرِ لِمَنِ اصْطَنَعَ الْعَارِفَةَ عِنْدَنَا (4) أَوْ أَنْ نَعْضُدَ ظَالِماً، أَوْ نَخْذُلَ مَلْهُوفاً، أَوْ نَرُومَ مَا لَيْسَ لَنَا بِحَقٍّ، أَوْ نَقُولَ فِي الْعِلْمِ بِغَيْرِ عِلْمٍ (5) وَ نَعُوذُ بِكَ أَنْ نَنْطَوِيَ عَلَى غِشِّ أَحَدٍ، وَ أَنْ نُعْجِبَ بِأَعْمَالِنَا، وَ نَمُدَّ فِي آمَالِنَا (6) وَ نَعُوذُ بِكَ مِنْ سُوءِ السَّرِيرَةِ، وَ احْتِقَارِ الصَّغِيرَةِ، وَ أَنْ يَسْتَحْوِذَ عَلَيْنَا الشَّيْطَانُ، أَوْ يَنْكُبَنَا الزَّمَانُ، أَوْ يَتَهَضَّمَنَا السُّلْطَانُ (7) وَ نَعُوذُ بِكَ مِنْ تَنَاوُلِ الْإِسرَافِ، وَ مِنْ فِقْدَانِ الْكَفَافِ (8) وَ نَعُوذُ بِكَ مِنْ شَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ، وَ مِنَ الْفَقْرِ إِلَى الْأَكْفَاءِ، وَ مِنْ مَعِيشَةٍ فِي شِدَّةٍ، وَ مِيتَةٍ عَلَى غَيْرِ عُدَّةٍ.
 وَ نَعُوذُ بِكَ‏ مِنَ الْحَسْرَةِ الْعُظْمَى، وَ الْمُصِيبَةِ الْكُبْرَى، وَ أَشْقَى الشَّقَاءِ، وَ سُوءِ الْمَآبِ، وَ حِرْمَانِ الثَّوَابِ، وَ حُلُولِ الْعِقَابِ (10) اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ أَعِذْنِي مِنْ كُلِّ ذَلِكَ بِرَحْمَتِكَ وَ جَمِيعَ الْمُؤْمِنِينَ وَ الْمُؤْمِنَاتِ، يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.[43]
بہترین عاقبت اورانجام کےلئے اورقیامت کےدن شاندار کامیابی کےلئے جوعوامل اوراسباب قرآن نے بیان فرمائیں ہیں وہ ایمان اورعمل صالح ہے پروردگارعالم نے واضح لفظوں میں اعلان کیاہے جولوگ ایمان لائے اورعمل صالح انجام دیتے رہے ان کے لئے کامیابی اوربہترین انجام ہے۔
}الَّذينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ طُوبى‏ لَهُمْ وَ حُسْنُ مَآبٍ{[44]
جو لوگ ایمان لائےاورانہوں نے نیک اعمال کئے ان کے لئے بہترین جگہ (بہشت)اور بہترین بازگشت ہے۔
اور سورۂ مبارکہ ص میں رب العزت  نے واقعی کامیابی اور سعادت ابدی کےعواامل کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے تقویٰ اور بندگی بہترین عامل سعادت اور وسیلہ نجات ہے اور متقین ہی کےلئے بہترین عاقبت اورانجام ہے اور انہی کےلئے جنات عدن کے دروازے کھلے ہوئےہیں جوکچھ یہ لوگ چاہیں کھانے اور پینے کی چیزیں  ان کے لئے فراہم ہیں اہل تقویٰ کےمقابل میں اہل عصیان اور اہل طغیان زمین پر فساد پھیلانے والےلوگوں کےلئے بدترین عاقبت اور انجام اورجہنم کا اعلان کیاگیاہے۔
}هذا ذِكْرٌ وَ إِنَّ لِلْمُتَّقينَ لَحُسْنَ مَآبٍ، جَنَّاتِ عَدْنٍ مُفَتَّحَةً لَهُمُ الْأَبْوابُ، مُتَّكِئينَ فيها يَدْعُونَ فيها بِفاكِهَةٍ كَثيرَةٍ وَ شَرابٍ، وَ عِنْدَهُمْ قاصِراتُ الطَّرْفِ أَتْرابٌ، هذا ما تُوعَدُونَ لِيَوْمِ الْحِسابِ، إِنَّ هذا لَرِزْقُنا ما لَهُ مِنْ نَفادٍ، هذا وَ إِنَّ لِلطَّاغينَ لَشَرَّ مَآبٍ،جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَها فَبِئْسَ الْمِهادُ{­[45]
یہ ایک نصیحت ہے اور صاحبانِ تقویٰ کے لئے بہترین بازگشت ہے، ہمیشگی کی جنتیں جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوئے ہوں گے، وہاں تکیہ لگائے چین سے بیٹھے ہوں گے اور طرح طرح کے میوے اور شراب طلب کریں گے،اور ان کے پہلو میں نیچی نظر والی ہمسن بیبیاں ہوں گی، یہ وہ چیزیں ہیں جن کا روز قیامت کے لئے تم سے وعدہ کیا گیا ہے،یہ ہمارا رزق ہے جو ختم ہونے والا نہیں ہے، یہ ایک طرف ہے اور سرکشوں کے لئے بدترین بازگشت ہے، جہّنم ہے جس میں یہ وارد ہوں گے اور وہ بدترین ٹھکانا ہے۔ ایک جوان کا واقعہ یاد آخرت نے جس کو منزل یقین اور رتبہ شہادت تک پہنجایا
عقیدہ معاد انسان کی اصلاح اور تربیت میں موثرترین عقیدہ ہے جس شخص کا عقیدہ معاد اورعقیدہ قیامت پختہ اور یقین ہوجائے اس کی زندگی پرگہرا اورعمیق اثر پڑتاہے اور اس عقیدے کے نتیجے میں برائیوں کو معصیتوں کو اورتمام نافرمانیوں اور لاپرواہیوں کو چھوڑ دیتاہے اور پابندی کے ساتھ فرائض اورواجبات کو انجام دیتاہے اور بہترین اخلاق اور کردار کےساتھ عظیم نیکیوں اورخدمات کے ساتھ زندگی بسرکرتاہے عقیدہ معاد کی کمزوری کی وجہ سے انسان گناہوں میں آلودہ ہوجاتاہے اور فرائض اورواجبات کو انجام دینے میں کوتاہی کرتاہے جس شخص کاعقیدہ معاد پختہ اور مضبوط ہو وہ قیامت کے ہولناک اورخوفناک مقامات کو اپنی نگاہوں کے سامنےدیکھتاہے اور اپنے آپ کو خدا کے حضور میں اپنے اعمال کےحساب کےلئے پاتاہے اور وہ جہنمیوں کو جہنم میں چلتاہوا اور جنتیوں کو جنت کے اعلیٰ درجات میں نعمتوں سے بہرہ مندہوتے ہوئے دنیا میں دیکھ لیتاہے اور یہی عقیدہ معاد انسان کو اپنے گناہوں پررولاتاہے اور رات کی تاریکیوں میں جگاتاہے اور خداکے سامنے گڑگڑانے اور مناجات کرنے پر انسان کو آمادہ کرتاہے ان تمام باتوں کاثبوت اس نوجوان کے سچے واقعہ میں موجود ہے جس کو عقیدہ معاد کے پختہ یقین نے شہادت اور انسانیت کےعظیم معراج پرپہنچادیااور حضورG نے اس جوان کےیقین اور عقیدہ معاد اورایمان کی پختگی کی تائید اور تصدیق کرتے ہوئے اس جوان کو صاحب یقین قراردیااور اس جوان کے حق میں اور اس کی عظیم کامیابی کےلئے آپG نے بارگاہ الہیٰ میں دعافرمائی یہ واقعہ حضرت امام جعفرصادقAسے اس طرح منقول ہے ہماری معتبر کتاب اصول کافی میں بہ واقعہ موجود ہے امام جعفرصادقA نےفرمایا حضورGنماز صبح اداکرنے کے بعد ایک نوجوان کی طرف جومسجد نبوی کے کونے میں  بیٹھا تھا آپ کی نظرپڑی رات بھر جاگنے کی وجہ سے اس کا چہرہ زرد ہوگیاتھا اور اس  پر نیند کا غلبہ تھا کثرت عبادت کی وجہ سے جسم نحیف پڑگیاتھا اورسونےاور جاگنے کی وجہ سے آنکھیں متاثر ہوچکی تھیں حضورGنے اس جوان سےخطاب کرکے پوچھا تم نے کس حالت میں صبح کی ہے جوان نے جواب دیا اے رسول خدا میں نے یقین کےساتھ صبح کی ہے حضورG کو اس کی بات پربہت تعجب ہوا اس نے کس طرح یقین کاادعا کیا اہل یقین کا تو بڑاعظیم مقام ہے حضورG نے اس جوان سے دوبارہ سوال کیا ہریقین کےلئے کوئی علامت اورپہچان ہے تمہارے یقین کی علامت اورپہچان کیاہے(تمہارے اہل  یقین ہونے کی دلیل کیاہے) اس جوان نے یقین کی کیفیت اورعلامت کوبیان کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ کے رسول میرے یقین نے مجھے محزون کیاہواہے اور مجھےرات بھر جاگنے اوردن بھر خواہشات نفسانی کےخلاف جہااد کرنے پر اور دنیا سے اور دنیا کی ناجائز لذتوں سے مجھے دور کردیاہے میرے یقین نے مجھے اس منزل پرپہنچایاہے میدان حشر میں میں اللہ کے حضور میں حساب کےلئے کھڑا ہوں اور ترازؤحساب نصب کیاجاچکاہے اور تمام خلائق میدان حساب میں کھڑے ہیں اور میں بھی ان کے درمیان حساب کےلئے موجود ہوں میں اہل جنت کو دیکھتاہوں وہ عظیم درجات پر فائز ہیں اور جنت کی نعمتوں سے بہرہ مندہورہے ہیں اور جنت کے تکیوں پرٹیک لگائے ہوئے ہیں اور میں اہل جہنم کو بھی دیکھتاہوں وہ عذاب جہنم میں مبتلا ہیں اور ان کی چیخ وپکار کی آواز یں میرے کانوں سےٹکرارہی ہیں حضورG نے اصحاب کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا یہ وہ عبد ہے جس کے قلب کوخدانے نور ایمان سے منور کیاہے اوریقین کی منزل پرفائز ہوچکاہے اور پھر اس جوان سے خطاب کرکے فرمایا تمہیں یہ عظیم نعمت نعمت یقین اور حقیقت آخرت کا ادراک نصیب ہواہے اس حالت کی حفاظت کرو اس نوجوان نے حضورGسے عرض کیا اے اللہ کے رسول میرےلئے دعا کیجئے میں آپ کے ساتھ جہاد کرتے ہوئے شہادت کارتبہ پالوں میری تمنا شہادت ہے مختصر وقت گزراتھا یہ جوان حضورGکے ساتھ جہاد کے لئے نکلا اور اس جنگ میں دس مجاہدین شہید ہوئے یہ شخص دسوان شہیدتھا۔
مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى وَ عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ جَمِيعاً عَنِ ابْنِ مَحْبُوبٍ عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ الْوَابِشِيِّ وَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِهْزَمٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَمَّارٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ع يَقُولُ‏ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ص صَلَّى بِالنَّاسِ الصُّبْحَ فَنَظَرَ إِلَى شَابٍ‏ فِي‏ الْمَسْجِدِ وَ هُوَ يَخْفِقُ وَ يَهْوِي‏[46] بِرَأْسِهِ مُصْفَرّاً لَوْنُهُ قَدْ نَحِفَ جِسْمُهُ وَ غَارَتْ عَيْنَاهُ فِي رَأْسِهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ص كَيْفَ أَصْبَحْتَ يَا فُلَانُ قَالَ أَصْبَحْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مُوقِناً فَعَجِبَ رَسُولُ اللَّهِ ص مِنْ قَوْلِهِ‏[47] وَ قَالَ إِنَّ لِكُلِّ يَقِينٍ حَقِيقَةً فَمَا حَقِيقَةُ يَقِينِكَ فَقَالَ إِنَّ يَقِينِي يَا رَسُولَ اللَّهِ هُوَ الَّذِي أَحْزَنَنِي وَ أَسْهَرَ لَيْلِي وَ أَظْمَأَ هَوَاجِرِي فَعَزَفَتْ نَفْسِي عَنِ الدُّنْيَا وَ مَا فِيهَا[48] حَتَّى كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى عَرْشِ رَبِّي وَ قَدْ نُصِبَ لِلْحِسَابِ وَ حُشِرَ الْخَلَائِقُ لِذَلِكَ وَ أَنَا فِيهِمْ وَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ يَتَنَعَّمُونَ فِي الْجَنَّةِ وَ يَتَعَارَفُونَ وَ عَلَى الْأَرَائِكِ مُتَّكِئُونَ وَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَهْلِ النَّارِ وَ هُمْ فِيهَا مُعَذَّبُونَ مُصْطَرِخُونَ وَ كَأَنِّي الْآنَ أَسْمَعُ زَفِيرَ النَّارِ يَدُورُ فِي مَسَامِعِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص لِأَصْحَابِهِ هَذَا عَبْدٌ نَوَّرَ اللَّهُ قَلْبَهُ بِالْإِيمَانِ ثُمَّ قَالَ لَهُ الْزَمْ مَا أَنْتَ عَلَيْهِ فَقَالَ الشَّابُّ ادْعُ اللَّهَ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ أُرْزَقَ الشَّهَادَةَ مَعَكَ فَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ص فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ خَرَجَ فِي بَعْضِ غَزَوَاتِ النَّبِيِّ ص فَاسْتُشْهِدَ بَعْدَ تِسْعَةِ نَفَرٍ وَ كَانَ هُوَ الْعَاشِرَ.[49]
اس واقعہ کی روشنی میں دامن رسالت میں تربیت پانے والےبرجستہ اصحاب ،اصحاب نبی اور اس طریقے سے دامن ولایت اور دامن امامت میں تربیت پانے والے بہترین اصحاب ، اصحاب الائمہ اس انداز سےقیامت پریقین رکھتے تھے اورقیامت کی تیاری کرتے تھے اور قرآن پاک میں بھی جہاں سورۂ بقرۂ کی ابتدائی آیات میں متقین کاتعارف کرایاگیاہے صفات متقین کےلئے کتاب ہدایت ہے جن متقین کی صفات یہ ہیں وہ غیب  پر پختہ ایمان رکھتے ہیں چاہئے وہ غیب قیامت ہو یا خدا کی ذات ہو یا امام زمان کی غیبت ہو یا فرشتے اورملائکہ اورتمام غیبی حقائق پرایمان رکھتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور جوکچھ خدانے رزق و دولت عطاکی ہے اس رزق اور دولت کو خداکی راہ میں دین کی راہ میں اور غریبوں پرخرچ کرتے ہیں اہل تقویٰ پیامبر Gکی شریعت پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور پیغمبر سے پہلے جتنی بشر یقین گزری اور جتنے انبیاء آئے اور جتنی کتابیں نازل ہوئیں سب پرایمان رکھتے ہیں اور آخرت پرنہ تنہا ایمان رکھتے ہیں بلکہ یقین کی منزل پرفائز ہیں۔
}وَ الَّذينَ يُؤْمِنُونَ بِما أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَ ما أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَ بِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ{[50]
وہ ان تمام باتوں پر بھی ایمان رکھتے ہیں جنہیں (اے رسول) ہم نے آپ پر نازل کیا ہے اور جو آپ سے پہلے نازل کی گئی ہیں اور آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں۔
کہ کر خداوندمتعال نے متقین کی قلبی کیفیت کوبیان کیاہے اہل تقویٰ نہ تنہا آخرت پرایمان رکھنےوالے ہیں بلکہ آخرت پریقین رکھتے ہیں اوراسی یقین کی وجہ سے آخرت کی تیاری کرتے ہوئے نماز اداکرتے ہیں زکوٰۃ دیتے ہیں اور اپنی دولت اورسرمایہ کو خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں جولوگ آخرت پریقین رکھتے ہیں وہ آخرت کی عظیم ابدی اوردائمی درجات کو پانے کےلئے اورخدا کی رضا اور خوشنودی کی خاطر جان مال سب کچھ راہ الہیٰمیں قربان کردیتے ہیں اور انہی لوگوں کی شان میں رب العزت نے فرمایا یہی لوگ پروردگار کی جانب سے واقعی ہدایت یافتہ ہیں اور حقیقی معنوں میں فلاح کامیابی اورنجات پانےوالے ہیں۔
}وَ بِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ، أُولئِكَ عَلى‏ هُدىً مِنْ رَبِّهِمْ وَ أُولئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ{[51]
اور آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں،یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے پروردگار کی طرف سے ہدایت کے حامل ہیں اور فلاح یافتہ اور کامیاب ہیں۔
جب تک معاد اور قیامت پریقین نہ ہو اور صیح معنوں میں جب تک قیامت کی آمادگی اورتیاری نہ ہو نہ وہ ہدایت یافتہ ہے اور نہ ہی نجات یافتہ نجات صرف اور صرف انہیں لوگوں کےلئے ہے جوخدا کی توحید پریقین رکھتے ہیں اور پیامبرGکی رسالت پربھی یقین رکھتے ہیں اور آل محمدf کی ولایت اور امامت پربھی اس طرح قیامت پراور قیامت کی ابدیت پربھی یقین رکھتے ہیں۔
 }ذلِكَ الْكِتابُ لا رَيْبَ فيهِ هُدىً لِلْمُتَّقينَ،الَّذينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَ يُقيمُونَ الصَّلاةَ وَ مِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ{[52]
یہ وہ کتاب ہے جس میں کسی طرح کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے. یہ صاحبانِ تقویٰ اورپرہیزگار لوگوں کے لئے مجسم ہدایت ہے، جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں پابندی سے پورے اہتمام کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے رزق دیا ہے اس میں سے ہماری راہ میں خرچ بھی کرتے ہیں۔
بارگاہ الہیٰ میں آل محمدfکاواسطہ دے کر دعا کردی ہے ہمیں آخرت کو سمجھنےیقین رکھنے اور صحیح معنوں میں تیاری کرنے اور اس عظیم روز پاداش بہترین جزاء اورابدی جنت پاکر کامیاب ہونے والے اور مفلحوں کی منزل پرفائز ہوں۔قیامت کے دن ہر انسان کو اس کے امام کے ساتھ بلایا جائے گا
قرآن پاک سورۂ مبارکہ اسراء کی آیت نمبر71 میں رب العزت کی جانب سے واضح لفظوں میں اعلان ہے اس دن کویاد کرو جس دن ہرگروہ کو ہم اس کے امام اورپیشوا کے ساتھ پکاریں گے اورمیدان حشر میں لائیں گے پس جس کانامۂ اعمال دائیں ہاتھ میں ہوگاوہ اسے(بڑری مسرت سے) پڑھے گا اور ان پر رای برابر بھی ظلم نہیں ہوگا۔
}يَوْمَ نَدْعُوا كُلَّ أُناسٍ بِإِمامِهِمْ فَمَنْ أُوتِيَ كِتابَهُ بِيَمينِهِ فَأُولئِكَ يَقْرَؤُنَ كِتابَهُمْ وَ لا يُظْلَمُونَ فَتيلاً{­[53]  
قیامت کا دن وہ ہوگا جب ہم ہر گروہ انسانی کو اس کے پیشوا کے ساتھ بلائیں گے اور اس کے بعد جن کا نامئہ اعمال ان کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ اپنے صحیفہ کو پڑھیں گے اور ان پر ریشہ برابر ظلم نہیں ہوگا۔
}وَ مَنْ كانَ في‏ هذِهِ أَعْمى‏ فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمى‏ وَ أَضَلُّ سَبيلاً{­ [54]
اور جو اسی دنیا میں اندھا ہے وہ قیامت میں بھی اندھا اور بھٹکا ہوا رہے گا۔
آیت نمبر72میں آیا ہے لیکن وہ لوگ جو اس دنیا میں( چہرہ حق کو دیکھ کربھی) اندھے بنےرہے وہ وہاں بھی اندھے رہیں گے بلکہ گمراہ تر قرآن پاک کی اس آیت کی روشنی میں ہر انسان کا اپنےامام اور پیشوا کے ساتھ محشور ہونا قطعی اوریقینی ہے اس آیت کےذیل میں تفسیرنمونہ میں لکھاہے یعنی وہ لوگ جنہوں نے ہرزمانے میں انبیاء اور ان کے اوصیاء کی رہبری کو قبول کیاہے وہ اپنے ان پیشواؤں کےساتھ میدان حشر میں ہوں گے اور جنہوں نے شیطان آئمہ ظلال اورجابروظالم پیشواؤں کی رہبری کو اختیار کیاہے وہ ان کے ساتھ ہوں گے یعنی جنہوں نے حضرت موسیA کی نبوت اور رہبری کو قبول کیا ہے وہ موسیAکےساتھ محشور ہوں گے اور جنہوں نے موسیAکاانکار کرکے فرعون کو اپنارہبر وپیشوامانا ہے وہ لوگ فرعون کےساتھ بلائے گے اور یقیناً جیسا امام ہوگا ویساہی انجام ہوگا۔[55]
اس آیت کےذیل میں تفسیر المیزان میں علامہ طباطبائی نے تحریر فرمایاہے:
ظاهر الآية أن هذه الدعوة تعم الناس جميعا من الأولين و الآخرين فالمتعين أن يكون المراد بإمام كل‏ أناس‏ من يأتمون به في سبيلي الحق و الباطل‏.[56]
اس آیت میں ہر انسان کو امام کے ساتھ بلانے سے مراد قیامت کے دن تمام بشریت کو اولین اور آخرین سب کو اس کے پیشوا اور امام کے ساتھ بلایا جائے گا اور امام سے مراد رہبر اور رہنماہے جس کو انسان نےاپنا پیشوا اور رہنما قراردیاہے اگر امام حق کو اپنا پیشوا اور امام قررادیاہے تو امام حق کے ساتھ بلایاجائے گا اور امام حق کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور اگر امام باطل کواپنا پیشوااورامام قراردیاہے تو امام باطل کے ساتھ میدان حشر میں بلایاجائے گا اور حق وباطل کی صف اور امام حق اور امام باطل کے ماننے والے مکمل طورپر جداکئے جائیں گے اورمیدان حشر میں واضح ہوگا کہ کون باطل کے ماننےوالے ہیں اورکون حق کےماننے والے ہیں خداوندمتعال خبیث کو باطل اورگمراہ کو حق اور طیب سے جداکرے گا اورباطل کو ایک دوسرے کےساتھ ملاکر باطل امام اور اس کے پروردگار سب کو جہنم میں پھینک دے گا جس طرح سورۂ انفال کی آیت نمبر37 میں خداوندمتعال نے اس مطلب کو واضح طورپر بیان کیاہے۔
}لِيَميزَ اللَّهُ الْخَبيثَ مِنَ الطَّيِّبِ وَ يَجْعَلَ الْخَبيثَ بَعْضَهُ عَلى‏ بَعْضٍ فَيَرْكُمَهُ جَميعاً فَيَجْعَلَهُ في‏ جَهَنَّمَ أُولئِكَ هُمُ الْخاسِرُونَ{[57]
تاکہ خدا خبیث کو پاکیزہ سے الگ کردے اور پھر خبیث کو ایک پر ایک رکھ کر ڈھیر بنادے اور سب کو اکٹھا جہّنم میں جھونک دے کہ یہی لوگ خسارہ اور گھاٹے والے ہیں۔انسان کی زندگی پر رہبری اور امام کا اثر
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ انسان کی کامیابی سعادت ہدایت نجات ارتقاء اورکمال کا دارمدار امام اورپیشوا پرموقوف ہے جس کا پیشوا امام حق معصوم اورمنتخب پروردگار ہے اور زندگی بھر اسی امام کو اپنا رہنما اورہادی اورپیشوا قراردیاہے اور ان کی تعلیمات پرعمل کرتے ہوئے زندگی گزاری ہے امام حق کی امامت اور پھر ان کی پیروی اطاعت اور ان کی ہدایت پرعمل کرنادنیا میں بھی انسان کو سعادت کمال ارتقاء کامیابی کی اعلیٰمنازل اورعظیم زندگی پانے کاباعث ہے اورقیامت میں بھی جوکچھ عنایات الطاف الہیٰ جنت اور ابدی نعمتوں اورکامیاب زندگی کی صورت میں ملتی ہے یہ سب کچھ امام حق کی پیروی اوراقتدار اور ان کی امامت اور ولایت کو تسلیم کرنے کا نتیجہ ہے اس لئے سرورکائنات نے امام علیAسے خطاب کرتے ہوئے فرمایا (یہ روایت فریقین میں مسلم اورمتفق علیہ ہے)۔
رجال الكشي - اختيار معرفة الرجال (مع تعليقات مير داماد الأسترآبادي) ؛
قال صلّى اللّه عليه و آله: يا علي‏ أنت‏ و شيعتك‏ هم الفائزون يوم القيامة.[58]
اے علی آپ اور کے مانے والے ہی صرف قیامت کے دن کامیاب اور خوش نصیب ہونگے اسی آیت کے ذیل میں حضرت امام رضا Aسے صحیح مستند روایت میں آیا ہے امام رضاAنے فرمایا میرے جدرسول اکرم Gنے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہےقیامت کے دن ہر قوم کو اس کے زمانے کے امام اور اس کی کتاب الہی اور اس کے پیامبر کی سنت کے ساتھ پکاریں گے۔
الْخَاصُّ وَ الْعَامُّ عَنِ الرِّضَا عَنْ آبَائِهِ ع عَنِ النَّبِيِّ ص قَالَ: يُدْعَى‏ كُلُ‏ أُنَاسٍ‏ بِإِمَامِ زَمَانِهِمْ وَ كِتَابِ رَبِّهِمْ وَ سُنَّةِ نَبِيِّهِمْ.[59]
حضرت امام صادقAنے اسی آیات کے ذیل میں قسم کھاتے ہوئے فرمایا کیا تم لوگ خدا کے حمد وثناء بجا نہیں لاتے ہوجب قیامت کا دن ہوگا خدا ہر گروہ کو اس شخص کے ساتھ پکارے گا جس کی اس نے ولایت اور امامت کو قبول کی ہوگی ہمیں رسولواللہGکے ساتھ پکاڑے گا اور تمہیں ہمارے ساتھ تم سوچتے ہو کہ ایسے میں تمہیں کدہر لے جائیں گے رب کعبہ کی قسم بہشت کی طرف پھر امام نے اس جملے کو تین بار دہرایا ۔
روَی عَن الصَّادِقُ ع‏:" أَلَا تَحْمَدُونَ اللَّهَ تَعَالَى إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ فَدَعَا كُلَ‏ قَوْمٍ‏ إِلَى مَنْ يَتَوَلَّوْنَهُ وَ فَزِعْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ص وَ فَزِعْتُمْ إِلَيْنَا، أَيْنَ تَرَوْنَ يُذْهَبُ بِكُمْ؟ إِلَى الْجَنَّةِ وَ رَبِّ الْكَعْبَةِ" قَالَهَا ثَلَاثاً.[60]
اس روایت کی روشنی میں جس کو مولانے قسم کہاتے ہوے فرمایا ہے امام حق کی پیروی کرنے والے اور امام معصوم کی ولایت اور امامت کو تسلیم کرنے کے ان کے تعلیمات پر عمل کرنے والے یقینا اہل جنت ہیں اس بات کو مالا نے قسم کھاتے ہوے تین­مرتبہ دہرایااس روایت کی روشنی میں بشریت کی نجات کمیابی اور سعادت کا دارو مدار دنیا کی کامیابی اور آخرت کی کامیابی دونوں امام معصوم کی امامت اور ولایت پر موقوف ہےجو شخص امام معصوم کی ولایت کو اور امامت کو تسلیم کرے اور پھر انکی تعلیمات پر عمل کرتے ہوے زندگی گزارے اس شخص کی دنیا بھی جنت بن جاتی ہے اور آخرت بھی اور اگر امام حق کو ٹھکرادے اور انکی امامت اور ولایت کو تسلیم نہ کرے یا انکی تعلیمات پر عمل نہ کرے تو اسکے نتیجھے میں دنیا کی ذلت و رسوائی اور اور ضلالت اور گمراہی اور جہالت و بدبختی اس کی تقدیر ہوگی اور قیامت میں بھی تمام عذاب اور عقاب اور خدا کے غضب کا حقدار ہوگا۔جو امام زمانہo کی معرفت کے بغیر مرجائے وہ جاہلیت اور ضلالت کی موت مرتا ہے
اس وجہ سے سررار کائناتG نے نے تمان انسانوں کے لیے امام زمانہkکی معرف اور شناخت کو ضروری قرار دیا ہے اور کسی کے دل میں امام معصوم کی زمانے کے رھبر الہی کی معرفت نہ تو جاہلیت اور ضلالت اور گمراہی کی موت مرتا ہے چاہے وہ نماز پڑھنے والا اور تمام عبادتوں کو بجا لانے والا ہے لیکن اگر اس نے اپنے امام کی اور زمانے کی حجت الہی کی معرفت نہ ہو تو یقینا وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے یہ حدیث فرقین میں مسلم اور متفق روایات میں شامل ہے حضورGنے فرمایا۔
مَنْ‏ مَاتَ‏ وَ لَمْ‏ يَعْرِفْ‏ إِمَامَ زَمَانِهِ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً.[61]
ایک اور تعبیر میں آیا ہے۔
عَنْ عَمَّارٍ السَّابَاطِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ‏ لَا تَتْرُكُ الْأَرْضَ بِغَيْرِ إِمَامٍ يُحِلُّ حَلَالَ اللَّهِ وَ يُحَرِّمُ حَرَامَهُ- وَ هُوَ قَوْلُ اللَّهِ:}يَوْمَ نَدْعُوا كُلَّ أُناسٍ بِإِمامِهِمْ‏{ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص: مَنْ‏ مَاتَ‏ بِغَيْرِ إِمَامٍ‏ مَاتَ‏ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً فَمَدُّوا أَعْنَاقَهُمْ وَ فَتَحُوا أَعْيُنَهُمْ فَقَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ع: لَيْسَتِ الْجَاهِلِيَّةَ الْجَهْلَاءَ- فَلَمَّا أَخْرَجَنَا مِنْ عِنْدِهِ فَقَالَ لَنَا سُلَيْمَانُ هُوَ وَ اللَّهِ الْجَاهِلِيَّةُ الْجَهْلَاءُ، وَ لَكِنْ لَمَّا رَآكُمْ مَدَدْتُمْ أَعْنَاقَكُمْ وَ فَتَحْتُمْ أَعْيُنَكُمْ- قَالَ لَكُمْ كَذَلِكَ‏[62].[63]
تفسیر نمونہ اسی آیت کے ذیل میں اسی فرمان رسولواللہGکی روشنی میں تمام انسانوں کی نجات کےلیے دنیا وآخرت دونوں میں کامیاب اور قیامت میں غضب الہی اور جہنم سے محفوظ رہنے کے لیے حجت خدا زمانہ کی معرفت اور شناخت ضروری ہے اسی طریقے سے خدا رسولواللہGکے سچے جانشین جس کے انتظار کو روسولواللہGنے افضل ترین عبادت اور عمل قرار دیا ہے اسی کی معرفت بھی نہایت ضروری ہے اسی وجہ سے عصر غیبت میں معصوم کی جانب سے ہمیں دعائیں تعلیم دی گئی ہے اور ہر روز اس دعا کو پڑھنے کی سفارش گی ہے  اور انسان کی نجات اور عاقبت بخیری کے لیے دعا بہت مؤثر اور نہایت ضروری ہے اور اس دعا کو حضرت امام صادقAنے تعلیم دیا ہے اور تین معرفتیں خدا سے مانگے کا حکم دیا ہے  جو کہ درجہ ذیل ہیں۔
۱-معرفت پرودیگار
۲-معرفت رسول اکرمG
۳-معرفت حجت الہیٰ
اور معرفت حجت کے بغیر اس دعا میں دین سے گمراہ اور جاہل قرار دیا گیا ہے اور وہ عظیم الشان دعا یہ ہے۔
عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُوسَى الْخَشَّابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُوسَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ عَنْ زُرَارَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ع يَقُولُ‏ إِنَّ لِلْغُلَامِ غَيْبَةً قَبْلَ أَنْ يَقُومَ قَالَ قُلْتُ وَ لِمَ قَالَ يَخَافُ وَ أَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى بَطْنِهِ ثُمَّ قَالَ يَا زُرَارَةُ وَ هُوَ الْمُنْتَظَرُ وَ هُوَ الَّذِي يُشَكُّ فِي وِلَادَتِهِ مِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ مَاتَ أَبُوهُ بِلَا خَلَفٍ وَ مِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ حَمْلٌ‏[64] وَ مِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ إِنَّهُ وُلِدَ قَبْلَ مَوْتِ أَبِيهِ بِسَنَتَيْنِ وَ هُوَ الْمُنْتَظَرُ غَيْرَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ يُحِبُّ أَنْ يَمْتَحِنَ الشِّيعَةَ فَعِنْدَ ذَلِكَ يَرْتَابُ الْمُبْطِلُونَ يَا زُرَارَةُ قَالَ قُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ الزَّمَانَ أَيَّ شَيْ‏ءٍ أَعْمَلُ قَالَ يَا زُرَارَةُ إِذَا أَدْرَكْتَ هَذَا الزَّمَانَ فَادْعُ بِهَذَا الدُّعَاءِ اللَّهُمَّ عَرِّفْنِي‏ نَفْسَكَ‏ فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِي نَفْسَكَ لَمْ أَعْرِفْ نَبِيَّكَ اللَّهُمَّ عَرِّفْنِي رَسُولَكَ فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِي رَسُولَكَ لَمْ أَعْرِفْ حُجَّتَكَ اللَّهُمَّ عَرِّفْنِي حُجَّتَكَ فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِي حُجَّتَكَ ضَلَلْتُ عَنْ دِينِي ثُمَّ قَالَ يَا زُرَارَةُ لَا بُدَّ مِنْ قَتْلِ غُلَامٍ بِالْمَدِينَةِ قُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ أَ لَيْسَ يَقْتُلُهُ جَيْشُ السُّفْيَانِيِّ قَالَ لَا وَ لَكِنْ يَقْتُلُهُ جَيْشُ آلِ بَنِي فُلَانٍ‏[65] يَجِي‏ءُ حَتَّى يَدْخُلَ الْمَدِينَةَ فَيَأْخُذُ الْغُلَامَ فَيَقْتُلُهُ فَإِذَا قَتَلَهُ بَغْياً وَ عُدْوَاناً وَ ظُلْماً لَا يُمْهَلُونَ فَعِنْدَ ذَلِكَ تَوَقُّعُ الْفَرَجِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.[66]
ایک اور روایت میں حضرت امام صادق نے جناب ابا بصیر سے کہا اے ابا بصیر میں تمہیں اس چیز سے آگاہ کروں جس کے بغیر کوئی بھی عمل بارگاہ الہی میںقابل قبول نہیں ہےابا بصیر نے عرض کیا کیوں نہیں میرے آقا امام صادقAنے فرمایا تمام اعمال کی قبولیت کے لے معرفت توحید معرفت نبوت اور معرفت امامت اور ولایت اور پھر امام زمانہ کی معرفت کے ساتھ ساتھ انکا انتظار ضروری ہے اور پروردیگار عالم پورے جہاں پر ان کی حکوت کو یقینا قائم کرے گا اور دیمن حق کو تمام جہاں پعر نافذ کرے گا اور امام زمانہ کی حکومے ہم آل محمد کی حکومت ہے اور جو شخص چاہے امام زمانہ کے اصحاب میں شامل ہونا اور ان کے لشکر میں شامل ہو کر جہان پر حکومت الہی کو نافذ کرے اس شخص کو چاہئے وہ ہمیشہ امام زمانہ کا انتظار کرے فرائض کو انجام دے اور گناہوں سے اجتناب کرے اور بہترین اخلاق اور کردار کو اپنالے اگر یہ شخص امام کے ظہور سے پہلے دنیا سے چلا جائے تو اس کا مقام و منزلت وہی جو امام کو پانے والوں کا مقام ہے پس توم سب اپنے کردار اور افکار کی اصلاح کرو اور بہترین طریقےسے امام زمانہ کا انتظار کرو ۔
مبارک ہو تمہیں یقینا کا میاب اور خوش­بخت تم لوگ ہی ہو ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ابْنُ عُقْدَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ يَعْقُوبَ الْجُعْفِيُّ أَبُو الْحَسَنِ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مِهْرَانَ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ أَبِيهِ وَ وُهَيْبِ بْنِ حَفْصٍ عَنْ أَبِي بَصِيرٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع‏ أَنَّهُ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ أَ لَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا لَا يَقْبَلُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ مِنَ الْعِبَادِ عَمَلًا إِلَّا بِهِ فَقُلْتُ بَلَى فَقَالَ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ وَ الْإِقْرَارُ بِمَا أَمَرَ اللَّهُ وَ الْوَلَايَةُ لَنَا وَ الْبَرَاءَةُ مِنْ أَعْدَائِنَا يَعْنِي الْأَئِمَّةَ خَاصَّةً وَ التَّسْلِيمَ لَهُمْ وَ الْوَرَعُ وَ الِاجْتِهَادُ وَ الطُّمَأْنِينَةُ وَ الِانْتِظَارُ لِلْقَائِمِ ع ثُمَّ قَالَ إِنَّ لَنَا دَوْلَةً يَجِي‏ءُ اللَّهُ بِهَا إِذَا شَاءَ ثُمَّ قَالَ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَكُونَ مِنْ أَصْحَابِ الْقَائِمِ فَلْيَنْتَظِرْ وَ لْيَعْمَلْ بِالْوَرَعِ وَ مَحَاسِنِ الْأَخْلَاقِ وَ هُوَ مُنْتَظِرٌ فَإِنْ مَاتَ وَ قَامَ الْقَائِمُ بَعْدَهُ كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ أَدْرَكَهُ فَجِدُّوا وَ انْتَظِرُوا[67]هَنِيئاً لَكُمْ أَيَّتُهَا الْعِصَابَةُ الْمَرْحُومَةُ.[68]
پروردیگار عالم کی بارگاہ میں محمد وآل محمدGکے صدقے اور منجی بشریت مصلح کائنات ناموس دہر حجت ثانی عشر صاحب العصر وارث کل انبیا اور وارث شریعت آخرین ذخیرہ پروردگار حضرت امام زمانہA کا وسطہ ہے ہمیں ان کے اعوان و انصار میں شامل فرما اور ان کے ظہور کے لیے اپنے آپ کو اور گھر والوں کو اور معاشرے کو اور پورے جہاں کو آمادہ اور تیار کرنے کی توفیق عظا فرما اور پورے جہاں پر عدل الہی پروردگار اور دولت کریمہ اہلیبتDکے قیام میں اپنے کردار کو پیش کرنے اور لشکر امام زمانہ میں شامل ہونے میں توفیق فرما اور صحیح معنوں میں عقیدہ معاد کو سمجھ کر آخرت کو یاد رکھنے اور آخرت کی تیاری کرنے اور بہترین کردار اور اخلاق اور عمل انجام دیتے ہوئے آخرت میں خدا کے حضور اور آل محمد کے حضور سرخرو ہونے کی توفیق اور سعادت عطا فرما اور اس قلیل سی ہدیہ اور زحمت کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطا فرما آخرت مرحومین کے لیے ذخیرہ قرادے۔
 
[1]۔ابن بابويه، محمد بن على، الأمالي، النص، ص487 ( للصدوق) - تهران، چاپ: ششم، 1376ش۔
[2]۔ابن بابويه، محمد بن على، الأمالي، النص، ص178 ( للصدوق) - تهران، چاپ: ششم، 1376ش۔
[3]۔رمصت عينه: سال منها الرمص. و الرمص- بالتحريك-: وسخ أبيض يجتمع في موق العين۔
[4]۔طبرسى، حسن بن فضل، مكارم الأخلاق ، ص318- قم، چاپ: چهارم، 1412 ق / 1370 ش۔
[5]۔أورده المفيد في الإرشاد: 287، و الطبرسيّ في إعلام الورى: 260 بالاسناد الى جابر الجعفى، عن أبي جعفر عليه السلام، عنهما البحار: 46/ 74 ح 62، و العوالم:18/ 127 ح 2۔
[6]۔ رمضت عينه: حميت حتّى كادت أن تحترق۔
[7]۔ في نسخة من ط« دبفت»، و في أخرى« ديفت»۔
[8]۔خرمه: شق وترة أنفه۔
[9]۔« شيئا كثيرا» ه، ط۔
[10]۔ رواه المفيد في الإرشاد: 286 بإسناده عن الحسن بن محمّد بن يحيى، عن جده، عن الأنصاريّ، عن البزاز، عن الحسين بن علوان، عن أبي على زياد بن رستم، عن سعيد بن كلثوم، عن الصادق عليه السلام ضمن حديث ثمّ قال: و لقد دخل أبو جعفر ابنه عليه فاذا هو قد بلغ من العبادة ... مثله،عنه البحار: 46/ 75 ح 65، و العوالم: 18/ 91 ح 2، و أورده في إعلام الورى: 260 كما في إرشاد المفيد۔
[11]۔قطب الدين راوندى، سعيد بن هبة الله، الخرائج و الجرائح ، ج‏2، ص890- قم، چاپ: اول، 1409 ق۔
[12]۔ابن بابويه، محمد بن على، علل الشرائع ، ج‏1، ص229- قم، چاپ: اول، 1385ش / 1966م۔
[13]۔ شيخ حر عاملى، محمد بن حسن، وسائل الشيعة ، ج‏6، ص377- قم، چاپ: اول، 1409 ق؛ علل الشرائع، ص 233۔
[14]۔ الدءوب: الجد و التعب۔
[15]۔ابن شهر آشوب مازندرانى، محمد بن على، مناقب آل أبي طالب عليهم السلام ، ج‏4، ص155 (لابن شهرآشوب) - قم، چاپ: اول، 1379 ق۔
[16]۔ رمقه: اطال النظر إليه۔
[17]۔ابن شهر آشوب مازندرانى، محمد بن على، مناقب آل أبي طالب عليهم السلام، ج‏4، ص150 (لابن شهرآشوب) - قم، چاپ: اول، 1379 ق۔
[18]۔ مجلسى، محمد باقر بن محمد تقى، زاد المعاد - مفتاح الجنان ، ص99- بيروت، چاپ: اول، 1423 ق؛ طوسى، محمد بن الحسن، مصباح المتهجّد و سلاح المتعبّد، ج‏2، ص593- بيروت، چاپ: اول، 1411 ق۔
[19]۔ فوق: هامش ب و ج۔
[20]۔ القترة و الذّلّة: د و هامش ج۔
[21] طوسى، محمد بن الحسن، مصباح المتهجّد و سلاح المتعبّد ، ج‏2، ص591- بيروت، چاپ: اول، 1411 ق۔
[22]۔نورى، حسين بن محمد تقى، مستدرك الوسائل و مستنبط المسائل ، ج‏12،ص416- قم، چاپ: اول، 1408ق؛ كشف الغمّة،ج 2، ص 30۔
[23]۔ابن شهر آشوب، محمد بن على، المناقب، ابن شهر آشوب، ج‏4 ، ص154، 4جلد، علامه - قم، چاپ: اول، 1379 ه.ق۔
[24]۔ابن بابويه، محمد بن على، علل الشرائع ، ج‏1،ص231- قم، چاپ: اول، 1385ش / 1966م۔
[25]۔ احدودب: صار أحدب و هو الذي خرج ظهره و دخل صدره و بطنه۔
[26]۔ابن شهر آشوب، محمد بن على، المناقب، ابن شهر آشوب، ج‏4، ص165، 4جلد، علامه - قم، چاپ: اول، 1379 ه.ق؛کامل ابن اسیر۔
[27]۔ مجلسى، محمد باقر بن محمد تقى، بحار الأنوار، ج‏44ص292 (ط - بيروت) - بيروت، چاپ: دوم، 1403 ق۔
[28]۔ سورة البلد آية 8- 10۔
[29]۔ابن شعبه حرانى، حسن بن على، تحف العقول ، النص، ص274- قم، چاپ: دوم، 1404 / 1363ق۔
[30]۔ كذا۔
[31]۔ القرض: القطع أي قطعوا أنفسهم من الدنيا تقطيعا باقلاع قلوبهم عنها( فى)۔
[32]۔ في بعض النسخ‏[ عن الحرمات‏]. جمع الحرمة كالغرفات جمع الغرفة۔
[33]۔أي يتضرعون. جأر إلى اللّه أي تضرع۔
[34]۔ القداح بالكسر: السهم بلا ريش و لا نصل، شبههم في نحافة ابدانهم بالاسهم، ثمّ ذكر ما يستعمل في السهم أعنى البرى و هو النحت من العبادة أي من كثرتها إن تعلق بقوله:« كأنهم القداح» أو من قلتها إن تعلق بالخوف( فى)۔
[35]۔ قوله:« أم خولطوا» أي أو يقول: خولطوا و يحتمل أن يكون قوله:« مرضى» على الاستفهام و قوله:« أم خولطوا» معادلا له من كلام الناظر فاعترض جوابه عليه السلام بين أجزاء كلامه و الحاصل أنهم لما كانوا لشدة اشتغالهم بحب اللّه و عبادته و اعتزالهم عن عامة الخلق و مباينة أطوارهم لاطوارهم و أقوالهم لاقوالهم و يسمعون منهم ما هو فوق إدراكهم و عقولهم فتارة ينسبونهم إلى المرض الروحانى و هو الجنون و اختلاط العقل بما يفسده و تارة إلى المرض الجسماني فأجاب عن الأول بالنفى المطلق و عن الثاني بأن المخالطة متحققة لكن لا بما يفسده العقل بل بما يكمله من خوف النار و حبّ الملك الغفار(آت)۔
[36]۔كلينى، محمد بن يعقوب، الكافي ، ج‏2، ص131 (ط - الإسلامية) - تهران، چاپ: چهارم، 1407 ق۔
[37]۔ مجلسى، محمد باقر بن محمد تقى، بحار الأنوار ، ج‏66، ص377 (ط - بيروت) - بيروت، چاپ: دوم، 1403 ق؛ المحاسن، ص 292۔
[38]۔ابن شعبه حرانى، حسن بن على، تحف العقول، النص، ص282 - قم، چاپ: دوم، 1404 / 1363ق۔
[39]۔ كنف اللّه- بالتحريك-: ظله و حضنه۔
[40]۔ مجلسى، محمد باقر بن محمد تقى، بحار الأنوار، ج‏75، ص140 (ط - بيروت) - بيروت، چاپ: دوم، 1403 ق۔
[41]۔ في الفقيه« مالك بن عطية» و هو الظاهر۔
[42]۔كلينى، محمد بن يعقوب، الكافي، ج‏8، ص68 (ط - الإسلامية) - تهران، چاپ: چهارم، 1407 ق۔
[43]۔ على بن الحسين، امام چهارم عليه السلام، الصحيفة السجادية ، ص56- قم، چاپ: اول، 1376ش۔
[44]۔ سورۂ الرعد آیت:29۔
[45]۔سورۂ ص آیت:49-65۔
[46]۔ يقال خفق برأسه إذا أخذته سنة من النعاس فمال رأسه دون سائر جسده( لح)۔
[47]۔لانه أخبر بشي‏ء نادر الوقوع موجب لحمده و استحسانه صلّى اللّه عليه و آله( لح)۔
[48]۔الهاجرة: نصف النهار عند زوال الشمس. و عزفت نفسى عنه أي زهدت فيه۔
[49]۔كلينى، محمد بن يعقوب، الكافي ، ج‏2، ص53 (ط - الإسلامية) - تهران، چاپ: چهارم، 1407 ق۔
[50]۔سورۂ بقرہ آیت:4۔
[51]۔سورۂ بقرہ آیت:4-5۔
[52]۔سورۂ بقرہ آیت:2-3۔
[53]۔سورۂ اسراء آیت:71۔
[54]۔سورۂ اسراء آیت:72۔
[55]۔تفسیرنمونہ، ج6، ص631۔
[56]۔طباطبايى، محمدحسين، الميزان في تفسير القرآن، ج‏13، ص166، 20جلد، مؤسسة الأعلمي للمطبوعات - لبنان - بيروت، چاپ: 2، 1390 ه.ق۔
[57] ۔ سورۂ انفال آیت: 37؛تفسیر المیزان، ج3،ص166۔
[58]۔ كشى، محمد بن عمر، رجال الكشي - اختيار معرفة الرجال ، ج‏1،ص211 (مع تعليقات مير داماد الأسترآبادي) - قم، چاپ: اول، 1363 ش، رواه الترمذى في المناقب المرتضوية: 113 ط بمبئى و ابن الجوزى في التذكرة: 59۔
[59]۔ابن شهر آشوب مازندرانى، محمد بن على، مناقب آل أبي طالب عليهم السلام، ج‏3، ص65 (لابن شهرآشوب) - قم، چاپ: اول، 1379 ق۔
[60]۔طريحي، فخر الدين بن محمد، مجمع البحرين، ج‏6، ص10 - تهران، چاپ: سوم، 1375ش؛ مجمع البيان في تفسير القرآن، ج‏6، ص664۔
[61]۔خزاز رازى، على بن محمد، كفاية الأثر في النصّ على الأئمة الإثني عشر، ص296- قم، 1401 ق۔
[62]۔البرهان ج 2: 430. البحار ج 3: 292 و نقله المحدث الحرّ العامليّ( ره) في كتاب إثبات الهداة ج 1: 265 عن الكتاب مختصرا أيضا۔
[63]۔عياشى، محمد بن مسعود، التفسير ( تفسير العياشي)، ج‏2،ص 303، 2جلد، مكتبة العلمية الاسلامية - ايران - تهران، چاپ: 1، 1380 ه.ق۔
[64]۔ أي مات ابوه و هو حمل۔
[65]۔ في بعض النسخ‏[ آل أبي فلان‏]۔
[66]۔كلينى، محمد بن يعقوب، الكافي، ج‏1، ص337 (ط - الإسلامية) - تهران، چاپ: چهارم، 1407 ق۔
[67]۔ في بعض النسخ« فجدوا تعطوا، هنيئا، هنيئا»۔
[68]۔ابن أبي زينب، محمد بن ابراهيم، الغيبة للنعماني، النص، ص200- تهران، چاپ: اول، 1397ق۔