قال علی بن الحسین سید الساجدین زین العابدینa: فَأَكْبَرُ حُقُوقِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى عَلَيْكَ‏ مَا أَوْجَبَ‏ عَلَيْكَ‏ لِنَفْسِهِ مِنْ حَقِّهِ الَّذِي هُوَ أَصْلُ الْحُقُوقِ ثُمَّ مَا أَوْجَبَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ عَلَيْكَ لِنَفْسِكَ مِنْ قَرْنِكَ إِلَى قَدَمِكَ عَلَى اخْتِلَافِ جَوَارِحِكَ.[1]

حضرت امام زین العابدینA اور پچاس حقوق کا تذکره

حضرت امام سجادAنےرسالہ­حقوق میں50حقوق کا تذکره کیاهے اور آخرمیں حضرت سیدالساجدینA نے فرمایا:

هذه خمسون حقوقایه پچاس حقوق  هیں جو تمام انسانوں پرواجب الاداهیں ان حقوق کو ادا کرنا واجب اور لازم هے اور قیامت کےدن خوش­بخت اور خوش نصیب وه لوگ هوں گے جو ان حقوق کو ادا کرتے هیں پھر مولاAنے دعا کی هے که خدا تمهیں ان حقوق کو ادا کرنے کی توفیق عطافرمائے۔

اس کے بعد فرمایا دعا کرو اور حقوق کو ادا کرنے کی کوشش بھی کرو۔

اللہ تعالیٰ عظیم حق هے

مولا فرماتے هیں: انسانوں پر سب سے بڑا حق، اللہ تعالیٰ­کاهے جس کو خدانے اپنی ذات کے لئے واجب کیاهے مثال کے طورپر ملاحظہ فرمائیں:

}وَ قَضى‏ رَبُّكَ أَلاَّ تَعْبُدُوا إِلاَّ إِيَّاهُ وَ بِالْوالِدَيْنِ إِحْساناً إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما فَلا تَقُلْ لَهُما أُفٍّ وَ لا تَنْهَرْهُما وَ قُلْ لَهُما قَوْلاً كَريماً{[2]

اور آپ کے پروردگار کا فیصلہ ہے کہ تم سب اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا اور اگر تمہارے سامنے ان دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں بوڑھے ہوجائیں تو خبردار ان سے اُف بھی نہ کہنا اور انہیں جھڑکنا بھی نہیں اور ان سے ہمیشہ شریفانہ گفتگو کرتے رہنا۔

عبادات اور معرفت خدا، یه خدا کا حتمی فیصله هے تم اللہ کے علاوہ کسی کی بندگی و عبادت نهیں کروگےعبادت کا حق صرف الله کا هے ہر انسان پر واجب اور لازم هے که خدا کی عبادت کرے سب سے پہلے معرفت خدا حاصل کرے اس کے بعد اس کی عبادت انجام دے:

}وَ ما خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْإِنْسَ إِلاَّ لِيَعْبُدُونِ{[3]

اور میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔

تمام انسانوں اور جنوں کی خلقت کا بنیادی مقصد و هدف عبادت پروردگار هے لہذا اس کا ایک حق عبادت هے سب سے پهلے خداکے حقوق میں سے ایک حق خدا کی بندگی و عبادت هے۔

اور تمام حقوق کی اصل و بنیاد حق الله هے اس کے بعد دوسروں کے حقوق کو بیان فرمایاهے پھر خدانے اپنے حق کے ساتھ ساتھ تمهارے اعضاء کےسر سے لیکر پاؤں تک کچھ حقوق بیان کئے هیں۔

حق الله کے بعد دوسرے اهم حقوق اعضاءکے ہیں

پرو ردگار عالم نے تمهاری زبان کے لئے کچھ حقوق قراردئیےهیں، کان، آنکھوں، هاتھوں، پاؤں اور پیٹ کے بھی کچھ حقوق بیان کئے هیں اور یه پیٹ نجس اور مردار اور حرام کی جگه نهیں هے، الله نے اس کےبھی حقوق بیان کئےهیں که حلال چیزیں کھائیں یا معاذالله کوئی زهر کھالے، کیا خدانے زهر کو کھانے کے لئے پیدا کیاہے؟لہذا پیٹ میں هر چیز نهیں ڈال­بلکه جو چیزیں خدا نے حلال قراردی هے ان سے استفاده کرو۔اسی طرح تمهارے فرج اور شرمگاه هیں ان کا بھی حق هے کہ ان کی حفاظت کریں۔

مولاA مزید فرماتے هیں مذکوره بالاحقوق کی بطور کامل رعایت اور حفاظت کیاکرو ورنه کل قیامت کے دن تم سےسوال هوگا:

}وَ لا تَقْفُ ما لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤادَ كُلُّ أُولئِكَ كانَ عَنْهُ مَسْؤُلاً{[4]

اورجس چیزکاتمہیں علم نہیں ہےاس­کےپیچھےمت­جاناکہ­روزِقیامت­سماعتً بصارت اور قواقلب سب کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔

کان سے پوچھیں گے کیا سنتے تھے آنکھوں سے پوچھیں گے کیا دیکھتے تھے زبان سے سوال یہ ہوگا کیابولتی تھی اور جتنے بھی اعضاء هیں هر ایک سے پوچھیں گے بغیر بازپرسی کے نهیں چھوڑیں گے۔

امامAفرماتے هیں یه سات اعضاء هیں جن کی وجه سے زندگی اپنی منزل مقصود کو طے کر رهی هے پھر جو افعال تم انجام دیتے هو ان کے بھی حقوق هیں یعنی زندگی کے افعال کے بھی حقوق هیں مثلاً نماز ، روزه اور تمہاری نماز کے لئے حق قرار دیاهے، روزه کے لئے بھی حق قراردیاهے، تمہارا صدقه و نیکی کےبھی حق هے اور جوکچھ­تم کسی کو تحفه و هدیه دیتے هو اور دیگر افعال انجام دیتے ہو ان کے لئے بھی حقوق معین هیں۔

دوسرے حقوق میں پهلےائمه طاهرین­fو پیغمبر اعظمG کے حقوق هیں

دوسروں کے حقوق کو بیان کرتے هوئےحضرت فرماتے هیں، ائمه طاهرینf،معصوم هستیاں، ماں باپ رشته داروں­نیز تمہارے استاد اور بیوی بچوں اور اسی طرح دیگر حقوق کو بھی همارے اوپر فرض کیاگیاهے۔

پھر تم پر دو سروں کے بھی کچھ حقوق واجب الاداهے ان میں سے ایک واجب ترین حق ائمه طاهرینfکاهے۔پھر حق الناس،اس کے بعد اعزاءو اقارب کےحقوق هیں اور ان کے اندر بھی بهت سے حقوق چھپے هوئے هیں۔

تم پر ائمهfکے تین حقوق هے ان میں سے ایک اهم حق، حق سائس ہےجولغت میں ادب کرنے والےسرپرستی کرنے والے اور رهنمائی کرنے والے کے معنی میں آیاہے یعنی وه شخص جوحاکم و سلطان کے طورپر تمہاری سرپرستی کررها هےپھر وه جوہماری علم کے حوالےسے سرپرستی کررهاهے پھر جو شخص تمهاری سرپرستی کررهاهے اورتمهارا مولا و امام هے اس کے بعد وه شخص جو تمهاری رهنمائی کررهاهے چاهے وہ باپ ہوامام یا مجتهد هو ان کی باتوں کو ماننا ضروری هے۔

لوگوں کے تین اهم حقوق

لوگوں کے حقوق بھی تین هیں سب سے پهلے وه لوگ جن کی تم سرپرستی کررهے هیں تم ان کے حاکم وسلطان هو اور وه تمهاری رعیت هیں۔پھرتم ان کے استاد هو اور وه شاگرد هیں ان کی بھی رعایت کرناچاهیں جو جاهل هےوه  بھی عالم کی رعیت میں شامل هیں اور تمهارے کچھ غلام اور کنیزهیں ان کے بھی کچھ حقوق هیں، بیویاں کے بھی حقوق هیں اور لوگوں کے حقوق بهت زیاده هیں ان میں سے واجب ایک حق تمهارے رشته داروں کے هیں اور ان میں سے سب سے اهم ترین حق ماں کا هے ماں کے حق کے بعد باپ کا هےاس کے اولاد کے حقوق هیں پھر رشته داروں میں سے قریب ترین افراد کا حق زیاده واجب هے۔

تمهاری گردن پر تمهارے اس مولا کا حق هے جس نے تم کونعمتیں عطاکی هیں پھر ان لوگوں کا حق آتاهے جن کا حق کسی وجہ سے هماری گردن پر هے۔مثلاً کچھ افراد نے علم دیا، کھانا کھلایا هے وغیره یا احسان اورنیکیاں کی هیں ان کے بھی حقوق هیں پھر مؤذن کا حق هے، امام جماعت کا حق هے، تمهارے هم نشین کا حق اور همسایه کا حق، دوست کا حق، شریک کار کاحق، مال کاحق، پھر وه حق جس نے نقصان اٹھایا، اسی مقروض کا حق جس کے تم طلبگارهو اور اس کابھی هے جو تم سے قرض کو طلب کررهاهے، خصوصی دوست کا حق بھی ہے پھرتمهارا وہ دشمن جس نے  تم پر دعویٰ کیا یا تم نے  اس پردعویٰ کیاهے،اس طرح مشوره دینے کا حق اورمشوره لینے والے کا حق هے۔ پھرهدایت کرنے والا یعنی وه شخص جوتمهیں هدایت کررهاهے اس کا حق بھی واجب هے، بزرگوں کاحق اور چھوٹوں کےحقوق هیں، سائل کا حق یا تم نے کسی سے کچھ طلب کیاهے یا کسی سے تمهارے ساتھ براسلوک کیاهےیا جان بوجھ کر ظلم کیاهے یا خطا و غلطی سےظلم کیاهے۔پھرسماجی لحاظ سے مسلمانوں کے حقوق جیسے حق قوم و ملت، کافرذمی کےحقوق، اقلیتوں کےحقوق­اورحالات کےتقاضوں کےلحاظ سےحقوق جومختلف زمانه کے حوادث کے وجه سے لازم هوتے هیں ان سب کی رعایت کرناضروری ہے۔

فَطُوبَى لِمَنْ‏ أَعَانَهُ‏ اللَّهُ‏ عَلَى قَضَاءِ مَا أَوْجَبَ عَلَيْهِ مِنْ حُقُوقِه.‏[5]

خوش­بخت هے وه انسان جن کی واجب­حقوق کو ادا کرنے کے لئے خدانے مدد کی، خدانے اسے حقوق ادا کرنے کی توفیق دی هےاور خدا نے اس کی نصرت کی-تحف العقول میں اضافی الفاظ- یه پچاس حقوق هرحال میں واجب هیں اور اس کی رعایت کرنا ضروری هے انہیں ادا کرنے کےلئے کوشش کرنا اور خدا سے مدد مانگنا چاہئے۔

 

لَاحَوْلَ وَ لَاقُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيم‏

 


[1]۔ ابن بابويه، محمد بن على، الخصال، ج‏2، ص565 - قم، چاپ: اول، 1362ش۔

[2]۔سورۀ الاسراء:23۔

[3]۔سورۀ الہذاریات: 56۔

[4]۔سورۀ الاسراء:36۔

[5]۔ابن شعبه حرانى، حسن بن على، تحف العقول، ص256- قم، چاپ: دوم، 1404 / 1363ق۔

قال علی بن الحسین سید الساجدین زین العابدینa: فَأَكْبَرُ حُقُوقِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى عَلَيْكَ‏ مَا أَوْجَبَ‏ عَلَيْكَ‏ لِنَفْسِهِ مِنْ حَقِّهِ الَّذِي هُوَ أَصْلُ الْحُقُوقِ ثُمَّ مَا أَوْجَبَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ عَلَيْكَ لِنَفْسِكَ مِنْ قَرْنِكَ إِلَى قَدَمِكَ عَلَى اخْتِلَافِ جَوَارِحِكَ.[1]

حضرت امام زین العابدینA اور پچاس حقوق کا تذکره

حضرت امام سجادAنےرسالہ­حقوق میں50حقوق کا تذکره کیاهے اور آخرمیں حضرت سیدالساجدینA نے فرمایا:

هذه خمسون حقوقایه پچاس حقوق  هیں جو تمام انسانوں پرواجب الاداهیں ان حقوق کو ادا کرنا واجب اور لازم هے اور قیامت کےدن خوش­بخت اور خوش نصیب وه لوگ هوں گے جو ان حقوق کو ادا کرتے هیں پھر مولاAنے دعا کی هے که خدا تمهیں ان حقوق کو ادا کرنے کی توفیق عطافرمائے۔

اس کے بعد فرمایا دعا کرو اور حقوق کو ادا کرنے کی کوشش بھی کرو۔

اللہ تعالیٰ عظیم حق هے

مولا فرماتے هیں: انسانوں پر سب سے بڑا حق، اللہ تعالیٰ­کاهے جس کو خدانے اپنی ذات کے لئے واجب کیاهے مثال کے طورپر ملاحظہ فرمائیں:

}وَ قَضى‏ رَبُّكَ أَلاَّ تَعْبُدُوا إِلاَّ إِيَّاهُ وَ بِالْوالِدَيْنِ إِحْساناً إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما فَلا تَقُلْ لَهُما أُفٍّ وَ لا تَنْهَرْهُما وَ قُلْ لَهُما قَوْلاً كَريماً{[2]

اور آپ کے پروردگار کا فیصلہ ہے کہ تم سب اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا اور اگر تمہارے سامنے ان دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں بوڑھے ہوجائیں تو خبردار ان سے اُف بھی نہ کہنا اور انہیں جھڑکنا بھی نہیں اور ان سے ہمیشہ شریفانہ گفتگو کرتے رہنا۔

عبادات اور معرفت خدا، یه خدا کا حتمی فیصله هے تم اللہ کے علاوہ کسی کی بندگی و عبادت نهیں کروگےعبادت کا حق صرف الله کا هے ہر انسان پر واجب اور لازم هے که خدا کی عبادت کرے سب سے پہلے معرفت خدا حاصل کرے اس کے بعد اس کی عبادت انجام دے:

}وَ ما خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْإِنْسَ إِلاَّ لِيَعْبُدُونِ{[3]

اور میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔

تمام انسانوں اور جنوں کی خلقت کا بنیادی مقصد و هدف عبادت پروردگار هے لہذا اس کا ایک حق عبادت هے سب سے پهلے خداکے حقوق میں سے ایک حق خدا کی بندگی و عبادت هے۔

اور تمام حقوق کی اصل و بنیاد حق الله هے اس کے بعد دوسروں کے حقوق کو بیان فرمایاهے پھر خدانے اپنے حق کے ساتھ ساتھ تمهارے اعضاء کےسر سے لیکر پاؤں تک کچھ حقوق بیان کئے هیں۔

حق الله کے بعد دوسرے اهم حقوق اعضاءکے ہیں

پرو ردگار عالم نے تمهاری زبان کے لئے کچھ حقوق قراردئیےهیں، کان، آنکھوں، هاتھوں، پاؤں اور پیٹ کے بھی کچھ حقوق بیان کئے هیں اور یه پیٹ نجس اور مردار اور حرام کی جگه نهیں هے، الله نے اس کےبھی حقوق بیان کئےهیں که حلال چیزیں کھائیں یا معاذالله کوئی زهر کھالے، کیا خدانے زهر کو کھانے کے لئے پیدا کیاہے؟لہذا پیٹ میں هر چیز نهیں ڈال­بلکه جو چیزیں خدا نے حلال قراردی هے ان سے استفاده کرو۔اسی طرح تمهارے فرج اور شرمگاه هیں ان کا بھی حق هے کہ ان کی حفاظت کریں۔

مولاA مزید فرماتے هیں مذکوره بالاحقوق کی بطور کامل رعایت اور حفاظت کیاکرو ورنه کل قیامت کے دن تم سےسوال هوگا:

}وَ لا تَقْفُ ما لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤادَ كُلُّ أُولئِكَ كانَ عَنْهُ مَسْؤُلاً{[4]

اورجس چیزکاتمہیں علم نہیں ہےاس­کےپیچھےمت­جاناکہ­روزِقیامت­سماعتً بصارت اور قواقلب سب کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔

کان سے پوچھیں گے کیا سنتے تھے آنکھوں سے پوچھیں گے کیا دیکھتے تھے زبان سے سوال یہ ہوگا کیابولتی تھی اور جتنے بھی اعضاء هیں هر ایک سے پوچھیں گے بغیر بازپرسی کے نهیں چھوڑیں گے۔

امامAفرماتے هیں یه سات اعضاء هیں جن کی وجه سے زندگی اپنی منزل مقصود کو طے کر رهی هے پھر جو افعال تم انجام دیتے هو ان کے بھی حقوق هیں یعنی زندگی کے افعال کے بھی حقوق هیں مثلاً نماز ، روزه اور تمہاری نماز کے لئے حق قرار دیاهے، روزه کے لئے بھی حق قراردیاهے، تمہارا صدقه و نیکی کےبھی حق هے اور جوکچھ­تم کسی کو تحفه و هدیه دیتے هو اور دیگر افعال انجام دیتے ہو ان کے لئے بھی حقوق معین هیں۔

دوسرے حقوق میں پهلےائمه طاهرین­fو پیغمبر اعظمG کے حقوق هیں

دوسروں کے حقوق کو بیان کرتے هوئےحضرت فرماتے هیں، ائمه طاهرینf،معصوم هستیاں، ماں باپ رشته داروں­نیز تمہارے استاد اور بیوی بچوں اور اسی طرح دیگر حقوق کو بھی همارے اوپر فرض کیاگیاهے۔

پھر تم پر دو سروں کے بھی کچھ حقوق واجب الاداهے ان میں سے ایک واجب ترین حق ائمه طاهرینfکاهے۔پھر حق الناس،اس کے بعد اعزاءو اقارب کےحقوق هیں اور ان کے اندر بھی بهت سے حقوق چھپے هوئے هیں۔

تم پر ائمهfکے تین حقوق هے ان میں سے ایک اهم حق، حق سائس ہےجولغت میں ادب کرنے والےسرپرستی کرنے والے اور رهنمائی کرنے والے کے معنی میں آیاہے یعنی وه شخص جوحاکم و سلطان کے طورپر تمہاری سرپرستی کررها هےپھر وه جوہماری علم کے حوالےسے سرپرستی کررهاهے پھر جو شخص تمهاری سرپرستی کررهاهے اورتمهارا مولا و امام هے اس کے بعد وه شخص جو تمهاری رهنمائی کررهاهے چاهے وہ باپ ہوامام یا مجتهد هو ان کی باتوں کو ماننا ضروری هے۔

لوگوں کے تین اهم حقوق

لوگوں کے حقوق بھی تین هیں سب سے پهلے وه لوگ جن کی تم سرپرستی کررهے هیں تم ان کے حاکم وسلطان هو اور وه تمهاری رعیت هیں۔پھرتم ان کے استاد هو اور وه شاگرد هیں ان کی بھی رعایت کرناچاهیں جو جاهل هےوه  بھی عالم کی رعیت میں شامل هیں اور تمهارے کچھ غلام اور کنیزهیں ان کے بھی کچھ حقوق هیں، بیویاں کے بھی حقوق هیں اور لوگوں کے حقوق بهت زیاده هیں ان میں سے واجب ایک حق تمهارے رشته داروں کے هیں اور ان میں سے سب سے اهم ترین حق ماں کا هے ماں کے حق کے بعد باپ کا هےاس کے اولاد کے حقوق هیں پھر رشته داروں میں سے قریب ترین افراد کا حق زیاده واجب هے۔

تمهاری گردن پر تمهارے اس مولا کا حق هے جس نے تم کونعمتیں عطاکی هیں پھر ان لوگوں کا حق آتاهے جن کا حق کسی وجہ سے هماری گردن پر هے۔مثلاً کچھ افراد نے علم دیا، کھانا کھلایا هے وغیره یا احسان اورنیکیاں کی هیں ان کے بھی حقوق هیں پھر مؤذن کا حق هے، امام جماعت کا حق هے، تمهارے هم نشین کا حق اور همسایه کا حق، دوست کا حق، شریک کار کاحق، مال کاحق، پھر وه حق جس نے نقصان اٹھایا، اسی مقروض کا حق جس کے تم طلبگارهو اور اس کابھی هے جو تم سے قرض کو طلب کررهاهے، خصوصی دوست کا حق بھی ہے پھرتمهارا وہ دشمن جس نے  تم پر دعویٰ کیا یا تم نے  اس پردعویٰ کیاهے،اس طرح مشوره دینے کا حق اورمشوره لینے والے کا حق هے۔ پھرهدایت کرنے والا یعنی وه شخص جوتمهیں هدایت کررهاهے اس کا حق بھی واجب هے، بزرگوں کاحق اور چھوٹوں کےحقوق هیں، سائل کا حق یا تم نے کسی سے کچھ طلب کیاهے یا کسی سے تمهارے ساتھ براسلوک کیاهےیا جان بوجھ کر ظلم کیاهے یا خطا و غلطی سےظلم کیاهے۔پھرسماجی لحاظ سے مسلمانوں کے حقوق جیسے حق قوم و ملت، کافرذمی کےحقوق، اقلیتوں کےحقوق­اورحالات کےتقاضوں کےلحاظ سےحقوق جومختلف زمانه کے حوادث کے وجه سے لازم هوتے هیں ان سب کی رعایت کرناضروری ہے۔

فَطُوبَى لِمَنْ‏ أَعَانَهُ‏ اللَّهُ‏ عَلَى قَضَاءِ مَا أَوْجَبَ عَلَيْهِ مِنْ حُقُوقِه.‏[5]

خوش­بخت هے وه انسان جن کی واجب­حقوق کو ادا کرنے کے لئے خدانے مدد کی، خدانے اسے حقوق ادا کرنے کی توفیق دی هےاور خدا نے اس کی نصرت کی-تحف العقول میں اضافی الفاظ- یه پچاس حقوق هرحال میں واجب هیں اور اس کی رعایت کرنا ضروری هے انہیں ادا کرنے کےلئے کوشش کرنا اور خدا سے مدد مانگنا چاہئے۔

 

لَاحَوْلَ وَ لَاقُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيم‏

 


[1]۔ ابن بابويه، محمد بن على، الخصال، ج‏2، ص565 - قم، چاپ: اول، 1362ش۔

[2]۔سورۀ الاسراء:23۔

[3]۔سورۀ الہذاریات: 56۔

[4]۔سورۀ الاسراء:36۔

[5]۔ابن شعبه حرانى، حسن بن على، تحف العقول، ص256- قم، چاپ: دوم، 1404 / 1363ق۔