قیام امام حسینؑ اور درس عزت

قیام امام حسینؑ اور درس عزت

شبیہ الحسن فیضی

عزت اور ذلت:انسان كي فطرت ميں كمال طلبي پائي جاتي هے اس لئے وه هميشه انساني كمالات كے حصول كی سعی و کوشش میں لگا رهتا هے، انساني كمالات ميں سے ايک عزت اور سربلندی هے كه جس كے مدّ مقابل ذلت، حقارت اور پستي پائي جاتي هے، اس كمال كے مفهوم كي اهميت كا اندازه لگانے كے لئے اتنا ہی كافي هے كه الله تعاليٰ اس صفت كو اپنے لئے ثابت كرتے ہوئے ارشاد فرماتاهے :} فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَميعا{ (1)بیشک ساری عزّت صرف اللہ کے لئے ہے ۔

عزت كے معني اور مفهوم کو درک كرنے ميں لوگ  برابر نهيں هيں بلكه ہر انسان  اپنے علم و دانست كے مطابق عزت كا مفهوم سمجھتا هے يه اختلاف بھي عزت آفرين امور كي وجه سے پايا جاتا هے كيونكه بعض لوگ صرف دنيا اور اس كے مادي عناصر كو نظر میں رکھتے ہوئے اپني عزت كو انهي امور ميں منحصر جانتے هيں ۔ ليكن دين كي نظر ميں عزت كي ايك الگ اور ممتاز تفسير هے جو سب سے نرالي نظر آتي هے، دين كي نظر ميں ايمان اور عمل صالح يعني اخلاقي فضائل آراسته هونا اور برے صفات سے دور رهنا انسان كے لئے باعث عزت هیں اور اس کے علاوہ دوسری چیزیں ذلت و خواری كی موجب بنتی ہیں ۔ الله تعالٰي نے اپني كتاب وافي هدايت ميں عزت كے حصول کے بارے میں اس طرح بيان كيا هے:

} مَنْ كانَ يُريدُ الْعِزَّةَ فَلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَميعاً إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ وَ الَّذينَ يَمْكُرُونَ السَّيِّئاتِ لَهُمْ عَذابٌ شَديدٌ وَ مَكْرُ أُولئِكَ هُوَ يَبُورُ{،2))جو شخص بھی عزّت کا طلبگار ہے وہ سمجھ لے کہ عزّت سب پروردگار کے لئے ہے، پاکیزہ کلمات اسی کی طرف بلند ہوتے ہیں اور عمل صالح انہیں بلند کرتا ہے اور جو لوگ برائیوں کی تدبیریں کرتے ہیں ان کے لئے شدید عذاب ہے اور ان کا مکر بہرحال ہلاک اور تباہ ہونے والا ہے ۔

امام صادق علیہ السلام فرماتے هيں:"جو شخص خدا كي بندگي نه كرے اس كي كوئي عزت نهيں هے اور هر وه شخص جو خداوند عالم كے سعادت بخش دستورات كے مقابلے تواضع اور انكساري اختيار نه كرے اس كے لئے کوئی مرتبه، سربلندی اور سرفرازی نهيں هے ۔

پیغام عزت:عزت و آبرو کی حفاظت اور ذلت وخواری کو قبول نہ کرنا حسینؑ اور اصحاب حسینی کے اہم ترین پیغامات میں سے ہے، حضرت ؑنے درس و پیغام دیا کہ ظالموں و ستمگروں سے مبارزہ کرتے ہوئے موت کا آجانا سعادت کا باعث ہے اور ظالموں کے ساتھ زندگی بسر کرنا ذلت و خواری کا سبب ہے :* فَإِنِّي لَا أَرَى الْمَوْتَ إِلَّا سَعَادَةً وَ الْحَيَاةَ مَعَ الظَّالِمِينَ إِلَّا بَرَما *،(3)

امامؑ کے اس کلام سے پتہ چلتا ہے کہ جو قوم و ملت الٰہی اہداف و مقاصد کی بقاء کے لئے ظالموں و ستمگروں سے مبارزہ کرتی ہے وہ ایک زندۂ جاوید قوم و ملت ہوا کرتی ہے اگرچہ اس راہ میں قتل کر دیئے جائیں، اسی دلیل کے تحت شہید راہ خدا ہمیشہ زندہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد بھی گواہ ہے :} وَلاَ تَقُولُواْ لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبيلِ اللّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاء وَلَكِن لاَّ تَشْعُرُونَ {(4) شہدائے کربلا نے بقائے اسلام کے لئے اپنی جانیں راہ خدا میں قربان کرکے حیات جاودانی حاصل کرلی ہے ۔

امام صادقؑ کا ارشاد ہے :*إِنَّ اللَّهَ فَوَّضَ إِلَى الْمُؤْمِنِ أُمُورَهُ كُلَّهَا وَ لَمْ يُفَوِّضْ إِلَيْهِ أَنْ يَكُونَ ذَلِيلًا أَ مَا تَسْمَعُ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ - وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُولِهِ وَ لِلْمُؤْمِنِينَ ۔ فَالْمُؤْمِنُ يَكُونُ عَزِيزاً وَ لَا يَكُونُ ذَلِيلًا*،(5)خدا نے مومن کے تمام امور کو ان کے حوالہ کیا ہے مگر اس لئے نہیں کیا کہ ذلیل و خوار ہو، کیا اللہ تعالی کا ارشاد نہیں سنا ہے کہ، عزت خدا و اس کے رسول اور مومنین کے لئے ہے، پس مومن صاحب عزت ہوتا ہے نہ کہ ذلیل و خوار ۔

یہ حسینی پیغام تمام مسلمانوں، آزاد اور حریت پسند انسانوں کے لئے ہے کہ ستمگروں، ظالموں اور خونخوارں کے تسلط کو قبول کرکے ذلیل و خوار نہ ہوں بلکہ اپنی پوری قوت و طاقت سے ان کا مقابلہ کرکے صاحب عزت و سربلند اور سرفراز رہیں ۔

عزت کا ایک نمونہ :

اسی عزت و سربلندی اور سرفرازی کا نمونہ آیئے کلام امام زین العابدین ؑمیں ملاحظہ فرمائیں جو واقعۂ کربلا سے متعلق ہے، امام صادق ؑفرماتے کہ امام حسینؑ کی شہادت کے بعد جب ابراہیم بن طلحہ کا حضرت زین العابدین ؑسے سامنا ہوا تو (اس نے طنز کے طور پر) کہا : "يا عَلِىَّ بْنَ الْحُسَيْنِ مَنْ غَلَبَ ؟ اے على بن الحسينؑ اس جنگ میں کس کو فتح و کامیابی ہوئی ہے ؟!

ہمارے چوتھے امام عليه السلام فرمایا :*اذا ارَدْتَ أَنْ تَعْلَمَ مَنْ غَلَبَ وَ دَخَلَ وَقْتُ الصَّلاةِ فَاذِّنَ ثُمَّ اقِمْ* اگر تم جاننا چاہتے ہو کہ فتح و جیت کس کی ہوئی ہے (امام حسين عليه السلام یا يزيد کی) تو جب نماز کا وقت آجائے اس وقت اذان اور پھر اقامت کہو، (معلوم ہوجائے گا کہ کون جیتا اور کون ہارا) ،(6)۔

حضرتؑ نے اپنے اس جواب سے سمجھا دیا کہ یزید جیسے ذلیل شخص کا مقصد اسلام اور نام رسول خدا کو مٹانا تھا مگر ہمارے والدِ بزگوار اور ان کے باوفا اصحاب کے قیام اور شہادت کی برکت سے آج بھی*لَا إلَهَ إلّا اللهُ وَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَهِ*کی آواز کی گونج میناروں سے سنائی دے رہی ہے اور تمام جگہوں پر مسلمان (یہاں تک کی شام اور یزید کے دربار میں بھی) اللہ کی وحدانیت اور محمدﷺ کی رسالت کی گواہی دے رہے ہیں ، اب دیکھو کہ فاتح اور صاحب عزت و وقار ہم ہیں اور یزید ذلیل و ناکام ہے ۔

حضرت سید الشہداء امام حسینؑ اور ان کے باوفا ساتھیوں کی مقاومت، پائیداری اور شہادت تھی کہ جس نے دین الٰہی کو ایسے پر آشوب دور میں نجات دیا اور اپنے خون سے سینچ کر گلشن اسلام کو سرسبز و شاداب بنا دیا، اگر امام حسین ؑنے قیام نہ کیا ہوتا تو حقیقی اسلام کا نام و نشاں باقی نہ ہوتا :

گر نبود حسین نامی ز اسلام نبود

ز خداوند و ز احمد ز علی نام نبود

یہ حسینی قیام کا نتیجہ ہے کہ جس کی بناپر آج اسلام باقی ہے لہذا ہمیں درس عزت اسی مکتب سے لینا چاہئے، امام نے اپنے ارشادات میں جگہ جگہ عزت نفس کا تذکرہ فرمایا ہے عزت نفس یعنی ایسا نفس جو اخلاقی نشو و نما، تربیتی مکتب اور خاندانی اصالت و بزرگواری کی بنیاد پر انسان کو اتنے بلند وبالا مرتبہ پر پہنچا دے کہ اس کی رفتار و گفتار میں ذرّہ برابر بھی ذلت کی جھلک نہ پائی جاتی ہو بلکہ تمام مراحل میں عزت، شرافت و وقار کی جلوہ نمائی ہو، کربلا والوں میں بدرجۂ اتم و اکمل یہ چیز موجود ہے، امام حسینؑ کے متعدد کلمات و خطبوں میں حریت و آزادی، کرامت اور عزت نفس سے متعلق ارشادات موجود ہیں اس سلسلہ میں حضرتؑ کے نورانی کلام کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ایک آثار عزت اور دوسرے عوامل و اسباب عزت ۔

ادامه نوشته

زيارت اربعين است‏


زيارت اربعين است‏

يعنى بيستم صفر (شيخ در تهذيب و مصباح روايت كرده از حضرت امام حسن عسكرى عليه السلام كه فرموده: علامات مؤمن پنج چيز است پنجاه و يك ركعت نماز گزاشتن كه مراد هفده ركعت فريضه و سى و چهار ركعت نافله است در هر شب و روز و زيارت اربعين كردن و انگشتر در دست راست كردن و جبين را در سجده بر خاك گذاشتن و بسم الله الرحمن الرحيم را بلند گفتن) و كيفيت زيارت حضرت امام حسين عليه السلام در اين روز به دو نحو رسيده يكى زيارتى است كه (شيخ در تهذيب و مصباح روايت كرده از صفوان جمال كه گفت: فرمود به من مولايم حضرت صادق عليه السلام در زيارت اربعين كه زيارت مى‏كنى در هنگامى كه روز بلند شده باشد و مى‏گويى السَّلامُ عَلَى وَلِيِّ اللَّهِ وَ حَبِيبِهِ السَّلامُ عَلَى خَلِيلِ اللَّهِ وَ نَجِيبِهِ السَّلامُ عَلَى صَفِيِّ اللَّهِ وَ ابْنِ صَفِيِّهِ السَّلامُ عَلَى الْحُسَيْنِ الْمَظْلُومِ الشَّهِيدِ السَّلامُ عَلَى أَسِيرِ الْكُرُبَاتِ وَ قَتِيلِ الْعَبَرَاتِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَشْهَدُ أَنَّهُ وَلِيُّكَ وَ ابْنُ وَلِيِّكَ وَ صَفِيُّكَ وَ ابْنُ صَفِيِّكَ الْفَائِزُ بِكَرَامَتِكَ أَكْرَمْتَهُ بِالشَّهَادَةِ وَ حَبَوْتَهُ بِالسَّعَادَةِ وَ اجْتَبَيْتَهُ بِطِيبِ الْوِلادَةِ وَ جَعَلْتَهُ سَيِّدا مِنَ السَّادَةِ وَ قَائِدا مِنَ الْقَادَةِ وَ ذَائِدا مِنَ الذَّادَةِ وَ أَعْطَيْتَهُ مَوَارِيثَ الْأَنْبِيَاءِ وَ جَعَلْتَهُ حُجَّةً عَلَى خَلْقِكَ مِنَ الْأَوْصِيَاءِ فَأَعْذَرَ فِي الدُّعَاءِ وَ مَنَحَ النُّصْحَ وَ بَذَلَ مُهْجَتَهُ فِيكَ لِيَسْتَنْقِذَ عِبَادَكَ مِنَ الْجَهَالَةِ وَ حَيْرَةِ الضَّلالَةِ وَ قَدْ تَوَازَرَ عَلَيْهِ مَنْ غَرَّتْهُ الدُّنْيَا وَ بَاعَ حَظَّهُ بِالْأَرْذَلِ الْأَدْنَى وَ شَرَى آخِرَتَهُ بِالثَّمَنِ الْأَوْكَسِ وَ تَغَطْرَسَ وَ تَرَدَّى فِي هَوَاهُ وَ أَسْخَطَكَ وَ أَسْخَطَ نَبِيَّكَ وَ أَطَاعَ مِنْ عِبَادِكَ أَهْلَ الشِّقَاقِ وَ النِّفَاقِ وَ حَمَلَةَ الْأَوْزَارِ الْمُسْتَوْجِبِينَ النَّارَ [لِلنَّارِ] فَجَاهَدَهُمْ فِيكَ صَابِرا مُحْتَسِبا حَتَّى سُفِكَ فِي طَاعَتِكَ دَمُهُ وَ اسْتُبِيحَ حَرِيمُهُ اللَّهُمَّ فَالْعَنْهُمْ لَعْنا وَبِيلا وَ عَذِّبْهُمْ عَذَابا أَلِيما السَّلامُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ سَيِّدِ الْأَوْصِيَاءِ أَشْهَدُ أَنَّكَ أَمِينُ اللَّهِ وَ ابْنُ أَمِينِهِ عِشْتَ سَعِيدا وَ مَضَيْتَ حَمِيدا وَ مُتَّ فَقِيدا مَظْلُوما شَهِيدا وَ أَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ مُنْجِزٌ مَا وَعَدَكَ وَ مُهْلِكٌ مَنْ خَذَلَكَ وَ مُعَذِّبٌ مَنْ قَتَلَكَ وَ أَشْهَدُ أَنَّكَ وَفَيْتَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَ جَاهَدْتَ فِي سَبِيلِهِ حَتَّى أَتَاكَ الْيَقِينُ فَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ قَتَلَكَ وَ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ظَلَمَكَ وَ لَعَنَ اللَّهُ أُمَّةً سَمِعَتْ بِذَلِكَ فَرَضِيَتْ بِهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أُشْهِدُكَ أَنِّي وَلِيٌّ لِمَنْ وَالاهُ وَ عَدُوٌّ لِمَنْ عَادَاهُ بِأَبِي أَنْتَ وَ أُمِّي يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنَّكَ كُنْتَ نُورا فِي الْأَصْلابِ الشَّامِخَةِ وَ الْأَرْحَامِ الْمُطَهَّرَةِ [الطَّاهِرَةِ] لَمْ تُنَجِّسْكَ الْجَاهِلِيَّةُ بِأَنْجَاسِهَا وَ لَمْ تُلْبِسْكَ الْمُدْلَهِمَّاتُ مِنْ ثِيَابِهَا وَ أَشْهَدُ أَنَّكَ مِنْ دَعَائِمِ الدِّينِ وَ أَرْكَانِ الْمُسْلِمِينَ وَ مَعْقِلِ الْمُؤْمِنِينَ وَ أَشْهَدُ أَنَّكَ الْإِمَامُ الْبَرُّ التَّقِيُّ الرَّضِيُّ الزَّكِيُّ الْهَادِي الْمَهْدِيُّ وَ أَشْهَدُ أَنَّ الْأَئِمَّةَ مِنْ وُلْدِكَ كَلِمَةُ التَّقْوَى وَ أَعْلامُ الْهُدَى وَ الْعُرْوَةُ الْوُثْقَى وَ الْحُجَّةُ عَلَى أَهْلِ الدُّنْيَا وَ أَشْهَدُ أَنِّي بِكُمْ مُؤْمِنٌ وَ بِإِيَابِكُمْ مُوقِنٌ بِشَرَائِعِ دِينِي وَ خَوَاتِيمِ عَمَلِي وَ قَلْبِي لِقَلْبِكُمْ سِلْمٌ وَ أَمْرِي لِأَمْرِكُمْ مُتَّبِعٌ وَ نُصْرَتِي لَكُمْ مُعَدَّةٌ حَتَّى يَأْذَنَ اللَّهُ لَكُمْ فَمَعَكُمْ مَعَكُمْ لا مَعَ عَدُوِّكُمْ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَ عَلَى أَرْوَاحِكُمْ وَ أَجْسَادِكُمْ [أَجْسَامِكُمْ‏] وَ شَاهِدِكُمْ وَ غَائِبِكُمْ وَ ظَاهِرِكُمْ وَ بَاطِنِكُمْ آمِينَ رَبَّ الْعَالَمِينَ
ادامه نوشته

قیام کربلا کے اثرات

قیام کربلا کے اثرات

٭قَالَ­النَّبِيُّiإِنَّ­لِقَتْلِ­الْحُسَيْنِ­حَرَارَةً­فِي   قُلُوبِ الْمُؤْمِنِين لَا تَبْرُدُ أَبَدا٭(1)  

میرےنواسے­حسینعلیه السلامکی­شهادت­کی­حرارت­جو مومنین کے دلوں میں هے وه کبھی سرد نه هو گی­۔ 1434ھق کا آغاز هورهاهے، جهاں افق پر ماه محرم الحرام کی چاند نمودار هوتے هی شیعیان حیدرکرار ذکرمصیبت­اباعبدالله­ الحسینؑ ­میں ­مصروف­هوجاتے هیں وهاں دوسری طرف بدعت،حرام اور کفر کے فتوےجاری هوتے هیں۔ یه کوئی نئی بات نهیں بلکه شهادت امام حسینعلیه السلامکے فوراً بعد هی آپ کے ذکرکو روکنے کی کوشش شروع هوگئی تھی۔

خصوصاً آج کے دور میں طرح طرح کے شبهات ایجاد کرکے اهداف قیام امامعلیه السلامکو مخدوش کرنے کی کوشش کی جاتی هے۔

 آج کے نام نهاد روشن خیال افراد، حضرت امام­حسینAپر اعتراض  کرتے هیں:

یه لوگ امام حسینعلیه السلامپراعتراض کرتے هوئے کهتے هیں:

Description: E:\تصویر مختلف برای مجله\picture\tarh_emam_hosain\emam hosain (6).jpgحسینعلیه السلام!تم نے اس قیام کے ذریعه کیانتیجه حاصل کیا؟سوائے اس کے که تم نے خود کو اور اپنے دوستوں کو قتل کرادیا،اپنے بیوی بچوں کو قیدکرادیا اس سے حکومت وقت اور زیاده جری  هوگئی اس نے اسلامی معاشره کے لئے مسلسل مشکلات پیداکی۔

مدینه میں قتل عام کیااورکعبه کو خراب کیا یه صحیح هے که حکومت بنی امیه­ختم هوگئی لیکن اس کی جگه ایک عادلانه حکومت بھی برسراقتدار نهیں آئی،بنی عباس کی حکومت بھی، بنی امیه کی حکومت سے کچھ کم نه تھی اس نے بھی بهت زیاده ظلم وستم کیا۔

حادثه کربلاکے بعد حکومت اسلامی چنددنوں کے لئے بھی فرزندان علیعلیه السلامکے هاتھوں میں نه آسکی اورعباسی خلفاء کے بعد دنیانے ایک دوسراروپ دھارکرمقام خلافت اورسلطنت کے اداروں کو نقصان پهچایا۔اوربتدریج اپنی حکومت کے طریقه کارکو تبدیل کردیا۔

چنانچه آج تک دنیا میں ایک فی صدعادلانه حکومت کی شکل نهیں دیکھ سکی هے!اس نقطه نظرسے جب هم تاریخ کا جائزه لیتے هیں تو یه سوال پیداهوتاهے که امام­حسینعلیه السلامکے اس قیام اور مبارزه کا کیا نتیجه برآمدهوا؟اس قسم کی مخالفتوں کا کیا ثمرملااوران طاقتوں کے ساتھ جنگ کرنے سے مصائب کے سوا اور کیا  کچھ ملا؟

ان روشن خیالوں کےلئے روشن جواب:

یه درست هے که حادثۀ کربلا کے بعد اسلامی

معاشره نے کسی سوفی صد عادلانه حکومت کی شکل نهیں دیکھی۔

یه بھی صحیح هے که بنی عباس کی حکومت بنی امیه سے کچھ کم نه تھی۔یه بھی درست هے که دنیا کے حالات بدل گئے اور حکومتوں نے ایک دوسرارنگ اورطرز اختیار کرلیا اور فرزندان علیؑ زمام حکومت هاتھ­میں لے کر ایک مثالی اسلامی حکومت قائم نه کرسکے۔

لیکن تاریخ کا مثبت نظر سے بھی مطالعه کیا جانا چاهئیے۔گزرے هوئے زمانے اور جبر زندگی کوپیش نظررکھنا چاهئیے بحیثیت مجموعی حوادث زندگی کا مطالعه همیشه منفی نگاه هی سے نهیں هونا چاهئیے  بلکه مثبت پهلوبھی پیش نظر رکھناچاهیئے۔

ان سارے حوادث پر اس حیثیت سے بھی نظر ڈالی جائے که اگریه مبارزه اورجنگ نه هوتی تو اسلام اور مسلمانوں کا کیا حشرهوتا؟!

اوراسلامی زندگی کی تاریخ کس طرح آگے بڑھتی؟اس قیام اور مبارزه سے تاریخ کا راسته کس طرح­تبدیل­هوتا؟

اورمسلمانوں­پرراه­سعادت کس طرح کھلتی؟

بلاشبه حادثه کربلا کوئی معمولی حادثه نهیں تھا اور “طف”کاواقعه کوئی ساده سا تاریخی واقعه نهیں تھا۔
ادامه نوشته

امام خامنہ ای اور عزاداری


امام خامنہ ای اور عزاداری

میری نظر میں مجالس عزا ء میں تین امور  کا ہونا لازمی ہے ۔

۱۔ پہلی بات یہ ہے کہ یہ مجلسیں اہل بیت  کی محبت میں اضافے کا باعث بنیں کیونکہ محبت کا رشتہ بہت ذی قیمت ہے ۔

۲۔ دوسری بات یہ ہے کہ ان مجالس میں لوگوں کو واقعہ عاشورا کے حوالے سے ایک روشن اور عمیق معرفت مل جائے ۔ ایسا نہ ہو کہ ہم مجلس حسینی میں اس انداز سےتقریر کریں کہ اگر مجلس میں کوئی صاحب فکر انسان بیٹھا ہو وہ شش و پنج میں پڑ جائے کہ میں یہاں کس لئے آیا ہوں اور واقعہ کیا تھا؟ ہمیں امام حسین ؑؑکی عزاداری کیوں کرنی چاہئے ؟ امام حسین ؑ کو کربلا جانے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟ ہونا یہ چاہئے کہ اس سے پہلے کہ  یہ  سؤلات مخاطب کے ذہن میں آجائیں آپ ان کے جواب دے چکے ہوں ۔

۳۔ تیسری لازمی بات یہ ہے کہ لوگوں کی معرفت اور ایمان کو تقویت بخشیں ۔ آپ کو دینی تعلیمات کی اس انداز میں بات کرنی چاہئے جس سے لوگوں کے ایمان و معرفت میں اضافہ ہوجائے ۔ ایسا نہ ہو کہ ہم ممبر پر صرف لفاظی کریں اور خدا نخواستہ ایسی بے تکی بات کریں جس سے لوگوں کا ایمان ضعیف ہوجائے ۔

مجھے صاف نظر آرہا ہے کہ جگر گوشہ حضرت زہرا ؑؑکی عزاداری متعصب دشمنوں اور استعمار کے شیطانی آلہ کار پٹاریوں کے پروپیگنڈہ کی زد پر ہے ۔ میں دیکھ رہا  ہوں کہ بعض ایسے افعال جن کا دین سے کوئی واسطہ نہیں ہے ، ان افعال کو کور دل دشمن بہانہ بناکر اسلام اور شیعیت کو نعوذ باللہ خرافاتی“اور بے ہودہ”دین ثابت کرنے کے در پےہے نیز نظام ِ جمہوریہ اسلامیہ کے خلاف اپنےمکمل  بغض و عناد کے ساتھ سامنے آرہا ہے  ۔

گزشتہ مراجع سے جو بات نقل ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ اگر یہ عمل“قمہ زنی”قابل اعتنا ضرر کا باعث نہیں ہے اس صورت میں جائز ہے ۔ شیعیت کو دنیا والوں کی نظر میں بے قدر کرنا کیا قابل اعتنا نقصان نہیں ہے ؟ کیا اہل تشیع کے دل میں  مظلوم خاندان­پیغمبرصلی اللہ علیہ وآل وسلم کی محبت کو مخدوش کرنا بالاخص سید الشہداء کے عشق کی  غلط ترجمانی قابل اعتنا ضرر نہیں ہے ؟ کیا اس سے بڑھکر بھی کوئی ضرر ہوسکتا ہے ؟ ......اس دور میں اس کا نقصان بے انتہا اور کمر شکن ہے اس لئے کھلم کھلا قمہ زنی کا ارتکاب حرام ہے ۔

ادامه نوشته

فلسفه شهادت


محقق: آیة الله العظمی مکارم شیرازی
مترجم : سید حسین حیدر زیدی

امام حسین علیہ السلام کی تاریخ زندگی کہ جو تاریخ بشریت کی ہیجان انگیز ترین حماسہ کی شکل اختیار کرچکی ہے اس کی اہمیت نہ صرف اس وجہ سے ہے کہ ہر سال لاکھوں انسانوں کے جذبات کی طاقت ور موجیں اپنے اطراف کو شعلہ ور کرتی ہیں اور دوسرے تمام پروگراموں سے زیادہ اچھی طرح اس کو مناتے ہیں بلکہ اس کی اہمیت اس سے بھی زیادہ ہے :اس عظیم حرکت کا محرک صرف انسانوں کے پاک و پاکیزہ جذبات ہیں اور ہر سال اس تاریخی حادثہ کی یاد میں یہ دستہ عزاداری اور جلوس و ماتم جو بہت شان و شوکت سے منایا جاتا ہے اس کیلئے کسی مقدمہ چینی اور تبلیغات کی ضرورت نہیں ہے اور اس لحاظ سے یہ اپنی نوعیت میں بے نظیر ہے۔
ہم میں سے اکثر لوگ اس حقیقت کوجانتے ہیں، لیکن بہت سے لوگوں(خصوصا غیر اسلامی دانشوروں)کیلئے یہ بات واضح نہیں ہوئی ہے ان کی نظر میں ایک معمہ بن کر رہی گئی ہے کہ :
کیوں اس تاریخی حادثہ کو ”کیفیت و کمیت“کے اعتبار سے اتنی اہمیت دی جاتی ہے؟ کیوں اس حادثہ کی یاد کو ہر سال ، گذشتہ سال سے زیادہ جوش و ولولہ کے ساتھ منایا جاتا ہے؟
کیوں آج جب کہ ”بنی امیہ “ اور ان کے حوالیوں و موالیوں کی کوئی خبر نہیں ہے اور اس حادثہ کے وہ تمام لوگ فراموشی کے سپر د ہوچکے ہیں ، کیوں کربلا کا حادثہ ہمیشہ کیلئے زندہ اور باقی ہے؟
اس سوال کے جواب کو اس انقلاب کے اصلی علل و اسباب میں تلاش کیا جاسکتا ہے، ہم تصور کرتے ہیں کہ اس مسئلہ کا تجزیہ و تحلیل ان حضرات کیلئے جو تاریخ اسلام سے آگاہی رکھتے ہیں ، کوئی مشکل کام نہیں ہے۔
واضح عبارت کے ساتھ یہ کہا جائے کہ کربلا کا خونی حادثہ جو نمودار ہوا وہ دو سیاسی رقیبوں کی جنگ کانتیجہ نہیں ہے کہ وہ ایک مقام و پوسٹ یا کسی زمین کو حاصل کرنے کیلئے جنگ کررہے تھے۔
اسی طرح یہ حادثہ دو مختلف گروہوں کے امتیازات و برتری کے کینہ و حسد کی وجہ سے وجود میں نہیں آیا۔
یہ حادثہ در حقیقت دو فکری اور عقیدتی نظریوں(مکاتب فکر)کی وجہ سے وجود میں آیا کہ جس کی بھڑکتی ہوئی آگ پوری تاریخ انسانیت میں گذشتہ زمانے سے اب تک ہرگز خاموش نہیں ہوئی ہے ، یہ جنگ تمام انبیاء اور دنیا میں اصلاح قائم کرنے والوں کی جنگ کودوام بخشتی ہے ، بعبارت دیگر جنگ ”بدر و احزاب“ کو دوبارہ تشکیل دیا جارہا ہے۔
سب جانتے ہیں کہ اس وقت پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ)نے ایک فکری اور اجتماعی انقلاب کے رہبر کے عنوان سے بشریت کو بت پرستی، خرافات اور جہل کے چنگل سے آزادی اور نجات دلانے کیلئے قیام کیا تھا۔اور جن لوگوں پر ظلم ہوا تھا اور حق کے طالب لوگ جو اس زمانے کو بدلنے میں سب سے اہم کردار ادا کررہے تھے پیغمبر اکرم نے ان سب کو جمع کیا، اس وقت اس اصلاحی قیام کے مخالف لوگ جن میں سب سے آگے آگے بت پرست ثروتمند اور مکہ کے سود کھانے والے لوگ تھے انہوں نے اپنی صفوں کو مرتب کیا اور اس آواز کو خاموش کرنے کیلئے انہوں نے اپنی پوری طاقت سے کام لیا اور اس اسلامی حرکت کے خلاف سب سے آگے آگے ”اموی گروہ“ جن کا سرکردہ اور سرپرست ابوسفیان تھا۔
لیکن آخر کار اس عظمت اور خیرہ کرنے والے اسلام کے سامنے اس کو گھٹنے ٹیکنے پڑے ، ان کی تمام انجمنیں بالکل نابود ہوگئیں۔
یہ بات واضح رہے کہ نابود ہونے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ بالکل جڑ سے ختم ہوگئے بلکہ انہوں نے اسلام کے خلاف اپنی تمام تر کوششوں کو آشکار اور ظاہر میںانجام دینے کے بجائے پشت پردہ انجام دینا شروع کردیں(جو کہ ایک ہٹ دھرم، ضعیف اور شکست خوردہ دشمن کا حربہ ہوتا ہے) اور ایک فرصت کے انتظار میں بیٹھ گئے۔
بنی امیہ نے پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ)کی رحلت کے بعد اسلام سے پہلی حالت کی طرف پلٹنے کیلئے ایک قیام کو ایجاد کرنے کی کوشش کی اور اس طرح انہوں نے اسلامی حکومت میں اپنا نفوذ قائم کرلیااور مسلمان، پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ )کے زمانے سے جتنا دور ہوتے جارہے تھے یہ لوگ حالات کو اپنے حق میں نزدیک دیکھ رہے تھے۔
خصوصا ”جاہلیت کی کچھ رسمیں“ جو بنی امیہ کے علاوہ کچھ لوگوں نے مختلف اسباب کی بنیاد پر دوبارہ زندہ کردی تھیں اس کی وجہ سے جاہلیت کے ایک قیام کے لئے راستہ ہموار ہوگیا، ان میں جاہلیت کی کچھ رسمیں مندرجہ ذیل ہیں:
۱۔ قوم پرستی کا مسئلہ جس کو اسلام نے ختم کردیا تھا ، بعض خلفاء کے ذریعہ دوبارہ زندہ ہوگیا اورعرب قوم کی غیر عرب کے اوپر ایک خاص برتری قائم کردی گئی۔
۲۔ مختلف طرح کی اونچ نیچ : روح اسلام کبھی بھی اونچ نیچ کو پسند نہیں کرتی ، لیکن بعض خلفاء نے اس کو دوبارہ آشکار کردیا اور ”بیت المال“ جو پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ) کے زمانے میں مسلمانوں کے درمیان مساوی طور سے تقسیم ہوتا تھااس کو ایک دوسری شکل دیدی اور بہت سے امتیازات بغیر کسی وجہ کے کچھ لوگوں کو دیدئیے اور طبقاتی امتیاز دوبارہ ایجاد ہوگئے۔
۳۔ پوسٹ اور مقام جو پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ) کے زمانے میں علمی ، اخلاقی لیاقت اور معنوی اہمیت کی بنیاد پر تقسیم کیا جاتا تھا ، اس کو قوم و قبیلہ میں بانٹ دیا گیا ، اور خلفاء کے خاندان و قبیلہ والوں میں تقسیم کردیا۔
اسی زمانے میںابو سفیان کا بیٹا ”معاویہ“ بھی حکومت اسلامی میں آگیا اور اسلامی علاقہ کی حساس ترین پوسٹ(شام) کی گورنری اس کو دیدی اور اس طرح جاہلیت کے باقی ماندہ افراد ، حکومت اسلامی پر قبضہ کرنے اور جاہلیت کی سنتوں کوقائم و دائم کرنے کیلئے تیار ہوگئے۔
یہ کا م اس تیزی کے ساتھ ہوا کہ پاک و مطہر شخصیتوں جیسے حضرت علی(علیہ السلام)کو خلافت کے دوران مشغول کردیا۔
اسلام کے خلاف اس حرکت کا چہرہ اس قدر آشکار و واضح تھا کہ اس کی رہبری کرنے والے بھی اس کو چھپا نہ سکے۔
جس وقت خلافت بنی امیہ اور بنی مروان میں منتقل ہورہی تھی اس وقت ابوسفیان نے ایک عجیب تاریخی جملہ کہا تھا:
اے بنی امیہ! کوشش کرو اس میدان کی باگ ڈور کو سنبھا ل لو(اور ایک دوسرے کو دیتے رہو)قسم اس چیز کی جس کی میں قسم کھاتا ہوں بہشت و دوزخ کوئی چیز نہیں ہیں!(اور محمد کا قیام ایک سیاسی قیام تھا)۔
یا یہ کہ معاویہ عراق پر مسلط ہونے کے بعد کوفہ میں اپنے خطبہ میںکہتا ہے :
میں یہاں پر اس لئے نہیں آیا ہوں کہ تم سے یہ کہوں کہ نماز پڑھو یا روزہ رکھو بلکہ میں اس لئے آیا ہوں کہ تمہارے اوپر حکومت کروں جو بھی میری مخالفت کرے گا میں اس کو نابود کردوںگا۔
کربلا میں جام شہادت نوش کرنے والے آزاد مردان خدا کے سروں کو دیکھ کر یزید یہ کہتا ہے:
اے کاش میرے آباؤ اجدادجو بدر میں قتل کردئیے گئے تھے آج یہاں موجود ہوتے اور میرا بنی ہاشم سے انتقام لینے کو مشاہدہ کرتے۔
یہ سب اس قیام کی ماہیت پر دلیل ہیں کہ یہ ایک اسلام کے خلاف قیام تھا اور جتنا بھی آگے بڑھتے رہیں اس کا پردہ فاش ہوتا رہے گا۔
کیا امام حسین(علیہ السلام)اس خطرناک خطرہ کے مقابلہ میں جو اسلام کو چیلنج کر رہا تھا اور یزید کے زمانے میں اپنی حد سے عبور کر گیا تھا، خاموش رہ سکتے تھے؟ کیا خدا ، پیغمبراکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ) اور وہ پاکدامن لوگ جنہوں نے اس کو پروان چڑھایا تھا اس بات کو پسند کرتے؟
کیا وہ عظیم الشان فداکاری ، ایثار مطلق اور اسلامی معاشرہ کے اوپرچھائی ہوئی مرگبار خاموشی کو توڑنے کیلئے قیام نہ کرتا اور جاہلیت کے اس قبیح چہرہ کے اوپر بنی امیہ کے پڑے پردہ کو فاش نہ کرتا ؟ اور اپنے پاک و پاکیزہ خون سے اسلام کی تاریخ کی پیشانی پر چمکتی ہوئی سطروں کو لکھ کر اس عظیم الشان قیام کو زندہ نہ کرتا؟
جی ہاں؟ امام حسین علیہ السلام نے یہ کام کیا اور اسلام کے لئے بڑی اور تاریخی ذمہ داری کو انجام دیا، اور تاریخ اسلام کے راہ کو بدل دیا ، اس نے اسلام کے خلاف بنی امیہ کے حیلہ کو نابود کردیا اور ان کی ظالمانہ کوششوں کو نیست و نابود کردیا۔
یہ ہے امام حسین(علیہ السلام)کے قیام کا اصلی اور حقیقی چہرہ، یہاں سے واضح ہوجاتا ہے کہ کیوںامام حسین(علیہ السلام)کا نام اور تاریخ کبھی فراموش نہیں ہوتی۔ وہ ایک عصر،قرن اور زمانے سے متعلق نہیں تھے بلکہ وہ اور ان کا ہدف ہمیشہ زندہ و جاوید ہے ، انہوں نے حق،عدالت اور آزادگی کی راہ، خدا و اسلامی کی راہ، انسانوں کی نجات اور لوگوں کی اہمیت کو زندہ کرنے کیلئے جام شہادت نوش کیا، کیا یہ مفاہیم کبھی پرانے اور فراموش ہوسکتے ہیں؟ نہیں ہرگز نہیں!
حقیقت میں کون کامیاب ہوا؟ کیا اس عظیم جنگ میں بنی امیہ،خونخوار فوجی اور دنیا پرست لوگ کامیاب ہوئے؟ یا امام حسین(علیہ السلام)اور ان کے جانبازدوست ،جنہوں نے حق و فضیلت کی راہ میں اور خدا کیلئے تمام چیزوں کو فداکردیا؟!
کامیابی اور شکست کے واقعی مفہوم کو مد نظر رکھتے ہوئے اس سوال کا جواب یہ ہے : کامیابی یہ نہیں ہے کہ انسان میدان جنگ سے صحیح و سالم واپس آجائے یا اپنے دشمن کو ہلاک کردے بلکہ کامیابی یہ ہے کہ انسان اپنے ”ہدف“ کو آگے بڑھائے اوردشمن کو اس کے مقصد تک پہنچنے میں ناکام کردے۔
اس معنی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس خونی جنگ کا نتیجہ بطور کامل روشن اور واضح ہے ۔ صحیح ہے کہ امام حسین(علیہ السلام)اور ان کے وفادار ساتھی ایک زبردست جنگ کے بعد جام شہادت نوش کرکے سوگئے، لیکن انہوں نے اس افتخار آمیز شہادت کے ذریعہ اپنے مقدس ہدف کو اس کی جگہ تک پہنچا دیا۔
ہدف یہ تھا کہ اموی حکومت کا قبیح چہرہ جو اسلام کے خلاف تھا آشکار ہوجائے اور مسلمانوں کے افکار بیدا ہوجائیں تاکہ دوران جاہلیت کے باقی بچے ہوئے لوگوں کے حیلے اور کفر و بت پرستی کے رسم و رواج سے آگاہ ہوجائیں اور یہ ہدف بخوبی اپنی منزل مقصودکو پہنچا۔
انہوں نے آخر کار بنی امیہ کے ظلم و بیداد گری کے درخت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور اس غاصب حکومت کے فنا ہونے کے مقدمات کو فراہم کرکے ان کے برے سایہ کو مسلمانوں کے سروں سے ختم کردیا۔جن کا افتخار جاہلی کی رسومات، تبعیض و ستمگری کو رائج کرناتھانیست و نابود کردیا۔
یزید کی حکومت نے خاندان پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ)،امام حسین(علیہ السلام)کے با فضیلت اصحاب اور خصوصا جگر کوشہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ)کو شہید کرکے اپنے اصلی چہرہ کو ظاہر کردیا اور پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ )کی جانشینی کا دعوی کرنے والوں کی رسوائی کا نقارہ سب جگہ بجادیا۔
اور تعجب نہیں کہ کربلا کے حادثہ کے بعد جو یہ تمام انقلابات اور تبدیلی وجود میںآئی ، ”ان شہیدوں کے خون کا بدلا“ یا ”الرضا لآل محمد“کے نعرہ لگانے والوں کو دیکھتے ہیں کہ بنی عباس (جو خود اس مسئلہ کے ذریعہ سے حکومت تک پہنچے تھے اور اس کے بعد انہوں نے بھی ظلم و ستم انجام دئیے )کے زمانے تک جاری و ساری رہے۔
اس سے بڑھ کرجیت اور کیاہوگی کہ وہ نہ فقط اپنے مقدس ہدف تک پہنچ گئے بلکہ دنیا کے تمام آزاد لوگوں کے لئے سرمشق بن گئے۔
امام حسین (علیہ السلام)کی عزاداری کیوں کرتے ہیں؟ کہتے ہیں اگر امام حسین(علیہ السلام)کامیاب ہوئے تو پھر جشن کیوںنہیں مناتے؟ گریہ کیوں کرتے ہیں؟ کیا یہ گریہ اس بڑی کامیابی کے ساتھ صحیح ہے؟
جو لوگ اس طرح کے اعتراض کرتے ہیںیہ لوگ ”فلسفہ عزاداری“ کو نہیں جانتے اور اس کوذلت آمیز گریہ سے تعبیر کرتے ہیں۔
”گریہ“ اور آنکھوں سے اشک کے قطروں کا جاری ہونا جو کہ انسان کے دل کا دریچہ ہے، اس گریہ کی چار قسمیں ہیں:
۱۔ خوشی اور شوق کا گریہ: کسی ایسی ماں کا گریہ جو اپنے گمشدہ فرزند کو کئی سال بعد دیکھ کر کرتی ہے ، یا کسی پاک دل عاشق کا بہت عرصہ کے بعد اپنے معشوق سے ملنے کے بعد گریہ کرنا خوشی اور شوق کا گریہ کہلاتا ہے۔
واقعہ کربلا کا اکثر وبیشتر حصہ شوق آفرین اور ولولہ انگیز ہے ان لوگوں کی ہدایت، فداکاری، شجاعت آزادمردی اور ان اسیر خواتین و مرد کی شعلہ ور تقریریں ، سننے والوں کی آنکھوں سے اشک شوق کا سیلاب جاری ہوجائے تو کیا یہ شکست کی دلیل ہے؟
کیایہ گریہ شکست کی دلیل ہے؟

ادامه نوشته

یزیدی آمریت – جدید علمانیت بمقابلہ حسینی حقِ حاکمیت


ؤلف: حسن رحیم پور ازغد                             مقرر: حسن رحیم پور ازغدی

ترجمہ و تکمیل: ف.ح.مہدوی
ابنا ڈاٹ آئی آر
اسلام کے سیاسی اور سماجی احکام اور حقوق، منجملہ مشروعیت یا قانونی جواز (حق)، انسانی حقوق، سماجی، معاشی، سیاسی شعبوں نیز نظام عدل میں عدل و انصاف سب کے سب انسان شناسی (Anthropology) کے عین مطابق، انسان شناسی ہستی شناسی (آنتولوژی) کے عین مطابق اور ہستی شناسی (یا وجود شناسی) خدا شناسی یا معرفتِ ربّ (یا Theosophy) کے عین مطابق ہے؛ اگر ہم نے انسان کو صحیح طور سے پہچانا، تو ہم اس کی حقیقی ضروریات و احتیاجات، اس کی اہلیتوں اور صلاحیتوں اور اس کے روابط و تعلقات کو صحیح طریقے سے پہچان سکیں گے۔

جب ہم اس مرحلے تک پہنچیں گے تو تب ہی وہ احکام اور حقوق معلوم اور مدلل ہوکر سامنے آئیں گے جو اس موجود کے کمال و ارتقاء اور سعادت و خوشبختی کے لئے وضع کئے گئے ہیں۔ [فلسفہ حقوق و احکام واضح ہوجاتا ہے] معلوم ہوجاتا ہے کہ جب کہا جاتا ہے کہ زنا، شراب نوشی، غصب، ربا (سود خوری) اور جھوٹ کو ترک کرنا چاہئے، تو ایسا کیوں ہے اور یہ افعال کیوں نہیں ہونے چاہئیں؛ ان سب کی دلیل سامنے آتی ہے۔ اسی ترتیب سے جہاد، انفاق، زکاة اور نماز کی فرضیت کی وجہ اور دلیل روشن ہوجاتی ہے۔
ان سب "ہونا چاہئے" اور "نہ ہونا چاہئے" کے لئے دلیل موجود ہے اور ان کے بارے میں بحث ممکن ہے۔ کیونکہ اس کا اصول اور اس کی بنیاد وجود شناسی اور غایت شناسی یا انجام شناسی ہے۔ حکم آتا ہے کہ عقل کو وحی سے جوڑ کر انسان کے وجود کے مختلف پہلوؤں اور جہتوں کو پہچاننے کی کوشش کریں۔ بنی نوع بشر کے حوالے سے آپ کے تأثر و ادراک کی نوعیت سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انسان کے وجود میں کیا صلاحیتیں اور کیا احتیاجات ہیں؟ جنہیں ایک ایک کر بالیدگی اور شگفتگی تک پہنچنا چاہئے اور اس کی خوابیدہ قوتوں کو فعلیت اور عملیت کے مقام پر فائز ہونا چاہئے۔ علاوہ ازیں اخلاق اور حقوق کی جڑیں انسان شناسی میں پیوست ہیں۔ چنانچہ اخلاق بھی مدلل و مبرہن ہے اور حقوق بھی مدلل و مبرہن ہیں اور یہ دو ـ جو بظاہر اعتباری (*) اور مجازی لگتے ہیں ـ ہماری نگاہ میں اعتباری (*) اور مجازی نہیں ہیں۔ لہذا اخلاقیات و حقوق کے پورے مجموعے کا جائزہ کسی قرارداد یا عوام کی اکثریتی رائے سے ہی نہیں لیا جاسکتا۔ [کیونکہ یہاں کئی سوالات اٹھیں گے اور ان میں سے سادہ ترین سوال یہ ہے کہ] اگر دنیا کے پورے انسانوں سے رائے لی جائے کہ کسی بے گناہ انسان کو پھانسی پر لٹکایا جائے یا نہیں، یا اس کے اموال چھین لئے جائیں یا نہیں، یا اس کی آبرو و عزت کو سربازار نیلام کیا جائے یا نہیں؟ اور دنیا کے تمام انسان رائے دیں کہ اس کو پھانسی دی جائے یا اس کے اموال لوٹ لئے جائیں یا اس کی آبرو نیلام کی جائے اور صرف ایک شخص (یعنی وہ بے گناہ شخص خود) رائے دے کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے تو کیا یہ ناحق، حق ہوجائے گا؟ ہرگز نہیں، یہ حق قابل اثبات نہیں ہوگا کیونکہ انسانوں سے رائے اور ووٹ لینے کے لئے بھی عقل اور اخلاق کا دائرہ ہونا چاہئے اور کوئی قرارداد بھی صرف اخلاق اور حقوق اور عقل کے دائرے میں ہی معتبر ہوگی۔
اب [ہم اپنے ابتدائی سوال کی طرف لوٹتے ہیں کہ] اگر آپ سے پوچھا جائے کہ کیا انسانی علوم (Humanities)، انسانی حقوق، سیاسیات اور مشروعیت (لیجیٹیمیسی) کو اسلامی اور غیر اسلامی میں تقسیم کیا جاسکتا ہے؟ آپ کہہ دیں کہ: "کیوں نہیں"، کیونکہ دنیاوی رجحانات پر مبنی انسانی حقوق، معاشیات اور سیاست کی سیکولر اور علمانی تعریف کا مدار و محور ہی ہوگا۔ انسانی علوم یعنی انسان شناسی کے مختلف مکاتب نے اگر انسان کی مادی تعریف فراہم کی تو اس صورت میں اس کے لئے جو حقوق اور فرائض بھی وضع کئے جائیں گے ان کی اساس بھی دنیاوی مادی رجحانات ہی ہونگے؛ جبکہ اگر انسان کی تعریف الہی ہوگی تو اس حقوق و فرائض بھی الہی ہونگے۔
نہ جانے کہ وہ ان دو کے درمیان موجودہ اختلافات کا ادراک وہ کیوں نہیں کرسکتے؟ جب آپ "الف" کی تعریف کرتے ہیں تو اسی تعریف سے ہی "الف" کی ذات کے عین مطابق ہدایات حاصل ہوتی ہیں، یہ کیسے ممکن ہے کہ لبرل ہیومین رائٹس اور مارکسسٹ ہیومین رائٹس میں فرق ہو اور یہ فرق بامعنی بھی ہو اور قابل فہم و ادراک بھی ہو لیکن جب اسلامی انسانی حقوق کی بات آتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ بات درست نہیں ہے؛ اس کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ جبکہ اسلام نے اتنی باریک بینی اور اتنی وسعت سے انسان اور اس کے حقوق و فرائض اور معیشت و سیاست کے بارے میں فلسفی اور اخلاقی بحث کی ہے جبکہ مغربی علمانیت انسان کے بارے میں اسلام جتنی وسیع بحث نہیں کرتی۔ تاہم اگر کہیں کوئی بحث ہے تو اس کا عقلی اور تجرباتی حصہ دونوں میں مشترکہ ہے۔ ہمارے مکتب میں نظریہ (Idealogy) مغربیوں کی مانند تعصب آمیز اور جامد نہیں ہے بلکہ ہمارا نظریہ دلیلوں پر مبنی ہے۔ مکتب توحید میں انسانی علوم اور سیاسیات کی روشنی میں انسانی حقوق، عدل اور مشروعیت یا قانونی جواز کا منبع اللہ تعالی کا تشریعی ارادہ اور تشریعی حکم پر استوار ہے۔ [یعنی خدا نے ایسا کرنے کا فرمان جاری فرمایا ہے]، قرآن اور احادیث ان تمام چیزوں کا سرچشمہ ہیں جو انسانی حقوق، عدل و انصاف اور مشروعیت یا قانونی جواز کا منبع کہلاتی ہیں؛ یہ سب اللہ کے تشریعی ارادے کی طرف اشارہ ہیں اور ان سے اللہ کا ارادہ تشریعی بوضوح کشف ہوجاتا ہے۔ یعنی حقوق شناسی، سیاست، معاشیات سے پہلے، مشروعیت یا قانونی جواز کی تعریف سے بھی پہلے، یعنی سب سے پہلے وجود شناسی اور انسانی شناسی کی باری ہے۔ یہ ہم حقوق کے لئے جو فلسفہ بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حقوق و فرائض کی قانون سازی اور تشریع کا سرچشمہ ذات باری تعالی ہے، اس کے لئے ہم فلسفی استدلال بھی فراہم کرتے ہیں۔
اختصار کے ساتھ کہتا ہوں کہ اللہ کا وجود، اس کے اوصاف، اس کی ذات، صفات، اسماء سب کے سب قابل اثبات ہیں، انسانوں پر ہی نہیں بلکہ تمام مخلوقات پر اللہ تعالی کا حق بھی دلیل و برہان سے ثابت ہوتا ہے اور یہیں سے حقوق، قانونی جواز اور علم سیاست کی بحث بھی شروع کرتے ہیں۔
درحقیقت ایک بنیادی فلسفی بحث کو پکڑلیتے ہیں اور پھر باہر آتے ہیں۔ انسانوں پر خدا کا حق ایک دوسری بحث کے اثبات سے حاصل ہوتا ہے اور ہم اس کو دلیل و برہان سے ثابت کرتے ہیں؛ پہلے ثابت کرتے ہیں کہ خدا عالم اور انسان کا مالک ہے جس کے بعد یہ بحث سامنے آتی ہے کہ خداوند متعال انسان اور عالم میں تصرف کا حق رکھتا ہے، بالفاظ دیگر خالقیت کا اثبات [یعنی عالم مخلوق ہے]، اس کے بعد حقیقی مالکیت کا موضوع سامنے آتا ہے۔ خدا کے سوا کوئی بھی کسی چیز کا حقیقی خالق نہیں ہے۔ یہ خدا ہی ہے جس نے حق اور صاحب حق کو خلق کیا ہے، خدا خالق ہے، پس وہ مالک ہے، پس وہ حاکم ہے، وہ خالق و مالک و حاکم ہے لہذا وہی ذاتی طور پر حق حاکمیت کا مالک ہے اور بس۔ اب جبکہ خدا حاکم ہے اس کو یہ حق حاصل ہے کہ انسان کے حقوق و فرائض کا تعین اور تعریف کرے۔ چنانچہ انسانی حقوق کا منشأ اور سرچشمہ حق اللہ کی بنیاد پر استوار ہے۔ امام سجاد علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ (ع) نے فرمایا: "ہو اصل الحقوق" (19) [خدا کی ذات تمام حقوق کی جڑ ہے]، یعنی وہ تمام حقوق جو ہم اس دنیا میں بیان اور معین کرتے ہیں انسانی حقوق، سیاسی حقوق، خاندانی حقوق وغیرہ سب حق اللہ کے زمرے میں آتے ہیں۔ "و منہ یتفرق [یا یتفرع)" یعنی یہ سب حق خداوندی کی شاخیں ہیں جو اس تنّے سے مشتق ہوئے ہیں۔ یعنی یہ کہ آپ کو اس امر پر قدرت حاصل ہونی چاہئے کہ تمام حقوق کو حق اللہ کی طرف لوٹائیں ورنہ حقوق کی کوئی بھی فلسفی توجیہ (Philosophic Justification) ممکن نہیں ہوگی۔
دوسرا نتیجہ یہ کہ آپ کسی چیز کو بھی انسانی حقوق کے عنوان سے متعین نہیں کرسکتے جو حق اللہ سے مغایرت رکھتی ہو۔ یعنی یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ "الف" انسانی حق ہے جبکہ حق اللہ اور شریعةاللہ کے خلاف ہے، کیونکہ کوئی بھی حق الناس حق اللہ کے بغیر قابل اثبات نہیں ہے، اور تمام حقوق کا منبع و سرچشمہ حق اللہ کی طرف لوٹتا ہے۔ یہ قطعی اور عقلی ادراک ہے کہ خالقیت، اس کے بعد مالکیت اور اس کے بعد حاکمیت اور آخرالامر ولایت الہی کا حق تصرف، اور نتیجتاً زندگی کے تمام شعبوں میں حقوق و فرائض کا سرچشمہ الہی ہونا چاہئے۔ البتہ عقل اور شرع ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں تا کہ لوگ اس ادراک تک پہنچ سکیں۔ خدا کے سوا کسی کو بھی ذاتی اور حقیقی طور پر کسی بھی شخص یا کسی بھی چیز میں تصرف کا حق حاصل نہیں ہے، کسی کا خدا پر کوئی حق نہیں ہے۔ کوئی بھی حقیقتاً خدا پر کوئی حق نہیں رکھتا۔ یہ جو بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمارا خدا پر فلان حق ہے اور خدا نے ہمارے سامنے اپنے لئے فرائض مقرر فرمائے ہیں، اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ حق اللہ اور حق انسان یکساں ہے، کیونکہ ہم ادراک نہیں کرسکتے کہ لوگ ہم سے یہ کیسی بات کررہے ہیں۔ ورنہ کسی چیز اور کسی شخص کا خدا پر کوئی حق نہیں ہے، کیونکہ ساری چیزیں خدا کی مخلوق ہیں۔ یہ صرف خدا کی ذات ہے جو ہر چیز اور ہر فرد پر حق رکھتا ہے۔ البتہ یہاں ایک سوال اور ایک ابہام بھی ہے لیکن چونکہ فرصت نہیں ہے اسی لئے اس سے گذرنا چاہتے ہیں۔
یہ بات واضح ہے کہ فقط خدا کی ذات ہے جو اپنی ذات پر قائم اور اپنی ذات پر استوار ہے، حقیقی مالکیت صرف اس کی ذات کی زینت ہے اور تمام فلسفی دلیلیں انسانی حقوق کے لئے ہیں نہ کہ خدا کی ذات کے لئے۔ خدا کے سوا کسی چیز اور کسی فرد کے لئے ذاتی طور پر تصرف کا حق حاصل نہیں ہے، کیونکہ حقیقت میں کوئی بھی حقیقی خالقیت اور حقیقی مالکیت موجود ہی نہیں ہے خدا کے سوا۔ سوائے خدا کے، جو صاحب حق ہے، کوئی بھی شخص، کوئی بھی چیز کسی بھی شخص یا کسی بھی چیز پر اور ایک دوسرے پر اور خدا پر کوئی حق نہیں رکھتا۔ اگر خدا کے ذمے ہمارا کوئی حق ہے تو وہ وہی ہے جو خدا نے خود ہی ہمارے لئے متعین فرمایا ہے۔ ہم اپنی جانب سے خدا کے سامنے کسی حق کے مالک نہیں ہیں، اس حق کا ایک حصہ خدا نے رسول اللہ (ص)، اپنے اولیاء اور رسول اللہ (ص) کے اوصیاء اور جانشینوں کو عطا فرمایا ہے اور اسی حق کا کچھ حصہ لوگوں کے لئے قرار دیا ہے۔ دینی اور توحیدی نگاہ کے مطابق عقلی برہان سے استفادہ کرتے ہوئے، حقوق، عدل، حق اور انسانی حقوق کا منشأ و سرچشمہ مدلل طریقے سے بیان اور واضح کیا جاسکتا ہے۔ اب غیر دینی اور غیر توحیدی قوانین میں جب حقوق و اخلاق اور خدا کی خالقیت و حاکمیت ہی قابل اثبات نہیں ہے تو اس کے لئے عقلی برہان لانا کیونکر ممکن ہوسکتا ہے؟ لہذا ان کے فلسفی ترین استدلالات یا استدلال کی مانند باتیں، دینی نگاہ سے قطع نظر انسانی حقوق و فرائض کے اثبات کے لئے، اٹھارہویں صدی عیسوی سے تعلق رکھتے ہیں جب مغربی ادبیات فلسفی ـ دینی تھے؛ کہا کرتے تھے کہ "خدا نے انسان کو آزاد پیدا کیا پس کسی کو بھی انسان کے حقوق ضائع کرنے کا حق نہیں پہنچتا"۔ یہ درحقیقت ایک دینی استدلال ہے۔ ہماری رائے کے مطابق، اگر یہی استدلال آزادی، انسانی حقوق اور سیاسی قانونی جواز (حق) کی بنیاد ہے تو کہنا چاہئے کہ "وہی خدا جس نے ہمیں آزاد پیدا کیا ہے اسی نے ہمارے لئے بعض حدود اور سرحدات بھی معین فرمائی ہیں۔ وہی خدا جس نے حقوق اور آزادیاں وضع کی ہیں اسی نے حدود بھی وضع کی ہیں۔ یہ کیسی بات ہے کہ اس نے جو حقوق اور آزادیاں وضع کی ہیں وہ تو قابل قبول ہیں لیکن اس نے جو فرائض مقرر کئے ہیں وہ ناقابل قبول ہیں؟
انسانی حقوق قابل قبول ہیں انسانی فرائض ناقابل قبول؟
البتہ آج کی مغربی دنیا میں اٹھارہویں اور انیسویں صدیوں کے طبیعی اور فطری حقوق کو نہیں زیادہ نہیں چھیڑا جاتا۔ البتہ وہی حقوق حال ہی میں دوسری صورت میں بیان کئے جانے لگے ہیں۔ اب اس زمانے میں جبکہ قراردادی، عرفی، تحصلی، علمانی، جمہوری وغیرہ جیسے حقوق کی باتیں ہونے لگی ہیں تو ان کے لئے کیا فلسفی استدلال کرتے ہیں؟ اب ان کی فلسفی دلیل صرف یہ ہے کہ "اگر ہم ایک دوسرے سے مفاہمت نہ کریں، ایک دوسرے کے لئے حدود کا تعین نہ کریں، تو ہم سب نیست و نابود ہوجائیں گے؛ ہم سب یہی تو چاہتے ہیں کہ زندگی گذاریں اور زندگی سے زیادہ سے زیادہ لذت اٹھائیں تو آئیں اور زیادہ سے زیادہ لذتیں اٹھانے کے لئے اپنی بعض لذتوں سے چشم پوشی کریں!"۔ [یعنی نظریۂ ضرورت کے تحت سماجی سمجھوتہ]۔
کیا یہ ایک فلسفی استدلال ہے؟ کیا آپ کا فلسفی ترین استدلال اصولی طور پر فلسفی بھی ہے؟ یہ نہ تو فلسفی استدلال ہے اور نہ ہی اخلاقی ہے۔ یہ مصلحت پسندی اور نظریۂ ضرورت کے تحت پیش کی جانی والی پراگماتیت((((( پر مبنی (Pragmaitistic) دلیل ہے۔ یعنی چونکہ زندگی گذارنے کا کوئی اور طریقہ ہے نہیں ہے لہذا کہتے ہیں کہ چلئے آپس میں سمجھوتہ کرتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ آخرالامر جنگل میں حیوانات بھی کسی طرح سمجھوتہ کرہی لیتے ہیں، اس طرح کے سمجھوتے اور جنگلی جانوروں کے بیچ کے سمجھوتے میں ماہیت کے لحاظ سے کتنا فرق ہے؟ ایک فرق جو ہماری سمجھ میں آتا ہے یہ ہے کہ جنگلی جانور اس طرح کوئی قرارداد کاغذ پر لکھنے سے عاجز ہیں جبکہ یہ لذتوں کی تقسیم پر طے پانے والی قرارداد کاغذ پر بھی لکھ ڈالتے ہیں۔ حیوانات ایک دوسرے کے احترام کی وجہ سے نہیں بلکہ مار کھانے کے خوف سے ایک دوسرے کے احاطے میں داخلے سے گریز کرتے ہیں چنانچہ جب بھی دیکھتے ہیں کہ لات کھائے بغیر لات مار سکتے ہیں تو بڑے شوق سے جاکر لات مارتے ہیں [قلمرو پر قبضہ بھی کرتے ہیں]، در حقیقت یہ طرز فکر بھی ایسی ہی ہے۔ دیکھتے ہیں کہ عراق، افغانستان، فلسطین اور لبنان کو [لات کھائے اور نقصان اٹھائے بغیر] اپنے تصرف میں لاسکتے ہیں تو منہ اٹھا کر آتے ہیں اور حملہ کرتے ہیں اور جب تک ممکن ہو آتے ہیں اور جب بھی انہیں منہ کی کھانی پڑتی ہے تو پسپا ہوجاتے ہیں۔ اس عمل کا نام انسانی حقوق کا احترام نہیں ہے؛ یہ تو جبری انسانی حقوق ہوئے۔ یعنی جہاں تک ہم میں طاقت ہو پیشقدمی کرتے ہیں اور جب ہماری طاقت جواب دے جاتی ہے تو انسانی حقوق کا مرحلہ شروع ہوجاتا ہے۔

والسلام عليكم و رحمة اللہ و بركاتہ

ادامه نوشته

یزیدی آمریت – جدید علمانیت بمقابلہ حسینی حقِ حاکمیت


مقرر: حسن رحیم پور ازغدی
ترجمہ و تکمیل: ف.ح.مہدوی
ابنا ڈاٹ آئی آر

انھوں نے اس لفظ کے لئے جو مساوی مفہوم قرار دیا ہے اور آج کی عالمی سیاسیات کی بنیاد بھی وہی ہے، اس سے یہی مفہوم نکلتا ہے کہ "مشروعیت یا لیجیٹیمیسی ہر وہ چیز ہے جو اقتدار عطا کرتی ہے"۔ یعنی وہ چیز جو آپ کی قوت کو اقتدار اور استحکام میں بدل دیتی ہے مشروعیت یا قانونی جواز ہے۔
یعنی لیجیٹیمیسی وہ چیز ہے جو طبیعی اور فردی یا جماعتی قوت کو اعتباری (*) قوت یا اقتدار میں بدل دیتی ہے۔ ان کے نزدیک لیجیٹیمیسی یہی ہے۔
پولیٹیکل سائنس میں لیجیٹیمیسی سے مراد حق ہونا، حقانیت، شرعی حیثیت کا حامل ہونا اور حق پر ہونا، نہیں ہے۔ سیاسیات میں اقتدار کی روش سے بحث ہوتی ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ جو آپ حق و باطل کی بات کرتے ہیں "یہ علمی بات نہیں ہے"۔
وہ کہتے ہیں کہ "علمی نہیں ہے" چنانچہ ہم اب دیکھتے ہیں کہ ان کی نگاہ میں "علم" کیا ہے؟
ان کے نزدیک علم ہر اس وسیلے کا نام ہے جو آپ کی مدد کرے تا کہ آپ زیادہ تیزرفتاری سے اور کم خرچ پر اقتدار حاصل کرسکیں اور اس کا تحفظ کرسکیں۔ چاہے یہ وسیلہ مکاری، دھوکہ دہی یا حیلہ گری ہو، فوجی بغاوت ہو یا پھر جمہوریت بمعنی ڈیموکریسی ہو۔
اب اگر آپ دینی یا اخلاقی اصولوں کے مطابق انہیں قانونی یا غیر قانونی کا نام دیتے ہیں یا ان ہی اصولوں کے مطابق انہیں مشروع Legitimate یا غیر مشروع Illegitimate قرار دیتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ان معیاروں اور ان کے لئے مصداق یابی کے اس عمل کا علم سیاسیات سے کوئی تعلق نہیں ہے!۔
چنانچہ ہم خود ان سیاسیات کو قابل قبول نہیں سمجھتے۔ یہ وہی علمانی (Secular) سیاست ہے جس کا مدار و محور دنیا اور جس کا دارومدار دنیا پرستی پر ہے۔
امیرالمؤمنین علیہ السلام نے دو قسم کی سیاست متعارف کرائی ہے؛ شیطانی (Evil Politics) اور عقلانی سیاست (Rational Politics) اس سیاست سے مراد عقلانیت ہے جو تربیت اور حقیقت و اخلاق و عدل سے جُڑا ہوا اور متصل ہے۔ وہاں طاقت اور دولت ہدف ہے اور یہاں یہ سب وسائل ہیں۔
آپ دیکھ رہے ہیں کہ سیاسیات کی دو قسمیں ہیں؛ اس کے باوجود بعض لوگوں کا اصرار ہے کہ ہم سیاسیات کو اسلامی اور غیر اسلامی سیاسیات میں تقسیم نہ کریں۔
مشروعیت اور قانونی جواز مغربی سیاسیات کی تعریف کے مطابق یہ ہے کہ "یہ ہرگز طے نہیں ہے کہ حق حاکمیت (Right of Governance) کے لئے کوئی فلسفی اور برہانی دلیل (Philosophic & Demonstrarional logic) بھی ہو"۔ میں یہ نہیں کہتا کہ "ضرورت نہیں ہے کہ قانونی حیثیت حاصل کرنے کے لئے کوئی برہانی اور فلسفی دلیل نہ ہو، یہ بھی نہیں کہتا کہ ضروری نہیں ہے کہ اس کے لئے ایسی دلیل موجود ہو کیونکہ ممکن ہے کہ ان کے ہاں کسی حاکمیت کی مشروعیت کی کوئی برہانی یا فلسفی دلیل بھی ہو۔ لیکن اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے؛ کیونکہ ہر وہ چیز جو شہریوں کی اطاعت پذیری کا سبب بنے اور اسے یقینی بنائے اور اطاعت پذیری کو فروغ دے وہی قانونی جواز اور وہی مشروعیت اور وہی لیجیٹیمیسی ہے۔
یہ عین وہی عبارتیں اور درسی متون اور سیاسیات کے میدان میں ہمارے آکادمک اور جامعاتی دروس ہیں۔
حق و باطل، عدل و ظلم، رشد و غَیّ (ہدایت و گمراہی)، کو ان مسائل میں کوئی عمل دخل نہیں دیا جاتا۔
فلسفۂ سیاست میں البتہ مشروعیت یا لیجیٹیمسی کا نسبتاً زیادہ گہرائی سے جائزہ لیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ نسبتاً زیادہ فلسفیانہ انداز سے سلوک کیا جاتا ہے لیکن سیاسیات کے اندر مشروعیت کے لئے اخلاقی اور بنیادی دلیل و سبب کا لحاظ نہیں کیا جاتا۔ زیادہ تر طاقت و اقتدار حاصل کرنے اور اس کا تحفظ کرنے کے میکینزم اور طاقت و اقتدار کو منظم اور ریگولرائز کرنے سے بحث ہوتی ہے؛ ان کا اس ضمن میں حکومت کو تشکیل دینے والے اجزاء و عناصر سے کوئی سروکار نہیں ہے سوائے ان امور کے جو ظاہری اور نمائشی ہیں۔
اس موضوع پر بحث نہیں ہوتی کہ ایک حکومت اپنے عوام سے اطاعت کی درخواست کیوں کرے؟ کیوں؟ اس کیوں کا کا سیاسیات میں کوئی بھی مدلل اور فلسفی جواب نہیں دیا جاتا۔
کہتے ہیں اس کا سیاسیات سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔
کہتے ہیں کہ یہ دینی فلسفے سے تعلق رکھتا ہے اور اس کا تعلق اخلاقیات سے ہے؛ سیاست میں ہم حقیقی سیاست (Real Politics) کے درپے ہیں۔ اب ذرا دیکھتے ہیں کہ ان کے ہاں حقیقت پسندانہ سیاست کا مطلب کیا ہے؟
حقیقت پسندانہ سیاست کا کا مطلب یہ ہے کہ آپ اسی وقت کیونکر تیزرفتاری سے کم خرچ پر اقتدار حاصل کرسکتے ہیں اور اس کا تحفظ کرسکتے ہیں؟ صرف اور صرف طاقت و اقتدار کے لئے کوشش کریں اور بس۔ وہ ہمارے باتیں سن کر کہتے ہیں کہ یہ مباحث علمی نہیں ہیں، حقانیت کو الگ کرکے رکھیں؛ اور پھر اسی سیاست کو علمی اور ماڈرن سیاست کا نام بھی دیتے ہیں!۔
[مگر] اس سیاست میں کونسی چیز جدید ہے؟ [یا پھر شاید یہ سیاست آپ کے ہاں جدید ہے ورنہ ہمارے ہاں تو یہ بہت ہی پرانی ہے اور اس زمانے سے تعلق رکھتی ہے جب ہم کہتے تھے کہ حکومت الہی ہے اور مخالفین کہتے تھے کہ رسالت آپ کی حکومت ہماری؛ اور انھوں نے حکومت کو الہیت سے الگ کردیا یعنی] یہ تو وہی سیاست ہے جو معاویہ اور یزید نے نافذ کی تھی۔ اختلاف صرف یہ ہے کہ وہ اسی سیاست پر مذہب کی مہر بھی لگا دیتے تھے اور تم نے یہ مہر اس سے اٹھا دی ہے۔
ہم پوچھتے ہیں کہ آپ کیوں کہتے ہیں کہ جمہوریت یا ڈیموکریسی کے بازار میں معاشیات اور سیاست کو مطلق اور سو فیصد آزاد ہونا چاہئے اور اسے فلسفی، اخلاقی اور قانونی و حقوقی اصولوں سے مقید نہیں ہونا چاہئے؟ سیاسیات میں عام طور پر مشروعیت یا لیجیٹیمیسی کو عمرانیاتی اصطلاحات (Sociological Terminlolgy) کے ذریعے واضح کیا جاتا ہے۔ کیونکہ اس نقطہ نظر سے مشروعیت صرف اور صرف معاشروں میں اثر و رسوخ بڑھانے کی قوت کے عنوان سے زیر بحث آتی ہے اور اس میں قابل نفاذ اقتدار کی مقدار سے بحث کی جاتی ہے جس کے لئے دلیل پیش کرنے کی کوشش تک نہیں کی جاتی۔ لہذا سیاسیات کے میدان میں جب لیجیٹمیسی کی بات سامنے آتی ہے تو اس میں محض مقبولیت کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔ البتہ اتنا بھی اس قسم کے نظام میں عروج کی صورت میں ہوتا ہے یعنی صرف اس وقت ان مسائل کا لحاظ رکھا جاتا ہے جب حکومت جمہوری ہو۔
کبھی تو سیاست کے پس پردہ نہایت پیچیدہ اور خفیہ آمریت ہوتی ہے؛ کبھی سیاست کے پس پردہ اغنیاء اور صاحبان ثروت کی خفیہ حکمرانی (Oligarchy) ہوتی ہے اور یہ خفیہ آمریت یا اغنیاء کی خفیہ حکمرانی سیاست کے پس منظر میں اور جمہوریت کے پیش منظر میں اور بالکل سامنے ہوتی ہے۔ تاہم جمہوریت کی خالص ترین قسم ـ جو ابھی میدان عمل میں پرکھنے کے مرحلے تک بھی نہیں پہنچی اور فرض کی حدود تک محدود ہے۔ حتی کہ وہ خود کہتے ہیں کہ یہ جمہوریت ابھی تک عملی جامہ نہیں پہن سکی ہے اور اب تک ان کے لئے ایک آرزو ہے ـ میں بھی عمرانیاتی اصطلاحات سے فائدہ لیا جاتا ہے۔ جبکہ فلسفی اصطلاحات سے گریز کیا جاتا ہے اور ان سے کامیابی اور توفیق مراد لی جاتی ہے۔ مشروعیت اور حقانیت کے لئے سیاسی مشروعیت میں کوئی حصہ مقرر نہیں کیا گیا ہے۔ اصل مسئلہ اس مشروعیت پر عوامی اعتماد کا ہے یعنی "مقبولیت"؛ ورنہ تو بذات خود مشروعیت سے بھی ان کو کوئی سروکار نہیں ہے۔
اس سلسلے میں ایک مثال جس پر دنیا کی سطح پر سیاسی علوم یا سیاسیات میں بحث ہوتی ہے۔
ماکس ویبر (Max Weber) مشروعیت یا حق حکومت کے نظریہ پردازوں میں سے ہیں؛ فلسفہ کی دنیا میں انہیں "سرمایہ داری کا مارکس" شمار کیا جاتا ہے [کارل مارکس کے مقابلے میں جو کمیونزم یا سوشلزم کے نظریہ پرداز ہیں] وہ اپنی کاوشوں میں "حقِ حاکمیت، حقِ حاکمیت کا منشأ اور غایتِ حاکمیت (Extremity of Rule) کے بارے بھی کہیں بھی سنجیدہ فلسفی بحث نہیں کرتے؛ دوسروں کی باتیں ضرور نقل کرتے ہیں لیکن کہیں بھی کوئی دلیل پیش نہیں کرتے۔ جب وہ مشروعیت کی تقسیم کرنا شروع کر دیتے ہیں تو مشروعیت کی تعریف کرتے ہوئے مشروعیت اور حقّ کے بارے میں عمرانی اور معاشرتی نقطہ نظر بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مشروعیت سے مراد کامیابی اور عوامی مقبولیت اور معاشرتی قبولیت (Social Acceptation) ہے وہ مشروعیت کو حکومت کی جانب سے حکومت کرنے کی دلیل قرار نہیں دیتے۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ دونوں ضروری ہیں۔
اگرچہ لیجیٹیمیسی اور حقّ سیاست کے اہم ترین موضوعات میں سے ہے لیکن ماکس ویبر (Max Weber) سیاسی اجبار (Political Obligation) کو مشروعیت کی بنیادی مشکل قرار دیتے ہیں؛ سو ان کے ہاں بھی حکومت کے لئے کہیں فلسفی اور اخلاقی دلیل نہیں دکھائی دیتی۔ ان کو صرف معاشرے پر اقتدار کے نفاذ کی کیفیت کی تو فکر ہے تا ہم حق و باطل کی کوئی فکر نہیں ہے۔ کہتے ہیں حکومت کی بنیاد معاشرے کا عرف (Folkway) اور تاریخ یا پھر شخصیت کی اپنی قائدانہ صلاحیت (Charisma) ہے یا پھر بعض قوانین اور جدیدتر قانونی طاقت (Legal Power) ہے۔
دوسری طرف سے اس تفکر کے مخالفین بھی اسی شکل میں بحث کرتے ہیں۔ نیومارکسسٹس کہتے ہیں کہ سرمایہ داری نظام میں شہریوں کی رضا و رغبت کے سرمایہ دارانہ مفہوم (Capitalistic Conception about people’s Acquiescence) کو ـ جو لبرل جمہوریت کی بنیاد ہے ـ مشروعیت یا حق حاکمیت سمجھی جاتی ہے، یہ کیسی مشروعیت ہے؟ شہریوں کی رضا و رغبت سے کیا مراد ہے؟ کہتے ہیں کہ وہ میکنزم ـ یعنی اصلاحات اور جمہوریت، رفاہ و فلاح اور سرمایہ داری، جس ـ کے ذریعے عوام کو راضی رکھا جاتا ہے یہ ظاہراً معاشرتی طبقات میں موجودہ تضادات کو حل کرنے کی کوشش ہے؛ کہتے ہیں یہ حق حاکمیت یا مشروعیت نہیں ہے بلکہ ایک قسم کے نظریاتی تسلط (Ideological Hegemony) کا تحفظ ہے۔
لبرل ڈیموکریسی میں عوامی حقوق اہم نہیں ہیں؛ آپ اس تسلط اور سرمایہ دارانہ نظریئے کا تحفظ کرنا چاہتے ہیں لیکن کیسے؟

ادامه نوشته

اربعینِ حسینی با کاروانِ عشق


قریبا چودہ صدیاں بیت گئیں لیکن واقعہ کربلا آج بھی اسی طرح زندہ ہے، آج بھی غمِ حسین علیہ السلام میں قلب فگار ہیں اور آنکھیں  خون کے آنسو روتی ہیں۔ اگر ایک سروے انجام دیا جائے کہ جسکا عنوان یہ ہو کہ" کس شخصیت کے لئے دنیا میں سب سے زیادہ آنسو بہائے گئے، بہائے جاتے ہیں اور بہائے جائیں گے" تو یقینا جواب میں حسین علیہ السلام کا نام لیا جائے گا۔ واقعہ کربلا سے لے کر آج تک اور تا قیامت، یہ وہ واحد ہستی ہیں کہ جسے یاد رکھا گیا اور رکھا جائے گا۔ جب اور جہاں حسین (ع) کا نام آئے گا وہاں دیگر شھیدان و غازیانِ کربلا کو بھی فراموش
” ہر سال محرم آتا ہے اور ہمارے دلوں پر لگے اس زخم کو تازہ کر جاتا ہے، وہ زخم کہ جس پر سال کے باقی مہینوں میں ہلکا سا کھرنڈ بن جاتا ہے لیکن محرم کے آتے ہی اس زخم سے تازہ خون رسنا شروع ہو جاتا ہے، بارِ الھا، یہ کیسا غم ہے جو کم ہی نہیں ہوتا، زمانے کا دستور ہے جب کوئی فوت ہو جاتا ہے تو اول روزِ مرگ، پھر سوم، اسکے بعد دسواں، اور آخر میں چالیسواں، سال کے بعد برسی ایک سال، دو سال، تین سال، دس سال، بیس سال اور پھر فراموشی۔ گر نہیں ہے تو امام حسین (ع) کے لئے نہیں ہے اور نہ ہو گی، یہ معجزہ نہیں تو اور کیا ہے؟ “
نہیں کیا جائے گا۔
کربلا وہ سرزمیں کہ جسکا نام سنتے ہی دل سے اک آہ سی اٹھتی ہے۔ کربلا وہ ریگستانِ خشک و بےآب جو انسانیت اور کمال کا بیکراں سمندر یے کہ جس کے اندر عظیم گوھر، مظلومیت کے غلاف میں پنھاں ہیں جنکو ڈھونڈنے کے لئے چشمِ بصیرت کی ضرورت ہے، ان کی تلاش کے لئے ماہر غواص چاہییں، کیونکہ سمندر کی تہہ میں اترنے کے لئے بڑے دل گردے کی ضرورت ہوتی ہے، یہ ہر کسی کا کام نہیں، اسکے لئے جوانمردی اور معرفت کی ضرورت ہے۔ 
ہر سال محرم آتا ہے اور ہمارے دلوں پر لگے اس زخم کو تازہ کر جاتا ہے، وہ زخم کہ جس پر سال کے باقی مہینوں میں ہلکا سا کھرنڈ بن جاتا ہے لیکن محرم کے آتے ہی اس زخم سے تازہ خون رسنا شروع ہو جاتا ہے، بارِ الھا، یہ کیسا غم ہے جو کم ہی نہیں ہوتا، زمانے کا دستور ہے جب کوئی فوت ہو جاتا ہے تو اول روزِ مرگ، پھر سوم، اسکے بعد دسواں، اور آخر میں چالیسواں، سال کے بعد برسی ایک سال، دو سال، تین سال، دس سال، بیس سال اور پھر فراموشی۔ گر نہیں ہے تو امام حسین (ع) کے لئے نہیں ہے اور نہ ہو گی، یہ معجزہ نہیں تو اور کیا ہے؟ ہر سال امام حسین (ع) اور ان کی اولاد و اصحاب کے لئے یہ ایام منائے جاتے ہیں اور ہر آنے والے سال میں پچھلے سالوں سے زیادہ زور و شور سے یہ اہتمام کیا جاتا ہے۔ چودہ سو سال سے یہ غم اسی طرح منایا جا رہا ہے، یہ صریح معجزہ ہے سب کو نظر آتا ہے سوائے ان کے کہ جن کے دلوں پر خدا نے "صم بکم عمی" کی مہر لگا دی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بصیرت سے محروم ہیں، جو ان ہستیوں کی درست شناخت نہیں رکھتے۔
اس سال بھی محرم آیا اور ان تمام مراحل کو طے کرتے ہوئے آج ۱۹ صفر المظفر کو ہم شب اربعین حسینی پہ آ پہنچے ہیں۔ "شب اربعین" حسین بن علی (ع) کی شھادت کی چالیسویں شب کو کہا جاتا
” اس دن زیارتِ امام حسین (ع) پڑھنا مستحب ہے اور یہ زیارت "زیارتِ اربعین" کے نام سے معروف ہے، شیخ طوسی رہ نے زیارتِ اربعین کی سند کو حضرت امام صادق (ع) سے کچھ اسطرح سے نقل کیا ہے، "السلام علی ولی الله و حبیبه، السلام علی خلیل الله و نجیبه، السلام علی صفی الله و ابن صفیه...، اس کی سند موثق ہے کیونکہ اس مطلب کو قرنِ پنجم کے انتہائی معتبر شیعہ عالم شیخ طوسی رہ نے نقل کیا ہے، “
ہے، اور  "روز اربعین" انکے چہلم کا دن ہے۔  اس شب و روز میں امام (ع) کے عاشقان و پیروان ذکر مصیبت کرتے ہیں اور آنسو بہاتے ہیں۔ یہ وہ حق و عشق کا راستہ ہے کہ جو اس کو جاری رکھے گا وہ کبھی منحرف نہیں ہو گا۔

اولین اربعين:

روایات کے مطابق  امام حسين (ع) کی شهادت کے بعد انکے اولین اربعین کے دن صحابی رسول خدا (ص)، جابر بن عبداللہ انصاری اور عطیہ عوفی امام حسین کی تربت کی زیارت کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، اور بعض کتب میں نقل ہوا ہے کہ اسی اربعین کے دن کربلا کے اسراء اہل بیت عصمت و طہارت کا کاروان جو اس مصیبت عظیم کے بعد شام سے مدینہ واپس جا رہا تھا، راستے میں ان کی ملاقات جابر بن عبداللہ  سے ہوتی ہے، البتہ یہاں اس نکتے کہ طرف اشارہ کرتے چلیں کہ بعض مورخان اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ جن میں مرحوم محدث قمی شامل ہیں، اور اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے "منتھی الآمال" میں مختلف دلائل کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں، کہ جابر سے اہل بیت کی یہ ملاقات اولین اربعینِ حسینی پہ نہیں ہوئی، البتہ اکثر علماء کا اس بات پر اتفاق ہے جابر بن عبداللہ کی اہل بیت (ع)  سے اولین اربعین پہ ہی ملاقات ہوئی تھی، اور جابر قبرِ امام حسین (ع) کا پہلا زائر ہے۔
اس دن زیارتِ امام حسین (ع) پڑھنا مستحب ہے اور یہ زیارت "زیارتِ اربعین" کے نام سے معروف ہے، شیخ طوسی رہ نے زیارتِ اربعین کی سند کو حضرت امام صادق (ع) سے کچھ اسطرح سے نقل کیا ہے،
"السلام علی ولی الله
” پيامبر حکيم (ص) فرماتے ہیں، «من اخلص لله اربعين يوماً فجر الله ينابيع الحكمة من قلبه على لسانه»: جو شخص اپنے تمام اعمال کو چالیس دن تک صرف اور صرف خدا کے لئے خالص کر لے خدا حکمت کو اس کی زبان پر جاری کر دیتا ہے۔ “
و حبیبه، السلام علی خلیل الله و نجیبه، السلام علی صفی الله و ابن صفیه...،"
اس کی سند موثق ہے کیونکہ اس مطلب کو قرنِ پنجم کے انتہائی معتبر شیعہ عالم شیخ طوسی رہ نے نقل کیا ہے، اور بطور طبیعی جو جایگاہ زیارتِ اربعین کی آج شیعوں کے درمیان ہے وہ پہلے نہیں تھی وگرنہ جابر کی طرح اور لوگ بھی بالخصوص اس دن امام کی قبرِ مبارک کے زائر ہوتے، یہ سنت آج بھی عراقی و غیر عراقی لوگوں کے درمیان مرسوم ہے اور اس دن پوری دنیا سے عاشقانِ امام حسین (ع) انکے مرقدِ مطھر پر جمع ہوتے ہیں۔ 

ادامه نوشته

ادیان الٰہی میں قربانی کا تصور اور شخصیت امام حسین

ماخوذ از کتاب "دینی تعلیم " علامہ طباطبائی،مرتبہ: سید مہدی آیت اللہی ۔مترجم،سید قلبی حسین

حضرت امام حسین علیہ السلام اپنے برادر بزرگوار کے بعد حکم خد ا اور اپنے بھائی کی وصیت سے امامت کے عہدہ پرفائز ہوئے او رمعاویہ کی خلافت کے دوران تقریباًدس سال زندگی گزاری اوراس مدت میں اپنے بھائی حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام کی سیرت پر عمل کرتے رہے اور جب تک معاویہ زندہ تھا امام کوئی موثرکام انجام نہ دے سکے ۔تقریباً ساڑھے نوسال کے بعد معاویہ مر گیا ،اورخلافت جوسلطنت میں تبد یل ہو چکی تھی اس کے بیٹے یزید کو ملی ۔ 
یزید ،اپنے ریاکار باپ کے برعکس ،ایک مست ،مغرور،عیاش،فحاشی میں ڈوبا ہوا اور لاابالی جوان تھا ۔یزید نے حکومت کی باگ ڈورسنبھالتے ہی مدینہ کے گورنر کو حکم دیا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام سے اس کے لئے بیعت لے ورنہ ان کا سر قلم کر کے اس کے پاس بھیجدے ۔اس کے بعد مدینہ کے گورنر نے حکم کے مطابق امام حسین علیہ السلام سے یزید کی بیعت کا تقاضا کیا،آپ نے مہلت چاہی اور رات کو اپنے اہل خانہ کے ساتھ راہی مکہ ہوئے ۔اورحرم خدا میں ،جواسلام میں ایک سرکاری پناہ گاہ ہے ،پناہ لی ،لیکن وہاں پر کچھ مہینے گزار نے کے بعد ،سمجھ گئے کہ یزید کسی قیمت پر آپ سے دست بردارہونے والا نہیںہے ،اوربیعت نہ کرنے کی صورت میں ،آپ کاقتل ہونا قطعی ہے۔اور دوسری جانب سے اس مدت کے دوران عراق سے کئی ہزار خطوط حضرت کی خدمت مین پہنچے تھے کی جن میں آپ کی مدد کاوعدہ دے کر ظالم بنی امیہ کے خلاف تحریک چلانے کی دعوت د ی تھی ۔
امام حسین علیہ السلام عمومی حالات کے مشاہدہ سے اورشواہدوقرائن سے سمجھ چکے تھے کہ آپ کی تحریک ظاہری طورپر آگے نہیں بڑھ سکتی ہے،اس کے باوجود یزید کی بیعت سے انکار کرکے قتل ہونے پر آمادہ ہوئے اور اپنے ساتھیوں کے ہمراہ تحریک کا آغاز کر کے مکہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہوئے۔راستہ میں سرزمین کربلا (کوفہ سے تقریبا ً ستر کلومیٹر پہلے) دشمن کے ایک بڑے لشکر سے آپ کی مڈ بھیڑ ہوئی۔
امام حسین علیہ السلام راستہ میں لوگوں کو اپنی مدد کے لئے دعوت دے رہے تھے اوراپنے ساتھیوں سے تذکرہ کرتے تھے کہ اس سفر میں قطعی طورپر قتل ہونا ہے اور اپنا ساتھ چھوڑ نے پر اختیا ر دیتے تھے، اسی لئے جس دن آپ کا دشمن سے مقابلہ ہوا توآپ کے گنے چنے جان نثار ساتھی باقی بچے تھے جنہوں نے آپ پر قربان ہونے کا فیصلہ کیا تھا ،لہٰذاوہ بڑی آسانی کے ساتھ دشمن کی ایک عظیم فوج کے ذریعہ انتہائی تنگ محاصرہ میں قرار پائے اور یہاں تک کہ ان پر پانی بھی بندکیاگیا ،اور ایسی حالت میں امام حسین علیہ السلام کو بیعت کرنے یا قتل ہونے کے درمیان اختیار دیاگیا ۔
امام حسین علیہ السلام نے بیعت کرنے سے انکار کیااورشہادت کے لئے آمادہ ہوگئے۔ ایک دن میں صبح سے عصر تک اپنے ساتھیوں کے ساتھ دشمن سے لڑتے رہے ۔اس جنگ میں خود امام،آپ کے بیٹے، بھائی ،بھتیجے ،چچیرے بھائی اورآپ کے اصحاب کہ جن کی کل تعدادتقریباستر افراد کی تھی، شہید ہوئے ۔صرف آپ کے بیٹے امام سجاد علیہ السلام بچے،جو شدیدبیمار ہونے کی وجہ سے جنگ کرنے کے قابل نہیں تھے ۔
دشمن کے لشکر نے،حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد مال کو لوٹ لیا اورآپ کے خاندان کو اسیر بنا لیا اورشہداء کے کٹے ہوئے سروں کے ہمراہ اسیروں کو کوفہ اور کوفہ سے شام لے جایا گیا ۔
اس اسیری میں امام سجاد علیہ السلام نے شام میں اپنے خطبہ سے اسی طرح حضرت زینب کبری سلام اللہ علیہا نے کوفہ کے مجمع عام میں اور کوفہ کے گورنر ابن زیاد کے دربار میں اور شام میں یزید کے دربار میں اپنے خطبوں سے حق سے پردہ اٹھایا اور بنی امیہ کے ظلم وستم کو دنیا والوں کے سامنے آشکار اور واضح کردیا ۔
بہرحال امام حسین علیہ السلام کی تحریک ،ظلم ، و زیادتی اورلاابالی کے مقابلہ میں خود آپ اورآپ کے فرزندوں ،عزیزوں اوراصحاب کے پاک خون کے بہنے اورمال کی غارت اورخاندان کی اسیری پر ختم ہو ئی ۔یہ تحریک اپنی خصوصیات و امتیازات کے پیش نظر اپنی نوعیت کا ایک ایسا واقعہ ہے انقلاب کی تاریخ کے صفحات پر رقم ہے ۔یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ اسلام اس واقعہ سے زندہ ہے اور اگریہ واقعہ رونما نہ ہوتا تو بنی امیہ اسلام کا نام ونشان باقی نہ رکھتے۔
اس جانکاہ واقعہ نے نمایاں طور پر پیغمبرۖ کے اہل بیت علیہم السلام کے مقاصد کو بنی امیہ اوران کے طرفداروں کے مقاصد سے جدا کر کے حق وباطل کوواضح وروشن کردیا۔
یہ واقعہ نہایت کم وقت میں اسلامی معاشرہ کے کونے کونے میں منتشر ہوا اورشدیدانقلابوں اور بہت زیادہ خونریزوں کا سبب بنا جو بارہ سال تک جاری رہے وآخر کاربنی امیہ کے زوال کا ایک بنیادی سبب بنا۔
اس واقعہ کا واضح ترین اثر لوگوں کی ایک بڑی تعداد کی معنوی پرورش کے نتیجہ میں رونما ہوا جن کے دلوں میں علی بن ابیطالب کی ولایت نے جڑ پکڑ لی اوران لوگوں نے خاندان رسالت کی دوستی کواپنالائحہ عمل بنالیا اور دن بدن ان کی تعداد اور طاقت بڑھتی گئی ۔اور آج کی دنیامیں تقریباًدس کروڑمسلمان شیعہ کے نام سے موجود ہیں ۔

www.alhassanain.com

زیارت عاشورا


زيارة يوم عاشورا

حَدَّثَنِي حَكِيمُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ حَكِيمٍ وَ غَيْرُهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى الْهَمْدَانِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ الطَّيَالِسِيِّ عَنْ سَيْفِ بْنِ عَمِيرَةَ وَ صَالِحِ بْنِ عُقْبَةَ جَمِيعاً عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْحَضْرَمِيِّ وَ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ عَنْ صَالِحِ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ مَالِكٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْبَاقِرِ ع قَالَ: مَنْ زَارَ الْحُسَيْنَ ع يَوْمَ عَاشُورَاءَ مِنَ الْمُحَرَّمِ- حَتَّى يَظَلَّ عِنْدَهُ بَاكِياً لَقِيَ اللَّهَ تَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِثَوَابِ أَلْفَيْ [أَلْفِ‏] أَلْفِ حِجَّةٍ وَ أَلْفَيْ [أَلْفِ‏] أَلْفِ عُمْرَةٍ-وَ أَلْفَيْ أَلْفِ غَزْوَةٍ وَ ثَوَابُ كُلِّ حِجَّةٍ وَ عُمْرَةٍ وَ غَزْوَةٍ كَثَوَابِ مَنْ حَجَّ وَ اعْتَمَرَ وَ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ص وَ مَعَ الْأَئِمَّةِ الرَّاشِدِينَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ

  السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا خِيَرَةَ اللَّهِ وَ ابْنَ خِيَرَتِهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ وَ ابْنَ سَيِّدِ الْوَصِيِّينَ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ فَاطِمَةَ سَيِّدَةِ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا ثَارَ اللَّهِ وَ ابْنَ ثَارِهِ وَ الْوِتْرَ الْمَوْتُورَ السَّلَامُ عَلَيْكَ وَ عَلَى الْأَرْوَاحِ الَّتِي حَلَّتْ بِفِنَائِكَ وَ أَنَاخَتْ بِرَحْلِكَ عَلَيْكُمْ مِنِّي جَمِيعاً سَلَامُ اللَّهِ أَبَداً مَا بَقِيتُ وَ بَقِيَ اللَّيْلُ وَ النَّهَارُ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ لَقَدْ عَظُمَتِ الرَّزِيَّةُ وَ جَلَّتِ الْمُصِيبَةُ بِكَ عَلَيْنَا وَ عَلَى جَمِيعِ أَهْلِ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ فَلَعَنَ اللَّهُ أُمَّةً أَسَّسَتْ أَسَاسَ الظُّلْمِ وَ الْجَوْرِ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ وَ لَعَنَ اللَّهُ أُمَّةً دَفَعَتْكُمْ عَنْ مَقَامِكُمْ وَ أَزَالَتْكُمْ عَنْ مَرَاتِبِكُمُ الَّتِي رَتَّبَكُمُ اللَّهُ فِيهَا وَ لَعَنَ اللَّهُ أُمَّةً قَتَلَتْكُمْ- وَ لَعَنَ اللَّهُ الْمُمَهِّدِينَ لَهُمْ بِالتَّمْكِينِ مِنْ [قِتَالِكَ‏] قِتَالِكُمْ بَرِئْتُ إِلَى اللَّهِ وَ إِلَيْكُمْ مِنْهُمْ وَ مِنْ أَشْيَاعِهِمْ وَ أَتْبَاعِهِمْ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ إِنِّي‏ سِلْمٌ‏ لِمَنْ‏ سَالَمَكُمْ‏ وَ حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَكُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَعَنَ اللَّهُ آلَ زِيَادٍ وَ آلَ مَرْوَانَ وَ لَعَنَ اللَّهُ بَنِي أُمَيَّةَ قَاطِبَةً وَ لَعَنَ اللَّهُ ابْنَ مَرْجَانَةَ وَ لَعَنَ اللَّهُ عُمَرَ بْنَ سَعْدٍ وَلَعَنَ اللَّهُ شَمِراً وَ لَعَنَ اللَّهُ أُمَّةً أَسْرَجَتْ وَ أَلْجَمَتْ وَ تَهَيَّأَتْ لِقِتَالِكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَ أُمِّي لَقَدْ عَظُمَ مُصَابِي بِكَ فَأَسْأَلُ اللَّهَ الَّذِي أَكْرَمَ مَقَامَكَ أَنْ يُكْرِمَنِي بِكَ وَ يَرْزُقَنِي طَلَبَ ثَارِكَ مَعَ إِمَامٍ مَنْصُورٍ مِنْ آلِ مُحَمَّدٍ ص اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي وَجِيهاً عِنْدَكَ بِالْحُسَيْنِ [بِالْحُسَيْنِ عِنْدَكَ‏]- فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ يَا سَيِّدِي يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ إِنِّي أَتَقَرَّبُ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى وَ إِلَى رَسُولِهِ وَ إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ وَ إِلَى فَاطِمَةَ وَ إِلَى الْحَسَنِ وَ إِلَيْكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ وَ سَلَّمَ وَ عَلَيْهِمْ بِمُوَالاتِكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ وَ بِالْبَرَاءَةِ مِنْ أَعْدَائِكَ وَ مِمَّنْ قَاتَلَكَ وَ نَصَبَ لَكَ الْحَرْبَ وَ مِنْ جَمِيعِ أَعْدَائِكُمْ وَ بِالْبَرَاءَةِ مِمَّنْ أَسَّسَ الْجَوْرَ وَ بَنَى عَلَيْهِ بُنْيَانَهُ وَ أَجْرَى ظُلْمَهُ وَ جَوْرَهُ عَلَيْكُمْ وَ عَلَى أَشْيَاعِكُمْ بَرِئْتُ إِلَى اللَّهِ وَ إِلَيْكُمْ مِنْهُمْ وَ أَتَقَرَّبُ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ إِلَيْكُمْ بِمُوَالاتِكُمْ وَ مُوَالاةِ وَلِيِّكُمْ وَ الْبَرَاءَةِ مِنْ أَعْدَائِكُمْ وَ مِنَ النَّاصِبِينَ لَكُمُ الْحَرْبَ وَ الْبَرَاءَةِ مِنْ أَشْيَاعِهِمْ وَ أَتْبَاعِهِمْ إِنِّي سِلْمٌ لِمَنْ سَالَمَكُمْ وَ حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَكُمْ- وَ وَلِيُّ [مُوَالٍ‏] لِمَنْ وَالاكُمْ وَ عَدُوٌّ لِمَنْ عَادَاكُمْ فَأَسْأَلُ اللَّهَ الَّذِي أَكْرَمَنِي بِمَعْرِفَتِكُمْ- وَ مَعْرِفَةِ أَوْلِيَائِكُمْ وَ رَزَقَنِي الْبَرَاءَةَ مِنْ أَعْدَائِكُمْ أَنْ يَجْعَلَنِي مَعَكُمْ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ وَ أَنْ يُثَبِّتَ لِي عِنْدَكُمْ قَدَمَ صِدْقٍ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ- وَ أَسْأَلُهُ أَنْ يُبَلِّغَنِي الْمَقَامَ الْمَحْمُودَ لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ وَ أَنْ يَرْزُقَنِي طَلَبَ ثَارِكُمْ- مَعَ إِمَامٍ مَهْدِيٍّ نَاطِقٍ لَكُمْ وَ أَسْأَلُ اللَّهَ بِحَقِّكُمْ وَ بِالشَّأْنِ الَّذِي لَكُمْ عِنْدَهُ- أَنْ يُعْطِيَنِي بِمُصَابِي بِكُمْ أَفْضَلَ مَا أَعْطَى مُصَاباً بِمُصِيبَةٍ [بِمُصِيبَتِهِ‏] أَقُولُ‏ إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ‏ يَا لَهَا مِنْ مُصِيبَةٍ مَا أَعْظَمَهَا وَ أَعْظَمَ رَزِيَّتَهَا فِي الْإِسْلَامِ- وَ فِي جَمِيعِ أَهْلِ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ [الْأَرَضِينَ‏] اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي فِي مَقَامِي هَذَا مِمَّنْ‏تَنَالُهُ مِنْكَ صَلَوَاتٌ وَ رَحْمَةً وَ مَغْفِرَةٌ اللَّهُمَّ اجْعَلْ مَحْيَايَ مَحْيَا مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ مَمَاتِي مَمَاتَ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ ص اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا يَوْمٌ تَنَزَّلَتْ [تَنْزِلُ‏] فِيهِ اللَّعْنَةُ عَلَى آلِ زِيَادٍ وَ آلِ أُمَيَّةَ وَ ابْنِ آكِلَةِ الْأَكْبَادِ اللَّعِينِ بْنِ اللَّعِينِ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكَ فِي كُلِّ مَوْطِنٍ وَ مَوْقِفٍ وَقَفَ فِيهِ نَبِيُّكَ ص اللَّهُمَّ الْعَنْ أَبَا سُفْيَانَ وَ مُعَاوِيَةَ وَ عَلَى يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ اللَّعْنَةَ أَبَدَ الْآبِدِينَ اللَّهُمَّ فَضَاعِفْ عَلَيْهِمُ اللَّعْنَةَ أَبَداً لِقَتْلِهِمُ الْحُسَيْنَ ع اللَّهُمَّ إِنِّي أَتَقَرَّبُ إِلَيْكَ فِي هَذَا الْيَوْمِ فِي مَوْقِفِي هَذَا وَ أَيَّامِ حَيَاتِي بِالْبَرَاءَةِ مِنْهُمْ وَ اللَّعْنَةِ [بِاللَّعْنِ‏] عَلَيْهِمْ وَ بِالْمُوَالاةِ لِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ وَ أَهْلِ بَيْتِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ- ثُمَّ تَقُولُ مِائَةَ مَرَّةٍ- اللَّهُمَّ الْعَنْ أَوَّلَ ظَالِمٍ ظَلَمَ حَقَّ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ [آلِ مُحَمَّدٍ حُقُوقَهُمْ‏] وَ آخِرَ تَابِعٍ لَهُ عَلَى ذَلِكَ اللَّهُمَّ الْعَنِ الْعِصَابَةَ الَّتِي حَارَبَتِ [جَاهَدَتِ‏] الْحُسَيْنَ وَ شَايَعَتْ وَ بَايَعَتْ [تَابَعَتْ‏] أَعْدَاءَهُ عَلَى قَتْلِهِ وَ قَتْلِ أَنْصَارِهِ اللَّهُمَّ الْعَنْهُمْ جَمِيعاً- ثُمَّ قُلْ مِائَةَ مَرَّةٍ- السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ وَ عَلَى الْأَرْوَاحِ الَّتِي حَلَّتْ بِفِنَائِكَ وَ أَنَاخَتْ بِرَحْلِكَ عَلَيْكُمْ مِنِّي سَلَامُ اللَّهِ أَبَداً مَا بَقِيتُ وَ بَقِيَ اللَّيْلُ وَ النَّهَارُ وَ لَا جَعَلَهُ اللَّهُ آخِرَ الْعَهْدِ مِنْ زِيَارَتِكُمْ السَّلَامُ عَلَى الْحُسَيْنِ وَ عَلَى عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ وَ عَلَى أَصْحَابِ الْحُسَيْنِ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ- ثُمَّ تَقُولُ مَرَّةً وَاحِدَةً-اللَّهُمَّ خُصَّ أَنْتَ أَوَّلَ ظَالِمٍ ظَلَمَ آلَ نَبِيِّكَ بِاللَّعْنِ ثُمَّ الْعَنْ أَعْدَاءَ آلِ مُحَمَّدٍ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَ الْآخِرِينَ اللَّهُمَّ الْعَنْ يَزِيدَ وَ أَبَاهُ وَ الْعَنْ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ زِيَادٍ وَ آلَ مَرْوَانَ وَ بَنِي أُمَيَّةَ قَاطِبَةً إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ- ثُمَّ تَسْجُدُ سَجْدَةً تَقُولُ فِيهَا- اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ حَمْدَ الشَّاكِرِينَ عَلَى مُصَابِهِمْ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى عَظِيمِ مُصَابِي وَ رَزِيَّتِي فِيهِمْ اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي شَفَاعَةَ الْحُسَيْنِ يَوْمَ الْوُرُودِ وَ ثَبِّتْ لِي قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَكَ مَعَ الْحُسَيْنِ وَ أَصْحَابِ الْحُسَيْنِ الَّذِينَ بَذَلُوا مُهَجَهُمْ- دُونَ الْحُسَيْنِ ع صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِين۔

( كامل الزيارات، ص: 175)

 

اصلاح معاشره اور امام حسین علیه السلام

اصلا ح­معاشره اورامام حسين علیه السلام

إنَّمَا خَرَجْتُ لِطَلَبِ الإصْلَاحِ فِى أُمَّۀ جَدِّى مُحَمَّدٍأُرِيدُ أَنْ ءَامُرَ بِالْمَعْرُوفِ وَ أَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ، وَ أَسِيرَ بِسِيرَۀِ جَدِّى وَ أَبِى عَلِىِّ بْنِ أَبِى طَالِبٍ عليه السلام.{([1])“ميراخروج امت جد ميں طلب اصلاح كےلئے هے، ميں چاهتاهوں اچھائيوں كاحكم دوں اوربرائيوں سے لوگوں كو روكوں، اوراپنے جد-حضرت محمدص وحضرت عليعلیه السلام كے راسته پرچلوں.”

اصلاح معاشره ايك ايسا امرهے جس كے لئے الله تعالي نے انبياء ورسل كوبھيجا، چونكه اگر معاشره فاسد هےتو بهت جلدتباه وبربادهوجاتاهے،  اور آخرت ميں بھي عذاب اليم كامستحق هوتاهے.

لهذا الله كي طرف سے بھيجے هوئے نمائندے اپني پوري توانائي ايك جامعه ومعاشره كي اصلاح كے لئے صرف كرديتے هيں؛ تاكه يه نوع انسان دنياوي ذلت اوراُخروي عقوبت سے بچي رهے.

حضرت شيعبعلیه اسلام جواپني قوم كو باربار باطل خداؤں كي پرستش اورناپ تول ميں كمي كے بارے ميں­موعظه فرماياكرتے تھے، مگرقوم والے اپني نادانيوں اوربرائيوں پرمصررهتے تھے، اور حضرت شيعبعلیه السلام كے بارے ميں سوچتے تھے كه­يه ايك روز تھك كرخودبيٹھ جائيں گے، اور اصلاح معاشره كاتصور ان كے دل ودماغ سے نكل جائے گا.

ليكن حضرت شيعب علیه السلام اصلاح معاشره سے تھكے نهيں اور اپنے فريضه كواداكرتے رهے. چنانچه قرآن مجيدنے آپ كے دل كي گهرائيوں سے نكلے هوئے جملات كو نقل كياهے: *إِنْ أُريدُ إِلاَّ الْإِصْلاحَ مَا اسْتَطَعْتُ وَ ما تَوْفيقي‏ إِلاَّ بِاللَّهِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَ إِلَيْهِ أُنيبُ*([2])“میں تو صرف اصلاح چاہتا ہوں جہاں تک میرے امکان میں ہو میری توفیق صرف اللہ سے وابستہ ہے اسی پر میرا اعتماد ہے اور اسی کی طرف میں توجہ کررہا ہوں.”

اس آيه كريمه سے چنددرس هم كوملتے هيں:

1- جوشخص كسي معاشرے كي اصلاح كررهاهے وه ايك­دومرتبه ميں تھك نه جائے، اوركهنے نه لگے كه ميں نے اپنافريضه اداكرديا ، بلكه اپني پوري طاقت وتوانائي كواصلاح معاشره ميں لگادے.

2- اصلاح معاشره كرنا سب كے بس كي بات نهيں، بلكه اس –واجب الهيٰ- كي توفيق خداكي طرف سے هوتي هے* وَ ما تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّه*.

3- اصلاح معاشره كرنے والاقوم ومعاشره كے افراد سے عزت واحترام كي اميد نه ركھے.

بلكه اگر اس راه ميں اس كي بے عزتي بھي كي جارهي هے ، تب بھي وه خداپر توكل وبھروسه كرتے هوئے اپنے مشن كو جاري ركھے،* عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَ إِلَيْهِ أُنِيب * چونكه حقيقي عزت دينے والاصرف وصرف خداوند متعال هے، اور اس كي دي هوئي عزت كو كوئي چھين نهيں­سكتا.

* وَ تُعِزُّ مَنْ تَشاءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشاء*اے ميرے معبود توجس كو چاهتاهے عزت ديتاهے، اور جس كو چاهتاهے ذليل كرتاهے.

 

اصلاح معاشره كرنے والوں كي شرطيں:

وه افراد جو كسي معاشرے كي اصلاح كے خواهاں هيں، ياكسي معاشرے كي اصلاح ميں مصروف هيں ان كے لئے ضروري هے كه:

لوگوں كو صحيح راسته كي طرف حكمت اور موعظۀ حسنه كے ساتھ بلائيں، اور كوئي ايساطريقۀ  كاراستعمال نه كريں كه جس كي وجه سے بے راه انسان اورگمراه هوجائے، چنانچه اس حقيقت كي طرف قرآن مجيد اس طرح اشاره كررهاهے:

* ادْعُ إِلى‏ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ*الله كے راسته كي طرف حكمت اوراچھے وعظ ونصيحت كے ساتھ بلاؤ.

دوسري اور سب سے اهم شرط يه هے كه جس برائي سے وه معاشرے كي كسي فردكو روك رهاهے، مصلح خود اس كو انجام نه ديتاهو.

ايك شخص حضرت عبدالله ابن عباس كے پاس آيا اوركهنے لگا كه: ميرادل چاهتاكه ميں لوگوں كو اچھائيوں كي طرف بلاؤں، اوربرائيوں سے روكوں، اور يه كه ميں لوگوں كو وعظ و نصيحت كرؤں.

حضرت عبدالله ابن عباس نے پوچھا كيا تم نے اس كام كو شروع كردياهے، اس نے كها: ابھي نهيں، صرف ميں نے ابھي اس امر خيركا اراده كيا هے.

حضرت ابن عباس نے كها: كوئي حرج نهيں هے ليكن هوشياررهنا كه قرآن كريم كي تين آيتيں تمهيں رسوانه كرديں.

اس شخص نے گبھراكركهاوه كون سي تين آيتيں هيں كه جن سے ميں شرمنده هوسكتا هوں حضرت ابن عباس نے كها:پهلي آيت يه هے:*أَ تَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ أَنْفُسَكُمْ *([3]) کیا تم لوگوں کو نیکیوں کا حکم دیتے ہو اور خود اپنے آپ­کو بھول جاتے ہو.”

كياتم كو اس بات كا اطمينان هےكه تم اس آيت كي مذمت ميں شامل نهيں هو. اس شخص نے كها:نهيں! مجھے اطمينان نهيں هے.

پھر اس شخص نے كها:دوسري وه كون سي آيت هے جومجھے رسواكرسكتي هے؟حضرت ابن عباس نے كها:

دوسري آيت يه هے:* يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ ما لا تَفْعَلُونَ كَبُرَ مَقْتاً عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا ما لا تَفْعَلُونَ*([4])“اے­ایمان والو آخر وہ بات کیوں کہتے ہو جس پر عمل نہیں کرتے،.الله­کے نزدیک یہ­سخت ناراضگی کا سبب ہے کہ تم وہ کہو جس پر عمل نہیں کرتے ہو.”

      پھر اس شخص نے كها:اے ابن عباس تيسري وه كون سي آيت جومجھے رسوا كرسكتي هے.

حضرت ابن عباس نے كها: تيسري آيت يه هے؛* وَ ما أُريدُ أَنْ أُخالِفَكُمْ إِلى‏ ما أَنْهاكُمْ عَنْهُ*([5])“خداوند متعال نے اس آيۀ كريمه ميں حضرت شعيب، پيغمبركے قول كونقل فرماياهے كه جب ان كي قوم نے ان سےكها:آپ هميں روكنے كے بجائے وهي كام كريں جوهم كررهے هيں، اس موقع پرجناب شعيب نے فرمايا:ميں هرگزنهيں چاهتاكه جس چيزسے تم كو منع كرؤں خوددميں اس كو انجام دوں.”



[1] .فرهنگ جامع سخنان امام حسينؑ،ص329؛مناقب شهرابن آشوب،ج4،ص89.

[2] .هود،88.

[3] .بقره،44.

[4] .سورۀ صف،2و3.

[5] .سورۀ ھود،88.

ادامه نوشته

پیام کربلا اور ہم

پیام کربلا اور ہم

ڈاکٹر حیدر مہدی (کشمیری محلہ لکھنؤ)

دنیا میں ہونے والے بہترے حادثات تاریخی حیثیت کے حامل ہوتے ہیں لیکن کربلا کو ایک حادثہ سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ کر بلا ایک درسگاہ ہے۔ کربلا زمین مظلومیت پر اقدار کے ایسے چراغاں کا نام ہے جس میں تاریکی ٔ ظلم و ستم فنا کے گھاٹ اتر گئی۔ جبکہ ظلم کے سیاہ طوفان اتنے شدید تھے کہ توحید اور ایمان کے دعوے کھوکھلے ثابت ہوئے کیوں کہ جہاں توحید و ایمان کی بنیاد فقط اقرار پر ہوتی ہے وہاں اقدام کی منزل میں نام نہاد موحدین کے قدم لڑکھڑاتے نظر آتے ہیں ہم میں اکثریت کا حال آج بھی ایسا ہی ہے کہ دین اسلام کو دیگر مذاہب کی مانند اجدادی اور روایتی انداز میں اپنا رکھا ہے جبکہ قرآن و اسلام غورو فکر پر زور دیتا ہے کیوں کہ ہر انسان اپنے اعمال کا خود ذمہ دار اور اپنی فکر کا رئیس ہے۔ اعمال و عقائد میں کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا جیسا کہ امام رضا ایک ہی دستر خوان پر جب آزاد و غلام کو بیٹھاتے ہیں تو ایک صحابی نے اعتراض کیا کہ غلاموں کو الگ بیٹھا دیں تو آپ نے فرمایا کہ ہم سب کا خدا ایک ہے اور ماں باپ (آدم و حوا) بھی ایک ہیں تو آپس میں فرق کیسا جبکہ جزاء و سزا کا انحصار اعمال پر محمول ہے۔ لہٰذاظلم کے خلاف قیام اور تشدد کی آندھیوں کے درمیان زمین کربلا سجدوں کی جبینوں کو بوسہ دیتی ہے وہ مقاصد معنوی سے عاری پیاسی عبادتوں کو کسی بھی مقام فضیلت پر ٹھہرنے نہیں دیتی۔ پیغام حسینی کے حوالہ سے ہم چند نکات پر یہاں گفتگو کریں گے۔

١۔ انسان ہمیشہ سے خواہشات کا اسیر اور زندان حیوانیت کا شکار رہا ہے کیوں کہ مادی لطف جلد حاصل ہونے والا اور طشت ازبام ہوتا ہے لہٰذا انسان اس کی طرف لپکتا ہے اور معنوی و روحی کیف حقیقی لطف سے تعبیر ہے جسے قدرتی مقاصد کے صدف سے شرعی تکلیف کے ساتھ حاصل کیا جاتا ہے چونکہ انسان بغیر حضوری معرفت کے اس راہ کو آسان طریقوں سے طے نہیں کر سکتا لہٰذا وہ اس روحی کیف کو حاصل کرنے کے لیے جلد راغب بھی نہیں ہوتا ۔مادی خواہشات کی قربت اور روحی جواہر سے بُعد انسان کو ''اولئک کالانعام بل ھم اضلّ'' (وہ تو چوپائے ہیں بلکہ اس سے بھی بدتر) کا مصداق بنا دیتاہے۔

جیسا کہ پسر سعد حکومت رے کی ہوس کا ایسا شکار ہوا کہ اپنا خرابہ جہنم کو بنا بیٹھا اور حرّ و زہیر  قین معرفت الٰہی و عشق حسینی کی وادی میں ایسے کودے کہ ترک دنیا اور حیات جاودانی میں انہیں وہ لطف محسوس ہو رہا تھا جو محبت دنیا اور زندگانیِ فنا میں نہیں ملا تھا۔

کربلا عظیم مقاصد کو روشن کرتی ہوئی صبر و استقلال و قربانی کے جذبہ سے ہم کو بھر دیتی ہے کیوں کہ ان مقاصد کے حصول کا راستہ قربانی کا راستہ ہے جسے صبر و استقلال کے قدموں سے طے کیا جاتا ہے۔ لہٰذا کربلا میں ہونے اور نصرت حسین میں جان دینے کا حوصلہ رکھنے والوں کو ببانگ دہل ایسے خام حوصلوں کے اظہار کا کوئی حق حاصل نہیں اگر قربان گاہ تک اپنے قدموں سے جانے کی وہ ہمت نہیں رکھتے۔ کیوں کہ راہ حق میں قربانی کے لیے ہر وقت آمادہ اور تیار رہنا شانِ حسینیت ہے ۔جیسا کہ آل رسولi نے کربلا میں کر دکھایا جب وقت آ گیا تو معروف کو لا نے اور منکرات کو مٹانے کے لیے اس طرح میدان میں اتر آئے جیسا مانو کہ اپنی جانوں کا چراغ اپنی ہتھیلیوں پر لیے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ابن زیاد نے شہزادی زینب سے کہا کہ دیکھا اللہ نے تمہارے اہلبیت سے کیا سلوک کیا ہے۔

تو آپ نے فرمایا ''اللہ نے میرے اہلیبیت کے مقدر میں شہادت لکھی تھی وہ اپنے مقتل میں آئے اور اپنا حصہ وصول کیا '' (1)

جناب زینب نے ابن زیاد سے کہا کہ شہادت تو ان کے مقدر میں لکھی گئی تھی یعنی “ان الله شاء ان یّراک قتیلا”­(یقیناً اللہ چاہتا ہے کہ آپ کو اس کی راہ میں قتل ہوا دیکھے)­اور“ان­الله­ شاءان یرهن سبایا” (عترت قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرے) تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ امامِ حسین کا مقصد ہی قتل ہونا تھا بلکہ مقصد تو دین بچانا اور شریعت کی حفاظت تھا۔ یہ خدا کے اجمال میں تھا کہ حفاظت دین میں امام حسین قتل کر دیے جائیں گے اور چونکہ امام حسین دفترِ مشیت الٰہی سے ہم آہنگ تھے لہٰذا ایک ذمہ دار نمائندہ اپنے ہر فعل و عمل کو دفتر مشیت الٰہی کے مطابق دیکھنا چاہتا ہے اس کی ہر خوشی اپنے ہر اس عمل پر محمول ہوتی ہے جو مشیت الٰہی کے مطابق ہو خواہ اس میں جان کی بازی ہی کیوں نہ لگانا پڑے مشیت الٰہی سے اعمال کی مطابقت ایسی فرحت چہرے پر لے کر آتی ہے جو سختیوں کی کڑواہٹوں اور مصیبتوںکی گرانیوںکو اسی طرح برداشت کرنے کا حوصلہ عطاء کر دیتی ہے کہ پیر سے تیر نکال لیا جائے اور خبر بھی نہ ہو ۔

یہی وجہ تھی کہ امام حسین جو قربانیاں پیش کرتے جاتے تھے وہ وہ آپ کے چہرے کی رونق میں اضافہ ہوتا جاتا تھا چونکہ امام حسین کو اپنی شرعی ذمہ داری نبھانہ تھی لہٰذا اس مقصد کے واسطے اگر آپ کو قتل بھی ہونا پڑے تو مع اہل و عیال گوارہ کیا اسی لیے شہزادی زینب نے فرمایا تھا کہ شہادت ان کے مقدر میں لکھی تھی اور وہ اپنے  قدموں سے  اپنی قتل گاہ تک گئے تھے

ورنہ تیری کیا مجال کہ تو ان کو قتل کرتا ۔

یعنی راہ حسینی کو طے کرنے  اور عشق حسینی میں غواصی کے لیے زحمتوں کا ذائقہ چکھنا حتمی اور لازمی ہے ورنہ دین کے نام پر منبر اور محراب کو شکم سیری کا وسیلہ اور حصولِ دنیا کا ذریعہ بنانا ابن الوقت خطباء کا کمال فن اور روایت بن چکا ہے ۔آخر کیوں جب ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے اور مظلوم کی مدد کرنے کا وقت آتا ہے تو ہم خاموش ہو جاتے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ پیغام الٰہی اور مقاصد حسینی جو ہماری فکری معراج اور معنوی بلندی کا ذریعہ ہے فقط روزگار کا ایک حصہ بن کر رہ گیا ہو ورنہ کربلا نے جن نسلی اور نسبی دیواروں کو زمین بوس کر دیا تھا وہ آج ہمارے سامنے کیوں کھڑی ہیں کہیں وہ ہمارے سراب کا ہی عجوبہ تو نہیں­بہر حال مقاصد کربلا اور عشق حسینی کی منزل سنگین ہے جہاں کمال انتہا درجۂ شہادت ہے جیسا کہ امام خمینی نے فرمایاکہ

“حضرت شید الشہداء علیہ السلام نے ہماری ذمہ داری معین کر دی ہے میدان جنگ میں تعداد کم ہونے کی بنا پر نہ گھبرائے اور شہادت سے نہ ڈرے انسان کا مقصد اور نظریہ جتنا عظیم ہو اس قدر اس کو زحمت بھی برداشت کرنی چاہئیے۔” (2)

نتیجہ: راہِ خدا میں باطل طاقتوں کے خلاف

قیام ایک شرعی ذمہ داری ہے اس پر خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی اور قیام کی انتہا درجۂ شہادت ہے ہم کو کربلا کی درسگاہ ظلم  کے خلاف اقدام کرنے کی تعلیم دیتی ہے اور صاحبان حق کا ساتھ چھوڑ دینے والوں پر لعنت کرتی ہے خواہ وہ خون حسین پر نالہ کناں ہی کیوں  نہ ہوں۔ ورنہ جناب زینب اہل کوفہ کو نالہ کناں دیکھ کر یہ نہ فرماتیں کہ “اے فریب کار اور دھوکہ باز کوفیو! نہ کبھی تمہارے آنسوں رکیں گے اور نہ کبھی تمہارا گریہ بند ہوگا۔ اللہ تم سے ناراض ہے تم ہمیشہ کے لیے عذاب میں رہو گے۔ آج روتے ہو ۔ہاںبخدا تمہیں رونا زیادہ اور ہنسنا کم چاہئیے تم نے دائمی ملامت اور ہمیشہ کی لعنت حاصل کر لی ہے یہ وہ داغ ہے جسے قیامت تک تم نہ مٹا سکوگے”(3)

لہٰذا ہم کو بیدار ہونا ہوگا اور آنسوؤں کے سیلاب اور نالہ و فغاں کی جھنکاروں کے ساتھ باطل و شرپسند عناصر کی جڑوں کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنا ہوگا خواہ وہ صیہونی اور دشمنِِ اسلام طاقتیں ہوں یا اپنے ہی آشیانے کا کوئی رقیب ہو۔

٢۔ تمام عزتیں اللہ کے لیے ہیں*فلله العزة جمیعاً،*(4)دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے کہ تمام عزتیں اللہ اس کے رسولGاور مومنین کے لیے ہیں۔ *وللّه­العزة و

ادامه نوشته

صدائے مظلوم

صدائے مظلوم

 

          سيد نصرت علي جعفري( چندن پٹوي)

مظلوم كي آوزا هميشه دبائي جاتي­هے، اور هرجگه صدائے مظلوم كا گلا گھونٹا جاتاهے ليكن  جب­مظلوم كي آه شعله ور هوتی هے تو پھر  خرمن ظالم كوجلا کرراکھ کردیتی­هے يه مظلوم كي آه نهيں بلكه حقيقي نور ايمان هے جو خدائے وحده لاشريك كي بارگاه ميں پروان چڑھتا هے۔

لهذا رهتي دنياتك مظلوم كي آه كو كئي بھی ختم نهيں كرسكتاهے، هاں مظلوم كے ظاهري مال و اسباب و نفوس كو نابود و غارت ­توكرسكتاهے ليكن دل سے نكلي  مظلوم كي آه كو ختم كرنے والا خودهي تهه و بالاهوجاتاهے۔

الله تبارك و تعالي ظالموں كے سلسله ميں فرماتاهے۔} وَ تِلْكَ الْقُرى‏ أَهْلَكْناهُمْ لَمَّا ظَلَمُوا{(1)وریہ وہ بستیاں ہیں جنہیں ہم نے­ان­کے ظلم کی بنا پر ہلاک کردیا ہے۔

ظالم سے جنگ اور مظلوموں كي آه و ناله سن كر مدد كرنا سيرت آئمه طاهرينD رهي هے او رتمام محبّان والي حيدكرار اور دوست داران رسولG كي بھي يهي سيرت هوني چائيے۔

رئيس مذهب جعفري امام صادقA ارشاد فرماتے­هيں“مَامِنْ مَظْلِمَةٍ أَشَدَّ مِنْ مَظْلِمَةٍ لَا يَجِدُ صَاحِبُهَا عَلَيْهَا عَوْناً إِلَّا اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ۔”(2)جس مظلوم كا خداكے علاوه كوئي ياور و مددگار نه هو اور اس پر كوئي ظلم كرے تو يه سب سے بڑا ظلم هے. جي هاں يهي ظلم و ستم خود ظالم و ستمگركي هلاكت و فلاكت كا سبب بنتاهے۔

اگر مسلمان ظالم كا ساتھ ديتاهے تو اس كا شمار بھي ظالموں ميں هونا چاهیے وه عمل سے هو ، چاهے مال سے هو يا زبان سے تعاوں كرے تو ايسي صورت ميں وه آئين اسلام سے هٹ كر، كتاب  خدا سے دور هوكر دنيا طلبي ميں خود كو ظالم كے حوالے كررهاهے ۔

جب كه الله تعالي صريحاً منع كررهاهے،}فَلا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرى‏ مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمينَ{ “خبر دار جب تمهيں معلوم هو جائے كه يه ظالم گروه سے هيں تو ان كے ساتھ نه بيٹھنا” اے مسلمانوں هوشيار هوجاؤ اور ديكھوان پر كبھي بھروسه بھي نه كرنا}وَ لا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذينَ ظَلَمُوا{(3) خبردارتم­لوگ­ظالموں کی طرف جھکاؤ اختیار نہ کرنا۔

فكر وشعور ركھنے والے آگاه هوجائيں كه دنيا ميں سب سے بڑا ظالم كون هے!

خطيب سلوني حضرت عليA فرماتے هيں:  “ أَجْوَرُ النَّاسِ مَنْ عَدَّ جَوْرَهُ عَدْلًا مِنْهُ۔”(4) لوگوں ميں سب سے بڑا ظالم وه هے جو اپنے ظلم كو عدالت سمجھے۔

ليكن آج كے دور ميں بلكه هرزمانے ميں يهي هوتا چلاآياهے كه مظلوم كو ظالم اور ظالم كو مظلوم­سمجھ­كر سزاسنادي جاتي هے جو بالكل قرآن و سيرت كے خلاف هے، اور پھر خود پرستي، جاه طلبي كے وه دور ميں ،مظلوم كي مدد توت دور كي بات هے مظلوم كي سننے والا بھي كوئي نهيں ملتا، آج كا مسلمان اچھي طرح واقف هے كه اس زمانے ميں قرآن و سيرت پر كتنا عمل هو رهاهے هر مسلمان خود كو مطيع مذهب و ملّت سمجھتاهے ليكن عملي ميدان ميں وه بهت پيچھے نظر آتاهے۔ ايسي افراتفري ميں آه مظلوم كو كون سنےگا! اور ان كا ياور و مددگار كون هوسكتاهے۔

دنيا كي­تيز رفتاري نے حيات ابدي كو كند، مال وزر كي كھنكھاهٹ نے مسلمانوں كو بهره، اور اس كي رنگينوں نے بصيرت كو چھين لياهے، جس كي وجه سے لوگ ظالم كے ظلم كو نظرانداز كركے مظلوم كے عيوب كي تلاش ميں لگ جاتے هيں اور اس طرح مظلوميت كا گلا گھونٹ كر تهه و بالاكردياجاتا هے۔اور يه هرزمانے ميں هوتاهے، ليكن كون درك كرلے! هاں وهي درك كرسكتاهے جو خدا كا واقعي اور محبوب بنده هوتاهے جيساكه امير دارين علي بن ابي طالبؑ  اپنے بيٹے حسينؑسے وصيت ميں فرماتے هيں؛“وَ كُونَالِلظَّالِمِ خَصْماً وَ لِلْمَظْلُومِ عَوْنا”(5) بيٹا حسين؛ ظالم كے لئے دشمن اور مظلوم كے مددگار رهو۔

امام حسينA نے اپنے شفيق پدر كي وصيت پر پورے طورسے عمل كركے ايسانمونه پيش كيا كه مذهب اسلام كے علاوه دوسرے مذهب والےاگرظلم­كاشكارهوگئے تو امام­حسينAكي مظلوميت كويادكركے صبر كرليتے هيں۔

آج مسلم ممالك ظالموں سے دوري نه كركے اپنے آپ كو موت كے حوالے كرچكے هيں جوچلتي پھرتي لاش كي طرح ديكھتے هيں ان لوگوں كي كوئي حيثيت و وقعت نهيں۔

امام حسينA نے ظالموں سے دوري كو حيات اور ان كے قرب كو موت سے تعبير كرتے هوئے غيرت دار مسلمانوں كے ذهنوں كو بيداركياهے۔“أَلا تَرَوْنَ أَنَّ الَحَقَّ لا يُعْمَلُ­بِهِ،وَأَنَّ الْباطِلَ لا يُتَناهى‏ عَنْهُ....؛ فَانّى لا ارَى الْمَوْتَ الّاسَعادَهً وَ لا الْحَياه مَعَ الظّالِمينَ الّا بَرَماً؛ إِنَّ النَّاسَ عَبيدُالدُّنْياوَالدّينُ­لَعِقٌ عَلى‏ أَلْسِنَتِهِم‏...” كيا تم نهيں ديكھتے هو كه حق پر عمل نهيں كياجاتا او رباطل سے روكانهيں جاتا، ظالموں كے ساتھ زندگي گذارنے كو هلاكت سمجھتاهوں بے شك لوگ دنيا كے غلام هيں اور دين صرف ان كي زبان تك محدود هے۔( 6)

اس زمانے ميں هرزمانے سے كهيں زياده ظلم وستم، فريب كاري و تباهي، فساد وبربريت باطل پرستي، حلال كو حرام اور حرام كو حلال كيا جارها هے، اب بولے بھي توكون بولے! چونكه دشمن بھي خودهي كافردهے اور اپنے خون كي غيوريت كا زياده خيال آتاهے ايسے پرفراز و نيشب ماحول ميں دشمن كي پهچان ايك مشكل امر هے، فرق صرف اتناهے اس زمانے ميں دشمن كھل كرسامنے آجاتا تھا اس كي پهچان هوجاتي تھي، ليكن آج كے دور ميں دين و مذهب كي آڑميں يه سب كچھ هورهاهے. اور هر مسلمان اپنے كودين كا مخلص بناكر پيش كرتاهے۔

ظالم و مظلوم كو ايك هي نظر سے ديكھاجارها هے تو پھر كون كسي كو سزادلوائے، دنياطلب او ر منحرف لوگوں كي ايك طويل فهرست ديكھي جارهي هے، لهذا كون مظلوم كي آه كو پهونچے گا اور كون كس كو سزادلوائے گا، حق پرست باطل پرستي ديكھ كر بھي خاموش اور اگر غيرت بيدار بھي هوگئي تو صرف يهي كهتے نظرآتے هيں ، جو غلط كرتاهے، كرنے دو وه خدا كو جواب دے گا، مرده اپني قبر كاذمه دار هے، كوئي كسي كي قبر ميں جواب دينے نهيں جائے گا. ايسي صورت ميں باطل پروان چڑھےگا، ظالم سرچڑھكر بولےگا اور مظلوم اپني آه كوبھي نهيں پهونچ سكتا؛آج كے دور ميں ظلم و تشدد، مكروفريب كا بازاارگرم هے، ظالم كو مظلوم اور مظلوموں كو سرعام رسوا كياجاتاهے، سچے كو جھوٹا ثابت كرنے كي كوشش كي جاتي هے، اور جھوٹے ،فاسد بے دين كو ديندار بناياجاتاهے، درحقيقت اب بھي حق و حقانيت كا گلاگھونٹنے ميں دريغ نهيں كرتے اس وقت سے آج تك مظلوم كي آه فضاميں گونچ رهي هے كه كون هے جو مير فرياد كو پهونچ، ليكن مظلوم كي آه كو سنے گا كون!حق پرست كهنے والے افراد تو بهت هيں ليكن حق پر عمل كرنے والے بهت كم، اور حق وحقانيت كي آواز باطل پرست كے كان ميں كيسے جاسكتي هے، مظلوم كے آه و ناله سن كر خاتم المرسلين كے اهلبيتD هي مدد كرسكتے هيں يا اهلبيتD كي صحيح پيروي كرنے والے ،آج پوري دنيا ميں ظالموں كے مقابلے مظلوموں كي مدد و نصر كرنے والا،ان كي آوازوں پر لبيك كهنے والا، شيعوں كے علاوه اور كون هے!اور بقيه نام نهاد مسلم حكمران شيطاني قوت وطاقت سے لرزه براندام نظرآتے هيں توبعض حكمران دنيا طلبي، عيش پرستي، جاه طلبي ميں گرفتار هيں، سچے مسلمان كي تعداد بهت كم هے، جو اسلام و مسلمين كے اوپر كسي قسم كا بدنما داغ نهيں آنے ديتے وهي سچے مسلمان اور حامي اسلام هيں، ايسے هي لوگ اپني جان كو جان اور مال كو مال نهيں سمجھتے هيں، خود تو قربان هوجاتے هيں مگر اسلام كے اوپر حمله كو برداشت نهيں كرتے، مسلمان تو بهت دوركي بات هے انسانيت كابھي خون ناحق بهنے نهيں ديتے اور نه كبھي خون ناحق بهانے كي فكر كرتے هيں،

ليكن عصر حاضر كو ديكھتے هوئے اندازه هوتا هے ظالم ظلم كرنے كے بعد بھي خود كو ظالم نهيں كهتا اور ظالم مان كرظلم بھي نهيں كرتا جبكه اس كاظلم لوگوں پرآشكار هوتاهے او رانسانيت كاخون بهانے ميں ذرابھي دريغ نهيں كرتاوه اپنے ظلم كے داغ كومٹانے كي بھرپوركوشش كبھي سكه ظلم كو ديكر، كبھي حكومت كے شكنجه ميں ركھكر كرتارهتاهے۔

ليكن ظلم سے دست بردار نهيں هوتا، فرمان خدا، فرمان اهلبيتDكوبالاي طاق ركھكر هروه گھنوناكام انجام ديتاهے. حق سے دشمني اسلام كو متوقع ملتا هے كه مسلمان كا گروه مسلمانوں كے اوپرزورآورهے، ايك ظلم وستم كركے خوش هے تو دوسرا گروه ظلم برداشت كرتے هوئے آه بھي نهيں كرسكتا اور دشمن اسلام دونوں گروهوں كا مذاق اڑاتے هوئے ان كے اوپر مسلط هوجاتاهے اسي لئے آئمه طاهرينDنے ظلم سے دوري كي تاكيد كرتے هوئے فرمايا نه كسي پر ظلم كرو اور نه اپنے اوپر ظلم هونے دو؛

امام حسينAارشاد فرماتے هيں:

“إِيَّاكَ­وَ ظُلْم ­مَنْ ­لَايَجِدُ ­عَلَيْكَ­نَاصِراً إِلَّا اللَّهَ عَزَّوَجَلَّ ۔”(7)اس بندے پر ظلم سے پرهيز كرو جس كا خداكے علاوه كوئي ياور و مددگار نه هو۔

ظلم كے مقابل قيام كرنا صرف خاندان رسولGاهلبيتDكي سيرت رهي هے امام حسينA نے قول رسول خاتمGكي تعبير كو لباس حقيقت سے آراسته كرنے كے لئے قيام كياآپ نےفرمايا:“­أَيُّهَا النَّاسُ؛إِنَّ رَسُولُ اللَّهِiقالَ:­مَنْ­رَأى‏­سُلْطاناًجائِراًمُسْتَحِلّاً لِحُرُمِ اللَّهِ، ناكِثاً لِعَهْدِ اللَّهِ، مُخالِفاً لِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ، يَعْمَلُ فِي عِبادِاللَّهِ بِالْإِثْمِ وَ الْعُدْوانِ فَلَمْ يُغَيِّرْ عَلَيْهِ بِفِعْلٍ، وَ لَا قَوْلٍ، كانَ حَقّاً عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ مَدْخَلَه‏” اے لوگو!ميرے نانا رسول اللهG نے فرمايا: جوبنده كسي ظالم حكمران كو خدا كے حلال كو حرام كرتے هوئے، عهد خداكو توڑتے هوئے، سنت رسول خدا كي مخالفت كرتے هوئے، اور مخلوق خدا كے درميان گناه اور ظلم سے كام ليتے هوئے ديكھے اور پھر اپنے قول و فعل كے ذريعه اس كي مخالفت نه كرے تو خدا كو حق هے كه وه اسے اس ظلم كے ساتھ جهنم ميں ڈال دے۔(8)

ادامه نوشته