مولا کاحق
قال مولانا امام سجادa:وَ أَمَّا حَقُّ سَائِسِكَ بِالْمِلْكِ فَأَنْ تُطِيعَهُ وَ لَا تَعْصِيَهُ إِلَّا فِيمَا يُسْخِطُ اللَّهَ فَإِنَّهُ لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ.[1]
سیدالساجدینAکی نگاه میں مولا کاحق
حق مولا کیاهے؟ اس کے حق کو کیسے ادا کیا جائے گا اس کو بیان کرنے سےکچھ وضاحتیں و نکات کو بیان کریں گے۔
مولا کے اقسام
مولا کی دو قسمیں هیں:
1-مولائے شرعی جس کی ولایت شرعاً واجب الاطاعة هے اس کی ولایت اور اطاعت کو خدا نے واجب قرار دیاهے اور جب تک اس کی ولایت اور اطاعت کو قبول نه کرے گا اس وقت تک وه شخص مسلمان اور مؤمن نهیں ہوسکتا هے، تینقسم کی لایت قرآن میں بیان هوئی هے یا دوسرے لفظوں میں تین قسم کے مولا کوواجب الطاعة قرار دیاهے:
}إِنَّما وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَ رَسُولُهُ وَ الَّذينَ آمَنُوا الَّذينَ يُقيمُونَ الصَّلاةَ وَ يُؤْتُونَ الزَّكاةَ وَ هُمْ راكِعُونَ{[2]
ایمان والو بس تمہارا ولی اللہ ہے اور اس کا رسول اور وہ صاحبانِ ایمان جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوٰۃ دیتے ہیں۔
اس آیت میں ایک الله کی ولایت اور الله مولا هےاس کے بعد رسول الله مولاهیں پھر (آسان لفظوں میں کہاجائے کہ) امیرالمؤمنینA اور ان کےباره جانشینامام ومولاهیں ان کی ولایت اور اطاعت واجب هے اور اسی بات کو سوره نساء کی آیت میں بیان کیا گیاهے درج ذیل آیت میں ملاحظہ فرمائیں:
}يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا أَطيعُوا اللَّهَ وَ أَطيعُوا الرَّسُولَ وَ أُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنازَعْتُمْ في شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَ الرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَ الْيَوْمِ الْآخِرِ ذلِكَ خَيْرٌ وَ أَحْسَنُ تَأْويلاً{[3]
ایمان والو !اللہ کی اطاعت کرو، رسول اور صاحبانِ امر کی اطاعت کرو جو تم ہی میں سے ہیں پھر اگر آپس میں کسی بات میں اختلاف ہوجائے تو اسے خدا اور رسول کی طرف پلٹا دو اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھنے والے ہو۔یہی تمہارے حق میں خیراور انجام کے اعتبار سے بہترین بات ہے۔
الله کی اطاعت کرو رسول کی اطاعت کرو اور اولی الامر کی اطاعت کرو، اولی الامر سے مراد وه صاحبان ولایت هیں جن کی ولایت اور امامت کو تمام نوع بشر کے اوپرلازم اورضروری قراردیا گیا هے یه شرعیمولاهے یه مولائےحقیقی هے ان کی ولایت تا قیام قیامت تمام بشر کو تسلیم کرنا اور ان کی اطاعت کرنا اور ان کے فرمان پرعمل کرنا نه فقط لازم اور ضروری هے بلکه تمام نوع بشر کے لئے سعادت اور خوش بختی کاباعث هے۔
2-مولا کی دوسری قسم ،مولائے عرفی هے یا دوسرے لفظوں میں زمان قدیم میں ایک قسم کی ولایت تھی کہ مالک غلاموں کو خریدلیتاتھااور جوغلام خریدے جاتے تھےان کے مالک کو بھی مولا کهاجاتا تھا اور اس کوبھی عرفی مولا ہیں کیونکہ اس دور کے سماج میں حق مالکیت ہوتاتھا۔
غلاموں کے متعلق اسلام کانظریه
اسلام اساسی طورپر غلامی کیمخالفت کرتاهےاوراسلام اس بات کی اجازت نهیں دیتاهے که انسان کسی کا غلام بن جائے اور کوئی اس کا مالک بن جائے مالک بنادے، مالک صرف خدا هے اور اسی کی عبادت اور اطاعت همارے لئے واجب هے اور وه صاحب ولایت هےہاں اگر پروردگار کی جانب سے کسی کو حق ولایت دیاگیاہے تو اس کا بھی ذکر قرآن کریم میں موجود ہے۔
اس کے علاوه کوئیبھی بشر کسی انسان کا مالک نهیں هے اور برتری کاجوسسٹم و نظام هے یا غلامی کا جوسسٹم هے اس چیزکا اسلام سخت مخالف هے نه تنها مخالف هے بلکه اگر کسی معاشرے میں کچھ لوگ غلام بنے هوئے هیں اور ان کےپاس مالی امکان یا استطاعت نهیں ہے جس کی وجه سے وه اپنے آپ کو آزادکراسکیں تو اسلام نے ان غلاموں کو آزاد کرانے کی اسلام میں حدسے زیاده تاکید وسفارش اور کوشش کی گئی هے اور عملی طورپر ترغیب دی هے کہ جوغلام بنے هوئے هیں ان کو غلامی سے نجات دلایاجائے اسی وجه سے که هماری روایات میں ملتاهےکہ مولائے کائنات نے هزارغلاموں کوآزاد کیا، حضرت صادق آل محمدfکا فرمان هے جس کوجناب شیخ عباس قمیqنے سفینة البحار باب عتق میں لکھاهے:
وَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ع قَالَ: أَعْتَقَ عَلِيٌّ ع أَلْفَ مَمْلُوكٍ مِمَّا عَمِلَتْ يَدَاهُ وَ إِنْ كَانَ عِنْدَكُمْ[4]إِنَّمَا حَلْوَاهُ التَّمْرُ وَ اللَّبَنُ وَ ثِيَابُهُ الْكَرَابِيسُ[5]وَ تَزَوَّجَ ع لَيْلَى فَجُعِلَ لَهُ حَجَلَةٌ[6] فَهَتَكَهَا وَ قَالَ: «حَسْبُ أَهْلِ عَلِيٍّ مَا هُمْ فِيهِ».[7]
امام صادقAنے فرمایا: امیرالمؤمنینAاپنے هاتھ سے کمائے پیسے سے هزار غلاموں کو آزادکیا،لہذا غلاموں کو آزاد کرنا، آزادی دینا همارئے ائمهfکی سیرت هے انهوں بڑی کوشش وجدجہد کی هے که غلام کو آزاد کرایاجائے تاکہ وہ آزادی و حریت کے ساتھ اپنی زندگی گزارسکیں نه که غلام بن کراس دنیا میں رہیں ۔
غلاموں کے متعلق انبیاء اور ائمهf کانظریه و کردار
مولائے کائناتAکا فرمان هے:
لَا تَكُونَنَّ عَبْدَ غَيْرِكَ وَ قَدْ جَعَلَكَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ حُرّاً فَمَا خَيْرُ خَيْرٍ لَا يُنَالُ إِلَّا بِشَرٍّ وَ يُسْرٍ لَا يُنَالُ إِلَّا بِعُسْرٍ.[8]
خدانے تمهیں آزاد خلق کیاهے لهذ تم اپنے اختیار سے کسی کابنده اور غلام نه بننا۔
اور غلاموں کی آزادی کادرس انبیاء نےبھی دیا هے۔
حضرت موسیAکےبارے میں قرآن پاک کی آیات هیں جناب موسی Aنےکوشش بنی اسرائیل کو غلامی سےآزادی دلانے کی بہت کوشش کی، بنی اسرائیل کو فرعون نے غلام بنارکھاتھا وه غلامی کی زندگی بسر کررهے تھے اس وجہ سےحضرت موسیA نے بڑی کوشش کی تھی که فرعون کےشر سے بنی اسرائیل کو آزاد کرائیں اور آخرکار اس کام کو انجام بھی دیا،فرعون کی قید سے انہیں آزدی دلائی اوراستقلال و خود مختاری عطاکی۔
اسلام میں غلامی کی گنجائش نهیں
دوسرا نکته اسلام میں غلامی کی گنجائش نهیں هے۔اگر کوئی شخص خداناخواستہ کسی کاغلام ہے اور وہ اپنے هاتھوں غلام بناهے تو اس نےاپنی شخصیت کو مٹادیاهے نتیجہکےطورپردنیا کے اندر جوبادشاهوں کانظام آیا لوگ ان کےغلام هے اوربهت ساری کنیزیں ہوئیں یه سسٹم اسلامی نهیں هے دینی نهیں هےسارے انسان، انسان ہونے کی حیثیت سے برابر هیںبنی آدم انسان هونے کے اعتبارسےسب برابرهےخطبہ حج کے ذیل میں لکھا هوا هے ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔
غلاموں کی آزادی کا اهم پیغام
جب رسول اللهG حج کے لئے تشریف لے گئے، اس وقت کا حج کا سب سے بڑا اجتماع تھا تمام مسلمان اس وقت کے جمع تھے اورحضورGنے فرمایا:
قَالَ سَيِّدُنَا رَسُولُ اللَّهِ ص: أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ رَبِّكُمْ وَاحِدٌ وَ إِنَّ أَبَاكُمْ وَاحِدٌ لَا فَضْلَ لِعَرَبِيٍ عَلَى عَجَمِيٍّ وَ لَا لِعَجَمِيٍّ عَلَى عَرَبِيٍّ وَ لَا لِأَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ[9] وَ لَا لِأَسْوَدَ عَلَى أَحْمَرَ إِلَّا بِالتَّقْوَى قَالَ اللَّهُ تَعَالَى}إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقاكُمْ{[10].[11]
پیغمبرGنےکهااے لوگو! تمہارا پروردگار ایک ہے اور تمہارے باپ( آدم) اکی ہیں۔ کسی انسان کو کسی انسان پر برتری نهیں هےنه کالے کا سفید پربرتری هے نه سفید کوکالےپرنه عرب کو عجم پر برتری هے نه عجم کو عرب پر(کلکم بنیآدم) سب آدم کی اولاد هیں اللہ کا فرمان ہے: بیشک تم میں خدا کے نزدیک سب سے زیادہ محترم وہی ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگارہے(اگر کسی کو کسی پربرتری حاصل هے تو دین و تقوی کی وجه سے هے تقوی معیار فضیلت هے)۔
امام رضاAکاغلاموں کی آزادی میں عملی کردار
ایک روای کابیان هے جو امام رضاA کے ساتھ خراسان کی طرف سفرکیااس وقت کے حکومت کی طرف سے ایک مأمور بھی تھا وه شخصبھیامامکے ساتھخراسان پهنچا تو خراسان میں ایک دسترخوان بچھایاگیا جس میں غلام بھی تھے اور آزاد بھی، جب حکم هوا کہ غلاموں کو اس دسترخوان سے هٹاؤ چونکه حاکم اور بادشاه کاطریقہ اوررواج هی یهی تھا وه غلاموں کے ساتھ کبھی بھی کھانا نهیں کھاتےوہ اسعمل کو عیب سمجھتےتھےجب امام رضاAنےیه منظر دیکھا تو امامA نے پوچھا تم لوگ اس دسترخوان سے غلاموں کو کیوں هٹارهے هو، کها بادشاه غلام کے ساتھ کھانا نهیں کھاتے اس لئےانہیں ہٹارہے ہیں؟ تو امامA نے اس وقت کے مجمع میں کها:“انما الاب واحد والام واحد والجزاء باالاعمال”هم سب کا باپ بھی ایک هے هم سب کی ماں بھی ایک هے اگر کسی کو پاداش و جزا ملےگیتو وه عمل کے حساب سے ملے گیلہذا همیں حق نهیں که غلاموں کی تحقیر کرو توهین کریں اس کو دوسرےدرجہ کا انسان سمجھیں، کسی وجه سے یہ کام نہیں ہونا چاہئے؟سب ایک هیں ۔لہذا اسلام نے بهت کوشش کی انسانوں کی کہحقارت،ذلت و توهین کو ختم کیاجائے،غلامی کےسسٹم کو ختم کیاجائے، بندگی کی نظام کو ختم کیاجائے جس میں ظلم و توهین اور ذلت پائی جاتی هو۔
اسی وجه سے فقهی کتابوں میں بعض مواقع پرغلاموں کو آزاد کرناواجب قراردیاگیاهے، اس میں سے ایک کفاره ہے مثال کے طورپراگر کسی نے رمضان کا روزه توڑاهے تو اس پر کفاره واجب هے، تو کفاره یه هے که هر روزه کے بدلے ایک غلام آزاد کرے، یا ساٹھ دن کا روزه رکھے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے ۔
بعض جگهوں پرواجب تخییری نهیں هے بلکه واجب تعینی هے مثلا ظهار کیا هے (ظهرکِ کظهرامی) اگریه جملہ کها تو اس کا کفاره واجب تعیینی هوگا اگر اس کو کہیں سے غلام ملتاهےتوخریدکر آزاد کرےجس کو عربی میں عتق رقبه کہاجاتاہے۔
اسی طریقے سے قسم کھایا هے اگر قسم کو توڑے توقسم توڑرنےکا کفاره واجب هے ایک غلام آزاد کرےیا اس کے علاوہ جو کفارہ فقہاء نے معین کیا وہ اداکرے۔
امام سجادA کاتین بنیادی کام
حضرت امام سجادAکی زندگی کےمتعلق کتابوں میں ذکرهے، میں نے اس کو تفصیل کے ساتھ حضرت آیت الله ناصرمکارم شیرازی کی سائٹ پردیکھا هے۔ اس سائٹ پر لکھاهے که امام سجادA نے اپنی زندگی میں کئی بنیادی کام اور کئی اساسی کام کئے هیں ایک اهم بینادی کام درج ذیل هے:
1-دعاکے اور مناجات کے ذریعہاسلام کاپیغام پهنچانادین کا پیغام دعا، اور مناجات کےذریعہ سے پهنچایا۔
2-دوسراپیغام امام سجادAکا رسالة الحقوق ہےجس کی هزاروں شرحیں لکھی گئی هیں یه مستقل ایک کتاب هے امامAنےپوری بشریت کو آداب زندگی سکھایاهے، کس طرح عبادت کرنی چاهئے، هر عبادت کا طریقه الگ الگ بتایاحق عبادت کے نام سے روزے کا حق کیا هے حج کا حق کیاهے؟۔
دوسری طرف حقوق الناس کےحوالے سے بتایا، ماں کاحق کیا هے، باپ کا حق،خداکاحق، رسول کاحق، ائمه کاحق، شاگردوں اورهمسایه کاحق، رسالة الحقوق میں جینے کا سلیقه سکھایاهے انسان کے ایک دوسرے کے متعلق کیاحقوق هیں اور کس طریقے سے ایک دوسرے کےحقوق کی رعایت کرنی چاہئے ان تمام چیزوں کا تذکرہ ہے۔
3- امام سجادAکا تیسرا کارنامہ:غلاموں کی آزادی هے غلام کو نجات دیناهے امام سجادA بے شمار غلاموں کو خریدتے تھے، تربیت کرتے تھے، ان کو اسلام کے وظایف اور واجبات الہیٰ سکھاتے تھے جب وه بهترین طریقے سے اسلام کو سیکھ لیتااور آزادی کےساتھ اسلامی نکتہ نظر سے زندگی کےقابل اورصحیح مؤمن هوجاتاتو اسے آزاد کردینےدو مواقعاس سلسلہ میں ملاحظہ فرمائیں۔
1-انہیں حج کے موقع پرلے جاتے تھے،عرفات کے میدان میں سب کو آزاد کردیتے تھے۔
2- دوسرا موقع جب رمضان مبارک کا مهینه آتا تھارمضان المبارک جس کا ایک نام شهر العتق هے آزادی کامهینه الله تعالی رمضان کی مهینے میں تمامجن کی قسمت میں جهنم نصیب هونے والی هوتی ان تمام کو جهنم کی آگ سے آزاد کردیتاهےاور آزادی عطاکردیتاهے، امام سجادAنے آزادی وبخشش کا طریقہ اس طرح اپنایا کہ ان تمام غلاموں کو جمع کرتے تھے اور خدا کو گواه قرار دیتے تھےپروردگارا میں نے ان غلاموں کو خریدا هے تاکه غلاموں کو آزاد کیاجائے میں نے ان سب کو تیری راہ میں آزاد کردیاهے ، تو بھی مجھے جهنم کی آگ سے آزادی عطاکر دے حضرت آیت الله مکارم شیراز ی نے لکھا هے که امام سجادA نےکم ازکم هزار غلاموں کو آزاد کیاجو انتهائی تربیتیافته،نیک وصالح تھے۔
امام سجادAکے تربیت یافته غلام کا تاریخی واقعه
امام سجادA کے غلاموں میں سے ایک غلام کا تاریخی واقعه اس طرح هے امام کے زمانے میں قحط سالی هوگئی تو لوگ امام سجادA کی خدمت آئےکہ باران رحمت منقطع هوگئی هے اور لوگ بهت پریشان هیں آپ فرمائیں همیں کیا کرناچاهئے امامAنے حکم دیا سب نکل جاؤسامراء میں تین دن نماز استسقاء پڑھو جب نما استسقاء پڑھو گے تو خدا کی رحمت جوش میں آئے گی اور یه مشکل دور هوگائے گی سب لوگ باران رحمت کی طلب میں چلے گئے، تین دن هوگئے، نماز استسقاءاداکی اور بارش نهیں آئی جب تیسرادن هوا تو ایک شخص جس کانام هے طاؤس هے وه کهتاهے میں دیکھ رهاتھا ان لوگوں کے درمیان میں سے ایک شخص بالکل الگ جگہ پر چلاگیا جب هم پلٹ رهے تھے تو اس نے الگ جاکرنمازاستسقاء ادا کی اور هاتھوں کو بلندکیا طاؤس کهتاهے میں دیکھ رها تھا که وه شخص جس نے هاتھوں کو دعاکے لئے بلند کیا تھاابھی هاتھ نیچے نهیں کیا تھا کہاتنے میں موسلادھار بارش هونے لگی، میں اس کے قریب گیا اور اس سےپوچھا تم کون هو؟ خدانے تمهیں کتنا بلند مقام عطاکیاہے خدانے تمہاری دعا کوسن لیا اور سب کو باران رحمت سے نوازا، جبکہ بہت سے لوگوں نے دعا کی مگر ان کی دعا قبول نہیں ہوئی؟ اس نے جواب دیا میں سیدالساجدینA کے غلاموں سے ایک غلام هوں جب دیکھا که تین دن هوگئے بارش نازل نهیں هوئی اور کسی کی دعا کو خدانے نهیں سنی، میں نے خداسےکها ، کیایه سب تیرے بندے نهیں هیں؟ اگرتونے بارش نازل نهیں کیا تو کون نازل کرے گا تو ارحم الراحمین هے اگرتونے بارش نازل نه کی تو هم سب مرجائیںگے؟ سیدالساجدینA کے ایک ادنی سےغلام نے عجیب مناجات اور دعا کی، اور میں وه راز ونیاز کررہاتھاکہ اتنے میں خدانے بارش برسائی، امام Aکے غلامسے سوال کرنے والابڑادولتمندتھا اس کے دل میں غلام کی محبت پیدا هوئی تو وه واپس پلٹ کر امام سجادAکےپاس آیا اور کهاکہ آپ کے غلاموں میں سے ایک باعظمت غلام بھی هے جس کی دعا کو خدانے سن لیااور سب کی مشکل کو دور کردیاآپ عنایت کریں غلام کو مجھے بیچ دیں میں اسے لیکر اس کو مولابنادوں گا وه خداکےنزدیک مقرب شخص هے اور میں اس کا غلام بن جاؤں گا تو امامAنے فرمایا: اگر وه راضی هوجائےتولے جاؤ جب دیکھا غلاموں میں وه موجود نهیں هے،سوال کیا تو کسی نے کها وه ابھی نهیں آیا هےوه گائے اور بھیڑبکڑیاں چرانےوالاغلام هے جب اس کو بلایا تو وہ غلام سمجھ گیا یه شخص مجھےامام سجادAسےجدا کرنے آیاهےمجھے لیکر یه شخص مجھے اپناغلام بناناچاهتاهے اتنے میں وه غلام دورکعت نماز پڑھنے لگا اور سجدے کی حالت میں دعا کیا خدا!تونےاپنے اور میرے درمیان رابطے کوپهچان لیاهے اب میں اس دنیامیں نهیں رهناچاهتا اس شخص کے غلام بننے سے پهلے مجھے اٹھالینا، جب دیکھاگیاتو وه وهیں سجدے کی حالت میں مرچکاتھا، امام سجادA اس طرح کےغلاموں کو خریدتے تھے اور تربیت وتعلیم دے کر آزاد کرادیتے تھے لہذا اسلام میں غلاموں کو آزاد کرنےکادرس دیتا هے اور غلامی کے سسٹم کو ختم کرنا چاہتاهے انسان کو حریت و آزادی عطاکرتاهے ، امام سجادA کے زمانے میں غلامی کاسسٹم رائج تھا لوگوں نے بهت سے لوگوں کو غلام بناکر رکھاتھا اس وقت عرفی مولا اورمالک تھے ان مالکوں حق کو دیاگیاتھا چونکه وه تمهارا مولا بناهوا هےتواب تمهاری کیاذمه داری هے؟
امامAنے دو ذمه داریاں بیان کی هیں جوتمهارا مالک هے اس کا حق یه هےکه تم کبھی اپنے مالک کی نافرمانی نه کرو،مالک جوتمهیں دستور دے اس پرعمل کرو اور اس کی معصیت اور نافرمانی نه کرو،هاں ایک مقام پرمالک کی نافرمانی ضروری هے اگر وہتمهیں معصیت خداکا حکم دے یاایساکام کرنے کو کہے جوخداکے غضب اورناراضگی کاسبب بنے اور معصیت پرختم هو مثلاً چوری وغیره کرنے کو کہے تو یهاں مولاکی اطاعت واجب نهیں هے بلکہ ایسی جگہوں پر اللہ کاحکم مقدم ہوگا۔
اسلام کاایک اهم قانون
اسلام کاایک اهم قانون ہے وہ یہ کہ بهت ساری جگهوں پر انسانوں پر کچھ اطاعتیں واجب هوتی ہیں جیسےمخلوق کی اطاعت واجب هے لیکن جہاں جہاں خدا، رسول اور ائمهf کے علاوه انسان پر اطاعت واجب هے لیکن اس اطاعت کی شرطهےکہ اس وقت تک مخلوق کی اطاعت کی جائے گی جب تک خالق کی معصیت نه هواور اگر مخلوق کی اطاعت سے خالق کی معصیت هوگئی، وهاں مخلوق کی اطاعت واجب نهیں هےمثلاً والدین کی اطاعت، زوجه پرشوهر کی اطاعت،مجتهدین کی اطاعت مقلدین پرتو یه سب اطاعت ٹھیک هے لیکن خطاکاامکان هے مثلاً والدین معصیتکاحکم دے یابیوی کوشوهر معصیت خدا کا حکم دے یا واجب کو ترک کرنے کا حکم دے تو یہاں خدا کا حکم مقدم ہوگا یہ قانون کلی ہے۔
وَ رَجُلٍ آتَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ سُلْطَاناً فَزَعَمَ أَنَّ طَاعَتَهُ طَاعَةُ اللَّهِ وَ مَعْصِيَتَهُ مَعْصِيَةُ اللَّهِ، وَ كَذَبَ، لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ، لَا طَاعَةَ لِمَنْ عَصَى اللَّهَ.[12]
...مخلوق کی اطاعت نهیں هوتی هے جهاں خالق کی معصیت هوتی هےاور اس شخص کی اطاعت نہیں جو اللہ کی معصیت کرے اور اطاعت الہیٰکے سلسلہ میں مخلوق کی اطاعت کریں گے،ماں باپ کی بات مان لیںگے، مجتهدکی بات مان لیں گے، دین کی راه اورسرحد میں رہ کر لیکن اگر وہ ان سرحدوں سے تجاوز ہو جائے تو اطاعت واجب نهیں هے۔
تطبیق عبارت
“وَ أَمَّا حَقُّ سَائِسِكَ بِالْمِلْكِ”جوتمهارا مالک اور عرفی مولا هے اس کا حق یه هے۔
1-“ فَأَنْ تُطِيعَهُ وَ لَا تَعْصِيَهُ”اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کرو۔
2-نافرمانی اور معصیت نه کرو مگر اس موردمیں“إِلَّا فِيمَا يُسْخِطُ اللَّهَ”نافرمانی ضروری هے ایسا کام کرنے کاحکم دے جس میں خدا کا غضب اور ناراضگی هو۔
3-“ فَإِنَّهُ لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ”قانون کلی کسی بھی مخلوق کی طاعت نهیں هوتی هے جس میں خدا کی نافرمانی اورمعصیت هو۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سِنَانٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ع يَقُولُ: كَانَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ ع يَقُولُ إِنَّ النَّاسَ كُلَّهُمْ أَحْرَارٌ إِلَّا مَنْ أَقَرَّ عَلَى نَفْسِهِ بِالْعُبُودِيَّةِ وَ هُوَ مُدْرِكٌ مِنْ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ وَ مَنْ شُهِدَ عَلَيْهِ بِالرِّقِّ صَغِيراً كَانَ أَوْ كَبِيراً.[13]
...امیرالمؤمنین Aفرمایاکرتے تھےتمام انسان آزاد اور حر هے کوئی بھی کسی کا غلام نهیں هے خدانے انسانوں کو آزاد اورحر بناکے پیداکیاهے۔۔۔“لَا تَكُونَنَّ عَبْدَ غَيْرِكَ وَ قَدْ جَعَلَكَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ حُرّاً”۔ کسی کے بندہ نہ بنو جبکہ اللہ نے تمہیں آزاد پیداکیاہے۔
اسلام میں پیدائش غلام نهیں
اسلام میں کوئی پیدائشی غلام نهیں هے خدانے ہر انسان آزاد اور حریت بناکر پیداکیا ہے بعد میں انسانوں نے ایک دوسرےکوغلام بنالیاهےکوئی بادشاه بنااس نے کنیزین خریدلی اور غلاموں کو خریدلیا پھر اپناغلام بنادیا یه پیدائشی غلام نهیں تھا اسلام ہیں بلکہ بعد میں انہیں کنیز اور غلام بنالیا گیاہے۔
علامه اقبالq کی خوبصورت بات
علامه اقبالqنے کتنی خوبصورت بات کهی هے تم نے اپنی بے بصیرتی کی وجه سے، اپنی انسانیت کی قدر نه کرنے کی وجه سے، تو انسانوں کےغلام و بندےبن بیٹھے ورنه میں نے کسی کتے وجانور کوبھی کسی اور جانور کے سامنے غلامی کا سرخم کرتے نهیںدیکھاهے:
آدم از بـی بــصـری بـنـدگــی آدم کــرد
من نه دیدم سگی را پیش سگی سرخم کرد
یعنیبنی آدم ، انسان نے اپنی شخصیت وعظمت کو جب کھودیا تو اس نے غلامی کرنا شروع کردی کبھی فرعون کاغلام بن گیا،کبھی نمرود اور کبھی زمانے کے لوگوں کا غلام بن گیا،اب دنیا کے مسلمان امریکا واسرائیل کےغلام بنے ہیں پیسے والے ذلیل عربوں کے غلام بن کر بیٹھے هیں کبھی اقتدار اور کبھی خود پیسے کے سامنے جھگ گئے لہذا یه جھکنا خدانے نهیں سکھایاتھا بلکه انسان کو آزاد اور بلند وبالا مقام عطاکیاتھا۔
إِنَّ النَّاسَ كُلَّهُمْ أَحْرَارٌ إِلَّا مَنْ أَقَرَّ عَلَى نَفْسِهِ بِالْعُبُودِيَّةِ.
بیشک تمام انسان آزاد پیدا ہوئے ہیں مگر وه شخص جس نے اپنے آپ کو غلام کر بنالیااور اپنی غلامی کااقرار کرلیاهے ۔
[1]۔ابن بابويه، محمد بن على، الأمالي( للصدوق) ، ص370- تهران، چاپ: ششم، 1376ش۔
[2]۔سورۀ مائده:55۔
[3]۔سورۀ نساء:59۔
[4]۔ لا أرى وجها لعبارة« و ان كان عندكم» و في رواية ابن أبي الحديد عن عبد اللّه بن الحسن بن الحسن« و لقد ولي الخلافة و أتته الأموال فما كان حلواه إلّا التمر و لا ثيابه إلّا الكرابيس»( شرح نهج البلاغة م 1/ 182)۔
[5]۔ الكرابيس جمع كرباس- بكسر الكاف- ثوب خشن و هو فارسي معرّب۔
[6]۔ الحجلة: ستر يزين للعروس في وسط البيت۔
[7]۔ثقفى، ابراهيم بن محمد بن سعيد بن هلال، الغارات، ج1، ص59 (ط - القديمة) - قم، چاپ: اول، 1410 ق۔
[8]۔تميمى آمدى، عبد الواحد بن محمد، تصنيف غرر الحكم و درر الكلم ، ص335- ايران ؛ قم، چاپ: اول، 1366ش۔
[9]۔ليس في الأصل و صحح في الهامش، و انظر الدّر المنثور 6/ 97.
[10]۔سورة الحجرات: 13.
[11]۔كراجكى، محمد بن على، معدن الجواهر و رياضة الخواطر ،ص21- تهران، چاپ: دوم، 1394ق / 1353ش.
[12]۔هلالى، سليم بن قيس، كتاب سليم بن قيس الهلالي، ج2،ص884- ايران ؛ قم، چاپ: اول، 1405ق۔
[13]۔كلينى، محمد بن يعقوب، الكافي (ط - الإسلامية)، ج6، ص195- تهران، چاپ: چهارم، 1407 ق۔