مولا کاحق

قال مولانا امام سجادa:وَ أَمَّا حَقُّ سَائِسِكَ بِالْمِلْكِ فَأَنْ‏ تُطِيعَهُ‏ وَ لَا تَعْصِيَهُ‏ إِلَّا فِيمَا يُسْخِطُ اللَّهَ فَإِنَّهُ لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ.[1]

سیدالساجدینAکی نگاه میں مولا کاحق

حق مولا کیاهے؟ اس کے حق کو کیسے ادا کیا جائے گا اس کو بیان کرنے سےکچھ وضاحتیں و نکات کو بیان کریں گے۔

مولا کے اقسام

مولا کی دو قسمیں هیں:

1-مولائے شرعی جس کی ولایت شرعاً واجب الاطاعة هے اس کی ولایت اور اطاعت کو خدا نے واجب قرار دیاهے اور جب تک اس کی ولایت اور اطاعت کو قبول نه کرے گا اس وقت تک وه شخص مسلمان اور مؤمن نهیں ہوسکتا هے، تین­قسم کی لایت قرآن میں بیان هوئی هے یا دوسرے لفظوں میں تین قسم کے مولا کوواجب الطاعة  قرار دیاهے:

}إِنَّما وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَ رَسُولُهُ وَ الَّذينَ آمَنُوا الَّذينَ يُقيمُونَ الصَّلاةَ وَ يُؤْتُونَ الزَّكاةَ وَ هُمْ راكِعُونَ{[2]

ایمان والو بس تمہارا ولی اللہ ہے اور اس کا رسول اور وہ صاحبانِ ایمان جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوٰۃ دیتے ہیں۔

اس آیت میں ایک الله کی ولایت اور الله مولا هےاس کے بعد رسول الله مولاهیں پھر (آسان لفظوں میں کہاجائے کہ) امیرالمؤمنینA اور ان کےباره جانشین­امام  ومولاهیں ان کی ولایت اور اطاعت واجب هے اور اسی بات کو سوره نساء کی آیت میں  بیان کیا گیاهے درج ذیل آیت میں ملاحظہ فرمائیں:

}يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا أَطيعُوا اللَّهَ وَ أَطيعُوا الرَّسُولَ وَ أُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنازَعْتُمْ في‏ شَيْ‏ءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَ الرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَ الْيَوْمِ الْآخِرِ ذلِكَ خَيْرٌ وَ أَحْسَنُ تَأْويلاً{[3]

ایمان والو !اللہ کی اطاعت کرو، رسول اور صاحبانِ امر کی اطاعت کرو جو تم ہی میں سے ہیں پھر اگر آپس میں کسی بات میں اختلاف ہوجائے تو اسے خدا اور رسول کی طرف پلٹا دو اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھنے والے ہو۔یہی تمہارے حق میں خیراور انجام کے اعتبار سے بہترین بات ہے۔

الله کی اطاعت کرو رسول کی اطاعت کرو اور اولی الامر کی اطاعت کرو، اولی الامر سے مراد وه صاحبان ولایت هیں جن کی ولایت اور امامت کو تمام نوع بشر کے اوپرلازم اورضروری قراردیا گیا هے یه شرعی­مولاهے یه مولائےحقیقی هے ان کی ولایت تا قیام قیامت تمام بشر کو تسلیم کرنا اور ان کی اطاعت کرنا اور ان کے فرمان پرعمل کرنا نه فقط لازم اور ضروری هے بلکه تمام نوع بشر کے لئے سعادت اور خوش بختی کاباعث هے۔

2-مولا کی دوسری قسم ،مولائے عرفی هے یا دوسرے لفظوں میں زمان قدیم میں ایک قسم کی ولایت تھی کہ مالک غلاموں کو خریدلیتاتھااور جوغلام خریدے جاتے تھےان کے مالک کو بھی مولا کهاجاتا تھا اور اس کوبھی عرفی مولا  ہیں کیونکہ اس دور کے سماج میں حق مالکیت ہوتاتھا۔

غلاموں کے متعلق اسلام کانظریه

اسلام اساسی طورپر غلامی کی­مخالفت کرتاهےاوراسلام اس بات کی اجازت نهیں دیتاهے که انسان کسی کا غلام بن جائے اور کوئی اس کا مالک بن جائے مالک بنادے، مالک صرف خدا هے اور اسی کی عبادت اور اطاعت همارے لئے واجب هے اور وه صاحب ولایت هےہاں اگر پروردگار کی جانب سے کسی کو حق ولایت دیاگیاہے تو اس کا بھی ذکر قرآن کریم میں موجود ہے۔

اس کے علاوه کوئی­بھی بشر کسی انسان کا مالک نهیں هے اور برتری کاجوسسٹم و نظام هے یا غلامی کا جوسسٹم هے اس چیزکا اسلام سخت مخالف هے نه تنها مخالف هے بلکه اگر کسی معاشرے میں کچھ لوگ غلام بنے هوئے هیں اور ان کےپاس مالی امکان یا استطاعت نهیں ہے جس کی وجه سے وه اپنے آپ کو آزادکراسکیں تو اسلام نے ان غلاموں کو آزاد کرانے کی اسلام میں حدسے زیاده تاکید وسفارش اور کوشش کی گئی هے اور عملی طورپر ترغیب دی هے کہ جوغلام بنے هوئے هیں ان کو غلامی سے نجات دلایاجائے اسی وجه سے که هماری روایات میں ملتاهےکہ مولائے کائنات نے هزارغلاموں کوآزاد کیا، حضرت صادق آل محمدfکا فرمان هے جس کوجناب شیخ عباس قمیqنے سفینة البحار باب عتق میں لکھاهے:

وَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ع قَالَ: أَعْتَقَ عَلِيٌّ ع أَلْفَ‏ مَمْلُوكٍ‏ مِمَّا عَمِلَتْ يَدَاهُ وَ إِنْ كَانَ عِنْدَكُمْ‏[4]إِنَّمَا حَلْوَاهُ التَّمْرُ وَ اللَّبَنُ وَ ثِيَابُهُ الْكَرَابِيسُ‏[5]وَ تَزَوَّجَ ع لَيْلَى فَجُعِلَ لَهُ حَجَلَةٌ[6] فَهَتَكَهَا وَ قَالَ: «حَسْبُ أَهْلِ عَلِيٍّ مَا هُمْ فِيهِ».[7]

امام صادقAنے فرمایا: امیرالمؤمنینAاپنے هاتھ سے کمائے پیسے سے هزار غلاموں کو آزادکیا،لہذا غلاموں کو آزاد کرنا، آزادی دینا همارئے ائمهfکی سیرت هے انهوں بڑی کوشش وجدجہد کی هے که غلام کو آزاد کرایاجائے تاکہ وہ آزادی و حریت کے ساتھ اپنی زندگی گزارسکیں نه که غلام بن کراس دنیا میں رہیں ۔

غلاموں کے متعلق انبیاء اور ائمهf کانظریه و کردار

مولائے کائناتAکا فرمان هے:

لَا تَكُونَنَّ عَبْدَ غَيْرِكَ وَ قَدْ جَعَلَكَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ حُرّاً فَمَا خَيْرُ خَيْرٍ لَا يُنَالُ إِلَّا بِشَرٍّ وَ يُسْرٍ لَا يُنَالُ إِلَّا بِعُسْرٍ.[8]

خدانے تمهیں آزاد خلق کیاهے لهذ تم اپنے اختیار سے کسی کابنده اور غلام نه بننا۔

 اور غلاموں کی آزادی کادرس انبیاء نےبھی دیا هے۔

حضرت موسیAکےبارے میں قرآن پاک کی آیات هیں جناب موسی Aنےکوشش بنی اسرائیل کو غلامی سےآزادی دلانے کی بہت کوشش کی، بنی اسرائیل کو فرعون نے غلام بنارکھاتھا وه غلامی کی زندگی بسر کررهے تھے اس وجہ سےحضرت موسیA نے بڑی کوشش کی تھی که فرعون کےشر سے بنی اسرائیل کو آزاد کرائیں اور آخرکار اس کام کو انجام بھی دیا،فرعون کی قید سے انہیں آزدی دلائی اوراستقلال و خود مختاری عطاکی۔

اسلام میں غلامی کی گنجائش نهیں

دوسرا نکته اسلام میں غلامی کی گنجائش نهیں هے۔اگر کوئی شخص خداناخواستہ کسی کاغلام ہے اور وہ اپنے هاتھوں غلام بناهے تو اس نےاپنی شخصیت کو مٹادیاهے نتیجہ­کےطورپردنیا کے اندر جوبادشاهوں کانظام آیا لوگ ان کےغلام هے اوربهت ساری کنیزیں ہوئیں یه سسٹم اسلامی نهیں هے دینی نهیں هےسارے انسان، انسان ہونے کی حیثیت سے برابر هیں­بنی آدم انسان هونے کے اعتبارسےسب برابرهےخطبہ حج کے ذیل میں لکھا هوا هے ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔

غلاموں کی آزادی کا اهم پیغام

جب رسول اللهG حج کے لئے تشریف لے گئے، اس وقت کا حج کا سب سے بڑا اجتماع تھا تمام مسلمان اس وقت کے جمع تھے اورحضورGنے فرمایا:

قَالَ سَيِّدُنَا رَسُولُ اللَّهِ ص‏: أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ رَبِّكُمْ وَاحِدٌ وَ إِنَّ أَبَاكُمْ وَاحِدٌ لَا فَضْلَ‏ لِعَرَبِيٍ‏ عَلَى عَجَمِيٍّ وَ لَا لِعَجَمِيٍّ عَلَى عَرَبِيٍّ وَ لَا لِأَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ[9] وَ لَا لِأَسْوَدَ عَلَى أَحْمَرَ إِلَّا بِالتَّقْوَى قَالَ اللَّهُ تَعَالَى‏}إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقاكُمْ‏{[10].[11]

پیغمبرGنےکهااے لوگو! تمہارا پروردگار ایک ہے اور تمہارے باپ( آدم) اکی ہیں۔ کسی انسان کو کسی انسان پر برتری نهیں هےنه کالے کا سفید پربرتری هے نه سفید کوکالےپرنه عرب کو عجم پر برتری هے نه عجم کو عرب پر(کلکم بنی­آدم) سب آدم کی اولاد هیں اللہ کا فرمان ہے: بیشک تم میں خدا کے نزدیک سب سے زیادہ محترم وہی ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگارہے(اگر کسی کو کسی پربرتری حاصل هے تو دین و تقوی کی وجه سے هے تقوی معیار فضیلت هے)۔

امام رضاAکاغلاموں کی آزادی میں عملی کردار

ایک روای کابیان هے جو امام رضاA کے ساتھ خراسان کی طرف سفرکیااس وقت کے حکومت کی طرف سے ایک مأمور بھی تھا وه شخص­بھی­امام­کے ساتھ­خراسان پهنچا تو خراسان میں ایک دسترخوان بچھایاگیا جس میں غلام بھی تھے اور آزاد بھی، جب حکم هوا  کہ غلاموں کو اس دسترخوان سے هٹاؤ چونکه حاکم اور بادشاه کاطریقہ اوررواج هی یهی تھا وه غلاموں کے ساتھ کبھی بھی کھانا نهیں کھاتےوہ اس­عمل کو عیب سمجھتےتھےجب امام رضاAنےیه منظر دیکھا تو امامA نے پوچھا تم لوگ اس دسترخوان سے غلاموں کو کیوں هٹارهے هو، کها بادشاه غلام کے ساتھ کھانا نهیں کھاتے اس لئےانہیں ہٹارہے ہیں؟ تو امامA نے اس وقت کے مجمع میں کها:انما الاب واحد والام واحد والجزاء باالاعمال”هم سب کا باپ بھی ایک هے هم سب کی ماں بھی ایک هے اگر کسی کو پاداش و جزا ملےگی­تو وه عمل کے حساب سے ملے گی­لہذا همیں حق نهیں که غلاموں کی تحقیر کرو توهین کریں اس کو دوسرےدرجہ  کا انسان سمجھیں، کسی وجه سے یہ کام نہیں ہونا چاہئے؟سب ایک هیں ۔لہذا اسلام نے بهت کوشش کی انسانوں کی کہ­حقارت،ذلت و توهین کو ختم کیاجائے،غلامی کے­سسٹم کو ختم کیاجائے، بندگی کی نظام کو ختم کیاجائے جس میں ظلم و توهین اور ذلت پائی جاتی هو۔

اسی وجه سے فقهی کتابوں میں بعض مواقع پرغلاموں کو آزاد کرناواجب  قراردیاگیاهے، اس میں سے ایک کفاره ہے مثال کے طورپراگر کسی نے رمضان کا روزه توڑاهے تو اس پر کفاره واجب هے، تو کفاره یه هے که هر روزه کے بدلے ایک غلام آزاد کرے، یا ساٹھ دن کا روزه رکھے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے ۔

بعض جگهوں پرواجب تخییری نهیں هے بلکه واجب تعینی هے مثلا ظهار کیا هے (ظهرکِ کظهرامی) اگریه جملہ کها تو اس کا کفاره واجب تعیینی هوگا اگر اس کو کہیں سے غلام ملتاهےتوخریدکر آزاد کرےجس کو عربی میں عتق رقبه کہاجاتاہے۔

اسی طریقے سے قسم کھایا هے اگر قسم کو توڑے توقسم توڑرنےکا کفاره واجب هے ایک غلام آزاد کرےیا اس کے علاوہ جو کفارہ فقہاء نے معین کیا وہ اداکرے۔

امام سجادA کاتین بنیادی کام

حضرت امام سجادAکی زندگی کےمتعلق کتابوں میں ذکرهے، میں نے اس کو تفصیل کے ساتھ حضرت آیت الله ناصرمکارم شیرازی کی سائٹ پردیکھا هے۔ اس سائٹ پر لکھاهے که امام سجادA نے اپنی زندگی میں کئی بنیادی کام اور کئی اساسی کام کئے هیں ایک اهم بینادی کام درج ذیل هے:

1-دعاکے اور مناجات کے ذریعہ­اسلام کاپیغام پهنچانادین کا پیغام دعا، اور مناجات کےذریعہ  سے پهنچایا۔

2-دوسراپیغام امام سجادAکا رسالة الحقوق ہےجس کی هزاروں شرحیں لکھی گئی هیں یه مستقل ایک کتاب هے امامAنےپوری بشریت کو آداب زندگی سکھایاهے، کس طرح عبادت کرنی چاهئے، هر عبادت کا طریقه الگ الگ بتایاحق عبادت کے نام سے روزے کا حق کیا هے حج کا حق کیاهے؟۔

دوسری طرف حقوق الناس کےحوالے سے بتایا، ماں کاحق کیا هے، باپ کا حق،خداکاحق، رسول کاحق، ائمه کاحق، شاگردوں اورهمسایه کاحق، رسالة الحقوق میں جینے کا سلیقه سکھایاهے انسان کے ایک دوسرے کے متعلق کیاحقوق هیں اور کس طریقے سے ایک دوسرے کےحقوق کی رعایت کرنی چاہئے ان تمام چیزوں کا تذکرہ ہے۔

3- امام سجادAکا تیسرا کارنامہ:غلاموں کی آزادی هے غلام کو نجات دیناهے امام سجادA بے شمار غلاموں کو خریدتے تھے، تربیت کرتے تھے، ان کو اسلام کے وظایف اور واجبات الہیٰ سکھاتے تھے جب وه بهترین طریقے سے اسلام کو سیکھ لیتااور آزادی کےساتھ اسلامی نکتہ نظر سے زندگی کےقابل اورصحیح مؤمن هوجاتاتو اسے آزاد کردینےدو مواقع­اس سلسلہ میں ملاحظہ فرمائیں۔

1-انہیں حج کے موقع پرلے جاتے تھے،عرفات کے میدان میں سب کو آزاد کردیتے تھے۔

2- دوسرا موقع جب رمضان مبارک کا مهینه آتا تھارمضان المبارک جس کا ایک نام شهر العتق هے آزادی کامهینه الله تعالی رمضان کی مهینے  میں تمام­جن کی قسمت میں جهنم نصیب هونے والی هوتی ان تمام کو جهنم کی آگ سے آزاد کردیتاهےاور آزادی عطاکردیتاهے، امام سجادAنے آزادی وبخشش کا طریقہ اس طرح اپنایا کہ ان تمام غلاموں کو جمع کرتے تھے اور خدا کو گواه قرار دیتے تھےپروردگارا میں نے ان غلاموں کو خریدا هے تاکه غلاموں کو آزاد کیاجائے میں نے ان سب کو تیری راہ میں آزاد کردیاهے ، تو بھی مجھے جهنم کی آگ سے آزادی عطاکر دے حضرت آیت الله مکارم شیراز ی نے لکھا هے که امام سجادA نےکم ازکم هزار غلاموں کو آزاد کیاجو انتهائی تربیت­یافته،نیک وصالح تھے۔

امام سجادAکے تربیت یافته غلام کا تاریخی واقعه

امام سجادA کے غلاموں میں سے ایک غلام کا تاریخی واقعه اس طرح هے امام کے زمانے میں قحط سالی هوگئی تو لوگ امام سجادA کی خدمت آئےکہ باران رحمت منقطع هوگئی هے اور لوگ بهت پریشان هیں آپ فرمائیں همیں کیا کرناچاهئے امامAنے حکم دیا سب نکل جاؤسامراء میں تین دن نماز استسقاء پڑھو جب نما استسقاء پڑھو گے تو خدا کی رحمت جوش میں آئے گی اور یه مشکل دور هوگائے گی سب لوگ باران رحمت کی طلب میں چلے گئے، تین دن هوگئے، نماز استسقاءاداکی اور بارش نهیں آئی جب تیسرادن هوا تو ایک شخص جس کانام هے طاؤس هے وه کهتاهے میں دیکھ رهاتھا ان لوگوں کے درمیان میں سے ایک شخص بالکل الگ جگہ پر چلاگیا جب هم پلٹ رهے تھے تو اس نے الگ جاکرنمازاستسقاء ادا کی اور هاتھوں کو بلندکیا طاؤس کهتاهے میں دیکھ رها تھا که وه شخص جس نے هاتھوں کو دعاکے لئے بلند کیا تھاابھی هاتھ نیچے نهیں کیا تھا کہ­اتنے میں موسلادھار بارش هونے لگی، میں اس کے قریب گیا اور اس سےپوچھا تم کون هو؟ خدانے تمهیں کتنا بلند مقام عطاکیاہے خدانے تمہاری دعا کوسن لیا اور سب کو باران رحمت سے نوازا، جبکہ بہت سے لوگوں نے دعا کی مگر ان کی دعا قبول نہیں ہوئی؟ اس نے جواب دیا میں سیدالساجدینA کے غلاموں سے ایک غلام هوں جب دیکھا که تین دن هوگئے بارش نازل نهیں هوئی اور کسی کی دعا کو خدانے نهیں سنی، میں نے خداسےکها ، کیایه سب تیرے بندے نهیں هیں؟ اگرتونے بارش نازل نهیں کیا تو کون نازل کرے گا تو ارحم الراحمین هے اگرتونے بارش نازل نه کی تو هم سب مرجائیں­گے؟ سیدالساجدینA کے ایک ادنی سےغلام نے عجیب مناجات اور دعا کی، اور میں وه راز ونیاز کررہاتھاکہ اتنے میں خدانے بارش برسائی، امام Aکے غلام­سے سوال کرنے والابڑادولتمندتھا اس کے دل میں غلام کی محبت پیدا هوئی تو وه واپس پلٹ کر امام سجادAکےپاس آیا اور کهاکہ آپ کے غلاموں میں سے ایک باعظمت غلام بھی هے جس کی دعا کو خدانے سن لیااور سب کی مشکل کو دور کردیاآپ عنایت کریں غلام کو مجھے بیچ دیں میں اسے لیکر اس کو مولابنادوں گا وه خداکےنزدیک مقرب شخص هے اور میں اس کا غلام بن جاؤں گا تو امامAنے فرمایا: اگر وه راضی هوجائےتولے جاؤ جب دیکھا غلاموں میں وه موجود نهیں هے،سوال کیا تو کسی نے کها وه ابھی نهیں آیا هےوه گائے اور بھیڑبکڑیاں چرانےوالاغلام هے جب اس کو بلایا تو  وہ غلام سمجھ گیا یه شخص مجھےامام سجادAسےجدا کرنے آیاهےمجھے لیکر یه شخص مجھے اپناغلام بناناچاهتاهے اتنے میں وه غلام دورکعت نماز پڑھنے لگا اور سجدے کی حالت میں دعا کیا خدا!تونےاپنے اور میرے درمیان رابطے کوپهچان لیاهے اب میں اس دنیامیں نهیں رهناچاهتا اس شخص کے غلام بننے سے پهلے مجھے اٹھالینا، جب دیکھاگیاتو وه وهیں سجدے کی حالت میں مرچکاتھا، امام سجادA اس طرح کےغلاموں کو خریدتے تھے اور تربیت وتعلیم دے کر آزاد کرادیتے تھے لہذا اسلام میں غلاموں کو آزاد کرنےکادرس دیتا هے اور غلامی کے سسٹم کو ختم کرنا چاہتاهے انسان کو حریت و آزادی عطاکرتاهے ، امام سجادA کے زمانے میں غلامی کاسسٹم رائج تھا لوگوں نے بهت سے لوگوں کو غلام بناکر رکھاتھا اس وقت عرفی مولا اورمالک تھے ان مالکوں حق کو دیاگیاتھا چونکه وه تمهارا مولا بناهوا هےتواب تمهاری کیاذمه داری هے؟

امامAنے دو ذمه داریاں بیان کی هیں جوتمهارا مالک هے اس کا حق یه هےکه تم کبھی اپنے مالک کی نافرمانی نه کرو،مالک جوتمهیں دستور دے اس پرعمل کرو اور اس کی معصیت اور نافرمانی نه کرو،هاں ایک مقام پرمالک کی نافرمانی ضروری هے اگر وہ­تمهیں معصیت خداکا حکم دے یاایساکام کرنے کو کہے جوخداکے غضب اورناراضگی  کاسبب بنے اور معصیت پرختم هو مثلاً چوری وغیره  کرنے کو کہے تو یهاں مولاکی اطاعت واجب نهیں هے بلکہ ایسی جگہوں پر اللہ کاحکم مقدم ہوگا۔

اسلام کاایک اهم قانون

اسلام کاایک اهم قانون ہے وہ یہ کہ بهت ساری جگهوں پر انسانوں پر کچھ اطاعتیں واجب هوتی ہیں جیسےمخلوق کی اطاعت واجب هے لیکن جہاں جہاں خدا، رسول اور ائمهf کے علاوه انسان پر اطاعت واجب هے لیکن اس اطاعت کی شرط­هےکہ اس وقت تک مخلوق کی اطاعت کی جائے گی جب تک خالق کی معصیت نه هواور اگر مخلوق کی اطاعت سے خالق کی معصیت هوگئی، وهاں مخلوق کی اطاعت واجب نهیں هےمثلاً والدین کی اطاعت، زوجه پرشوهر کی اطاعت،مجتهدین کی اطاعت مقلدین پرتو یه سب اطاعت ٹھیک هے لیکن خطاکاامکان هے مثلاً والدین معصیت­کاحکم دے یابیوی  کوشوهر معصیت  خدا کا حکم دے یا واجب کو ترک کرنے کا حکم دے تو یہاں خدا کا حکم مقدم ہوگا  یہ قانون کلی ہے۔

وَ رَجُلٍ آتَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ سُلْطَاناً فَزَعَمَ أَنَّ طَاعَتَهُ طَاعَةُ اللَّهِ وَ مَعْصِيَتَهُ مَعْصِيَةُ اللَّهِ، وَ كَذَبَ، لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ‏ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ، لَا طَاعَةَ لِمَنْ عَصَى اللَّهَ.[12]

...مخلوق کی اطاعت نهیں هوتی هے جهاں خالق کی معصیت هوتی هےاور اس شخص کی اطاعت نہیں جو اللہ کی معصیت کرے اور اطاعت الہیٰ­کے سلسلہ میں مخلوق کی اطاعت کریں گے،ماں باپ کی بات مان لیں­گے، مجتهدکی بات مان لیں گے، دین کی راه اورسرحد میں رہ کر لیکن اگر وہ ان سرحدوں سے تجاوز ہو جائے تو اطاعت واجب نهیں هے۔

تطبیق عبارت

وَ أَمَّا حَقُّ سَائِسِكَ بِالْمِلْكِ”جوتمهارا مالک اور عرفی مولا هے اس کا حق یه هے۔

 1- فَأَنْ‏ تُطِيعَهُ‏ وَ لَا تَعْصِيَهُ‏اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کرو۔

2-نافرمانی اور معصیت نه کرو مگر اس موردمیںإِلَّا فِيمَا يُسْخِطُ اللَّهَنافرمانی ضروری هے ایسا کام کرنے کاحکم دے جس میں خدا کا غضب اور ناراضگی هو۔

3- فَإِنَّهُ لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِقانون کلی کسی بھی مخلوق کی طاعت نهیں هوتی هے جس میں خدا کی نافرمانی اورمعصیت هو۔

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سِنَانٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ع يَقُولُ: كَانَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ ع يَقُولُ إِنَّ النَّاسَ‏ كُلَّهُمْ‏ أَحْرَارٌ إِلَّا مَنْ أَقَرَّ عَلَى نَفْسِهِ بِالْعُبُودِيَّةِ وَ هُوَ مُدْرِكٌ مِنْ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ وَ مَنْ شُهِدَ عَلَيْهِ بِالرِّقِّ صَغِيراً كَانَ أَوْ كَبِيراً.[13]

...امیرالمؤمنین Aفرمایاکرتے تھےتمام انسان آزاد اور حر هے کوئی بھی کسی کا غلام نهیں هے خدانے انسانوں کو آزاد اورحر بناکے پیداکیاهے۔۔۔لَا تَكُونَنَّ عَبْدَ غَيْرِكَ وَ قَدْ جَعَلَكَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ حُرّاً”۔ کسی کے بندہ نہ بنو جبکہ اللہ نے تمہیں آزاد پیداکیاہے۔

اسلام میں پیدائش غلام نهیں

اسلام میں کوئی پیدائشی غلام نهیں هے خدانے ہر انسان آزاد اور حریت بناکر پیداکیا ہے بعد میں انسانوں نے ایک دوسرےکوغلام بنالیاهےکوئی بادشاه بنااس نے کنیزین خریدلی اور غلاموں کو خریدلیا پھر اپناغلام بنادیا یه پیدائشی غلام نهیں تھا اسلام ہیں بلکہ بعد میں انہیں کنیز اور غلام بنالیا گیاہے۔

علامه اقبالq کی خوبصورت بات

علامه اقبالqنے کتنی خوبصورت بات کهی هے تم نے اپنی بے بصیرتی کی وجه سے، اپنی انسانیت کی قدر نه کرنے کی وجه سے، تو انسانوں کےغلام و بندےبن بیٹھے ورنه  میں نے کسی کتے وجانور کوبھی کسی اور جانور کے سامنے غلامی کا سرخم کرتے نهیںدیکھاهے:

آدم از بـی بــصـری بـنـدگــی آدم کــرد

من نه دیدم سگی را پیش سگی سرخم کرد

یعنی­بنی  آدم ، انسان نے اپنی شخصیت وعظمت کو جب کھودیا تو اس نے غلامی کرنا شروع کردی کبھی فرعون کاغلام بن گیا،کبھی نمرود اور کبھی زمانے کے لوگوں کا غلام بن گیا،اب دنیا کے مسلمان امریکا واسرائیل کےغلام بنے ہیں پیسے والے ذلیل عربوں کے غلام بن کر بیٹھے هیں کبھی اقتدار اور کبھی خود پیسے کے سامنے جھگ گئے لہذا یه جھکنا خدانے نهیں سکھایاتھا بلکه انسان کو آزاد اور بلند وبالا مقام عطاکیاتھا۔

إِنَّ النَّاسَ‏ كُلَّهُمْ‏ أَحْرَارٌ إِلَّا مَنْ أَقَرَّ عَلَى نَفْسِهِ بِالْعُبُودِيَّةِ.

بیشک تمام انسان آزاد پیدا ہوئے ہیں مگر وه شخص جس نے اپنے آپ کو غلام کر بنالیااور اپنی غلامی کااقرار کرلیاهے ۔

 


[1]۔ابن بابويه، محمد بن على، الأمالي( للصدوق) ، ص370- تهران، چاپ: ششم، 1376ش۔

[2]۔سورۀ مائده:55۔

[3]۔سورۀ نساء:59۔

[4]۔ لا أرى وجها لعبارة« و ان كان عندكم» و في رواية ابن أبي الحديد عن عبد اللّه بن الحسن بن الحسن« و لقد ولي الخلافة و أتته الأموال فما كان حلواه إلّا التمر و لا ثيابه إلّا الكرابيس»( شرح نهج البلاغة م 1/ 182)۔

[5]۔ الكرابيس جمع كرباس- بكسر الكاف- ثوب خشن و هو فارسي معرّب۔

[6]۔ الحجلة: ستر يزين للعروس في وسط البيت۔

[7]۔ثقفى، ابراهيم بن محمد بن سعيد بن هلال، الغارات، ج‏1، ص59 (ط - القديمة) - قم، چاپ: اول، 1410 ق۔

[8]۔تميمى آمدى، عبد الواحد بن محمد، تصنيف غرر الحكم و درر الكلم ، ص335- ايران ؛ قم، چاپ: اول، 1366ش۔

[9]۔ليس في الأصل و صحح في الهامش، و انظر الدّر المنثور 6/ 97.

[10]۔سورة الحجرات: 13.

[11]۔كراجكى، محمد بن على، معدن الجواهر و رياضة الخواطر ،ص21- تهران، چاپ: دوم، 1394ق / 1353ش.

[12]۔هلالى، سليم بن قيس، كتاب سليم بن قيس الهلالي، ج‏2،ص884- ايران ؛ قم، چاپ: اول، 1405ق۔

[13]۔كلينى، محمد بن يعقوب، الكافي (ط - الإسلامية)، ج‏6، ص195- تهران، چاپ: چهارم، 1407 ق۔

روایات کی روشنی میں اولاد کے حقوق

 

عَنْ أَبِي الْحَسَنِ مُوسَى ع قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ص فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا حَقُ‏ ابْنِي‏ هَذَا قَالَ تُحْسِنُ اسْمَهُ وَ أَدَبَهُ وَ ضَعْهُ مَوْضِعاً[1]حَسَناً.[2]

عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص‏ رَحِمَ‏ اللَّهُ‏ وَالِدَيْنِ‏ أَعَانَا وَلَدَهُمَا عَلَى بِرِّهِمَا.[3]

پهلا حق: اچھا نام رکھنا

بچوں کے جوحقوق والدین پرواجب هیں ان میں سے اهم ترین یه هے حو روایات میں آیا هے  کہ بچوں کا اچھا اورخوبصورت نام رکھنا چاهئے چونکه نام کا اس کی لائف میں بڑا اثرهوتاهے اور متعدد روایتوں میں ذکر هواهے که بچوں کو قیامت کے دن اسی نام سے پکارجائےگا جس نام کو والدین نے اس بچے کے لئے انتخاب کیاهے ۔بهترین نام جو اپنی اولادکےلئے انتخاب کرناچاهئے وه انبیاءاور ائمه طاهرینfکے نام هیں۔

ایسا نام نه رکھیں جو بچے کے لئےتوهین و تحقیر کا سبب هو یا اس لفظ کونام میں شامل کرین جس کے معنی اچھے نہیں ہیں،یا جذبات میں کوئی نام رکھ لیں،اور بعد میں اس کے معنی کو دیکھا جائے تو برا معنی نکلےلہذا ناموں کے انتخاب میں غوروفکر کریں اور وه نام رکھیں جن کی­آل محمدf نے همیں تعلیم دی۔

امام حسینAکافرمان هے: اگر خداوند عالم مجھے سوبار بیٹا عطاکرے تو میں هر ایک­ کا نام علی رکھوں گا اور امامAنے یهی کام کیا ہےعلی اصغر، علی اکبر، علی اوسط،لہذا نام کے حوالے سے ائمهf بهت حساس تھے انہیں اهمیت دیتے تھے۔

دوسرا حق: اچھے اور نیک آداب سکھانا

بچوں کو بهترین آداب اور نیک آداب سکھانالازم ہے کہ کس طرح بولنا چاهئے، کس طرح بیٹھنا چاهئے اور آداب زندگی کیاهیں اس کی شخصیت کو بہتر بنانا دوسرا حق هے۔

تیسراحق: بهترین اور پاکیزه ماحول مهیاکرنا

تیسرا حق:جس سے بچے کو محفوظ رکھنانهایت ضروری­هے، وہ فاسد ماحول هے، بگڑاهوا ماحول هے بے دینی اور شرک و برائیوں کاماحول هےان برائیوں کے دلدل میں پھنس جائے یا فاسد عقائد کے سیلاب میں بچه بهه جائے گا تووه اپنے آپ کوکنٹرول و سنبھال نهیں پائے گا، اس وقت دنیا میں نوجوانوں کے بگڑنے ، اوربچوں کے فاسد هونے میں ایک بهت اهم سبب برا ماحول هے کچھ جوان غلط کاموں میں مصروف هیں، غلط الفاظ سےپکارتےهیں، غلط کردار اختیار کرتے هیں جب اس ماحول میں بچه بیٹھتاهے تو وہ چیزیں­سیکھتاهے اور بدکرداری اپنالیتاهے واضح رہے کہ ماحول انسان کی تربیت میں اساسی کرداررکھتا هے۔ انسان کی زندگی میں ایک دوست کابهت بڑا اثر ہوتاهے دوسرے ماحول کااثرہے اگر ماحول اچھا هو، اچھی مجلس منعقدهوتی هو، ادب سےپیش آتے هوں تووهاں سے انسان اچھا اثر اختیار کرے گا لیکن جهاں انسان رهتاهے وهاں پر ماحول آلودگیوں سے بھراهو،عریانیت پائی جائے،مشرکانه رویۀهو،کوئی ادب کاخیال نه رکھتا هو تو وهاں بدکرداری اور مشرکانه رویۀ اپنائے گا اسی لئے همارے مجتهدین کافتوی هےجهاں انسان رهتاهے اگر وهاں کاماحول،مشرکانه هو، عریانیت هو،حرام کھاتےهوں جیسے مغرب میں سور کاگوشت کھاتے هیں،شراب پینے کاماحول هے اسی طرح دوسرے اسباب وعوامل تو اس صورت میں انسان کا سکون اور احترام و ایمان خطره جاتاهےایسی حالت میں انسان کاوهاں سے هجرت کرنا ضروری هے جیسے اگر همارے لئے کوئی زهرآلود چیزکھانے کولائے تو هم نهیں کھائیں گے چونکه جب همیں یقین هے یه همارے جسموں کو برباد کردےگی اسی طرح ماحول کاخراب هوناهے لہذا بچوں کے لئے ایسا ماحول هوناچاهئے جوصاف ستھرا ورظاهری و باطنی اعتبارسے روحانی اور دینی فضاکامل هوناچاهئے۔

امام موسی کاظمA کی نظر میں بچوں حقوق

حضرت امام موسی کاظمAنے فرمایا: ایک شخص پیغمبرGکی خدمت میں آیا اور بیٹے کی طرف اشاره کرتے هوئےعرض کیا یارسول الله که یه میرا فرزندهے اس کے کیا حقوق هیں؟تو پیغمبرGنےفرمایا: اس کے تین حقوق هیں:

1-اس کا اچھانام رکھو۔2-بهترین آداب سکھاؤ۔3-اس کے لئے اچھا ماحول فراهم کرو۔

عَنْ­أَبِي­الْحَسَنِ مُوسَى­ع”حضرت امام موسی کاظمA سے منقول هے جس کو پیغمبراکرمG سے نقل کرتے هیں“قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ص” ایک شخص پیغمبرG کی خدمت میں وارد هوئے کها“فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ”سرورکائناتGسے سوال کیا اے الله کے رسول“مَا حَقُ‏ ابْنِي‏ هَذَا”که میرے اس بیٹے کاحق کیاهے؟پیغمبرGنے فرمایا:“قَالَ تُحْسِنُ اسْمَهُ وَ أَدَبَهُ وَ ضَعْهُ مَوْضِعاً حَسَناًاس کابهترین­نام انتخاب کرو اور نیک آداب سکھاؤ اس کو بهترین مقام یعنی اچھا ماحول فراهم کرو۔

چوتھاحق: بچوں کے نیک کاموں میں مددکرنا

امام صادقAنے رہنمائی فرمائی ہے:بچوں کےحقوق میں سے ایک حق یه هے که بچوں کے ساتھ نیک کاموں کواداکرنے میں، تعلیم و تربیت میں اور،دنیوی  کاموں کےحوالے سے بچوں کےساتھ تعاون کرناچاهئے۔

بالخصوص دینی حوالے سے بچه بالکل تیارهے که نمازپڑےاس صورت میں والدین کوچاهئے که اسے وضو،نمازوغیره سکھائیں بچوں کےساتھ کھیلا بھی کرو تاکه بچہ والدین سے مانوس ہے۔

عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص‏ رَحِمَ‏ اللَّهُ‏ وَالِدَيْنِ‏ أَعَانَا وَلَدَهُمَا عَلَى بِرِّهِمَا.[4]

امام جعفرصادقA سےمنقول هے کہ رسول اللهGنے فرمایا: خداکی رحمت هو ان والدین پر جواپنے بچوں کی نیکیوں اور بہترین کاموں کے سلسلہ میں مدد کریں۔

پانچواں حق: بچے کی ماں کو خوشحال اور تندرست و صحت مند رکھنا

بچوں کے حقوق میں سے پانچواں حق یہ ہے کہ بچے کی ماں کو خوشحال، تندرست و صحت رکھنا چاهئے اس لئے کہ اگر بیماررہے گی تو بیماری کا اثر بچے پرپڑےگا،اگر ماں پریشان وغمگین رہے گی تو بچے کےاوپرغم کااثرہوگا، عجیب بات هےبچے کی ماں کادامن اس کی دنیا هے،ماں بڑا خوشحال ملی،تندرست اورصحت مند ملی تو یه بچے بھی خوشحال هوں گے اور خوشحال ماحول بھی ملے گا۔

یه روایت بھی امام صادقA کی هے آپAنے پیغمبرGسے نقل کیاهے:

عَنِ السَّكُونِيِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع وَ أَنَا مَغْمُومٌ مَكْرُوبٌ فَقَالَ لِي يَا سَكُونِيُّ مِمَّا غَمُّكَ قُلْتُ وُلِدَتْ لِي ابْنَةٌ فَقَالَ يَا سَكُونِيُّ عَلَى الْأَرْضِ ثِقْلُهَا وَ عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا تَعِيشُ فِي غَيْرِ أَجَلِكَ[5]وَ تَأْكُلُ مِنْ غَيْرِ رِزْقِكَ فَسَرَّى وَ اللَّهِ عَنِّي‏[6] فَقَالَ لِي مَا سَمَّيْتَهَا قُلْتُ فَاطِمَةَ قَالَ آهِ آهِ‏[7] ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص حَقُ‏ الْوَلَدِ عَلَى‏ وَالِدِهِ‏ إِذَا كَانَ ذَكَراً أَنْ يَسْتَفْرِهَ أُمَّهُ‏[8] وَ يَسْتَحْسِنَ اسْمَهُ وَ يُعَلِّمَهُ كِتَابَ اللَّهِ وَ يُطَهِّرَهُ وَ يُعَلِّمَهُ السِّبَاحَةَ وَ إِذَا كَانَتْ أُنْثَى أَنْ يَسْتَفْرِهَ أُمَّهَا وَ يَسْتَحْسِنَ اسْمَهَا وَ يُعَلِّمَهَا سُورَةَ النُّورِ وَ لَا يُعَلِّمَهَا سُورَةَ يُوسُفَ وَ لَا يُنْزِلَهَا الْغُرَفَ وَ يُعَجِّلَ سَرَاحَهَا إِلَى بَيْتِ زَوْجِهَا أَمَّا إِذَا سَمَّيْتَهَا فَاطِمَةَ فَلَا تَسُبَّهَا وَ لَا تَلْعَنْهَا وَ لَا تَضْرِبْهَا.[9]

بیٹے کا حق یه هے که اس کی ماں کو خوشحال  رکھاجائے اور اس بچے کاایک بهترین نام رکھاجائےاور اس بچے کو قرآن پاک کی تعلیم دی جائے بچے کو پاک وپاکیزه اور صاف ستھرا رکھاجائے بچوں کو تیراکی سکھاؤاور اگر یه لڑکی هو توپھر بھی اس کی ماں کا احترام کرے اور سب و شتم نہ کرے، اور بیٹی کا بهترین نام انتخاب کرے، سورۀ نور کی تعلیم دے اور سورۀیوسف نه سکھایاجائے، لوگوں کے سامنے اس کو نه لایاجائے، بچوں کی عفت و عصمت کی حفاظت کیاکرو یه دوسرح روایت کی­تعبیر هے اگر نامحروموں سےبچاسکتے هو تو مکمل بچالو،ان کمروں میں نه لایاکرو جس میں لوگ آتے رهتےهیں۔

کسی­شخص نے حضرت سیده الکونین سے سوال کیا عورتوں کے لئے بهترین زنیت و افتخار کیاهے؟:

وَ عَنْهُ ع قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص فِي الْحَدِيثِ الَّذِي قَالَتْهُ فَاطِمَةُ ع خَيْرُ النِّسَاءِ أَنْ‏ لَا يَرَيْنَ‏ الرِّجَالَ‏ وَ لَا يَرَاهُنَّ الرِّجَالُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص إِنَّهَا مِنِّي.[10]

 حضرت فاطمہ زہراB نے فرمایا: بہترین  عورت وہ ہے کہ یه مردوں کو نه دیکھیں اور مرد اس کو نه دیکھے۔

لڑکیوں کے حقوق میں سے ایک حق ان کی جلدی شادی کرناهے، دس سال کی عمر میں پیغمبرG نے  اپنی بیٹی  کی شادی کی­هے اورچار بچےپیدا هوئے اور18سال کی عمر میں شهادت پائی۔

وَ يُعَجِّلَ سَرَاحَهَا إِلَى بَيْتِ زَوْجِهَا اپنی لڑکیوں کو شوهر کے گھر پهنچانے میں جلد ی کرنا چاهئے۔

 

روایات کی روشنی میں گھریلو زندگی میں اخلاق کی ضرورت

وَ قَالَ ص:‏ مَنْ‏ ضَرَبَ‏ امْرَأَةً بِغَيْرِ حَقٍّ فَأَنَا خَصْمُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا تَضْرِبُوا نِسَاءَكُمْ فَمَنْ ضَرَبَهُمْ بِغَيْرِ حَقٍّ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَ رَسُولَهُ.[11]

گھریلو زندگی میں سب سے بنیادی چیز اخلاق هے اخلاق بردباری، تحمل،گذشت عفو یه وه چیزیں هیں جو انسان کی زندگی کو کامیاب بناتی هیں خوش­بخت اور خوشگوار بنانے والی چیزیں هیں اخلاق سب سے اساسی اور بنیادی چیز هے۔

زندگی میں بهت ساری مشکلات ا ور سختیاں پیش آتی هیں، ان تمام حالات میں اگر کسی کےپاس اخلاق،تحمل اور بردباری هے اور وه اپنی بیوی کی انسانیت کےاحترام کاخیال رکھتاهے تو اس کی زندگی خوش­بخت هے۔

1-چنانچه حضورGنےفرمایا: میری امت میں سے سب سےبهترین انسان سب سے افضل انسان وه هے جواپنے گھروالوں کے ساتھ نهایت اخلاق کےساتھ پیش آئے اور ان کے ساتھ بهترین رواداری واخلاق سےپیش آنےوالاانسان هے۔اس روایت کو جناب شیخ صدوقq نے کتاب من لایحضرہ الفقیه میں نقل کیاهے:

وَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص‏ خَيْرُكُمْ‏ خَيْرُكُمْ‏ لِنِسَائِهِ وَ أَنَا خَيْرُكُمْ لِنِسَائِي‏[12].[13]

میری امت سے سب سےبهتر انسان وه هے جواپنی خواتین کاخیال کرے اور احترام کرے اور تم سب میں اپنی خواتین کے سب سے بہتر ہوں۔

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص‏ أَقْرَبُكُمْ‏ مِنِّي‏ مَجْلِساً يَوْمَ الْقِيَامَةِ- أَحْسَنُكُمْ خُلُقاً وَ خَيْرُكُمْ‏[14] خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ‏.[15]

2-مزید سرورکائناتG کافرمان هے اس کوبھی جناب شیخ صدوقqنے نقل کیاهے: فرمایا قیامت کے دن مجھ سے قریب ترین فرد وه هوگا جس کااخلاق سب سے بهتر هے۔

اخلاق کے مراحل کی طرف اشاره کرتے هوئے فرمایا: سب سے زیاده اخلاق و نیکی کی ضرورت اول درجه کے طورپرگھروالوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آناهے بچوں اوربیویوں کےساتھ اخلاق کےساتھ پیش آؤ تم میں سے بهترین انسان وه هے جواپنے گھرمیں اچھے اخلاق کےساتھ پیش آتے هیں۔

وَ لَا عَيْشَ‏ أَهْنَأُ مِنْ حُسْنِ الْخُلُقِ وَ لَا مَالَ أَنْفَعُ مِنَ الْقُنُوعِ بِالْيَسِيرِ الْمُجْزِئِ وَ لَا جَهْلَ أَضَرُّ مِنَ الْعُجْبِ.[16]

3-حسن خلق سے بہتر خوشگوار کوئی زندگی نہیں ہے اور مختصر چیزوں پر قناعت کرنے سے مفید کوئی دولت نہیں ہے اور عجب و خودپسندی سے ضرررساں کوئی نادانی نہیں ہے۔

عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: مَنْ‏ سَاءَ خُلُقُهُ‏ عَذَّبَ نَفْسَهُ.[17]

فرمایا: جس کا اخلاق بُراهےوه همیشه عذاب میں مبتلاهے لیکن جس کا اخلاق ٹھیک هو وه تین مقام میں کامیاب ضرورهوگا دنیا اور قبر اور قیامت کے دن۔

عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ- أَوْ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ- قَالَ:«أَثْقَلُ مَا يُوضَعُ‏ فِي‏ الْمِيزَانِ‏ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الصَّلَاةُ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى[18] أَهْلِ بَيْتِهِ».[19]

4- امام محمدباقرAکافرمان هے: قیامت کے دن میزان میں  سب سے زیاده و زنی نیکی وه صلوات ہوگی  جو محمد آل محمدfپرصلواةبھیجی جاتی ہے۔

سعدبن معاذ کا واقعه

سرورکائناتGکی عظیم صحابیوں میں سے ایک اهم صحابی جناب سعدبن معاذهیں جنہوں نے جنگوں میں حصه لیا،نمازی بھی تھی ساری خوبیاں ان میں تھی لیکن جب ان کا انتقال هوا تو سرورکائناتGنےپابرهنه، سربرهنه بڑے اهتمام کے ساتھ جناب سعدبن معاذ کے جنازے میں شرکت کی اور خودپیغمبرG نے ان کو قبر میں اتارا اور تشییع جنازے میں شرکت کرکے سعد کاجنازه جناب سرورکائناتGنے اٹھایا اور قبر میں اتارا اور سعد کی ماں نے تبریک پیش کیقَالَتْ أُمُّ سَعْدٍ يَا سَعْدُ هَنِيئاً لَكَ الْجَنَّةُاے سعد تمهارے لئے مبارک هوچونکه خودپیغمبرGنے جنازه اٹھایا تشییع جنازه میں شرکت کی اورقبر میں اتارا اور اهتمام کیاتھاتوپیغمبرGنے سعد کی ماں سے خطاب کرتے هوئے فرمایا:

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سِنَانٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الصَّادِقِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ ص فَقِيلَ لَهُ إِنَّ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ قَدْ مَاتَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ ص وَ قَامَ أَصْحَابُهُ مَعَهُ فَأَمَرَ بِغُسْلِ سَعْدٍ وَ هُوَ قَائِمٌ عَلَى عِضَادَةِ الْبَابِ فَلَمَّا أَنْ حُنِّطَ وَ كُفِّنَ وَ حُمِلَ عَلَى سَرِيرِهِ تَبِعَهُ رَسُولُ اللَّهِ ص بِلَا حِذَاءٍ وَ لَا رِدَاءٍ ثُمَّ كَانَ يَأْخُذُ يَمْنَةَ السَّرِيرِ مَرَّةً وَ يَسْرَةَ السَّرِيرِ مَرَّةً حَتَّى انْتَهَى بِهِ إِلَى الْقَبْرِ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ ص حَتَّى لَحَدَهُ وَ سَوَّى اللَّبِنَ عَلَيْهِ وَ جَعَلَ يَقُولُ نَاوِلُونِي حَجَراً نَاوِلُونِي تُرَاباً رَطْباً يَسُدُّ بِهِ مَا بَيْنَ اللَّبِنِ فَلَمَّا أَنْ فَرَغَ وَ حَثَا التُّرَابَ عَلَيْهِ وَ سَوَّى قَبْرَهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص‏إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّهُ سَيَبْلَى وَ يَصِلُ الْبِلَى إِلَيْهِ وَ لَكِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ عَبْداً إِذَا عَمِلَ عَمَلًا أَحْكَمَهُ فَلَمَّا أَنْ سَوَّى التُّرْبَةَ عَلَيْهِ قَالَتْ أُمُّ سَعْدٍ يَا سَعْدُ هَنِيئاً لَكَ‏ الْجَنَّةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص يَا أُمَّ سَعْدٍ مَهْ لَا تَجْزِمِي عَلَى رَبِّكِ فَإِنَّ سَعْداً قَدْ أَصَابَتْهُ ضَمَّةٌ قَالَ فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ ص وَ رَجَعَ النَّاسُ فَقَالُوا لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ رَأَيْنَاكَ صَنَعْتَ عَلَى سَعْدٍ مَا لَمْ تَصْنَعْهُ عَلَى أَحَدٍ إِنَّكَ تَبِعْتَ جَنَازَتَهُ بِلَا رِدَاءٍ وَ لَا حِذَاءٍ فَقَالَ ص إِنَّ الْمَلَائِكَةَ كَانَتْ بِلَا رِدَاءٍ وَ لَا حِذَاءٍ فَتَأَسَّيْتُ بِهَا قَالُوا وَ كُنْتَ تَأْخُذُ يَمْنَةَ السَّرِيرِ مَرَّةً وَ يَسْرَةَ السَّرِيرِ مَرَّةً قَالَ كَانَتْ يَدِي فِي يَدِ جَبْرَئِيلَ آخُذُ حَيْثُ يَأْخُذُ قَالُوا أَمَرْتَ بِغُسْلِهِ وَ صَلَّيْتَ عَلَى جِنَازَتِهِ وَ لَحَدْتَهُ فِي قَبْرِهِ ثُمَّ قُلْتَ إِنَّ سَعْداً قَدْ أَصَابَتْهُ ضَمَّةٌ قَالَ فَقَالَ نَعَمْ إِنَّهُ كَانَ فِي خُلُقِهِ مَعَ أَهْلِهِ سُوءاً.[20]

اے کنیز خدا اتنا یقین کے ساتھ نه کهو که سعدبهشت میں چلاگیاهے اور ان کو جنت مل گئی هے پیغمبرG کا چهرہ­متغیر هوا اور انتهائی­افسرده هوئے پیغمبرG نے فرمایا که سعد فشار قبرمیں مبتلا هوگیاهے یه واقعه شرح رسالة الحقوق آصیفی نے لکھا انهوں نے مستدرک الوسائل ،جنا ب شیخ طوسی کی کتاب امالی سے یه بات نقل کی هے۔

جب سعد کو قبر میں اتارا توپیغمبرGکاچهره متغیرهوا اور بهت زیاده پریشان هوئے اس کے بعد سعدکی ماں نے تبریک کها تو فرمایاوه تو فشار قبر میں مبتلا هےپھریه جمله کها:-تم نے جوان کو دودھ پلایاتھا وه دودھ ان کے ناخن سے نکل چکے هیں اتنا سختی میں سعد مبتلاهوچکاهے-پیغمبرG گھبرانے لگے  اور اس کے لئےدعائیں کرنے لگے چونکه ان کی ماں پریشان هوئی کہ سعد تو بهت نیک وصالح انسان تھا کیوں کہ سعد کے ساتھ ایسا هوا؟

پیغمبر Gنےفرمایا:انه کان معه اهله سوءیه اپنے گھروالوں کے ساتھ بداخلاقی کرتاتھا درست هے نماز کوپابندی کے ساتھ پڑھا،جهاد میں شرکت کی، دین کے لئے بڑی جنگیں لڑی اور دین اسلام کی بهت سی خدمات انجام دی۔

ایک مختصر لمحۀ فکریه

لیکن جهاد الگ­حکم هے نماز ایک الگ حکم خداوندی هے مگر سب سے بڑا جهاد بداخلاقی سے اپنے آپ کو بچانا هے }قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاها وَ قَدْ خابَ مَنْ دَسَّاها{ قرآن نے سب سے بڑا جهاد انسانوں کے لئے بیان هے وه جهاد بالنفس هے اپنے نفس کوپاک کرناهے تکبر،کینه،حسد،غرور اور بداخلاقی سے، یه جهاد سب سےعظیم جهاد هے توپیغمبرG نےفرمایا سعد کے تمام افعال اچھے تھے لیکن سعد اپنےبچوں کے ساتھ بداخلاقی کرتاتھا اور یه فشار قبر گھروالوں کےساتھ بداخلاقی کانتیجه هے۔

کتاب منازل آخرت میں قبر کے تین اهم مراحل

شیخ عباس قمیq کی بهترین کتاب منازل الاخره میں قبر کے مرحلے کے بارے میں کچھ چیزیں بیان ہوئی هیں جوعذاب قبر او رفشار قبرکاباعث هیں فشارقبرکے عوامل میں سے تین چیزوں کوبیان کیاهےوه باقی عوامل میں سب سے اهم هے:

1-بداخلاقی فشار قبر اور ضیق قبر کاسبب هے۔

2-چغلی خوری اس کی برائی اس کو اور اس کی برائی دوسرے کوبتادیا اورلوگوں کوآپس میں لڑوانا یه چغلی خوری فشار قبر کاباعث هے۔

3-نجاست و طهارت کی پرهیز نه کرنا، خیال نه رکھنا بالخصوص خداناخواستہ ­وه بیوی پرهاتھ اٹھاتاهے پیغمبرGنے فرمایا:(جواپنی بیوی پرهاتھ اٹھاتاهے اس نےخدا کواپنا دشمن بنادیتاهے اور تم سے میں قیامت کے دن اس کابدله لوں گا)لہذا تحمل و بردباری سے پیش آنا چاهئے دنیامیں کتنے لوگ هیں جنهوں نے اپنی بیویوں کاسرتوڑا هے کتنے لوگ ایسے هیں غصے میں دھکیل دیاهے یه دینی اور الهیٰ زندگی نهیں هے بلکه یه حوانیت کی زندگی هے۔

خانوادگی زندگی میں سب سے زیاده اساسی ضرورت برداشت اور صبر و تحمل هےپیغمبرG کافرمان هے عورتوں میں سے وه عورت جواپنے شوهر کی بداخلاقی کو برداشت کرے اور شوهر کی غربت کو برداشت کرے یا بیوی کی بداخلاقی کوشوهر برداشت کرے پیغمبرG نے فرمایا اس سے عذاب قبر کواٹھادیاجاتاهے اس کو آل محمدfکے ساتھ محشور کیا جاتاهے۔لہذا دنیا وآخرت کی کامیابی کی راز بردباری اور تحمل هے۔

خلاصہ مطالب

1-وَ قَالَ ص:‏ مَنْ‏ ضَرَبَ‏ امْرَأَةً بِغَيْرِ حَقٍّ فَأَنَا خَصْمُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا تَضْرِبُوا نِسَاءَكُمْ فَمَنْ ضَرَبَهُمْ بِغَيْرِ حَقٍّ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَ رَسُولَهُ.

کوئی­بھی­شخص اپنی بیوی کے اوپر هاتھ اٹھائے اس کو ناجائز طورپرمارے( اس کی توهین و تحقیر کرے) قیامت کے دن میں اس کا دشمن هوں گا اپنے عورتوں پرهاتھ نه اٹھایاکرو جوان کومارےنا جائز اورناحق طورپر تو اس نے خدا اور رسول کو ناراض کیااس نے حکم الهی اور رسول کی نافرمانی کی۔

2- وَ قَالَ ص: ثَلَاثٌ‏ مِنَ‏ النِّسَاءِ يَرْفَعُ اللَّهُ عَنْهُنَّ عَذَابَ الْقَبْرِ وَ يَكُونُ مَحْشَرُهُنَّ مَعَ فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ ص امْرَأَةٌ صَبَرَتْ عَلَى غَيْرَةِ زَوْجِهَا وَ امْرَأَةٌ صَبَرَتْ عَلَى سُوءِ خُلُقِ زَوْجِهَا وَ امْرَأَةٌ وَهَبَتْ صَدَاقَهَا لِزَوْجِهَا يُعْطِي اللَّهُ تَعَالَى لِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ ثَوَابَ أَلْفِ شَهِيدٍ وَ يَكْتُبُ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُنَّ عِبَادَةَ سَنَةٍ.[21]

عورتوں کے تین گروه هیں الله تعالی ان سے عذاب قبر کو اٹھالیتاهے یه فشار قبر سے محفوظ رهیں گے۔

 وَ يَكُونُ مَحْشَرُهُنَّ مَعَ فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ صاور قیامت کے دن  اللہ تعالیٰ انہیں حضرت فاطمه بنت رسولB کے ساتھ محشور فرمائے گا “وه کونسی عورتیں هیں”۔

1-ایک وه عورت جوشوہر کی غیرت پر صبر کرتی هے۔

2-وه عورت جس نے شوهر کی بداخلاقیوں اورسختیوں کوبرداشت کیاهے۔

3-وه عورت جس نے اپنا مهریه کو شوهر سے بخش دیاهے۔

4-پروردگار عالم ان عورتوں میں سے هر ایک کو هزار شهید کاثواب عطاکرےگااور ان میں سے هر ایک کے لئے ایک سال عبادت کی ثواب لکھتاهے۔

3- وَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص‏ خَيْرُكُمْ‏ خَيْرُكُمْ‏ لِنِسَائِهِ وَ أَنَا خَيْرُكُمْ لِنِسَائِي.

تم میں سے بهترین انسان وه شخص هے جواپنی بیویوں کے ساتھ بهتر تعلقات رکھتے هیں۔میں اپنے بیوں اور گھروالوں کے لئے سب سے زیاده بهتر هوں۔

أَرْأَفَ النَّاسِ بِالنِّسَاءِ رَسُولَ اللَّهِسب سے زیاده مہربانی، شفقت،محبت،الفت خیال بیویوں کے ساتھ پیغمبرG نے رکھاهے جب که پیغمبرG کی بعض بیویوں نے سب سے زیاده  انہیں ستایا ہےقرآن کی آیات شاہد هےاور سورۀ تحریم میں ذکر هے اس سلسلہ میں بڑی مذمت کی آیات آئی ہیں۔

3- قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص‏ أَقْرَبُكُمْ‏ مِنِّي‏ مَجْلِساً يَوْمَ الْقِيَامَةِ- أَحْسَنُكُمْ خُلُقاً وَ خَيْرُكُمْ‏[22] خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ‏.[23]

قیامت کے دن سب سے  زیاده مجھ سے نزدیک وه انسان هوگا جواپنے اهل وعیال کےساتھ اچھے اخلاق و نیکی کاسلوک و برتاؤ کرتاہے۔

4- عَنْ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ع قَالَ كَانَ يَقُولُ‏ إِنَّ أَحَبَّكُمْ‏ إِلَى‏ اللَّهِ‏ عَزَّ وَ جَلَّ أَحْسَنُكُمْ عَمَلًا وَ إِنَّ أَعْظَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَمَلًا أَعْظَمُكُمْ فِيمَا عِنْدَ اللَّهِ رَغْبَةً وَ إِنَّ أَنْجَاكُمْ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ أَشَدُّكُمْ خَشْيَةً لِلَّهِ وَ إِنَّ أَقْرَبَكُمْ مِنَ اللَّهِ أَوْسَعُكُمْ خُلُقاً وَ إِنَّ أَرْضَاكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَسْبَغُكُمْ عَلَى عِيَالِهِ وَ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عَلَى اللَّهِ أَتْقَاكُمْ لِلَّهِ.[24]

یه امام سجادA کے فرمان میں پانچ صفتیں بیان کی گئی هیں جو ان صفات کے حامل ہیں وه اعلی و عظیم مقام پرفائزهیں وه پانچ صفات جودرس کے ساتھ مربوط هیں، امامAنے فرمایا: خداکے نزدیک مقرب انسان وه هے جس کا اخلاق سب سے زیاده اچھا هے اور اس شخص سے خدا زیاده راضی هے جس نے اپنے گھروالوں کوتنگ نهیں کیا بلکه همیشه ان کا خیال رکھاهے۔

1-خدا کی بارگاه میں محبوب ترین انسان وه هے جس کا عمل سب سے بهترهے۔

2-تم میں سے عمل کے لحاظ سے اللہ کے نزدیک سب سےزیاده عظیم انسان  وہ هے جس نے خداکے نزدیک موجود چیزوں سے زیاده رغبت کیاهے۔

3-اورتم میں سے وه  شخص عذاب الهی میں سب سے زیاده نجات یافته هے جو سب سے زیاده خداسے ڈرنے والے هے۔

4-اورتم میں سب سے زیاده خداکے قریب وہ هے جوتم میں سب سے زیاده با اخلاق هے۔

5-تم میں سے خدا اس انسان پر سب سے زیاده راضی هے جواپنے اہل و عیال پر فراخ دلی اور زیاده خوش رکھتاهے اور بچوں کی ضروریات کو فراهم کرتاهے سختی نهیں کرتا، اعتدال میں ره کر خرچ کرتا اورکنجوسی نهیں کرتا۔

6-اور تم میں سب سے زیاده اکرام اور عزت اس انسان کی ہےجوسب سے زیاده متقی و پرہیزگار هے۔

 


[1]۔يعني علمه كسبا صالحا و قد مضى في أبواب وجوه المكاسب من كتاب المعايش ما يناسب هذا الباب۔

[2]۔كلينى، محمد بن يعقوب، الكافي (ط - الإسلامية)، ج‏6، ص48 - تهران، چاپ: چهارم، 1407 ق۔

[3]۔كلينى، محمد بن يعقوب، الكافي (ط - الإسلامية)، ج‏6، ص48- تهران، چاپ: چهارم، 1407 ق۔

[4]۔كلينى، محمد بن يعقوب، الكافي (ط - الإسلامية)، ج‏6، ص48- تهران، چاپ: چهارم، 1407 ق۔

[5]۔ أي لا ينقص من عمرك لاجلها شي‏ء و لا من رزقك۔

[6]۔هذا من كلام السكونى اي كشف أبو عبد اللّه عليه السلام الغم عنى۔

[7]۔قاله عليه السلام لتذكره جدتها المظلومة عليها السلام و ما أصابها من مكاره الدهر۔

[8]۔ يستفره في الموضعين أي يستكرم أمه و لا يدعو بالسب لامه و اللعن و الفحش۔

[9]۔كلينى، محمد بن يعقوب، الكافي (ط - الإسلامية)، ج‏6، ص48 - تهران، چاپ: چهارم، 1407 ق۔

[10]۔طبرسى، حسن بن فضل، مكارم الأخلاق ، ص233- قم، چاپ: چهارم، 1412 ق / 1370 ش۔

[11]۔ديلمى، حسن بن محمد، إرشاد القلوب إلى الصواب (للديلمي)، ج‏1،ص175 - قم، چاپ: اول، 1412ق۔

[12]۔ رواه ابن ماجة في سننه بسند صحيح عندهم عن ابن عبّاس بهذا اللفظ« خيركم خيركم لاهله، و أنا خيركم لاهلى» و أخرجه ابن عساكر في التاريخ بسند صحيح عندهم عن على عليه السلام، و المراد أن خياركم أفضلكم برا و نفعا و دينا و دنيا لنسائه أو لاهله۔

[13]۔ابن بابويه، محمد بن على، من لا يحضره الفقيه، ج‏3، ص443- قم، چاپ: دوم، 1413 ق۔

[14]۔ في بعض النسخ( خيرتكم)۔

[15]۔على بن موسى، امام هشتم عليه السلام، صحيفة الإمام الرضا عليه السلام ،ص67- مشهد، چاپ: اول، 1406 ق؛ عيون الاخبار 2: 38 الحديث 108.

[16]۔ابن بابويه، محمد بن على، علل الشرائع ،ج‏2،ص560- قم، چاپ: اول، 1385ش / 1966م۔

[17]۔كلينى، محمد بن يعقوب، الكافي (ط - الإسلامية)،ج‏2، ص321- تهران، چاپ: چهارم، 1407 ق۔

[18]۔ روى الكلينيّ في الكافي 2: 358/ 15، و الصّدوق في ثواب الأعمال: 186/ 1 نحوه، و نقله المجلسيّ في البحار 94: 49/ 9۔

[19]۔حميرى، عبد الله بن جعفر، قرب الإسناد (ط - الحديثة)،ص14 - قم، چاپ: اول، 1413 ق۔

[20]۔ابن بابويه، محمد بن على، الأمالي( للصدوق)، ص384 - تهران، چاپ: ششم، 1376ش۔

[21]۔ديلمى، حسن بن محمد، إرشاد القلوب إلى الصواب (للديلمي)، ج‏1،ص175- قم، چاپ: اول، 1412ق۔

[22]۔ في بعض النسخ( خيرتكم)۔

[23]۔على بن موسى، امام هشتم عليه السلام، صحيفة الإمام الرضا عليه السلام ، ص67- مشهد، چاپ: اول، 1406 ق۔

[24]۔كلينى، محمد بن يعقوب، الكافي (ط - الإسلامية)، ج‏8، ص68- تهران، چاپ: چهارم، 1407 ق۔

واجبات کا سیکھنا و سکھانا

واجبات کا سیکھنا و سکھانا

قال الحکیم:}وَ كانَ يَأْمُرُ أَهْلَهُ بِالصَّلاةِ وَ الزَّكاةِ وَ كانَ عِنْدَ رَبِّهِ مَرْضِيًّا{[1]

وَ عَنْهُ ص أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ[2]-} يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَ أَهْلِيكُمْ ناراً{ قَالَ النَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ نَقِي أَنْفُسَنَا وَ أَهْلِينَا قَالَ اعْمَلُوا الْخَيْرَ وَ ذَكِّرُوا بِهِ أَهْلِيكُمْ‏ فَأَدِّبُوهُمْ‏ عَلَى طَاعَةِ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ أَ لَا تَرَى أَنَّ اللَّهَ يَقُولُ لِنَبِيِّهِ-[3] }وَ أْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلاةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَيْها{ وَ قَالَ‏[4]} وَ اذْكُرْ فِي الْكِتابِ إِسْماعِيلَ إِنَّهُ كانَ صادِقَ الْوَعْدِ وَ كانَ رَسُولًا نَبِيًّا وَ كانَ يَأْمُرُ أَهْلَهُ بِالصَّلاةِ وَ الزَّكاةِ وَ كانَ عِنْدَ رَبِّهِ مَرْضِيًّا{.[5]

آیات اور احادیث میں بچوں کےحقوق

اسلامی نکتۂ نظر سے بچوں کے اهم ترین حقوق جووالدین پرواجب هیں ان میں سے ایک اهم ترین حق بچوں کو واجبات اور فرائض و دینی تعلیم سےآگاہ کرناهے۔

یعنی وه امور جن کو مستقبل  میں اس کوانجام دیناهے، فرائض میں سے هےواجبات میں سے هے، ضرویات دین میں سے هے انہیں بچپنے هی سے بچے کو سکھانالازم هے او رعملی طورپر اس کو انجام دلاناضروری هے۔

جو چیزیں بچه بچپنےمیں یاد کرتاهے وه تجربات اور روایات کے مطابق پتھر کی لکیربن جاتی هے  اورکبھی وه مٹنے والی چیز نهیں هے،ختم هونے والی چیز نهیں هے وہ زندگی کے آخری مرحلے تک پابرجا رہتی­هے۔

اگر بچے نے کسی­بری چیزکو یاد کرلیاهے تو وه زندگی بھر وهی بری چیز انجام دیتارهے گا کیونکہ اس کی عادت ہوجاتی هے اور وه فعل اس کی زندگی کا حصه بن جاتاهے مثلاً بچے کو جھوٹ بولنے کی عادت هے اورخداناخواستہ  اگروه بچپنے میں جھوٹ بولنے کی عادت اختیارکرلیتاہے تو وه بهت مشکل­سے جھوٹ بولنے کو چھوڑےگا۔اور اگر اس کے مقابلے میں اگر بچے کو نمازی بنادیاگیاهے روزه دار بنادیاگیاهے بچه­کوبچپنے هی سے واجبات و فرائض کی تعلیم دی گئی هے اور بچے انجام دینا شروع کردیاهے توپھر یه زندگی بھر نمازی اور روزہ دار بنارهے گا اور واجبات وفرائض کو انجام دیتارهے گا ۔اسی لئے مولائے کائنات کافرمان هے:

قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ ع: الْعِلْمُ مِنَ الصِّغَرِ كَالنَّقْشِ فِي الْحَجَرِ، و الْعِلْمُ ‏ فِي الْكِبَر كالنَقْش‏ ‏- علی المآء- في المدر.[6]

علم اور تربیت بچپنے میں پتھر پر لکیر هے اور علم کو بڑھاپے میں حاصل کرنا پانی پر نقش کی­طرح هے یعنی وه جلدی صفحہ ذہن سے مٹ جاتاهے۔

واجبات اور فرائض میں شامل امور

کون کون سی چیزیں واجب هیں؟ فرائض دو حصوں میں تقسیم ہوتے هیں:

1-عقاید بچے کے عقاید کی صحیح تعلیم دینا،اصول­دین کے حوالے سے جیسے همارے هاں بچے کو مدرسے میں لیکر جاتے ہیں جس میں یهی سکھایاجاتاهےکه اصول دین پانچ هیں۔

2-اس کے بعد فروع دین کو یاد دلایاجاتاهے۔اصول دین سےمراد دین کی بنیادی ضروری باتیں هیں حضرت امام صادقAنے فرمایا:بچے کو ابتدائی مرحله میں جوچیز سکھانا هے جب وہ سکے تو اس کو کلمه یاد کراؤقُولوا، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّه اسی جملے کی سات مرتبه لا اله الالله تلاوت کرتے رهو اس کے بعد تھوڑی دیر چھوڑدو اس کو سکھاؤتاکہ بولو یه جمله سات مرتبه تکرار کرلے محمد رسول الله اس کے بعد اس کو تھوڑی دیر کے لئے آزاد رکھو پھر اس کے بعد اس کی زبان سے درود شریف پڑھواواور کہو، بیٹایه درودشریف پڑھواللهم صل على محمد وآل محمداس کے بعد اسے چار سمت بتاؤ، یه دائیں طرف هے، یہ بائیں طر ف هے یه شمال هے یه مغرب هےیاجنوب هے جب جهات کو تشخیص دے دے اوراتنا اس میں اتنی صلاحیت پیدا ہو جائے تو کهو تم اپنے چهرے قبله کی طرف کرلو دیکھو یه قبله هے اس طرح کھڑے هوجاؤ تو بچے کو قبله  کی سمت کردواس کے بعد کهو تم اپناچهره دھولو، هاتھوں کو دھولو،پھرجب کچھ بڑا هوجائے تو اس کو مکمل وضو سکھاؤ اسی کے ساتھ نماز بھی سکھلاؤ اور اس طرح کهو بیٹا اس طرح سے وضو کیا جاتا هے اور اس طریقے سے روبه قبله بیٹھاجاتاهے اور نمازپڑھی جاتی هے۔

جب وه نو سال کے هوجائیں بعض روایتوں میں آیاهے:

لِمَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ ص: أَنَّهُ قَالَ: مُرُوهُمْ بِالصَّلَاةِ وَ هُمْ‏ أَبْنَاءُ سَبْعٍ‏ وَ اضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا وَ هُمْ أَبْنَاءُ عَشْرٍ.[7]

ان کو نمازکاحکم دو جب وه سات سال کے هوجائیں، بعض روایتوں میں آیا هے که جب بچه نو سال کے هوجائیں تو اب کبھی بھی نمازکو ترک نہ کرنے دو، نو سال کے بعد سختی کرو اب پیار و محبت کے ساتھ نماز کاپابند بنانے کے لئے کچھ سختی بھی شروع کرو، بیٹا جوچاهو، طلب کرو لیکن نماز نهیں چھوڑنا۔

جب یه بچه نماز و واجبات کو سیکھ لیتا هے اور اس کا پا بند هو جاتا هے تو خداوند عالم اس کے والدین کو بخش دیتا هے اگر بچه صحیح طریقے سے واجبات و فرائض انجام دیتا هے تو مجتهدین کا یه بیان هے که خداوند عالم اس بچے کی والدین کی گناهوں کو معاف کردیتا هے اگر چه وه نماز پڑھ رہا هو یا روزه  رکھے اورحج کےلئے جاتے وقت بھی بچے کو ساتھ لیکر جاؤ اور بتاؤ که یه کعبه و حرم الہیٰ هے یه منیٰ و عرفات هیں تو خداوند عالم اس کے ان اعمال کا ثواب ان کے والدین کردے دیتا هے۔

لہذا قرآن کی آیات کی روشنی میں بچوں کے اهم ترین حقوق میں سے هے ایک یہ که اس کو تعلیم و تربیت دو اور فرائض و واجبات کو سکھاؤ بالخصوص عقائد و اعتقادات کو درست سکھاؤ مثال کے طورپر توحید، رسالت، امامت قیامت کے بارے میں بتاؤ که همیں مرنے کے بعد اٹھایا جائے گا، همارے اعمال سامنے آئیں گے، حساب و کتاب هوگا اگر برائیاں هوں گی تو عذاب و عقاب هوگا، اگر اچھائیاں هوں گی تو نعمتوں سے بهره مندو مستفید هوں گے۔

سورۂ تحریم کی آیت6 کا مفہوم

پیغمبرG اور امام صادقA کی نگاه میں سورۀ تحریم آیت 6­کامفهوم درج ذیل ہے:

1- سورۀ تحریم آیت نمبر6: ایمان والوں سے مخاطب هو کر ارشاد فرمایا: تم اپنے آپ­کو بھی اور اهل و عیال کو بھی جهنم کی آگ سے بچاؤ، وه آگ جس کا ایندھن انسان هے اور پتھر هے }وَقُودُهَا النَّاسُ وَ الْحِجارَةُ{[8] پیغمبرG نے اصحاب کے سؤالوں کے جواب میں فرمایا: اس آیت میں اللہ تعالیٰ همیں یه حکم دے رها هے کہ اے مؤمنو!تم اپنے آپ کو واجبات اور فرائض کے انجام دینے کاپا بند بناؤاور اس کےساتھ یهی واجبات اپنے بچوں کو سکھاؤ تاکہ تو تم بھی اور تمہاری اولاد دونوں جهنم کی آگ سے محفوظ رہو۔

امام صادقAکی ابوبصیر سے روایت

2- پیغمبرG کے بعد مذکوره بالا آیت کی روشنی میں ائمه طاهرینfکے دور میں­بھی­ ان شاگردان و اصحاب ائمه بھی سؤال کیا کرتے تھے ان اصحاب و شاگردوں میں سے ایک ابوبصیر هیں: حضرت امام صادقA سے ابابصیر نے اس آیت کے بارے میں پوچھا هےیابن رسول اللهG: که یه عذاب سے بچانے کے متعلق آیت هے اس­میں دو بڑی ذمه داریوں کو هماری گردن پر عائد کی هے }قُوا أَنْفُسَكُمْ وَ أَهْليكُم{[9] ابابصیر کهتے هیں میں کیسے اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کو جهنم کی آگ سے بچاؤں، امام صادقA نے فرمایا: دو کاموں کو انجام دینا لازم­هے:

1- ان کو اطاعت پرودگار کاپابند بناناهے، اور خدا کی بندگی اور اطاعت کرنا سکھاؤ۔

2- ساتھ ہی ساتھ بچے کو گناه اور معصیت سےخبردار کرنا اور روکنا هے یه کام کیا تو خود کو بھی جهنم سے بچالیا اور اپنے اهل و عیال کو بھی جهنم سے بچالیاہے۔

لیکن اگر خود بچه نافرمان بن جائے جبکہ والدین نے تمام واجبات و فرائض نہایت احترام سے سکھایا تھا،اور وہ دوستوں اور ماحول کی وجه سے وه بگڑ گیا تو والدین پر کوئی  گناه نهیں ہوگا۔

انبیاءکے نزدیک واجبات و فرائض کی اہمیت

3- سوره مریم کی آیت55: جس­میں انبیاء کی سیرت کو بیان کیاگیاهے اور ساتھ ہی ساتھ یہ آیت همارےلئےبچوں کونماز و فرائض سکھانے کی تأکید کر رهی هے۔

}وَ كانَ يَأْمُرُ أَهْلَهُ بِالصَّلاةِ وَ الزَّكاةِ وَ كانَ عِنْدَ رَبِّهِ مَرْضِيًّا{[10]

حضرت اسماعیلA کی سیرت کو بیان کرتے هوئے اس آیت میں ذکرہوا هے کہ جناب اسماعیل اپنی اولاد کو نماز اور زکات کا حکم دیتے تھے اور وه خدا کے یهاں پسندیده و محبوب تھے۔

4- سورۀ تحریم آیت نمبر6:}يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَ أَهْليكُمْ ناراً{[11] اس آیت کے بارے میں پهلے تذکره هو چکا هے، پیغمبرG نے اس آیت کے ضمن میں­فرمایاتھا:

وَ ذَكِّرُوا بِهِ أَهْلِيكُمْ وَ أَدِّبُوهُمْ‏ عَلَى‏ طَاعَةِ اللَّهِ.[12]

اپنے اہل و عیال کو یاد دہانی کراؤ اور اطاعت الہیٰ انجام دینے کی تربیت کرو۔

امام صادقA کی نظر میں فرائض کی تأکید و اهمیت

5- امام صادقAارشادنے فرمایا:

ثُمَّ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ع إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ لِنَبِيِّهِ ص وَ أْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلاةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَيْها، وَ قَالَ وَ اذْكُرْ فِي الْكِتابِ إِسْماعِيلَ إِنَّهُ كانَ صادِقَ الْوَعْدِ وَ كانَ رَسُولًا نَبِيًّا وَ كانَ يَأْمُرُ أَهْلَهُ بِالصَّلاةِ وَ الزَّكاةِ وَ كانَ عِنْدَ رَبِّهِ مَرْضِيًّا.[13]

تم دیکھتے نهیں هے که پروردگار عالم نے خود پیغمبرG کو یه دستور دیا هے اور سورۂ طه کی آیت میں،پیغمبرG کے لئے صریح آیت آئی هے که آپ اپنے اهل و عیال کو نمازکا حکم دو ان کو نماز سکھاؤ اور خود بھی نماز کی پا بندی کرو، حضرت اسماعیلA کی داستان کو یاد کرو وه بهت زیاده وعدوں کے پابند تھے اور خدا کے رسول اور نبی تھے اور ساتھ ہی ساتھ وه اپنے اهل و عیال کو نماز کی تأکید و امر کرتے تھے اور وه خدا کے پاس محبوب پسندیده تھے۔

عَنْ أَبِي بَصِيرٍ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ع عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى‏ } قُوا أَنْفُسَكُمْ وَ أَهْلِيكُمْ ناراً وَقُودُهَا النَّاسُ وَ الْحِجارَةُ{ فَقُلْتُ هَذِهِ‏ نَفْسِي‏ أَقِيهَا فَكَيْفَ أَقِي أَهْلِي فَقَالَ تَأْمُرُهُمْ بِمَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ وَ تَنْهَاهُمْ عَمَّا نَهَاهُمُ اللَّهُ عَنْهُ فَإِنْ أَطَاعُوكَ كُنْتَ قَدْ وَقَيْتَهُمْ وَ إِنْ عَصَوْكَ كُنْتَ قَدْ قَضَيْتَ مَا كَانَ عَلَيْك.[14]

میں نے امام صادقA سے اس آیت کے بارے میں پوچھاگیا}قُوا أَنْفُسَكُمْ وَ أَهْلِيكُمْ ناراً وَقُودُهَا النَّاسُ وَ الْحِجارَةُ{یہ آیت میں کهه رهی هے که اپنے آپ کو اور اپنے اهل عیال کو جهنم کی آگ سے بچاؤ وه جهنم جس کا ایندھن انسان هے اور پتھر هیں، ابوبصیر کهتا هیں که میں اپنے آپ کو بچا سکوں گا (واجبات کو بجا لاکر، معصیتوں سے پرہیز کرکےاور خدا کی اطاعت کر کے) لیکن میں اپنے اهل و عیال کو کیسے بچاؤں؟یہ میرے هاتھ میں نهیں هے؟ تم اپنے اهل و عیال کو وه چیزیں سکھاؤ جن­کا خدا نے دستور دیا هے (ان سےمراد فرائض و واجبات هیں) اور انهیں روکو گناهوں اور معصیتوں سے جن سےخدا نے منع فرمایا هے، اب اگر بچوں نے تمھارے اطاعت کی اور واجبات کو بجا لائے اور گناهوں کو چھوڑ دیا، اور تمھارے اهل و عیال نے فرمانداری کی تو یقینا تم نے ان­کو جهنم کی آگ سے بچا لیا هےاور اگر نا فرمانی کی اور زمانے کے حالات اور برے دوستوں کی وجه سے بچه بگڑ گیا توتم نے اپنے فریضے پر عمل کیا اب تم گنہگار نهیں هے۔

6- رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ ص‏ أَنَّهُ نَظَرَ إِلَى بَعْضِ الْأَطْفَالِ فَقَالَ وَيْلٌ لِأَوْلَادِ آخِرِ الزَّمَانِ‏ مِنْ آبَائِهِمْ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ آبَائِهِمُ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ لَا مِنْ آبَائِهِمُ الْمُؤْمِنِينَ لَا يُعَلِّمُونَهُمْ شَيْئاً مِنَ الْفَرَائِضِ وَ إِذَا تَعَلَّمُوا أَوْلَادُهُمْ مَنَعُوهُمْ وَ رَضُوا عَنْهُمْ بِعَرَضٍ يَسِيرٍ مِنَ الدُّنْيَا فَأَنَا مِنْهُمْ بَرِي‏ءٌ وَ هُمْ مِنِّي بِرَاءٌ.[15]

رسول اکرمGنے بعض بچوں کی طرف دیکھ کر فرمایا: وائے ہو آخری زمانے کے بچوں کےلئے ان کے والدین کی طرف سے،پیغمبرG سے اصحاب نے سوال کیا؟ یا رسول الله یه مشرکین والدین  کی وجه­سے هے (جن کی اولاد کچھ فرائض انجام نهیں دیتی)؟فرمایا ایسا نهیں هےبلکہ مؤمنین میں سے هیں، مؤمنین میں سے کچھ­والدین ایسے هیں جو اپنی اولاد کو فرائض و واجبات نهیں سکھاتے اور جب اولاد چاهتے هیں واجبات سیکھیں تو وه ان کو منع کرتے هیں تاکہ دنیا کی معمولی سی دولت یا مال حاصل ہو،وہ اسی پر خوش رہتے هیں اس قسم کے والدین سے میں بیزار هوں اور وه مجھ سے بیزار هیں همار ان سے کوئی تعلق نهیں هے۔

رسول اکرمGنے فرمایا:

رسولُ اللَّهِ صلى الله عليه و آله: أدِّبوا أولادَكُم‏ على‏ ثَلاثِ خِصالٍ: حُبِّ نَبيِّكُم، وحُبِّ أهلِ بَيتِهِ، وقِراءةِ- و تلاوة-القرآنِ.[16]

تین چیزوں پر اپنے بچوں کی تربیت کرو:1- پیغمبرGکی معرفت  و محبت۔2-اهل بیتf کی محبت ومعرفت۔3-قرآن کی تلاوت، یعنی یہ تین چیزیں اپنے بچوں کو سکھاؤ۔

8- عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ وَ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ‏ إِذَا بَلَغَ الْغُلَامُ ثَلَاثَ سِنِينَ يُقَالُ لَهُ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ ثُمَّ يُتْرَكُ حَتَّى يَتِمَّ لَهُ ثَلَاثُ سِنِينَ وَ سَبْعَةُ أَشْهُرٍ وَ عِشْرُونَ يَوْماً فَيُقَالَ لَهُ قُلْ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ سَبْعَ مَرَّاتٍ وَ يُتْرَكُ حَتَّى يَتِمَّ لَهُ أَرْبَعُ سِنِينَ ثُمَّ يُقَالَ لَهُ قُلْ سَبْعَ مَرَّاتٍ- صَلَّى اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ- ثُمَّ يُتْرَكُ حَتَّى يَتِمَّ لَهُ خَمْسُ سِنِينَ ثُمَّ يُقَالَ لَهُ أَيُّهُمَا يَمِينُكَ وَ أَيُّهُمَا شِمَالُكَ فَإِذَا عَرَفَ ذَلِكَ حُوِّلَ وَجْهُهُ إِلَى الْقِبْلَةِ وَ يُقَالُ لَهُ اسْجُدْ ثُمَّ يُتْرَكُ حَتَّى يَتِمَّ لَهُ سَبْعُ سِنِينَ فَإِذَا تَمَّ لَهُ سَبْعُ سِنِينَ قِيلَ لَهُ اغْسِلْ وَجْهَكَ وَ كَفَّيْكَ فَإِذَا غَسَلَهُمَا قِيلَ لَهُ صَلِّ ثُمَّ يُتْرَكُ حَتَّى يَتِمَّ لَهُ تِسْعُ سِنِينَ فَإِذَا تَمَّتْ لَهُ عُلِّمَ الْوُضُوءَ وَ ضُرِبَ عَلَيْهِ وَ أُمِرَ بِالصَّلَاةِ وَ ضُرِبَ عَلَيْهَا فَإِذَا تَعَلَّمَ‏ الْوُضُوءَ وَ الصَّلَاةَ غَفَرَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ لَهُ وَ لِوَالِدَيْهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.[17]

جب بچے نے وضو بھی سیکھ لیا اور اس پرسختی  کی گئی اور نماز بھی سیکھ لیا اور اس پر اسے مارا بھی گیا پس جب بچے نے وضو و نماز سکھ لیا تو خدوند عالم اس بچے کی والدین کی گناهوں کو بخش دیتاهےانشاء الله۔

 


[1]۔سورۀ تحریم:55۔

[2]۔ 6، 66۔

[3]۔ 132، 20۔

[4]۔ 55- 54، 19۔

[5]۔ابن حيون، نعمان بن محمد مغربى، دعائم الإسلام ، ج‏1، ص82- قم، چاپ: دوم، 1385ق۔

[6]۔مجلسى، محمد باقر بن محمد تقى، مرآة العقول في شرح أخبار آل الرسول، ج‏4، ص306 - تهران، چاپ: دوم، 1404 ق۔

[7]۔مجلسى، محمد باقر بن محمد تقى، بحار الأنوار (ط - بيروت)، ج‏85، ص133 - بيروت، چاپ: دوم، 1403 ق۔

[8]۔ تحریم، آیه6۔

[9]۔ تحریم، آیه6۔

[10]۔ مریم، آیه55۔

[11]۔ تحریم، آیه6۔

[12]۔  نورى، حسين بن محمد تقى، مستدرك الوسائل و مستنبط المسائل - قم، چاپ: اول، 1408ق۔

[13]۔نورى، حسين بن محمد تقى، مستدرك الوسائل و مستنبط المسائل - قم، چاپ: اول، 1408ق۔

[14]۔ كوفى اهوازى، حسين بن سعيد، الزهد، ص17 - قم، چاپ: دوم، 1402ق۔

[15]۔شعيري، محمد بن محمد، جامع الأخبار(للشعيري)،ص106 - نجف، چاپ: اول، بى تا۔

[16]۔محمدى رى شهرى، محمد، ميزان الحكمة، ج‏13، ص506،14جلد، موسسه علمى فرهنگى دار الحديث، سازمان چاپ و نشر - قم - ايران، چاپ: 11، 1389 ه.ش؛ كنز العمّال، 45409؛ قرشى بنايى، على اكبر، قاموس قرآن،ص2- تهران، چاپ: ششم، 1412ق۔

[17]۔ ابن بابويه، محمد بن على، من لا يحضره الفقيه،ج‏1،ص281- قم، چاپ: دوم، 1413 ق۔

بچوں کے حقوق آیات اور کلام معصوم  کی روشنی میں

بچوں کے حقوق
امّا بعد فقد قال مولانا امام سجادa:وَ حَقُ‏ الصَّغِيرِ رَحْمَتُهُ‏ فِي تَعْلِيمِهِ وَ الْعَفْوُ عَنْهُ وَ السَّتْرُ عَلَيْهِ وَ الرِّفْقُ بِهِ وَ الْمَعُونَةُ[1] لَهُ‏.[2]
وَ عَنِ النَّبِيِّ ص قَالَ: أَكْرِمُوا أَوْلَادَكُمْ‏ وَ أَحْسِنُوا أَدَبَهُمْ يُغْفَرْ لَكُمْ.[3]بچوں کے اهم حقوق
رسالة الحقوق میں حضرت سیدالساجدین زین العابدینAنے جن حقوق کو بیان کیاهے ان­میں سے ایک اهم ترین حق بچوں کاحق هے بعنوان “حَقُ‏ الصَّغِيرِ”بیان فرمایا هے،مولاA نے ایک طرف بزرگوں کے حقوق کو بیان کیا هے تو دوسری طرف بچوں کے بھی حقوق بیان فرمایا هے ان میں سے پانچ اساسی حقوق کو اس حدیث میں ذکر کیا هے: پهلا حق:محبت و پیار کرنا
سب سے پهلا حق بچے کے ساتھ پیار و محبت کے ساتھ پیش آنا، دوسرا حق تمام کائنات کے اساسی اور بنیادی حقوق میں تعلیم و تربیت هے، اب اس سے مراد کونسی تعلیم مراد هے،کیادنیوی  تعلیم هے یا دینی تعلیم، وه دیگر روایات میں بیان هوئے هیں، بهر حال بچے کی عزت و کامیاب زندگی،سعادت اور خوش بختی   کے لئے جو بھی تعلیم مؤثر ، مفید اور ضروری هو ان تمام تعلیمات کا بندوبست کرنا ضروری هے، کچھ دنیوی  تعلیمات هیں اس کو دنیا میں جینے کے لئے، کامیابی کے لئے اور اپنی زندگی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے هوتی هیں لہذادنیوی  تعلیم بھی ضروری هے۔
ایسا نهیں هے که اسلام صرف دینی تعلیم کو ضروری قرار دیتا هے اور دنیوی  تعلیم کو کوئی اهمیت نهیں دیتا؟ جیسے:دوسرا حق: تعلیم و تربیت
انسان کی صحت و سلامتی کے لئے طب اور میڈیکل بھی سیکھنا ضروری هے تا که بیماریوں کو دور کیاجا سکے اسی طرح انسان کی آرام و سکون اور سهولت کے لئے بهت ساری چیزوں کا سیکھناضروری هے بالخصوص آج کل کے دور میں کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، انٹرنیٹ اور جدیدٹیکنالوجی چیزوں کو سیکھنا ضروری هے، ایسا نهیں هے که اسلام انسانوں کو پیچھے رکھنا چاهتا هے؟ یا ترقی و کامیابی کے میدان میں آگے نهیں دیکھنا چاهتاہے؟
حقیقت میں اسلام نے هراس تعلیم و هنر کو لازم قرار دیا هے جو انسان کی زندگی کے لئے مفید اور ضروری هے۔تیسرا حق: بچوں کی غلطی و خطا کو معاف کرنا اور سزا نه دینا
تیسرا حق: بچے سے غلطی ہونااس کی فطری چیز هے، اگر بچے سے کوئی غلطی اور خطا سرزد هو جائے یا کوئی چیزتوڑے پھوڑدیں تو اس کو سزا نه دیں­بلکه اس کے بچنےکےتقاضا اور ضرورت کو سامنے رکھو اور اس کو معاف کردو ، اس کے لغزشوں اور غلطیوں کو نظرانداز کردو۔چوتھا حق:
یه ہےکه بچے کےساتھ مهربانی سے پیش آؤاور نوازش کرو۔پانچواں حق: بچوں کے ساتھ تعاون و مدد کرنا
بچوں­کوجسمانی اور روحانی غذا کی ضرورت ہوتی هے اس میں ان کا تعاون کرناچاہئے۔رسول اکرمG کے ارشاد میں بچوں کے حقوق
1- سرور کائناتG کا فرمان هے:
بچوں کے بنیادی اور اساسی دو حق هیں:حق کرامت، عزت و شرف دینا۔بچوں کو بهترین آداب سیکھانا اگر کوئی ایسا کریگا تو خدا تمھاری خطاؤں کو بخشش دیگا اور آخرت کے دن­نجات دیں گے ۔
2- آنحضرتG کا دوسرا فرمان:
رسولُ اللَّهِ صلى الله عليه و آله: أدِّبوا أولادَكُم‏ على‏ ثَلاثِ خِصالٍ: حُبِّ نَبيِّكُم، وحُبِّ أهلِ بَيتِهِ، وقِراءةِ- و تلاوة- القرآنِ.[4]
بچوں کو تین چیزیں ضرور سکھاؤ: پیغمبرG کی محبت، اور اهل بیتD کی محبت و معرفت، بچوں کو قرآن سیکھانا اور تعلیم دینا۔تطبیق عبارت
1- بچوں کا حق یه هے که بچوں پر رحم اوران سے پیار کیا جائے، متعدد روایات میں آیا هے “وَ وَقِّرُوا كِبَارَكُمْ وَ ارْحَمُوا صِغَارَكُمْ”[5] دوسرا حق: تعلیم و تربیت دینا، تیسرا حق: بچے شرارت کریں تو یه ان کی فطرت کا تقاضا هے، لہذا ان کی غلطیوں سے درگزر کرنا چاہئے چوتھا ان کی خامیوں کو چھپانا چاہئے، پانچوان حق یه هے که بچے کے ساتھ رفاقت اور مهربانی سے پیش آنا چاہئے، چھٹا حق: بچوں کے ساتھ ہر طرح سے تعاون کرنا ۔
2- “أَكْرِمُوا أَوْلَادَكُمْ وَ أَحْسِنُوا أَدَبَهُمْ يُغْفَرْ لَكُمْ.”[6]اپنے بچوں کو بزرگی دو، احترام کرو، اچھے آداب سکھاؤ،خدا “تمہیں جنت عطا کریگا اور”  گناهوں­کو بخش دےگا۔
3- “وَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ع‏ أَنَّهُ دَعَا بَنِيهِ وَ بَنِي أَخِيهِ فَقَالَ إِنَّكُمْ صِغَارُ قَوْمٍ‏ وَ يُوشِكُ أَنْ تَكُونُوا كِبَارَ قَوْمٍ آخَرِينَ فَتَعَلَّمُوا الْعِلْمَ فَمَنْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ أَنْ يَحْفَظَهُ فَلْيَكْتُبْهُ وَ لْيَضَعْهُ فِي بَيْتِهِ.”[7]
امام حسن مجتبیA: مولانے اپنے بچوں  اور امام حسینA کے بچوں کو بلایا اور جمع کیا (اور آپ نے خطاب میں فرمایا: اے بچو اپنے آپ کو ایک بچه نه سمجھنا چھوٹا نه سمجھنا) آج تمھارا بچپنا هے ،کل تم قوم کے رهبر اور بزرگان هوگےتمہیں چاہئے که اپنے بچپنے میں تعلیم­و تربیت پر توجه دو، اور جو کچھ تم سیکھو اس کو لکھ کر محفوظ کردو صرف حافظه تک محدود نه رکھو پھر اپنا دفتر اور علمی ذخیره سے اس کو اپنے گھر میں خاص مقام پر محفوظ رکھو۔
4- سرور کائناتG نے فرمایا: جو شخص تم میں سے مجھ سے کوئی حدیث سنےپھر یه فرمان آنے والے لوگوں تک پهنچائے اور اس فرمان کے ذریعہ  وه میری سنت و شریعت کو قائم کرے یا کسی بدعت کو مٹادئے میرا خالق اس پر جنت واجب قرار دیتا هے۔
5- وَ قَالَ ص‏: مَنْ أَدَّى إِلَى أُمَّتِي حَدِيثاً يُقَامُ‏ بِهِ‏ سُنَّةٌ أَوْ يُثْلَمُ بِهِ بِدْعَةٌ فَلَهُ الْجَنَّةُ.[8]
جو شخص میری امت تک میرا ایک پیغام پ و حدیث پهنچاتاہےجس کے ذریعہ دین و شریعت کا کوئی آئین قائم کیاجائے یا کسی ایک بدعت کو مٹایا جائے تو اس شخص کے لئے جنت هے۔
6- سرور کائناتG کا ایک اهم فرمان: (لوگوں کے دو گروه هیں): 1- بچوں سے پیار کرنے والے، 2- بچوں پر رحم نه کرنے والا۔
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص‏ أَحِبُّوا الصِّبْيَانَ‏ وَ ارْحَمُوهُمْ وَ إِذَا وَعَدْتُمُوهُمْ شَيْئاً فَفُوا لَهُمْ فَإِنَّهُمْ لَا يَدْرُونَ إِلَّا أَنَّكُمْ تَرْزُقُونَهُمْ.[9]
بچوں سے بهت پیار کرو اور بچوں پر رحم کرو، اور جب ان سے کسی چیز کا وعده کرو تو اسے پورا کرو ، اس لئے که وه یه سمجھتے ہیں کہ تم ان کے رازق هو، یه گمان کرتے هیں“لہذا انهیں مایوس اور نا امید نه کرو”۔
 کلام امیر المؤمنین A میں بچوں کے اهم ترین حقوق
قال امیرالمؤمنینa: لِيَتَأَسَ‏ صَغِيرُكُمْ‏ بِكَبِيرِكُمْ‏ وَ لْيَرْأَفْ كَبِيرُكُمْ بِصَغِيرِكُمْ وَ لَا تَكُونُوا كَجُفَاةِ الْجَاهِلِيَّةِ لَا فِي الدِّينِ يَتَفَقَّهُونَ وَ لَا عَنِ اللَّهِ يَعْقِلُونَ.[10]
روایات میں بچوں کے حوالے سے بهت زیاده تاکید کی گئی هے اور کئی چیزوں کو بچوں کے حقوق و فرائض میں سے قرار دیا گیا هے ان میں سے ایک بچوں کو شخصیت دینا، بچوں سے محبت و پیار کرنا اور بچوں کو تعلیم دینا ان کی اچھی تربیت کرنا اور اسی طریقے سے بچوں کے ساتھ نوازش کرنا اور ان کی زندگی کی ضروریات کو پورا کرناہے۔
مزید بچوں کے حقوق کو بیان کرتے هوئے فرمایا هے که­بچے کی توهین نهیں کرنا چاہئے، بچے کی جسمانی تنبیه بدنی ممنوع هے، ان کو مارنا ممنوع هے اور هروه کام جس کے ذریعہ  سے بچے کو نقصان هو چاهے جسمی نقصان هو یا فکری و معنوی نقصان هو اس طرح ہر کام کرنا ممنوع هے۔پهلا حق:جسمانی تنبیه کرنا، رشد و کمال کے لئے وسائل فراهم کرنا
حضرت امام سجادA کا فرمان هے: اگر تم بچے کو مارو یا تنبیه بدنی کرو گے تو یه اس بچے کے رشد و تکامل کے لئے رکاوٹ بنےگا اسی طریقے سے بچے کے ساتھ کھیلنا ضروری قرار دیا هے جو جائز کھیل هے اور اس کے وسائل کو فراهم کرنا ضروری هے تا که بچه منزل رشد اور کامل تا پہنچ جائے۔دوسرا حق: بچوں سے پیار و محبت سے پیش آنا اور جاهلانه انداز نه اپنانا
مولائے کائناتA کا فرمان هے: بچوں کو چاہئے که وه بڑوں کی پیروی کریں، اور بڑوں کی تجربات سے استفاده کریں اور بڑوں کے لئے فرمایا هے که وه بچوں کے ساتھ پیار و محبت سے پیش آئیں، ان کے ساتھ نوازش اور مهربانی کریں اور اس کےساتھ فرمایا هے که تم بچوں کے ساتھ وه انداز نه اپنانا جو جاهل لوگوں کا انداز هیں۔
خصوصاً اسلام کے آنے سے پهلے دوران جاهلیت میں لوگ اپنے بچوں کے ساتھ ستم کرتے تھے، خاص طور پر لڑکیوں کو زندہ دفنا تے تھے اور زنده درگور کرتے تھے قرآن پاک نے اس­کا ذکر بھی کیا هے }وَ إِذَا الْمَوْؤُدَةُ سُئِلَتْ،بِأَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ{[11]قیامت کے دن سؤال کیا جائیگا که کس جرم میں ان کو قتل کیا گیا هے، بعض آیات میں ایسےدور کا بھی تذکره ملتا هے جو انتهائی بے رحمی اور شقاوت کا دور تھا که وه اپنے بچوں پر رحم نهیں کرتے تھےان سے پیار و محبت نهیں کرتے تھے اور اپنی محبوب بچیوں کو زنده در گورکردیا کرتے تھے۔ وه ایسے لوگ تھےجو نه خدا کی معرفت رکھتے تھے نه وه دین کو سمجھتے تھے نه ان کے دلوں میں کوئی انسانیت تھی اور بچوں سے پیاربھی نهیں کرتے تھے لہذا تم بھی اپنے بچوں کے ساتھ ایسا سلوک نه کرنا بلکه خدا کی معرفت، دین کی شناخت اور بچوں سےپیار و محبت سے پیش آنا چاہئے۔تیسرا حق: همت اور حوصله افزائی کرنا، شوق و رغبت دلانا
بچوں کےبنیادی اهم حقوق میں سےایک حق بچے کو همت دینا، حوصله افزائی کرنا، بچے کی تشویق و ترغیب کرنا، جرأت دینا یعنی وه بچے جنهوں نے معمولی سی کامیابی حاصل کی هے ان کی ہمیت و حوصلہ افزائی کرنی چاہئے۔احادیث کی روشنی میں همت و حوصله
اس معمولی سی کامیابی پر آپ کی اس کی اتنی تشویق کریں که بچه سمجھ جائے که میں نے بهت بڑا کمال کردیا هے میرے باپ اور ماں خوش هوگئے اور میرے اعزاءو رشته دار خوش هوگئے ہیں اس عظیم ترغیب و تشویق کا سب یه هوتا هے که بچه آئنده نیک کاموں کی طرف راغب هوگا کیونکہ حوصلے بلند هوجاتے هیں، اور اس کی همت بڑھ جاتی هے۔
پوری انسانیت کا مزاج هے کہ اگر کسی انسان کی تشویق کی جائے اچھے کاموں کو سراہا جائے تو وه مزید اچھے کاموں کو انجام دیتے هیں کیونکہ اس کے حوصلے بلند هوتے هیں لیکن اگر اس کے اچھے کاموں پر توجه نهیں دی گئی اور کسی نے اس کی ترغیب و تشویق نهیں کی، برائی کرنے والے کوروکا نهیں اور جس نے اچھا کام کیا اس کا کوئی حوصله بلند نهیں کیا تو اس کا نتیجه یه هوگا که اس کی اهمیت ختم هوجائیگی۔
روایات میں آیا هے انسان کی ذاتی ترقی اور کمال کے لئے سب سے بنیادی و اساسی سبب بلند همتی هے، جس کی بچپنے هی سے همت بلند هو وه بڑے حوصلے کا مالک ہوتاهے اسے زندگی کے تمام مراحل میں بالخصوص بڑھا پے میں کامیابیاں نصیب هوتی هیں، اسی لئے روایتوں میں آیا هے۔
امیر کائناتA: فرماتے هیں انسان کی قدر و قیمت اس کی همت کے مطابق هے جس انسان کی همت بلند هے حوصلے اور فکر بلند هے وه انسان عظیم انسان هے اور جس کی همت پست هے اراده پست هے تو جالویه پست انسان کی علامت هے، مولا فرماتے هیں:
“وَ لَا هِمَّةَ لِمَهِين‏”[12] پست انسانوں کے پاس کوئی همت نهیں هوتی هے۔
جیسا کہ مقولہ مشہور ہے:
همم الرجال، تقلع‏ الجبال‏.[13]
بلند اورعظیم همت والے انسانوں نے بڑے بڑے پهاڑوں کو اپنے مقام سے بٹایا هے یعنی انسان کی جو همت هے وه پهاڑوں کو ہٹا دیتی هے پهاڑ سے بھی بلند هے، اگر پهاڑ ظاهری طور پر طاقتور اور بلند هے تومعلوم ہوناچاہئےعظیم انسان وه هے جس کے پاس همت هو وه پهاڑوں کی طرح مضبوط مستحکم اور بلند هوتا هے۔تین چیزوں نے انسان کو بهت نقصان پهنچایا
حضرت  امام جعفرصادق A کا فرمان هے: انسان کی پستی یا ترقی نه کرنے کی جو بنیاد اس کی سستی، کاہلی بےر غبتی اور بے همتی هے۔
تین چیزوں نے انسان کو بهت نقصان پهنچایا هے:بے همتیبے رغبتی، 3سستی و کاہلی، جو لوگ فطری طور پر کاہل و سست ہیں وہ ترقی نهیں کر سکتے۔
الْكَسَلُ يَضُرُّ بِالدِّينِ‏ وَ الدُّنْيَا.[14]
سستی اور کاہلی انسان کے دین کو بھی بر باد کر دیتی هے اور دنیا کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔هر برائی اور پستی کی بنیاد بے همتی اور بے رغبتی هے
حضرت امام محمد باقرA کافرمان ہے:
الْكَسَلَ وَ الضَّجَرَ فَإِنَّهُمَا مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ.[15]
دو چیزیں هر برائی و هر پستی کی بنیاد هے:بے همتی و سستی­انسان کی بے همتی اور سستی ساری برائیوں کی کنجی ہے۔فکری کمزوری اور بے قراری۔ ترقی و کمال میں مانع
تین چیز ایسی هے جو انسان کو کمال و ترقی سے روکتی ہیں:
ثَلَاثٌ يَحْجُزْنَ‏ الْمَرْءَ عَنْ طَلَبِ الْمَعَالِي قَصْرُ الْهِمَّةِ وَ قِلَّةُ الْحِيلَةِ وَ ضَعْفُ الرَّأْي.‏[16]
حضرت امام صادقA کا فرمان ہے: جس انسان کی زندگی میں تین چیزیں هوں وه کمال و ترقی نهیں کر سکتے:تین چیزیں انسان کی ترقی اور کمال میں مانع بنتی هیں، بے همتی، تدبیر  کی کمی اور پلانینگ اور  فکر کی کمزوری۔نتیجه
بچوں میں بڑی صلاحتیں هوتی هیں اور کامیابیوں کو پانے کی انکے پاس صلاحیت، طاقت و توانائی خداداد ہوتی هے لیکن والدین، اساتیذ اور تربیت کرنے والوں که ان کی تشویق اور ترغیب کریں ان کی حوصله افزائی کریں تو پھر یہ بچےقوم و ملّت کے لئے عظیم سرمایه بن سکتے هیں اورعظیم کامیابیوں کو پا سکتے هیں۔تطبیق عبارت
1- قال امیرالمؤمنینa: لِيَتَأَسَ‏ صَغِيرُكُمْ‏ بِكَبِيرِكُمْ‏ وَ لْيَرْأَفْ كَبِيرُكُمْ بِصَغِيرِكُمْ وَ لَا تَكُونُوا كَجُفَاةِ الْجَاهِلِيَّةِ لَا فِي الدِّينِ يَتَفَقَّهُونَ وَ لَا عَنِ اللَّهِ يَعْقِلُونَ.[17]
تمہارے چھوٹوں کو بڑوں کی پیروی کرناچاہئے اور بزرگوں کو چاہئے که وه چھوٹے کے ساتھ محبت و پیار اور مهربانی سے پیش آئیں، اور جاهلیت کے جاهلوں کی طرح زندگی نه ہونا، یه ایسے لوگ تھے که نه انهیں دین کی کوئی معرفت تھی نه وه خدا کے بارے میں غور وفکر کرتے۔
2-كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُقَبِّلُ‏ الْحَسَنَ‏ وَ الْحُسَيْنَ فَقَالَ عُيَيْنَةُ وَ فِي رِوَايَةِ غَيْرِهِ‏ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ فقال ص: الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ إِنَّ لِي عَشْرَةً مَا قَبَّلْتُ وَاحِداً مِنْهُمْ قَطُّ فَقَالَ ص مَنْ لَا يَرْحَمْ لَا يُرْحَم.[18]
سرور کائناتG دنیا میں وه واحد هستی هے جو سب سے زیاده بچوں­سے پیار اور نوازش کرتے تھے۔
ایک روایت میں آیا هے که سرور کائنات امام حسن اور حسینD کو چوم رهے تھے، پیار کر رهے تھے ایک شخص نے دیکھا جس کا نام هے اقرأ بن حارث (حابس) اس نے دیکھا کتنا پیار کر رهے هیں کتنا ان بچوں سے محبت و نوازش اور پیار کر رهے هیں تو اس کے منھ سے ایک جمله نکلا: اے الله کے رسولGمیرے دس بچے هیں میں نے کسی سے پیار نهیں کیا هے کسی کو نهیں چوما، سرور کائناتG نے فرمایا: جو بچوں سے پیار نه کرے ان پر رحم نه کرے، الله اس پر رحم نهیں کرتا۔
فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ حَتَّى الْتَمَعَ لَوْنُهُ وَ قَالَ لِلرَّجُلِ إِنْ كَانَ قَدْ نُزِعَ الرَّحْمَةُ مِنْ قَلْبِكَ فَمَا أَصْنَعُ بِكَ مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَ يُعَزِّزْ كَبِيرَنَا فَلَيْسَ مِنَّا.[19]
دوسری روایت میں یوں هے جب اس کی منھ سے یه جمله نکلا: تو سرور کائناتGغضبناک هوئے اور چهرے پر غضب کے آثار نمودار هوئے اس کے بعد یه جمله فرمایا: جو بچوں سے پیار نه کرے اوربزرگوں کا احترام نه کرے اس کا اسلام سے کوئی تعلق نهیں هے۔امام موسی کاظمA کے کلام میں بچوں کے حقوق کا تذکره
3- وَ قَالَ بَعْضُهُمْ‏ شَكَوْتُ إِلَى أَبِي الْحَسَنِ مُوسَى ابْناً لِي فَقَالَ‏ لَا تَضْرِبْهُ‏ وَ اهْجُرْهُ وَ لَا تُطِلْ.[20]
ایک شخص نے امام موسی کاظمA سے اپنے بیٹے کی شکایت کی، امامAنے فرمایا: بچے کو مارنا نهیں هے “بلکه تھوڑاسا دور هوجاؤ پھر جلدی واپس آکربچے کو اٹھاؤ اور بغل گیر هوجاؤ”واپس آنے میں زیاده دیر نه کرو“تاکه بچه احساس کرے که باب مجھ سے ناراض تھا پھر راضی هوگیا”۔
4-حضرت امام محمدباقرA کا فرمان ہے: معاشرے میں تین قسم کے لوگ هیں حدیث کا مفہوم کچھ اس طرح ہے:
1-بچے هیں ان کو اولاد سمجھو، اولاد کی طرح پیار اور محبت کرو۔
2-همسن و سال  ہیں ان کو اپنا بھائی سمجھو ان کی عزت و احترام کرو۔
3-بزرگ اور بوڑھے حضرات کو باپ سمجھو، ان کے ساتھ نیکی اور احسان کرو اور عزت کاخیال رکھو۔
قال الباقرa:اوصيك أن تتّخذ صغير المسلمين ولدا، و أوسطهم أخا، و كبيرهم أبا، فارحم‏ ولدك‏، و صل أخاك، و برّ أباك، و إذا صنعت معروفا فربّه.[21]
میں تم سب کو سفارش و نصیحت کرتاهوں که مسلمانوں میں چھوٹوں کو اپنا بیٹا سمجھو اور تم اپنےهم سن و سال کو بھائی سمجھو اور بزرگ حضرات کو اپنےباپ کا درجه دو،پس بچوں پر رحم کرو او راپنے بھائی کے ساتھ اچھا رابطه رکھو اپنے باپ کے ساتھ نیکی کرئ۔
5- حضرت امام صادقA کا فرمان ہے:
عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ص فَقَالَ مَا قَبَّلْتُ‏ صَبِيّاً قَطُّ فَلَمَّا وَلَّى قَالَ رَسُولُ اللَّهِ هَذَا رَجُلٌ عِنْدِي أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ.[22]
مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْفَتَّالِ فِي رَوْضَةِ الْوَاعِظِينَ قَالَ: قَالَ ع‏ أَكْثِرُوا مِنْ‏ قُبْلَةِ أَوْلَادِكُمْ فَإِنَّ لَكُمْ بِكُلِّ قُبْلَةٍ دَرَجَةً فِي الْجَنَّةِ مَسِيرَةَ خَمْسِمِائَةِ عَامٍ.[23]
حضرت امام علیAکا ارشاد ہے:
عَنِ الْأَصْبَغِ بْنِ نُبَاتَةَ قَالَ قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ ع‏ مَنْ‏ كَانَ‏ لَهُ‏ وَلَدٌ صَبَا.[24]
وَ قَالَ عَلِيٌّ ع‏ مَنْ قَبَّلَ وَلَدَهُ كَانَ لَهُ حَسَنَةٌ وَ مَنْ فَرَّحَهُ فَرَّحَهُ‏ اللَّهُ‏ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَ مَنْ عَلَّمَهُ الْقُرْآنَ دُعِيَ الْأَبَوَانِ فَكُسِيَا حُلَّتَيْنِ يُضِي‏ءُ مِنْ نُورِهِمَا وُجُوهُ أَهْلِ الْجَنَّةِ.[25]
 بچوں کے اہم ترین حق­،قرآن کی­تعلیم­
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص:‏ مَنْ‏ عَلَّمَ‏ وَلَدَهُ‏ الْقُرْآنَ فَكَأَنَّمَا حَجَّ الْبَيْتَ عَشَرَةَ آلَافِ حِجَّةٍ وَ اعْتَمَرَ عَشَرَةَ آلَافِ عُمْرَةٍ وَ أَعْتَقَ عَشَرَةَ آلَافِ رَقَبَةٍ مِنْ وُلْدِ إِسْمَاعِيلَ ع وَ غَزَا عَشَرَةَ آلَافِ غَزْوَةٍ وَ أَطْعَمَ عَشَرَةَ آلَافِ مِسْكِينٍ مُسْلِمٍ جَائِعٍ وَ كَأَنَّمَا كَسَى عَشَرَةَ آلَافِ عَارٍ مُسْلِمٍ وَ يُكْتَبُ لَهُ بِكُلِّ حَرْفٍ عَشْرُ حَسَنَاتٍ وَ يُمْحَى عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ وَ يَكُونُ مَعَهُ فِي قَبْرِهِ حَتَّى يُبْعَثَ وَ يَثْقُلُ مِيزَانُهُ وَ يُجَاوَزُ بِهِ عَلَى الصِّرَاطِ كَالْبَرْقِ الْخَاطِفِ وَ لَمْ يُفَارِقْهُ الْقُرْآنُ حَتَّى يَنْزِلَ بِهِ مِنَ الْكَرَامَةِ أَفْضَلَ مَا يَتَمَنَّى.[26]
بچوں کے حقوق میں سے اهم ترین ایک حق تعلیم قرآن هے قرآن پاک کی آیات سے آشنا کرنا اور قرآن پاک کی تعلیم دیناهے۔
1-متعدد روایات میں تاکید و سفارش کی گئی هے که اپنی اولادقرآن پاک کی تعلیم دو، چنانچه مولائے کائناتA نهج البلاغه میں ارشاد فرمایا: اولاد کے تین حقوق والدین پرواجب هیں جن کا تذکرہ در ج ذیل روایت میں ہواہے:
وَ قَالَ ع إِنَّ لِلْوَالِدِ عَلَى الْوَلَدِ حَقّاً وَ إِنَّ لِلْوَلَدِ عَلَى الْوَالِدِ حَقّاً فَحَقُّ الْوَالِدِ عَلَى الْوَلَدِ أَنْ يُطِيعَهُ فِي كُلِّ شَيْ‏ءٍ إِلَّا فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ سُبْحَانَهُ وَ حَقُ‏ الْوَلَدِ عَلَى الْوَالِدِ أَنْ يُحَسِّنَ اسْمَهُ وَ يُحَسِّنَ أَدَبَهُ وَ يُعَلِّمَهُ الْقُرْآنَ.[27]
پیغمبراکرمG کی روایت میں بھی تین حقوق کاذکر ہواہے اس میں بالغ ہونے کے بعد ازدواج کا تذکرہ ہواہے۔
وَ قَالَ ص‏ مِنْ حَقِ‏ الْوَلَدِ عَلَى وَالِدِهِ ثَلَاثَةٌ يُحَسِّنُ اسْمَهُ وَ يُعَلِّمُهُ الْكِتَابَةَ وَ يُزَوِّجُهُ إِذَا بَلَغَ.[28]
1-بچوں کے لئے خوبصورت اور اچھے ناموں کا انتخاب کریں۔
2-بچوں کو بهترین آداب اور بهترین تربیت سے آراستہ کریں۔
3-بچوں کو قرآن کی تعلیم دیں۔
حضورG کافرمان ہے: اپنے او لاد کو قرآن پاک کی تعلیم دو اس کے بعد روایت میں قرآن پاک سکھانے کا عظیم ثواب­بھی بیان کیاگیاهے جامع الاخبار باب القرآن میں علامه­مجلسیqنے بحارالانوار میں اسی روایت کو نقل کیاهے، سرورکائناتGنےبچوں کو قرآن سکھانےکاثواب واجر اور ان کے عظیم آثار و برکات کو بیان کرتے هوئے فرمایا:جو شخص اپنی اولاد کو قرآن سکھائے چاهے بیٹی هو یا بیٹاهوں،الله تعالی اس کے نامه اعمال میں10هزار مرتبه راه الهیٰ میں جهاد لکھ دیتا ہے،دس ہزار عمرہ­کاثواب عطا کرتاهے اور دس هزار غلاموں کو آزاد کرنے کاثواب عطاکرتاهے اور الله اس کو دس هزار مسکینوں کو کھانا کھلانے کا ثواب اور دس هزار برهنه­عورتوں کو لباس پهنانے کاثواب عطا کرتاهے اور هر حرف کے بدلے میں الله اس کے نامه اعمال میں دس نیکیوں کو لکھ دیتاهے اور دس گناهوں کو معاف کردیتاهے اور قرآن سکھانے کے صلہ اجر میں پروردگار عالم ایک نوارنی هستی کی شکل میں قرآن کو اس کے قبر میں بھیجتاهے اور یه قرآن اس شخص کی وحشت کو دور کردیتاهے۔خلاصه مطلب
“حَقُّ الْوَلَدِ عَلَى الْوَالِدِ أَنْ يُحَسِّنَ اسْمَهُ وَ يُحَسِّنَ أَدَبَهُ وَ يُعَلِّمَهُ الْقُرْآن‏”بیٹےکے والدگرامی پر تین حق هیں:
1-ایک حسین اور خوبصورت نام بچے کے لئے انتخاب کرے۔
2-بهترین آداب سکھائے گفتار، کردار رفتارکے حوالے سے تربیت دے۔
3-اور بچے کو قرآن پاک کی تعلیم دے۔
4-سرورکائناتGکا فرمان ہے:“قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص‏ مَنْ‏ عَلَّمَ‏ وَلَدَهُ‏ الْقُرْآنَ”فرمایا جو شخص اپنے بیٹے کو قرآن کی تعلیم دے تو اس کا ثواب یه هے،“فَكَأَنَّمَا حَجَّ الْبَيْتَ عَشَرَةَ آلَافِ حِجَّةٍ”پروردگار عالم گویا اس نے دس هزار مرتبه خانه خدا کا حج کیاهے“وَ اعْتَمَرَ عَشَرَةَ آلَافِ عُمْرَةٍ”اور دس هزار مرتبه عمره انجام دیاهے“وَ أَعْتَقَ عَشَرَةَ آلَافِ رَقَبَةٍ مِنْ وُلْدِ إِسْمَاعِيلَ ع ”اور اس نے دس هزار غلام آزاد کئے ہیں وه غلام بھی حضرت اسماعیلA کے اولاد میں سے هیں“وَ غَزَا عَشَرَةَ آلَافِ غَزْوَةٍ وَ أَطْعَمَ عَشَرَةَ آلَافِ مِسْكِينٍ مُسْلِمٍ جَائِعٍ”اوردس ہزار جنگوں میں شرکت کی اور دس هزار مسکین جوبھوکا هے اس کے سیر کرنے کا ثواب عطا کرتاهے“وَ كَأَنَّمَا كَسَى عَشَرَةَ آلَافِ عَارٍ مُسْلِمٍ”گویادس هزار کو لباس پهنایاہے“وَ يُكْتَبُ لَهُ بِكُلِّ حَرْفٍ عَشْرُ حَسَنَاتٍ”اور هر حرف کے بدلے قرآن سکھانے پروردگاردس نیکیاں اس کے نامه اعمال میں لکھی جاتی ہے“وَ يُمْحَى عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ” اور دس گناهوں کو اس کے نامه اعمال سے مٹادیاجاتا هے “وَ يَكُونُ مَعَهُ فِي قَبْرِهِ حَتَّى يُبْعَثَ”­اور قرآن( نورانی هستی کی) شکل میں قیامت تک اس مؤمن کی قبر میں رهتاهے“وَ يَثْقُلُ مِيزَانُهُ”اور یه قرآن اس کے میزان کو سنگین بنادیتاهے “وَ يُجَاوَزُ بِهِ عَلَى الصِّرَاطِ كَالْبَرْقِ الْخَاطِفِ”اور اس شخص کو پل صراط سےبرق کی رفتار سےگزاردیتاهے“وَ لَمْ يُفَارِقْهُ الْقُرْآنُ حَتَّى يَنْزِلَ بِهِ مِنَ الْكَرَامَةِ أَفْضَلَ مَا يَتَمَنَّى”(اورهر خوفناک مرحلے میں پریشانیوں اور مشکلات سے نجات دیتاهے) اس مردمؤمن سے جدا نهیں هوتاهے یهاں تک که اس شخص کو بزرگی و کرامت و فضیلت کےحوالےسے اس مقام پرپهنچاتاهے جوانسان کی تمنااور آرزوسے بالاتر ہوتی هے۔
3- قَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: مَنْ‏ عَلَّمَ‏ وَلَدَهُ‏ الْقُرْآنَ دُعِيَ بِالْأَبَوَيْنِ فَكُسِيَا حُلَّتَيْنِ.[29]
جنهوں نےاپنے فرزندوں کو قرآن کی تعلیم دی هے اس بچے کے والدین کو بلاکر دو عظیم لباس پهنائےجائیں گے۔
دوسری روایت اس طرح ملتاہے:
“فَعَجِب‏ بِهَا‏مِنَ الْأَوَّلِينَ وَ الاخِرِين‏.”اس لباس کو دیکھ کر اولین و آخرین(کے لوگ) تعجب کریں گے۔
4-اصول کافی باب قرائت القرآن میں امام صادقA کافرمان هے جو اپنے فرزندوں کو کسی معلم قرآن کےپاس لےجاتاهے اور جب یه بچه بسم الله پڑھنا شروع کرتاهے تو  اس وقت خداوندعالم چار لوگوں کے گناهوں کو بخش دیتاهے:
1-والدگرامی2-والده گرامی3-معلم4-بچه۔
 
 آیات و روایات کی روشنی میں بچوں کے   حقوق
قال الله تعالی}وَ اللَّهُ جَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْواجاً وَ جَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَزْواجِكُمْ بَنينَ وَ حَفَدَةً وَ رَزَقَكُمْ مِنَ الطَّيِّباتِ أَ فَبِالْباطِلِ يُؤْمِنُونَ وَ بِنِعْمَتِ اللَّهِ هُمْ يَكْفُرُونَ{[30]
اور اللہ نے تم ہی میں سے تمہارا جوڑا بنایا ہے پھر اس جوڑے سے اولاد قرار دی ہے اور سب کو پاکیزہ رزق دیا ہے تو کیا یہ لوگ باطل پر ایمان رکھتے ہیں اور اللہ ہی کی نعمت سے انکار کرتے ہیں۔
}أَمَدَّكُمْ بِأَنْعامٍ وَ بَنينَ{[31]
تمہاری امداد جانوروں اور اولاد سے کی ہے۔
}يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَ أَهْليكُمْ ناراً وَقُودُهَا النَّاسُ وَ الْحِجارَةُ عَلَيْها مَلائِكَةٌ غِلاظٌ شِدادٌ لا يَعْصُونَ اللَّهَ ما أَمَرَهُمْ وَ يَفْعَلُونَ ما يُؤْمَرُونَ{[32]
ایمان والو! اپنے نفس اور اپنے اہل کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے جس پر وہ ملائکہ معین ہوں گے جو سخت مزاج اور تندوتیز ہیں اور خدا کے حکم کی مخالفت نہیں کرتے ہیں اور جو حکم دیا جاتا ہے اسی پر عمل کرتے ہیں۔
}وَ الْوالِداتُ يُرْضِعْنَ أَوْلادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كامِلَيْنِ لِمَنْ أَرادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضاعَةَ وَ عَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَ كِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ لا تُكَلَّفُ نَفْسٌ إِلاَّ وُسْعَها لا تُضَارَّ والِدَةٌ بِوَلَدِها وَ لا مَوْلُودٌ لَهُ بِوَلَدِهِ وَ عَلَى الْوارِثِ مِثْلُ ذلِكَ فَإِنْ أَرادا فِصالاً عَنْ تَراضٍ مِنْهُما وَ تَشاوُرٍ فَلا جُناحَ عَلَيْهِما وَ إِنْ أَرَدْتُمْ أَنْ تَسْتَرْضِعُوا أَوْلادَكُمْ فَلا جُناحَ عَلَيْكُمْ إِذا سَلَّمْتُمْ ما آتَيْتُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَ اتَّقُوا اللَّهَ وَ اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ بِما تَعْمَلُونَ بَصيرٌ {[33]
اور مائیں اپنی اولاد کو دو برس کامل دودھ پلائیں گی جو رضاعت کو پورا کرنا چاہے گا اس درمیان صاحب اولاد کا فرض ہے کہ ماؤں کی روٹی اور کپڑے کا مناسب طریقہ سے انتظام کرے. کسی شخص کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دی جاسکتی. نہ ماں کو اس کی اولاد کے ذریعہ تکلیف دینے کا حق ہے اور نہ باپ کو اس کی اولاد کے ذریعہ. اور وارث کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اسی طرح اجرت کا انتظام کرے. پھر اگر دونوں باہمی رضامندی اور مشورہ سے دودھ چھڑانا چاہیں تو کوئی حرج نہیں ہے اور اگر تم اپنی اولاد کے لئے دودھ پلانے والی تلاش کرنا چاہو تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ متعارف طریقہ کی اجرت ادا کردو اور اللہ سے ڈرو اور یہ سمجھو کہ وہ تمہارے اعمال کو خوب دیکھ رہا ہے۔
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص حَقُّ الْوَلَدِ عَلَى وَالِدِهِ إِذَا كَانَ‏ ذَكَراً أَنْ يَسْتَفْرِهَ أُمَّهُ‏[34] وَ يَسْتَحْسِنَ اسْمَهُ وَ يُعَلِّمَهُ كِتَابَ اللَّهِ وَ يُطَهِّرَهُ وَ يُعَلِّمَهُ السِّبَاحَةَ وَ إِذَا كَانَتْ أُنْثَى أَنْ يَسْتَفْرِهَ أُمَّهَا وَ يَسْتَحْسِنَ اسْمَهَا وَ يُعَلِّمَهَا سُورَةَ النُّورِ وَ لَا يُعَلِّمَهَا سُورَةَ يُوسُفَ وَ لَا يُنْزِلَهَا الْغُرَفَ وَ يُعَجِّلَ سَرَاحَهَا إِلَى بَيْتِ زَوْجِهَا أَمَّا إِذَا سَمَّيْتَهَا فَاطِمَةَ فَلَا تَسُبَّهَا وَ لَا تَلْعَنْهَا وَ لَا تَضْرِبْهَا.[35]
خدانے انسان کی زندگی اور فیملی اور خانوادگی نظام میں اولاد کو سب سے بڑی زینت قرار دیاهے خدانے اولاد کو اپنی رحمت کها هے اوراپنی توحیدکی نشانی قراردی­هے اوراپنی قدرت و عظمت کی علامت قراردی­هے۔جس  طریقے سے ایک اجنبی لڑکے اور لڑکی کے درمیان خدانے محبت اور الفت کارشته قائم کرکے محبت اور رشتے میں ڈال دیاهےت وه کونسی ذات هے جس نے دو دلوں کو جوڑدیاهے اور ان دو دلوں کے اندر محبت اور الفت پیدا کردی هے۔ اولاد کو پھول بھی کهاهے۔
خود سرو رکائناتGکی زبان مبارک سے یه الفاظ جاری هوئے هیں:نیک وصالح فرزندحقیقت میں جنت پھولوں میں سے ایک پھول هے۔
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص‏ إِنَّ الْوَلَدَ الصَّالِحَ رَيْحَانَةٌ مِنْ‏ رَيَاحِينِ‏ الْجَنَّةِ.[36]
1-اوّل اولاد پھول هے جس طرح وہ انسان کی زندگی میں خوشبو، خوبصورت اورپھول هے اس کو دیکھ کر انسان خوش هوتا هے اسی طریقے سے اولاد بھی اس کی زندگی کے لئے زنیت هے اس کو دیکھ کر انسان مسرت اور خوشی انتهائی کمال تک پہنچ­جاتی هے۔دوسری خاصیت پرتوجہ کریں یه پھول دنیوی  پھولوں کی طرح نهیں هے یه جنت کا پھول هے جس طریقے سے جنت میں جانا انسان کی اپنی بس کی بات نهیں جنت خدا کی عطاهے و ه اولیاء کی جگه هے خود جنت کا ملنا خداکی عنایت هے اسی طرح اولاد بھی جنت کاپھول هے یه بھی خدا کی عطا و عنایت هے۔
قرآن میں متعدد مقامات­پرکهاگیاهے که خداجسے چاہے لڑکی دے دیتاهے جیسے چاهے لڑکا دے دیتاهے اور جن کی زندگی میں خدا مصلحت نه سمجھے وه اس عظیم نعمت سے محروم بھی  رهتاهے}وَ يَجْعَلُ مَنْ يَشاءُ عَقِيما{ بهت سارے والدین بے اولاد هیں زندگی میں عقیم بھی رهتے هیں نتیجه یه هے که اولاد در حقیقت خداکی بزرگترین توحید کی نشانی هے اور هماری ازدواجی زندگی کی کامیابی کی علامت بھی هے او ر گھریلو زندگی کا پھول هے ایک طرف مسرتیں اور خوشیاں هیں تو دوسری طرف زندگی کے استحکام کی علامت هے یعنی اولاد کے بعد زندگی میں مضبوطی آجاتی هے۔
خدانے اولاد کے حوالے سے والدین کو بهت ساری ذمه داریاں دی ہیں روایات اور آیات میں بھی ان ذمه داریوں کی طرف اشاره کیاهےاب والدین کو چاهئے که وه ان ذمه داریوں کو سمجھیں اس کے بعد ایک ایک کرکےان ذمه داریوں کو نبھائیں­روایات میں والدین کواولاد کے متعلق جو ذمه داریاں دی هیں ان کو حقوق کےنام سےتعبیر کیاگیاهے اور قرآن میں صرف والدین کےحقوق کوبیان نهیں کیا هے بلکه هر ایک کے لئے حقوق کا ذکر ہے، بیوی کے اپنے حقوق،شوهر کے اپنےحقوق اوروالدین کے اپنے حقوق اور اولاد کے اپنے حقوق هیں۔قرآن کریم میں اولاد کے حقوق
اولاد کےبارے میں اسلام نےسب سے پہلے تعلیم و تربیت کو اهم ترین حقوق میں قراردیا هے اولاد کوصحیح تعلیم و تربیت دینی ضروری هے تربیت بھی دینی والهیٰ هو جس طریقے سے خداچاهتاهے ایک انسان کی پرورش کس طریقے سے هو نی چاهئے، کیسے تربیت دینی چاهئے واضح طور پر ذکر کردی کہ آیات الهیٰ کی اور محمدوآل محمدfکی روایات کی روشنی میں اپنے بچوں کو تعلیم وتربیت دینا بہت ضروری ہے۔
سب سے پهلی چیز جواولاد کو سکھانی چاهئے وه خدا کی معرفت هے یعنی ان کی دلوں میں توحید کی معرفت کو راسخ کردیاجائےخداکی شناخت کرائی­جائےپھرتمام انبیاء کی معرفت بالخصوص سرورکائنات­ختمی مرتبتGکی معرفت سے دلوں کو معمور کردیں اس کے بعد ان کے جانشین ائمه  طاهرینfکی معرفت کرانا ضروری هے جیساکه دعاؤں میں بھی اس بات کی طرف اشاره کیاگیاهے۔
عَنْ زُرَارَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ع يَقُولُ‏ إِنَّ لِلْغُلَامِ غَيْبَةً قَبْلَ أَنْ يَقُومَ قَالَ قُلْتُ وَ لِمَ قَالَ يَخَافُ وَ أَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى بَطْنِهِ ثُمَّ قَالَ يَا زُرَارَةُ وَ هُوَ الْمُنْتَظَرُ وَ هُوَ الَّذِي يُشَكُّ فِي وِلَادَتِهِ مِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ مَاتَ أَبُوهُ بِلَا خَلَفٍ وَ مِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ حَمْلٌ‏[37]وَ مِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ إِنَّهُ وُلِدَ قَبْلَ مَوْتِ أَبِيهِ بِسَنَتَيْنِ وَ هُوَ الْمُنْتَظَرُ غَيْرَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ يُحِبُّ أَنْ يَمْتَحِنَ الشِّيعَةَ فَعِنْدَ ذَلِكَ يَرْتَابُ الْمُبْطِلُونَ يَا زُرَارَةُ قَالَ قُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ الزَّمَانَ أَيَّ شَيْ‏ءٍ أَعْمَلُ قَالَ يَا زُرَارَةُ إِذَا أَدْرَكْتَ هَذَا الزَّمَانَ فَادْعُ بِهَذَا الدُّعَاءِ اللَّهُمَّ عَرِّفْنِي‏ نَفْسَكَ‏ فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِي نَفْسَكَ لَمْ أَعْرِفْ نَبِيَّكَ اللَّهُمَّ عَرِّفْنِي رَسُولَكَ فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِي رَسُولَكَ لَمْ أَعْرِفْ حُجَّتَكَ اللَّهُمَّ عَرِّفْنِي حُجَّتَكَ فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِي حُجَّتَكَ ضَلَلْتُ عَنْ دِينِي ثُمَّ قَالَ يَا زُرَارَةُ لَا بُدَّ مِنْ قَتْلِ غُلَامٍ بِالْمَدِينَةِ قُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ أَ لَيْسَ يَقْتُلُهُ جَيْشُ السُّفْيَانِيِّ قَالَ لَا وَ لَكِنْ يَقْتُلُهُ جَيْشُ آلِ بَنِي فُلَانٍ‏[38]يَجِي‏ءُ حَتَّى يَدْخُلَ الْمَدِينَةَ فَيَأْخُذُ الْغُلَامَ فَيَقْتُلُهُ فَإِذَا قَتَلَهُ بَغْياً وَ عُدْوَاناً وَ ظُلْماً لَا يُمْهَلُونَ فَعِنْدَ ذَلِكَ تَوَقُّعُ الْفَرَجِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.[39]
...پروردگارا تو مجھے اپنی معرفت عطا کر اگر تو اپنی معرفت مجھے عطا نہیں کی تو میں تیرے نبی کو نہیں پہچان سکوں گا، خداوندا تو اپنے رسول کی معرفت مجھ کو عطاکر کیونکہ اگر تونے اپنے رسول کی معرفت نہیں عطاکی تو میں تیری حجت کو نہیں پہچان سکوں گا، خداوندا تو اپنی حجت کی معرفت مجھے عطاکر کیونکہ اگر تونے اپنی حجت کی معرفت نہیں کرائی تو میں اپنے دین سے گمراہ ہوجاؤں گا...
یهی معرفت ہے جوتمام انسانوں کو جهنم کی آگ سے بچالیتی هے۔
}يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَ أَهْليكُمْ ناراً وَقُودُهَا النَّاسُ وَ الْحِجارَةُ عَلَيْها مَلائِكَةٌ غِلاظٌ شِدادٌ لا يَعْصُونَ اللَّهَ ما أَمَرَهُمْ وَ يَفْعَلُونَ ما يُؤْمَرُونَ{[40]
ایمان والو! اپنے نفس اور اپنے اہل کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے جس پر وہ ملائکہ معین ہوں گے جو سخت مزاج اور تندوتیز ہیں اور خدا کے حکم کی مخالفت نہیں کرتے ہیں اور جو حکم دیا جاتا ہے اسی پر عمل کرتے ہیں۔
اس آیت میں هے کہ اپنے آپ کو ، اپنے اهل وعیال اور اولاد کو جهنم کی آگ سے بچانالازم هے۔ یه آیت سورۀ تحریم کی هے اپنے اور اپنے اهل و عیال کو جهنم کی آگ سے بچاؤ، جهنم کی آگ سے بچانا همارے هاتھ میں نهیں هے هم کیسے اپنے آپ کو اور اهل عیال کو جهنم کی آگ سے بچاسکتے هیں؟ وه تو خدا هی هے جو همیں جهنم کی آگ سے بچاتاهے اور قرآن میں درج ذیل مذکوره دعا میں بھی هے:
}وَ مِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنا آتِنا فِي الدُّنْيا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَ قِنا عَذابَ النَّارِ{[41]
اور بعض کہتے ہیں کہ پروردگار ہمیں دنیا میں بھی نیکی عطا فرما اورآخرت میں بھی اور ہم کو عذاب جہنم سے محفوظ فرما۔
}الَّذينَ يَقُولُونَ رَبَّنا إِنَّنا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنا ذُنُوبَنا وَ قِنا عَذابَ النَّارِ {[42]
قابل تعریف ہیں وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ پروردگار ہم ایمان لے آئے- ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہمیں آتش جہنم سے بچالے۔خدا همیں جهنم کی آگ سے نجات عطاکر۔
تو نتیجه یه ملتاهے که هم نجات نهیں دے سکتے اگرچه همارےپاس نجات کاوسیله هے،لہذا خدا نے بهت ساری چیزیں قراردی هیں جهنم کی آگ سے نجات پانے کاجو وسیله بنتی جس سے بهشت میں جانے کی راہ ہموار ہوجاتی هے لہذا بزرگترین سرمایه نجات، خدا کی معرفت هے،اس کے بعد یهی معرفت تم اپنی اولاد کو دےگا تو تم بھی نجات پاؤگے اورتمہارے اهل وعیال بھی۔اصحاب نے پیغمبرG سے مذکورہ آیت کے متعلق سوال کیا
پیغمبرGکےپاس اصحاب آئے اور اسی مذکوره آیت کے متعلق میں سوال کیا یارسول الله هم اپنے آپ کو جهنم کی آگ سے کیسےبچاسکتے ہیں،قرآن نے همیں حکم دیاهے که تم اپنے اهل وعیال کو بھی جهنم کی آگ سے بچاؤ،آخر ہم کس طرح سے انہیں بچائیں؟
پیغمبرGنےفرمایا: تم اس طرح سے بچاسکتے هو که جس طرح تم خود واجبات پرعمل کرتے هو انہیں بھی واجبات کا پابندبناؤ تاکہ وه بھی وقت کی پابندی کے ساتھ نماز اداکریں،روزه رکھیں اور اطاعت کریں تو اس نمازکے ذریعہ اورواجبات کی ادائیگی کی وجه سے تم بھی جهنم کی آگ سے بچ سکوگے اور تمهاری اولاد بھی بچ سکے گی۔
جس طرح سے تم گناهوں سے بچ سکتے هو اسی طریقے سے اولاد کوبھی بتاؤ کہ فلاں چیزگناه هو حرام هے ان سے پرہیز کرنا چاہئےجوشخص اپنے بچوں کو ان چیزوں کی نصیحت کرتاہے تو  یه بات بچوں کے ذهن میں نقش هوجاتی هےجس کا  بهت گهرا اثرپڑتاهے۔لہذا اولاد کواسلامی طرز پرتعلیم و تربیت دیناچاهئے۔روز قیامت سب سے زیاده نقصان کون اٹھائے گا؟
3-وه لوگ قیامت کےدن واقعاً خسارے میں رهیں گے جنهوں نےاپنے اهل وعیال پر کوئی توجه نهیں دی ہے۔
}فَاعْبُدُوا ما شِئْتُمْ مِنْ دُونِهِ قُلْ إِنَّ الْخاسِرينَ الَّذينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَ أَهْليهِمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ أَلا ذلِكَ هُوَ الْخُسْرانُ الْمُبينُ{[43]
اب تم جس کی چاہو عبادت کرو کہہ دیجئے کہ حقیقی خسارہ والے وہی ہیں جنہوں نے اپنے نفس اور اپنے اہل کو قیامت کے دن گھاٹے میں رکھا - آگاہ ہوجاؤ یہی کھلا ہوا خسارہ ہے۔
}وَ تَراهُمْ يُعْرَضُونَ عَلَيْها خاشِعينَ مِنَ الذُّلِّ يَنْظُرُونَ مِنْ طَرْفٍ خَفِيٍّ وَ قالَ الَّذينَ آمَنُوا إِنَّ الْخاسِرينَ الَّذينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَ أَهْليهِمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ أَلا إِنَّ الظَّالِمينَ في‏ عَذابٍ مُقيمٍ{[44]
اور تم انہیں دیکھو گے کہ وہ جہنمّ کے سامنے پیش کئے جائیں گے تو ذلّت سے ان کے سر جھکے ہوئے ہوں گے اور وہ کن انکھیوں سے دیکھتے بھی جائیں گے اور صاحبانِ ایمان کہیں گے کہ گھاٹے والے وہی افرادہیں جنہوں نے اپنے نفس اوراپنے اہل کو قیامت کے دن گھاٹے میں مبتلا کردیا ہے آگاہ ہوجاؤ کہ ظالموں کو بہرحال دائمی عذاب میں رہنا پڑے گا۔
اهل جهنم کی نشانی یه هے که خود بھی واجبات سے غافل هیں اور حرام چیزوں سے غافل هیں اور اپنے اهل و عیال کو بھی غافل رکھاهے اس کے مقابل میں جنتی لوگ عظیم مقام و درجات کوپالیں گے، وه لوگ خود بھی واجبات پرعمل کرتے هیں اور ساتھ ہی ساتھ اپنے اهل و اعیال کو بھی واجبات کے پابند بناتے هیں،قرآن کریم میں سر فهرست نماز  اور زکوٰۃکی بات آئی هے ۔
4}-وَ كانَ يَأْمُرُ أَهْلَهُ بِالصَّلاةِ وَ الزَّكاةِ وَ كانَ عِنْدَ رَبِّهِ مَرْضِيًّا{[45]
اور وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتے تھے اور اپنے پروردگار کے نزدیک پسندیدہ تھے۔
درحقیقت یه آیت حضرت اسماعیلA کے بارے میں هے لیکن انبیاء کی سیرت یه هے کہ انهوں نے اپنی اولادکو خدا کی معرفت کرائی، ساتھ ہی ساتھ عبادت خدا و بندگی خداکاطریقه بھی بتایااور ان میں سے دو اهم عبادتوں کانام لیا:
1-وه اپنے اهل وعیال کو نماز سکھاتے تھے۔
2-اور زکات نماز کانام لیکر حقوق الله کی طرف اشاره هے یعنی اپنی اولاد کو حقوق الله سے آشنا کیاگیاهے اور زکوٰۃ سے مراد حقوق الناس هے۔آیات کی تطبیق
}-1وَ جَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَزْواجِكُمْ بَنينَ وَ حَفَدَةً{پروردگار عالم نےتمہیں میں سے تمهارے لئے جوڑا قراردیاهےپھر بیویوں کے ذریعہ اولاد -اورپوتے-قرار دی ہے۔
2-}أَمَدَّكُمْ بِأَنْعامٍ وَ بَنينَ{خدانے تمهاری ا مداد جانوروں اور اولادسے کی ہے۔
3-}يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَ أَهْليكُمْ ناراً{اے صاحبان ایمان تم بچاؤ اپنے نفسوں کو یعنی اپنے آپ کو اور اپنے اهل وعیال کو جهنم کی آگ سے ۔
4-}لا تُضَارَّ والِدَةٌ بِوَلَدِها وَ لا مَوْلُودٌ لَهُ بِوَلَدِهِ{نہ ماں کو اس کی اولادکے ذریعہ تکلیف دینے کا حق ہے اور نہ باپ کو اس کی اولاد کے ذریعہ۔
اس آیت کے مقدمه میں والده کی­خصوصی ذمه داریاں بیان  ہوئی ہیں چونکه بچے کی زندگی میں والده کا بڑا مقام هے حتی والد سے زیاده هے بچے کی ترقی او رکمال میں جسمانی حوالے سے بھی اورروحانی حوالے سے بھی ماں کا بڑاکردارہوتاهے اسی وجه سے متعدد آیات میں ماں کی خصوصی  ذمہ داری،بچوں کے حقوق، تربیت اور خاص تاکید کی گئی هے مثال کے طورپرایک آیت یه هے:
}وَ الْوالِداتُ يُرْضِعْنَ أَوْلادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كامِلَيْنِ...{جومائیں هیں انهیں چاهئے که وه اپنی بچوں کو دوسال مکمل دودھ پلائیں چونکه ماں کے دودھ  سے زیادہ کوئی اور چیز مؤثر اور مفید  نہیں هے لہذا  وہ اپنے دودھ سے بچے کو محروم نه کریں۔
اگربچے کو ماں اپنا دودھ نه پلائے تو بہت سے نقصانات بچے کے دامن گیر ہوتے ہیں اور دور حاضر کے­ڈاکڑوں نے  یه تجربه پیش کیاهے اور ثابت کیاهے که جسم کے اندر جو دفاعی قوت،طاقت و توانائی هے اس کا اهم ترین حصه ماں کےدودھ سے حاصل ہوتاهے اس میں بهت سارے سیلزاور وٹامن هے جسمانی توانائیاں هے یه ساری وٹامن اور توانائیاں ماں کے دودھ کے ذریعہ بچے کو  ملتی هے چونکه ماں کے دودھ میں پائی جانے والی­توانائی گائے اور بکری کی دودھ میں نهیں ہوتی هے یهاں تک که پاؤڈر اور اس قسم کے دوسرے غذائی مواد بعد کی زندگی میں بچے کو ضرر بھی پهنچا سکتے ہیں۔
ایک جگه پرقرآن اشارہ کیا هے جس میں ماں کو خصوصی طورپرنصیحت کی­هے جو بچے کی مائیں اور والدہ هیں وه ایساکام نه کریں جن سے بچے کو نقصان او ر ضرر پهنچے (اور یه ضرر حرام هے چاهئے دوھ نه پلانا هو یا نگهداری میں کوتاہی ہو)۔
مثال کے طورپرلاپروائی کرکے سردیوں میں سردی سے نهیں بچایا،گرمیوں میں گرمی سے نهیں بچایااور وه بیمار هوگئے اور اس بیماری میں دنیاسے چلے گئے دنیا میں هزاروں بچےایسے ہیں جووالدین کی لاپروائیوں کی وجه سے بیمار هوکرمرجاتے هیں اور بهت سارے نقصانات اور مشکلات کا شکار هوتے هیں۔
لهذا  جب کوئی ماں اچھی طرح سے بچے کی حفاظت کرتی ہے اور اس کو بڑا کرکے اپنے پاؤوں کھڑاکرتی ہے توعرش خدا کی طرف سے آوازآتی هے خدانے اس ماں کوجنت نصیب کرےگا اور  اس پرجهنم کی آگ کو حرام قراردیتاهے۔
لہذا فرمایا:}لا تُضَارَّ والِدَةٌ بِوَلَدِها وَ لا مَوْلُودٌ لَهُ بِوَلَدِهِ{ کسی والد ہ کے لئے یه جائز نهیں هے که وه اپنے بچے کو ضرر و نقصان کسی طریقے سےپهنچائے۔
}وَ كانَ يَأْمُرُ أَهْلَهُ بِالصَّلاةِ وَ الزَّكاةِ وَ كانَ عِنْدَ رَبِّهِ مَرْضِيًّا{[46]سیرت انبیاءیه تھے که وه اپنے اهل و عیال کو نماز اور زکوٰة کے بارے میں امر کرتے تھے اور وه خدا کےپاس انتهائی پسندیده بندوں میں سے شمار هوتے تھے یه حضرت ابراهیمAکا تذکره تھا لیکن سورۀ طه میں ہمارے پیغمبراکرمG کے بارے میں آیا هے:
}وَ أْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلاةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَيْها لا نَسْئَلُكَ رِزْقاً نَحْنُ نَرْزُقُكَ وَ الْعاقِبَةُ لِلتَّقْوى‏{[47]
اور اپنے اہل کو نماز کا حکم دیں اور اس پر صبر کریں ہم آپ سے رزق کے طلبگار نہیں ہیں ہم تو خود ہی رزق دیتے ہیں اور عاقبت صرف صاحبانِ تقویٰ کے لئے ہے۔
 یه آیت پیغمبرGکو حکم دے رهی هے آپ اپنے اهل وعیال کو نماز کے بارے میں امرکرو اور خودبھی نماز کی پابندی کررہی­لہذا گھر کے ذمه دارپرلازم ہے خودبھی اور دوسروں­کوبھی نماز کا پابند بنائے۔
5-}إِنَّ الْخاسِرينَ الَّذينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَ أَهْليهِمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ{…[48]
بیشک سب سے زیاده گھاٹےونقصان میں قیامت کے دن وه لوگ هوں گے جنہوں نےاپنے آپ کو بھی اور اپنے اهل وعیال کو بھی گھاٹے میں مبتلاکردیاہے جولوگ اپنی تربیت سے غافل رهے اور اپنے اهل وعیال کی بھی تربیت سے غافل رهے وه  لوگ قیامت کے دن بهت خسارے میں مبتلا ہوں گے۔
خدایا همیں اس تعلیم و تربیت کی اهم ذمه داری
کو صحیح طریقےسے ادا کرنے کی توفیق عطاکر آمین۔
 
[1]۔في تحف العقول هكذا« و أمّا حقّ الصغير فرحمته و تثقيفه و تعليمه و العفو عنه و الستر عليه و الرفق به، و الستر على جرائر حداثته فانه سبب للتوبة، و المداراة له، و ترك مماحكته، فان ذلك أدنى لرشده»۔
[2]۔ابن بابويه، محمد بن على، من لا يحضره الفقيه ، ج‏2، ص625- قم، چاپ: دوم، 1413 ق۔
[3]۔طبرسى، حسن بن فضل، مكارم الأخلاق، ص222- قم، چاپ: چهارم، 1412 ق / 1370 ش۔
[4]۔محمدى رى شهرى، محمد، ميزان الحكمة، ج‏13،ص506،14جلد، موسسه علمى فرهنگى دار الحديث، سازمان چاپ و نشر - قم - ايران، چاپ: 11، 1389 ه.ش؛ كنز العمّال: 45409؛ قرشى بنايى، على اكبر، قاموس قرآن، مقدمه، ص2 - تهران، چاپ: ششم، 1412ق۔
[5]۔   الأمالي( للصدوق)، النص، ص94.
[6]۔ مكارم الأخلاق، ص222۔
[7]۔ مجلسى، محمد باقر بن محمد تقى، بحار الأنوار (ط - بيروت)، ج‏2، ص152 - بيروت، چاپ: دوم، 1403 ق۔
[8]۔ مجلسى، محمد باقر بن محمد تقى، بحار الأنوار (ط - بيروت)، ج‏2، ص152 - بيروت، چاپ: دوم، 1403 ق۔
[9]۔ كلينى، محمد بن يعقوب، الكافي (ط - الإسلامية)، ج‏6، ص49 - تهران، چاپ: چهارم، 1407 ق۔
[10]۔ شريف الرضي، محمد بن حسين، نهج البلاغة (للصبحي صالح)، ص240 - قم، چاپ: اول، 1414 ق۔
[11]۔تکویر، آیه 8-9۔
[12]۔ بحار الأنوار (ط - بيروت)، ج‏75، ص10۔
[13]۔تنوخى، محسن بن على، الفرج بعد الشدة، ج‏2،ص381، 5جلد، دار صادر - بيروت (لبنان)، چاپ: 1، 1398 ه.ق۔
[14]۔ ابن شعبه حرانى، حسن بن على، تحف العقول، ص300 - قم، چاپ: دوم، 1404 / 1363ق۔
[15]۔بحار الأنوار (ط - بيروت)، ج‏75، ص175۔
[16]۔ ابن شعبه حرانى، حسن بن على، تحف العقول، ص318 - قم، چاپ: دوم، 1404 / 1363ق۔
[17]۔ شريف الرضي، محمد بن حسين، نهج البلاغة (للصبحي صالح)، ص240 - قم، چاپ: اول، 1414 ق۔
[18]۔ ابن شهر آشوب مازندرانى، محمد بن على، مناقب آل أبي طالب عليهم السلام (لابن شهرآشوب)، ج‏3، ص384 - قم، چاپ: اول، 1379 ق۔
[19]۔ ابن شهر آشوب مازندرانى، محمد بن على، مناقب آل أبي طالب عليهم السلام (لابن شهرآشوب)، ج‏3، ص384 - قم، چاپ: اول، 1379 ق۔
[20]۔ابن فهد حلى، احمد بن محمد، عدة الداعي و نجاح الساعي، ص89، 1جلد، دار الكتاب الإسلامي - بيروت (لبنان)، چاپ: 1، 1407 ه.ق۔
[21]۔بحرانى اصفهانى، عبد الله بن نور الله، عوالم العلوم و المعارف والأحوال من الآيات و الأخبار و الأقوال (مستدرك سيدة النساء إلى الإمام الجواد، ج‏19، ص267- ايران ؛ قم، چاپ: اول، 1413 ق۔
[22]۔كلينى، محمد بن يعقوب، الكافي (ط - الإسلامية)، ج‏6، ص50- تهران، چاپ: چهارم، 1407 ق۔
[23]۔شيخ حر عاملى، محمد بن حسن، وسائل الشيعة ،ج‏21،ص485- قم، چاپ: اول، 1409 ق۔
[24]۔مجلسى، محمد باقر بن محمد تقى، مرآة العقول في شرح أخبار آل الرسول، ج‏21، ص86- تهران، چاپ: دوم، 1404 ق۔
[25]۔مجلسى، محمد باقر بن محمد تقى، بحار الأنوار (ط - بيروت)، ج‏101، ص99- بيروت، چاپ: دوم، 1403 ق؛عدّة الداعي، ص 61۔
[26]۔شعيري، محمد بن محمد، جامع الأخبار(للشعيري) ، ص49- نجف، چاپ: اول، بى تا۔
[27]۔ابن أبي الحديد، عبد الحميد بن هبة الله، شرح نهج البلاغة لابن أبي الحديد، ج‏19، ص365- قم، چاپ: اول، 1404ق۔
[28]۔فتال نيشابورى، محمد بن احمد، روضة الواعظين و بصيرة المتعظين ، ج‏2، ص369 (ط - القديمة) - ايران ؛ قم، چاپ: اول، 1375 ش۔
[29]۔شيخ حر عاملى، محمد بن حسن، هداية الأمة إلى أحكام الأئمة عليهم السلام، ج-7،ص334- مشهد، چاپ: اول، 1414ق۔
[30]۔سورۀ نحل:72۔
[31]۔سورۀ، الشعراء:­133۔
[32]۔سورۀ تحریم:6۔
[33]۔ سورۀ البقره:233۔
[34]۔ يستفره في الموضعين أي يستكرم أمه و لا يدعو بالسب لامه و اللعن و الفحش۔
[35]۔كلينى، محمد بن يعقوب، الكافي (ط - الإسلامية) ، ج‏6، ص49- تهران، چاپ: چهارم، 1407 ق۔
[36]۔كلينى، محمد بن يعقوب، الكافي (ط - الإسلامية)، ج‏6،ص3- تهران، چاپ: چهارم، 1407 ق۔
[37]۔أي مات ابوه و هو حمل۔
[38]۔ في بعض النسخ‏[ آل أبي فلان‏]۔
[39]۔كلينى، محمد بن يعقوب، الكافي (ط - الإسلامية)، ج‏1،ص337- تهران، چاپ: چهارم، 1407 ق۔
[40]۔سورۀ تحریم:6۔
[41]۔سورۀ بقره:201۔
[42]۔سورۀ آل عمران:16۔
[43]۔سورۀ زمر:15۔
[44]۔سورۀشوری:45۔
[45]۔سورۀ مریم:55۔
[46]۔سورۀ مریم:55۔
[47]۔ سورۀ طه:132۔
[48]۔سورۀشوری:45۔

اهمیت حقوق اور حق شوهر

اهمیت حقوق اور حق شوهر

عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: اتَّقُوا اللَّهَ فِي‏ الضَّعِيفَيْنِ‏ يَعْنِي بِذَلِكَ الْيَتِيمَ وَ النِّسَاءَ وَ إِنَّمَا هُنَّ عَوْرَةٌ.[1]

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ ص فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا حَقُ‏ الزَّوْجِ‏ عَلَى الْمَرْأَةِ فَقَالَ لَهَا أَنْ تُطِيعَهُ وَ لَا تَعْصِيَهُ وَ لَا تَصَدَّقَ مِنْ بَيْتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ وَ لَا تَصُومَ تَطَوُّعاً إِلَّا بِإِذْنِهِ وَ لَا تَمْنَعَهُ نَفْسَهَا وَ إِنْ كَانَتْ عَلَى ظَهْرِ قَتَبٍ‏[2] وَ لَا تَخْرُجَ مِنْ بَيْتِهَا إِلَّا بِإِذْنِهِ وَ إِنْ خَرَجَتْ مِنْ بَيْتِهَا بِغَيْرِ إِذْنِهِ لَعَنَتْهَا مَلَائِكَةُ السَّمَاءِ وَ مَلَائِكَةُ الْأَرْضِ وَ مَلَائِكَةُ الْغَضَبِ وَ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ حَتَّى تَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَعْظَمُ النَّاسِ حَقّاً عَلَى الرَّجُلِ قَالَ وَالِدُهُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَعْظَمُ النَّاسِ حَقّاً عَلَى الْمَرْأَةِ قَالَ زَوْجُهَا قَالَتْ فَمَا لِي عَلَيْهِ مِنَ الْحَقِّ مِثْلُ مَا لَهُ عَلَيَّ قَالَ لَا وَ لَا مِنْ كُلِّ مِائَةٍ وَاحِدَةٌ قَالَ فَقَالَتْ وَ الَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيّاً لَا يَمْلِكُ رَقَبَتِي رَجُلٌ أَبَداً.[3]

مولا علیAنے دو اهم صنف کا تذکره کیا

دوصنف کا خاص خیال رکھو:

1-یتیم کے مال کا خیال رکھنا چونکه ان کا کوئی وارث اور دفاع کرنے والا نهیں هے ان کے حقوق کا ادا کرنا مثال کے طورپر ان کی تربیت و پرورش کرنا، نگهداری کرنا، مال اور جان کی حفاظت کرنا نیز اس کو ضائع هونےسےبچاناجس کا تذکرہ نهج البلاغه میں مولائے کائناتAکے وصیت نامہ میں بھی­ ہوا ہے:

وَ اللَّهَ‏ اللَّهَ‏ فِي‏ الْأَيْتَامِ‏ فَلَا تُغَيِّرُوا أَفْوَاهَهُمْ وَ لَا تُضَيِّعُوا مَنْ بِحَضْرَتِكُمْ‏[4]، فَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ يَقُولُ: «مَنْ عَالَ يَتِيماً حَتَّى يَسْتَغْنِيَ أَوْجَبَ اللَّهُ لَهُ بِذَلِكَ الْجَنَّةَ كَمَا أَوْجَبَ لآِكِلِ مَالِ الْيَتِيمِ النَّارَ.[5]

مولائے کائناتA کا آخری کلام هے جب آپ آخرت کی سفر طےکرنےوالے تھے تویتیموں کے متعلق تاکید کرتے هوئے فرمایا: خدا را خدا را­ اپنی یتیموں کاخیال رکھنا کهیں وه بھوک وپیاس کی وجه سے ضائع نه هوجائیں­اگر ایسا هوجاگا تو خدا تم سے پوچھے گا که یتیم تمهارے سامنےبھوکے اور پیاسے تھے لیکن تم نے ان کا خیال نهیں رکھا؟

2-دوسرے عورتوں کا خیال رکھنا مثال کے طورپرماں، بیوی اور بچیاں هیں اگر ان کا خیال نه رکھا تو قیامت کے دن سخت عذاب هے۔

بیویوں کے حقوق کا ادا کرنا دنیا میں بھی سعادت اور خوش بختی   کا سبب هے اور آخرت میں بھی سعادت و خوش بختی   کاوسیله هے اور آخرت کی نجات بھی حقوق کی ادائیگی پرموقوف هے۔

بیویوں کی دواهم ذمه داری کو عظیم جهاد کادرجہ

بیویوں کے لئے دوچیزوں کو اسلام میں جهاد کا درجہ­دیاگیا:

1-شوهرداری اس کی اطاعت و خدمت کرنا، شوهر کو راضی اور خوشحال رکھنا اور تمام ضروریات کوپورا کرنا۔

2-دوسراجهاد کسی خاتویں نے حضرت زهراBسے سوال کیا؟خدا سب سے زیاده عورتوں سے کب راضی هوتاهے؟جواب میں آپ نے فرمایاعورتیں اس وقت خدا کے قریب هوتیں هیں اور وہ راضی هوتا هے جب عورت اپنے گھر میں پردے میں ره کر بهترین طریقے سے اپنے بچوں کی تربیت کرتی هے۔

امام خمینیq فرماتے هیں:“مرد از دامن زن به معراج می رود”، انسان کو معراج عورت اور ماں کی دامن سے ملتی هے۔

تربیت کا لفظی معنی و مفهوم

تربیت کا لفظی معنی نشورنما اوررشد و تکامل کی طرف لے جانا، تربیت (رب ی)کے ماده سے بلندی و کمال کی طرف لے جانا، تربیت کے دوپهلو هیں:

1-جسمانی طورپرکمال کی طرف لے جانایعنی اس بچےکےجسم میں کسی حوالے سے کمزوری نه  رہنے پائے بهت ساری عورتیں هیں جو اپنے بچوں کو دودھ نهیں پلاتی اوربچے بهت سی بیماریوں سے مبتلا هوجاتے هیں اور واضح طورپر قرآن میں فرمارها هے عورتیں اپنے بچوں کو دوسال تک دودھ پلائیں:

}وَ الْوالِداتُ يُرْضِعْنَ أَوْلادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كامِلَيْنِ لِمَنْ أَرادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضاعَةَ وَ عَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَ كِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ لا تُكَلَّفُ نَفْسٌ إِلاَّ وُسْعَها لا تُضَارَّ والِدَةٌ بِوَلَدِها وَ لا مَوْلُودٌ لَهُ بِوَلَدِهِ وَ عَلَى الْوارِثِ مِثْلُ ذلِكَ فَإِنْ أَرادا فِصالاً عَنْ تَراضٍ مِنْهُما وَ تَشاوُرٍ فَلا جُناحَ عَلَيْهِما وَ إِنْ أَرَدْتُمْ أَنْ تَسْتَرْضِعُوا أَوْلادَكُمْ فَلا جُناحَ عَلَيْكُمْ إِذا سَلَّمْتُمْ ما آتَيْتُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَ اتَّقُوا اللَّهَ وَ اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ بِما تَعْمَلُونَ بَصيرٌ{[6]

اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں،(یہ حکم) ان لوگوں کے لیے ہے جو پوری مدت دودھ پلوانا چاہتے ہیں اور بچے والے کے ذمے دودھ پلانے والی ماؤں کا روٹی کپڑا معمول کے مطابق ہو گا،کسی پر اس کی گنجائش سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے، بچے کی وجہ سے نہ ماں کو تکلیف میں ڈالا جائے اور نہ باپ کو اس بچے کی وجہ سے کوئی ضرر پہنچایا جائے اور اسی طرح کی ذمے داری وارث پر بھی ہے، پھر اگر طرفین باہمی رضامندی اور مشورے سے بچے کا دودھ چھڑانا چاہتے ہیں تواس میں ان پر کوئی مضائقہ نہیں­ہے نیز اگر تم اپنی اولاد کو (کسی سے) دودھ پلوانا چاہو تو تم پر کوئی مضائقہ نہیں بشرطیکہ تم عورتوں کو معمول کے مطابق طے شدہ معاوضہ ادا کرو اور اللہ کا خوف کرو اور جان لو کہ تمہارے اعمال پراللہ کی خوب نظر ہے۔

لیکن­عورتیں  بهانے بناتی هیں نتیجہ بچوں میں کمزوریاں پیدا هوتی هیں خود ڈاکڑحضرات بھی اس بات کےمعترف هیں وه بچے جنهوں نے ماؤں کادودھ نهیں پیاہےان میں جسمانی طورپربهت ساری کمزوریاں پائی جاتی ہیں یهاں تک که ان کی آنکھوں کی بینائی اور حافظے پربھی اثر کرتاهے اور اس کی قدرت اور توانائی خدانے ماں کی دودھ میں رکھی هے۔لهذا سب سے پهلی تربیت اس کو دودھ پلانا اور جسم صحیح وسالم کو بنانا اور جسمی حوالے سے کمال کی طرف لے جانا هے تاکه وه تربیت حاصل کرسکے۔

2-فکری حوالے سے بھی ان کے لوازمات کاخیال رکھاجائے  تاکہ گمراه نه هوں، افکار میں غلط  خیال نه آنےپائے اور شیطان مسلط نه هوسکے۔

تطبیق عبارت

امام محمدباقرAکے بزرگ صحابیوں میں سے هے جناب محمدبن مسلم هیں وہ امام سے ایک روایت نقل کرتے هیں جس کو امام محمدباقرAنے ختمی مرتبتG سے اس کو نقل کیاهے:

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ ص فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا حَقُ‏ الزَّوْجِ‏ عَلَى الْمَرْأَةِ فَقَالَ لَهَا أَنْ تُطِيعَهُ وَ لَا تَعْصِيَهُ وَ لَا تَصَدَّقَ مِنْ بَيْتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ وَ لَا تَصُومَ تَطَوُّعاً إِلَّا بِإِذْنِهِ وَ لَا تَمْنَعَهُ نَفْسَهَا وَ إِنْ كَانَتْ عَلَى ظَهْرِ قَتَبٍ‏[7] وَ لَا تَخْرُجَ مِنْ بَيْتِهَا إِلَّا بِإِذْنِهِ وَ إِنْ خَرَجَتْ مِنْ بَيْتِهَا بِغَيْرِ إِذْنِهِ لَعَنَتْهَا مَلَائِكَةُ السَّمَاءِ وَ مَلَائِكَةُ الْأَرْضِ وَ مَلَائِكَةُ الْغَضَبِ وَ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ حَتَّى تَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَعْظَمُ النَّاسِ حَقّاً عَلَى الرَّجُلِ قَالَ وَالِدُهُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَعْظَمُ النَّاسِ حَقّاً عَلَى الْمَرْأَةِ قَالَ زَوْجُهَا قَالَتْ فَمَا لِي عَلَيْهِ مِنَ الْحَقِّ مِثْلُ مَا لَهُ عَلَيَّ قَالَ لَا وَ لَا مِنْ كُلِّ مِائَةٍ وَاحِدَةٌ قَالَ فَقَالَتْ وَ الَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيّاً لَا يَمْلِكُ رَقَبَتِي رَجُلٌ أَبَداً.[8]

شوهرکاحق

قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ع‏ أَيُّمَا امْرَأَةٍ بَاتَتْ وَ زَوْجُهَا عَلَيْهَا سَاخِطٌ فِي حَقٍّ لَمْ تُقْبَلْ مِنْهَا صَلَاةٌ حَتَّى‏ يَرْضَى‏ عَنْهَا وَ أَيُّمَا امْرَأَةٍ تَطَيَّبَتْ لِغَيْرِ زَوْجِهَا لَمْ تُقْبَلْ مِنْهَا صَلَاةٌ حَتَّى تَغْتَسِلَ مِنْ طِيبِهَا كَغُسْلِهَا مِنْ جَنَابَتِهَا.[9]

عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ عَنْ مُوسَى بْنِ بَكْرٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: ثَلَاثَةٌ لَا يُرْفَعُ لَهُمْ عَمَلٌ عَبْدٌ آبِقٌ وَ امْرَأَةٌ زَوْجُهَا عَلَيْهَا سَاخِطٌ وَ الْمُسْبِلُ إِزَارَهُ[10]خُيَلَاءَ.[11]

بیویوں کی اهم ذمه داری

بیویوں کے لئے لازم هے که وه زندگی کے تمام­امور میں شوهر کی اطاعت اور فرمانبرداری کریں حضرت امام صادقAنےفرمایا: بهت سے لوگوں کی اعمال عبادات، بارگاه الهی میں ان کی نماز حتی ان کی دعائیں قبول نهیں هوتی هیں ان لوگوں میں سے ایک گروه وه بیویاں هیں جن پرشوهر ناراض هوں اور وہ شوهر کی اطاعت نه کریں، متعدد روایات میں هے که بیویوں کے اعمال و عبادات اور دعائیں کی قبولیت کےلئے شوهر کی خوشنودی ضروری هے جس طرح اولادو ں کی عبادات اور دعاؤں کی قبولیت کے لئے ماں وباپ کی رضا و خوشنودی ضروری هےلَا أَقْبَل‏ حتی یرضاه والدیهاحدیث قدسی۔

تین گروه کے اعمال و عبادات بارگاه الهی میں قبول نهیں !

حضرت امام صادقAکافرمان هے: تین گروه کی عبادات اعمال اور نمازیں بارگاه الهی میں قبول نهیں هوتی ہیں اور بارگاه الهی سے زمین پرپھینک دی جاتی هے:

1-وه بیویاں جواپنے شوهروں کو خوش اور ان کی اطاعت نه کریں۔

2-غلاموں کی نمازیں قبول نهیں هوتی ہیں جب تک مولانے اجازت نه دی ہو۔

3-وه عبد جوپیغمبرGاور ائمه طاهرینfکے غلام هیں جب تک ان کی رضا و خوشنودی اور معرفت نه رکھتے هوں ان کی عبادت قبول نهیں۔

بیویوں پرشوهروں کے چھ اهم حقوق

امام صادقAسے ایک روایت نقل هوئی هےاس میں آپ  فرماتے هیں کہ ایک خاتون پیغمبرG کی خدمت میں تشریف لائی­ اور سوال کیا روایت ملاحظہ فرمائیں:

عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ص فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا حَقُ‏ الزَّوْجِ‏ عَلَى الْمَرْأَةِ فَقَالَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ قَالَتْ فَخَبِّرْنِي عَنْ شَيْ‏ءٍ مِنْهُ قَالَ لَيْسَ لَهَا أَنْ تَصُومَ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْنِي تَطَوُّعاً وَ لَا تَخْرُجَ مِنْ بَيْتِهَا (بِغَيْرِ إِذْنِهِ)[12]وَ عَلَيْهَا أَنْ تَطَيَّبَ بِأَطْيَبِ طِيبِهَا وَ تَلْبَسَ أَحْسَنَ ثِيَابِهَا وَ تَزَيَّنَ بِأَحْسَنِ زِينَتِهَا وَ تَعْرِضَ نَفْسَهَا عَلَيْهِ غُدْوَةً وَ عَشِيَّةً وَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ حُقُوقُهُ عَلَيْهَا.[13]

یارسول اللهG شوهروں کےبیویوں پرواجب حقوق­کیاهے؟آپGنے فرمایا:چھےحقوق هیں:

1-پوری زندگی شوهر کی اطاعت اورفرمانبرداری کرتی رهے۔

2-ناراض و توہین نه کرے ۔

3-شوہر کی اجازت کے بغیرمستحب اعمال کوبھی انجام نہ دے۔

4-شوهر کی رضا اور خوشنودی کے لئے بهترین خوشبولگائے۔

5-زینت و آراستگی بهترین لباس زیب تن کرے۔

6-بیوی همیشه شوهر کی خدمت کے لئے اپنے کو پیش کرے۔

امام موسی کاظمA کے کلام میں عورتوں کابهترین جهاد

امام موسی کاظمA کا فرمان ہے:عورتوں کابهترین جهاداورخدمت،بچوں کی تربیت کرناہے۔

خلاصه مطلب

1- قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ع‏ أَيُّمَا امْرَأَةٍ بَاتَتْ‏ وَ زَوْجُهَا عَلَيْهَا سَاخِطٌ فِي حَقٍّ لَمْ تُقْبَلْ مِنْهَا صَلَاةٌ حَتَّى يَرْضَى عَنْهَا وَ أَيُّمَا امْرَأَةٍ تَطَيَّبَتْ لِغَيْرِ زَوْجِهَا لَمْ تُقْبَلْ مِنْهَا صَلَاةٌ حَتَّى تَغْتَسِلَ مِنْ طِيبِهَا كَغُسْلِهَا مِنْ جَنَابَتِهَا.[14]

کوئی بھی خاتون اس حالت میں رات کو گزراے که اس کا شوهر اس پر ناراض هو اور وه بھی جائز طریقے سے تو خدا اس  کی نماز کو قبول نهیں کرتا جب تک اس کاشوهر راضی نه هوجائے، کوئی بھی خاتون  جوخوشبو لگائے اپنے شوهر کے علاوه کسی اور شخص کے لئےتو خدااس کی نماز کو قبول نهیں کرتا جب تک وه اس خوشبو کو دھوکر صاف نہ کرلے۔

2- عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ، قَالَ: «ثَلَاثَةٌ لَايُرْفَعُ‏ لَهُمْ‏ عَمَلٌ: عَبْدٌ آبِقٌ، وَ امْرَأَةٌ زَوْجُهَا عَلَيْهَا سَاخِطٌ، وَ الْمُسْبِلُ إِزَارَهُ‏[15] خُيَلَاءَ[16]».[17]

تین گروه هیں جن کے اعمال بارگاه الهی میں لے کرنهیں جاتےاور اعمال قابل قبول نهیں هوتے ہیں:

1-وه بنده جو مولا کی اطاعت سے فرار کرچکا هو اور اسے ناراض کیاهو۔

2-اور وه عورت جس کاشوهر اس پرناراض هو۔

3-اور وه مغرورو متکبر انسان جو کسی کو مانتا ہی نهیں هے۔

امام صادقAفرماتے هیں: تین گروه ایسے هیں جن کی نماز قبول نهیں هوگی:

1-وه بنده جواپنے مولا سے فرار کرچکا هے جب تک وه پلٹ کر مولا کے پاس واپس آکر اطاعت نه کرے۔

2-وه عورت جو شوهر کی ناراضگی میں رات گزارے ۔

3-اور وه شخص جو امامت کرتاهے لیکن قوم اس کو نهیں چاهتی یعنی عدالت کی بناپر نهیں بلکہ مجبوری میں جماعت کوجاتی هے۔

امام موسی کاظمAفرماتے هیں :

جِهَادُ الْمَرْأَةِ حُسْنُ‏ التَّبَعُّلِ[18].[19]عورتوں کا جهاد “شوهر داری اور اولاد کی تربیت و پرورش” هے”۔

امام صادقAفرماتے هیں:

عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ص فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا حَقُ‏ الزَّوْجِ‏ عَلَى الْمَرْأَةِ فَقَالَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ قَالَتْ فَخَبِّرْنِي عَنْ شَيْ‏ءٍ مِنْهُ قَالَ لَيْسَ لَهَا أَنْ تَصُومَ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْنِي تَطَوُّعاً وَ لَا تَخْرُجَ مِنْ بَيْتِهَا (بِغَيْرِ إِذْنِهِ)[20]وَ عَلَيْهَا أَنْ تَطَيَّبَ بِأَطْيَبِ طِيبِهَا وَ تَلْبَسَ أَحْسَنَ ثِيَابِهَا وَ تَزَيَّنَ بِأَحْسَنِ زِينَتِهَا وَ تَعْرِضَ نَفْسَهَا عَلَيْهِ غُدْوَةً وَ عَشِيَّةً وَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ حُقُوقُهُ عَلَيْهَا.[21]

امامA فرماتے هیں: ایک عورت پیغمبرG کی خدمت میں آکر سوال کرتی ہے یا رسول الله عورتوں پرشوهر کے کیا حقوق هیں فرمایا: بهت زیاده حقوق هیں وه عورت کهتی هے ان میں سے کچھ حقوق بتائیے ؟ پھر پیغمبرG نےفرمایا:

1-بیوی شوهر کی اجازت کے بغیر مستحبی روزه نهیں ره سکتی۔

2-اور شوهر کی اجازت کے بغیر گھر سےباہر نه نکلے۔

3-اور بیوی شوهر کے لئے بهترین خوشبو لگائے اور بهترین و خوبصورت لباس پهنے۔

4-اور بیوی شوهر کے لئے بهترین زینت کرے۔

5-اور اپنے آپ کو شوهر کی خدمت کے لئے صبح و شام پیش کرے، فرماتے هیں اس سے بھی زیاده  شوہر کےحقوق بیویوں پرهیں ۔

 


[1]۔كلينى، محمد بن يعقوب، الكافي (ط - الإسلامية) ، ج‏5، ص511- تهران، چاپ: چهارم، 1407 ق۔

[2]۔القتب: ما يوضع على سنام البعير و يركب عليه­( فى)۔

[3]۔كلينى، محمد بن يعقوب، الكافي (ط - الإسلامية)، ج‏5، ص507- تهران، چاپ: چهارم، 1407 ق۔

[4]۔ في الكافي ج 7 و التهذيب: فلا تغبّوا أفواههم، أي لا تكونوا تصلوهم يوما و تتركوهم يوما. و في الفقيه:فلا تعرّ أفواههم و لا يضيّعوا بحضرتكم، أي لا ترفع أصواتهم۔

[5]۔ هلالى، سليم بن قيس، كتاب سليم بن قيس الهلالي، ج‏2، ص926 - ايران ؛ قم، چاپ: اول، 1405ق؛شرح­نهج البلاغة لابن أبي الحديد، ج‏17،ص 8۔

[6]۔سورۀ البقره:­233۔

[7]۔ القتب: ما يوضع على سنام البعير و يركب عليه۔( فى)

[8]۔كلينى، محمد بن يعقوب، الكافي (ط - الإسلامية)، ج‏5، ص507- تهران، چاپ: چهارم، 1407 ق۔

[9]۔كلينى، محمد بن يعقوب، الكافي (ط - الإسلامية)، ج‏5، ص507- تهران، چاپ: چهارم، 1407 ق۔

[10]۔ أي الذي يرسل ازار ثوبه من الكبر، و الخيلاء: الكبر۔

[11]۔كلينى، محمد بن يعقوب، الكافي (ط - الإسلامية) ، ج‏5، ص507- تهران، چاپ: چهارم، 1407 ق۔

[12]۔ في المصدر إلّا باذنه۔

[13]۔شيخ حر عاملى، محمد بن حسن، وسائل الشيعة، ج‏20، ص158 - قم، چاپ: اول، 1409 ق۔

[14]۔كلينى، محمد بن يعقوب، الكافي (ط - الإسلامية) ، ج‏5،ص507- تهران، چاپ: چهارم، 1407 ق۔

[15]۔الإسبال: الإرخاء و الإرسال. و قال ابن الأثير:« المسبل إزاره: هو الذي يطوّل ثوبه و يرسله إلى الأرض إذا مشى، و إنّما يفعل ذلك كبراً و اختيالًا». راجع: النهاية، ج 2، ص 339( سبل)۔

[16]۔ الخُيلاء و الخِيَلاء بالضمّ و الكسر: الكبر و العجب. النهاية، ج 2، ص 93( خيل)۔

[17]۔كلينى، محمد بن يعقوب، كافي (ط - دار الحديث)، ج‏11، ص163- قم، چاپ: اول، ق‏1429؛ راجع: المحاسن، ص 295، كتاب مصابيح الظلم، ح 461؛ و ثواب الأعمال، ص 264، ح 3؛ و الخصال، ص 184، باب الثلاثة، ح 3؛ و تفسير العيّاشي، ج 1، ص 179، ح 70 الوافي، ج 22، ص 775، ح 22140؛ الوسائل، ج 20، ص 160، ح 25306۔

[18]۔ يعني اطاعة زوجها۔

[19]۔كلينى، محمد بن يعقوب، الكافي (ط - الإسلامية)، ج‏5، ص9- تهران، چاپ: چهارم، 1407 ق۔

[20]۔ في المصدر إلّا باذنه۔

[21]۔شيخ حر عاملى، محمد بن حسن، وسائل الشيعة، ج‏20، ص158 - قم، چاپ: اول، 1409 ق۔

حضرت امام زین العابدین علیه السلام اور پچاس حقوق کا تذکره

قال علی بن الحسین سید الساجدین زین العابدینa: فَأَكْبَرُ حُقُوقِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى عَلَيْكَ‏ مَا أَوْجَبَ‏ عَلَيْكَ‏ لِنَفْسِهِ مِنْ حَقِّهِ الَّذِي هُوَ أَصْلُ الْحُقُوقِ ثُمَّ مَا أَوْجَبَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ عَلَيْكَ لِنَفْسِكَ مِنْ قَرْنِكَ إِلَى قَدَمِكَ عَلَى اخْتِلَافِ جَوَارِحِكَ.[1]

حضرت امام زین العابدینA اور پچاس حقوق کا تذکره

حضرت امام سجادAنےرسالہ­حقوق میں50حقوق کا تذکره کیاهے اور آخرمیں حضرت سیدالساجدینA نے فرمایا:

هذه خمسون حقوقایه پچاس حقوق  هیں جو تمام انسانوں پرواجب الاداهیں ان حقوق کو ادا کرنا واجب اور لازم هے اور قیامت کےدن خوش­بخت اور خوش نصیب وه لوگ هوں گے جو ان حقوق کو ادا کرتے هیں پھر مولاAنے دعا کی هے که خدا تمهیں ان حقوق کو ادا کرنے کی توفیق عطافرمائے۔

اس کے بعد فرمایا دعا کرو اور حقوق کو ادا کرنے کی کوشش بھی کرو۔

اللہ تعالیٰ عظیم حق هے

مولا فرماتے هیں: انسانوں پر سب سے بڑا حق، اللہ تعالیٰ­کاهے جس کو خدانے اپنی ذات کے لئے واجب کیاهے مثال کے طورپر ملاحظہ فرمائیں:

}وَ قَضى‏ رَبُّكَ أَلاَّ تَعْبُدُوا إِلاَّ إِيَّاهُ وَ بِالْوالِدَيْنِ إِحْساناً إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما فَلا تَقُلْ لَهُما أُفٍّ وَ لا تَنْهَرْهُما وَ قُلْ لَهُما قَوْلاً كَريماً{[2]

اور آپ کے پروردگار کا فیصلہ ہے کہ تم سب اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا اور اگر تمہارے سامنے ان دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں بوڑھے ہوجائیں تو خبردار ان سے اُف بھی نہ کہنا اور انہیں جھڑکنا بھی نہیں اور ان سے ہمیشہ شریفانہ گفتگو کرتے رہنا۔

عبادات اور معرفت خدا، یه خدا کا حتمی فیصله هے تم اللہ کے علاوہ کسی کی بندگی و عبادت نهیں کروگےعبادت کا حق صرف الله کا هے ہر انسان پر واجب اور لازم هے که خدا کی عبادت کرے سب سے پہلے معرفت خدا حاصل کرے اس کے بعد اس کی عبادت انجام دے:

}وَ ما خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْإِنْسَ إِلاَّ لِيَعْبُدُونِ{[3]

اور میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔

تمام انسانوں اور جنوں کی خلقت کا بنیادی مقصد و هدف عبادت پروردگار هے لہذا اس کا ایک حق عبادت هے سب سے پهلے خداکے حقوق میں سے ایک حق خدا کی بندگی و عبادت هے۔

اور تمام حقوق کی اصل و بنیاد حق الله هے اس کے بعد دوسروں کے حقوق کو بیان فرمایاهے پھر خدانے اپنے حق کے ساتھ ساتھ تمهارے اعضاء کےسر سے لیکر پاؤں تک کچھ حقوق بیان کئے هیں۔

حق الله کے بعد دوسرے اهم حقوق اعضاءکے ہیں

پرو ردگار عالم نے تمهاری زبان کے لئے کچھ حقوق قراردئیےهیں، کان، آنکھوں، هاتھوں، پاؤں اور پیٹ کے بھی کچھ حقوق بیان کئے هیں اور یه پیٹ نجس اور مردار اور حرام کی جگه نهیں هے، الله نے اس کےبھی حقوق بیان کئےهیں که حلال چیزیں کھائیں یا معاذالله کوئی زهر کھالے، کیا خدانے زهر کو کھانے کے لئے پیدا کیاہے؟لہذا پیٹ میں هر چیز نهیں ڈال­بلکه جو چیزیں خدا نے حلال قراردی هے ان سے استفاده کرو۔اسی طرح تمهارے فرج اور شرمگاه هیں ان کا بھی حق هے کہ ان کی حفاظت کریں۔

مولاA مزید فرماتے هیں مذکوره بالاحقوق کی بطور کامل رعایت اور حفاظت کیاکرو ورنه کل قیامت کے دن تم سےسوال هوگا:

}وَ لا تَقْفُ ما لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤادَ كُلُّ أُولئِكَ كانَ عَنْهُ مَسْؤُلاً{[4]

اورجس چیزکاتمہیں علم نہیں ہےاس­کےپیچھےمت­جاناکہ­روزِقیامت­سماعتً بصارت اور قواقلب سب کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔

کان سے پوچھیں گے کیا سنتے تھے آنکھوں سے پوچھیں گے کیا دیکھتے تھے زبان سے سوال یہ ہوگا کیابولتی تھی اور جتنے بھی اعضاء هیں هر ایک سے پوچھیں گے بغیر بازپرسی کے نهیں چھوڑیں گے۔

امامAفرماتے هیں یه سات اعضاء هیں جن کی وجه سے زندگی اپنی منزل مقصود کو طے کر رهی هے پھر جو افعال تم انجام دیتے هو ان کے بھی حقوق هیں یعنی زندگی کے افعال کے بھی حقوق هیں مثلاً نماز ، روزه اور تمہاری نماز کے لئے حق قرار دیاهے، روزه کے لئے بھی حق قراردیاهے، تمہارا صدقه و نیکی کےبھی حق هے اور جوکچھ­تم کسی کو تحفه و هدیه دیتے هو اور دیگر افعال انجام دیتے ہو ان کے لئے بھی حقوق معین هیں۔

دوسرے حقوق میں پهلےائمه طاهرین­fو پیغمبر اعظمG کے حقوق هیں

دوسروں کے حقوق کو بیان کرتے هوئےحضرت فرماتے هیں، ائمه طاهرینf،معصوم هستیاں، ماں باپ رشته داروں­نیز تمہارے استاد اور بیوی بچوں اور اسی طرح دیگر حقوق کو بھی همارے اوپر فرض کیاگیاهے۔

پھر تم پر دو سروں کے بھی کچھ حقوق واجب الاداهے ان میں سے ایک واجب ترین حق ائمه طاهرینfکاهے۔پھر حق الناس،اس کے بعد اعزاءو اقارب کےحقوق هیں اور ان کے اندر بھی بهت سے حقوق چھپے هوئے هیں۔

تم پر ائمهfکے تین حقوق هے ان میں سے ایک اهم حق، حق سائس ہےجولغت میں ادب کرنے والےسرپرستی کرنے والے اور رهنمائی کرنے والے کے معنی میں آیاہے یعنی وه شخص جوحاکم و سلطان کے طورپر تمہاری سرپرستی کررها هےپھر وه جوہماری علم کے حوالےسے سرپرستی کررهاهے پھر جو شخص تمهاری سرپرستی کررهاهے اورتمهارا مولا و امام هے اس کے بعد وه شخص جو تمهاری رهنمائی کررهاهے چاهے وہ باپ ہوامام یا مجتهد هو ان کی باتوں کو ماننا ضروری هے۔

لوگوں کے تین اهم حقوق

لوگوں کے حقوق بھی تین هیں سب سے پهلے وه لوگ جن کی تم سرپرستی کررهے هیں تم ان کے حاکم وسلطان هو اور وه تمهاری رعیت هیں۔پھرتم ان کے استاد هو اور وه شاگرد هیں ان کی بھی رعایت کرناچاهیں جو جاهل هےوه  بھی عالم کی رعیت میں شامل هیں اور تمهارے کچھ غلام اور کنیزهیں ان کے بھی کچھ حقوق هیں، بیویاں کے بھی حقوق هیں اور لوگوں کے حقوق بهت زیاده هیں ان میں سے واجب ایک حق تمهارے رشته داروں کے هیں اور ان میں سے سب سے اهم ترین حق ماں کا هے ماں کے حق کے بعد باپ کا هےاس کے اولاد کے حقوق هیں پھر رشته داروں میں سے قریب ترین افراد کا حق زیاده واجب هے۔

تمهاری گردن پر تمهارے اس مولا کا حق هے جس نے تم کونعمتیں عطاکی هیں پھر ان لوگوں کا حق آتاهے جن کا حق کسی وجہ سے هماری گردن پر هے۔مثلاً کچھ افراد نے علم دیا، کھانا کھلایا هے وغیره یا احسان اورنیکیاں کی هیں ان کے بھی حقوق هیں پھر مؤذن کا حق هے، امام جماعت کا حق هے، تمهارے هم نشین کا حق اور همسایه کا حق، دوست کا حق، شریک کار کاحق، مال کاحق، پھر وه حق جس نے نقصان اٹھایا، اسی مقروض کا حق جس کے تم طلبگارهو اور اس کابھی هے جو تم سے قرض کو طلب کررهاهے، خصوصی دوست کا حق بھی ہے پھرتمهارا وہ دشمن جس نے  تم پر دعویٰ کیا یا تم نے  اس پردعویٰ کیاهے،اس طرح مشوره دینے کا حق اورمشوره لینے والے کا حق هے۔ پھرهدایت کرنے والا یعنی وه شخص جوتمهیں هدایت کررهاهے اس کا حق بھی واجب هے، بزرگوں کاحق اور چھوٹوں کےحقوق هیں، سائل کا حق یا تم نے کسی سے کچھ طلب کیاهے یا کسی سے تمهارے ساتھ براسلوک کیاهےیا جان بوجھ کر ظلم کیاهے یا خطا و غلطی سےظلم کیاهے۔پھرسماجی لحاظ سے مسلمانوں کے حقوق جیسے حق قوم و ملت، کافرذمی کےحقوق، اقلیتوں کےحقوق­اورحالات کےتقاضوں کےلحاظ سےحقوق جومختلف زمانه کے حوادث کے وجه سے لازم هوتے هیں ان سب کی رعایت کرناضروری ہے۔

فَطُوبَى لِمَنْ‏ أَعَانَهُ‏ اللَّهُ‏ عَلَى قَضَاءِ مَا أَوْجَبَ عَلَيْهِ مِنْ حُقُوقِه.‏[5]

خوش­بخت هے وه انسان جن کی واجب­حقوق کو ادا کرنے کے لئے خدانے مدد کی، خدانے اسے حقوق ادا کرنے کی توفیق دی هےاور خدا نے اس کی نصرت کی-تحف العقول میں اضافی الفاظ- یه پچاس حقوق هرحال میں واجب هیں اور اس کی رعایت کرنا ضروری هے انہیں ادا کرنے کےلئے کوشش کرنا اور خدا سے مدد مانگنا چاہئے۔

 

لَاحَوْلَ وَ لَاقُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيم‏

 


[1]۔ ابن بابويه، محمد بن على، الخصال، ج‏2، ص565 - قم، چاپ: اول، 1362ش۔

[2]۔سورۀ الاسراء:23۔

[3]۔سورۀ الہذاریات: 56۔

[4]۔سورۀ الاسراء:36۔

[5]۔ابن شعبه حرانى، حسن بن على، تحف العقول، ص256- قم، چاپ: دوم، 1404 / 1363ق۔

قال علی بن الحسین سید الساجدین زین العابدینa: فَأَكْبَرُ حُقُوقِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى عَلَيْكَ‏ مَا أَوْجَبَ‏ عَلَيْكَ‏ لِنَفْسِهِ مِنْ حَقِّهِ الَّذِي هُوَ أَصْلُ الْحُقُوقِ ثُمَّ مَا أَوْجَبَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ عَلَيْكَ لِنَفْسِكَ مِنْ قَرْنِكَ إِلَى قَدَمِكَ عَلَى اخْتِلَافِ جَوَارِحِكَ.[1]

حضرت امام زین العابدینA اور پچاس حقوق کا تذکره

حضرت امام سجادAنےرسالہ­حقوق میں50حقوق کا تذکره کیاهے اور آخرمیں حضرت سیدالساجدینA نے فرمایا:

هذه خمسون حقوقایه پچاس حقوق  هیں جو تمام انسانوں پرواجب الاداهیں ان حقوق کو ادا کرنا واجب اور لازم هے اور قیامت کےدن خوش­بخت اور خوش نصیب وه لوگ هوں گے جو ان حقوق کو ادا کرتے هیں پھر مولاAنے دعا کی هے که خدا تمهیں ان حقوق کو ادا کرنے کی توفیق عطافرمائے۔

اس کے بعد فرمایا دعا کرو اور حقوق کو ادا کرنے کی کوشش بھی کرو۔

اللہ تعالیٰ عظیم حق هے

مولا فرماتے هیں: انسانوں پر سب سے بڑا حق، اللہ تعالیٰ­کاهے جس کو خدانے اپنی ذات کے لئے واجب کیاهے مثال کے طورپر ملاحظہ فرمائیں:

}وَ قَضى‏ رَبُّكَ أَلاَّ تَعْبُدُوا إِلاَّ إِيَّاهُ وَ بِالْوالِدَيْنِ إِحْساناً إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما فَلا تَقُلْ لَهُما أُفٍّ وَ لا تَنْهَرْهُما وَ قُلْ لَهُما قَوْلاً كَريماً{[2]

اور آپ کے پروردگار کا فیصلہ ہے کہ تم سب اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا اور اگر تمہارے سامنے ان دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں بوڑھے ہوجائیں تو خبردار ان سے اُف بھی نہ کہنا اور انہیں جھڑکنا بھی نہیں اور ان سے ہمیشہ شریفانہ گفتگو کرتے رہنا۔

عبادات اور معرفت خدا، یه خدا کا حتمی فیصله هے تم اللہ کے علاوہ کسی کی بندگی و عبادت نهیں کروگےعبادت کا حق صرف الله کا هے ہر انسان پر واجب اور لازم هے که خدا کی عبادت کرے سب سے پہلے معرفت خدا حاصل کرے اس کے بعد اس کی عبادت انجام دے:

}وَ ما خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْإِنْسَ إِلاَّ لِيَعْبُدُونِ{[3]

اور میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔

تمام انسانوں اور جنوں کی خلقت کا بنیادی مقصد و هدف عبادت پروردگار هے لہذا اس کا ایک حق عبادت هے سب سے پهلے خداکے حقوق میں سے ایک حق خدا کی بندگی و عبادت هے۔

اور تمام حقوق کی اصل و بنیاد حق الله هے اس کے بعد دوسروں کے حقوق کو بیان فرمایاهے پھر خدانے اپنے حق کے ساتھ ساتھ تمهارے اعضاء کےسر سے لیکر پاؤں تک کچھ حقوق بیان کئے هیں۔

حق الله کے بعد دوسرے اهم حقوق اعضاءکے ہیں

پرو ردگار عالم نے تمهاری زبان کے لئے کچھ حقوق قراردئیےهیں، کان، آنکھوں، هاتھوں، پاؤں اور پیٹ کے بھی کچھ حقوق بیان کئے هیں اور یه پیٹ نجس اور مردار اور حرام کی جگه نهیں هے، الله نے اس کےبھی حقوق بیان کئےهیں که حلال چیزیں کھائیں یا معاذالله کوئی زهر کھالے، کیا خدانے زهر کو کھانے کے لئے پیدا کیاہے؟لہذا پیٹ میں هر چیز نهیں ڈال­بلکه جو چیزیں خدا نے حلال قراردی هے ان سے استفاده کرو۔اسی طرح تمهارے فرج اور شرمگاه هیں ان کا بھی حق هے کہ ان کی حفاظت کریں۔

مولاA مزید فرماتے هیں مذکوره بالاحقوق کی بطور کامل رعایت اور حفاظت کیاکرو ورنه کل قیامت کے دن تم سےسوال هوگا:

}وَ لا تَقْفُ ما لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤادَ كُلُّ أُولئِكَ كانَ عَنْهُ مَسْؤُلاً{[4]

اورجس چیزکاتمہیں علم نہیں ہےاس­کےپیچھےمت­جاناکہ­روزِقیامت­سماعتً بصارت اور قواقلب سب کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔

کان سے پوچھیں گے کیا سنتے تھے آنکھوں سے پوچھیں گے کیا دیکھتے تھے زبان سے سوال یہ ہوگا کیابولتی تھی اور جتنے بھی اعضاء هیں هر ایک سے پوچھیں گے بغیر بازپرسی کے نهیں چھوڑیں گے۔

امامAفرماتے هیں یه سات اعضاء هیں جن کی وجه سے زندگی اپنی منزل مقصود کو طے کر رهی هے پھر جو افعال تم انجام دیتے هو ان کے بھی حقوق هیں یعنی زندگی کے افعال کے بھی حقوق هیں مثلاً نماز ، روزه اور تمہاری نماز کے لئے حق قرار دیاهے، روزه کے لئے بھی حق قراردیاهے، تمہارا صدقه و نیکی کےبھی حق هے اور جوکچھ­تم کسی کو تحفه و هدیه دیتے هو اور دیگر افعال انجام دیتے ہو ان کے لئے بھی حقوق معین هیں۔

دوسرے حقوق میں پهلےائمه طاهرین­fو پیغمبر اعظمG کے حقوق هیں

دوسروں کے حقوق کو بیان کرتے هوئےحضرت فرماتے هیں، ائمه طاهرینf،معصوم هستیاں، ماں باپ رشته داروں­نیز تمہارے استاد اور بیوی بچوں اور اسی طرح دیگر حقوق کو بھی همارے اوپر فرض کیاگیاهے۔

پھر تم پر دو سروں کے بھی کچھ حقوق واجب الاداهے ان میں سے ایک واجب ترین حق ائمه طاهرینfکاهے۔پھر حق الناس،اس کے بعد اعزاءو اقارب کےحقوق هیں اور ان کے اندر بھی بهت سے حقوق چھپے هوئے هیں۔

تم پر ائمهfکے تین حقوق هے ان میں سے ایک اهم حق، حق سائس ہےجولغت میں ادب کرنے والےسرپرستی کرنے والے اور رهنمائی کرنے والے کے معنی میں آیاہے یعنی وه شخص جوحاکم و سلطان کے طورپر تمہاری سرپرستی کررها هےپھر وه جوہماری علم کے حوالےسے سرپرستی کررهاهے پھر جو شخص تمهاری سرپرستی کررهاهے اورتمهارا مولا و امام هے اس کے بعد وه شخص جو تمهاری رهنمائی کررهاهے چاهے وہ باپ ہوامام یا مجتهد هو ان کی باتوں کو ماننا ضروری هے۔

لوگوں کے تین اهم حقوق

لوگوں کے حقوق بھی تین هیں سب سے پهلے وه لوگ جن کی تم سرپرستی کررهے هیں تم ان کے حاکم وسلطان هو اور وه تمهاری رعیت هیں۔پھرتم ان کے استاد هو اور وه شاگرد هیں ان کی بھی رعایت کرناچاهیں جو جاهل هےوه  بھی عالم کی رعیت میں شامل هیں اور تمهارے کچھ غلام اور کنیزهیں ان کے بھی کچھ حقوق هیں، بیویاں کے بھی حقوق هیں اور لوگوں کے حقوق بهت زیاده هیں ان میں سے واجب ایک حق تمهارے رشته داروں کے هیں اور ان میں سے سب سے اهم ترین حق ماں کا هے ماں کے حق کے بعد باپ کا هےاس کے اولاد کے حقوق هیں پھر رشته داروں میں سے قریب ترین افراد کا حق زیاده واجب هے۔

تمهاری گردن پر تمهارے اس مولا کا حق هے جس نے تم کونعمتیں عطاکی هیں پھر ان لوگوں کا حق آتاهے جن کا حق کسی وجہ سے هماری گردن پر هے۔مثلاً کچھ افراد نے علم دیا، کھانا کھلایا هے وغیره یا احسان اورنیکیاں کی هیں ان کے بھی حقوق هیں پھر مؤذن کا حق هے، امام جماعت کا حق هے، تمهارے هم نشین کا حق اور همسایه کا حق، دوست کا حق، شریک کار کاحق، مال کاحق، پھر وه حق جس نے نقصان اٹھایا، اسی مقروض کا حق جس کے تم طلبگارهو اور اس کابھی هے جو تم سے قرض کو طلب کررهاهے، خصوصی دوست کا حق بھی ہے پھرتمهارا وہ دشمن جس نے  تم پر دعویٰ کیا یا تم نے  اس پردعویٰ کیاهے،اس طرح مشوره دینے کا حق اورمشوره لینے والے کا حق هے۔ پھرهدایت کرنے والا یعنی وه شخص جوتمهیں هدایت کررهاهے اس کا حق بھی واجب هے، بزرگوں کاحق اور چھوٹوں کےحقوق هیں، سائل کا حق یا تم نے کسی سے کچھ طلب کیاهے یا کسی سے تمهارے ساتھ براسلوک کیاهےیا جان بوجھ کر ظلم کیاهے یا خطا و غلطی سےظلم کیاهے۔پھرسماجی لحاظ سے مسلمانوں کے حقوق جیسے حق قوم و ملت، کافرذمی کےحقوق، اقلیتوں کےحقوق­اورحالات کےتقاضوں کےلحاظ سےحقوق جومختلف زمانه کے حوادث کے وجه سے لازم هوتے هیں ان سب کی رعایت کرناضروری ہے۔

فَطُوبَى لِمَنْ‏ أَعَانَهُ‏ اللَّهُ‏ عَلَى قَضَاءِ مَا أَوْجَبَ عَلَيْهِ مِنْ حُقُوقِه.‏[5]

خوش­بخت هے وه انسان جن کی واجب­حقوق کو ادا کرنے کے لئے خدانے مدد کی، خدانے اسے حقوق ادا کرنے کی توفیق دی هےاور خدا نے اس کی نصرت کی-تحف العقول میں اضافی الفاظ- یه پچاس حقوق هرحال میں واجب هیں اور اس کی رعایت کرنا ضروری هے انہیں ادا کرنے کےلئے کوشش کرنا اور خدا سے مدد مانگنا چاہئے۔

 

لَاحَوْلَ وَ لَاقُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيم‏

 


[1]۔ ابن بابويه، محمد بن على، الخصال، ج‏2، ص565 - قم، چاپ: اول، 1362ش۔

[2]۔سورۀ الاسراء:23۔

[3]۔سورۀ الہذاریات: 56۔

[4]۔سورۀ الاسراء:36۔

[5]۔ابن شعبه حرانى، حسن بن على، تحف العقول، ص256- قم، چاپ: دوم، 1404 / 1363ق۔