قیام امام حسینؑ اور درس عزت
قیام امام حسینؑ اور درس عزت
شبیہ الحسن فیضی
عزت اور ذلت:انسان كي فطرت ميں كمال طلبي پائي جاتي هے اس لئے وه هميشه انساني كمالات كے حصول كی سعی و کوشش میں لگا رهتا هے، انساني كمالات ميں سے ايک عزت اور سربلندی هے كه جس كے مدّ مقابل ذلت، حقارت اور پستي پائي جاتي هے، اس كمال كے مفهوم كي اهميت كا اندازه لگانے كے لئے اتنا ہی كافي هے كه الله تعاليٰ اس صفت كو اپنے لئے ثابت كرتے ہوئے ارشاد فرماتاهے :} فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَميعا{ (1)بیشک ساری عزّت صرف اللہ کے لئے ہے ۔
عزت كے معني اور مفهوم کو درک كرنے ميں لوگ برابر نهيں هيں بلكه ہر انسان اپنے علم و دانست كے مطابق عزت كا مفهوم سمجھتا هے يه اختلاف بھي عزت آفرين امور كي وجه سے پايا جاتا هے كيونكه بعض لوگ صرف دنيا اور اس كے مادي عناصر كو نظر میں رکھتے ہوئے اپني عزت كو انهي امور ميں منحصر جانتے هيں ۔ ليكن دين كي نظر ميں عزت كي ايك الگ اور ممتاز تفسير هے جو سب سے نرالي نظر آتي هے، دين كي نظر ميں ايمان اور عمل صالح يعني اخلاقي فضائل آراسته هونا اور برے صفات سے دور رهنا انسان كے لئے باعث عزت هیں اور اس کے علاوہ دوسری چیزیں ذلت و خواری كی موجب بنتی ہیں ۔ الله تعالٰي نے اپني كتاب وافي هدايت ميں عزت كے حصول کے بارے میں اس طرح بيان كيا هے:
} مَنْ كانَ يُريدُ الْعِزَّةَ فَلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَميعاً إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ وَ الَّذينَ يَمْكُرُونَ السَّيِّئاتِ لَهُمْ عَذابٌ شَديدٌ وَ مَكْرُ أُولئِكَ هُوَ يَبُورُ{،2))جو شخص بھی عزّت کا طلبگار ہے وہ سمجھ لے کہ عزّت سب پروردگار کے لئے ہے، پاکیزہ کلمات اسی کی طرف بلند ہوتے ہیں اور عمل صالح انہیں بلند کرتا ہے اور جو لوگ برائیوں کی تدبیریں کرتے ہیں ان کے لئے شدید عذاب ہے اور ان کا مکر بہرحال ہلاک اور تباہ ہونے والا ہے ۔
امام صادق علیہ السلام فرماتے هيں:"جو شخص خدا كي بندگي نه كرے اس كي كوئي عزت نهيں هے اور هر وه شخص جو خداوند عالم كے سعادت بخش دستورات كے مقابلے تواضع اور انكساري اختيار نه كرے اس كے لئے کوئی مرتبه، سربلندی اور سرفرازی نهيں هے ۔
پیغام عزت:عزت و آبرو کی حفاظت اور ذلت وخواری کو قبول نہ کرنا حسینؑ اور اصحاب حسینی کے اہم ترین پیغامات میں سے ہے، حضرت ؑنے درس و پیغام دیا کہ ظالموں و ستمگروں سے مبارزہ کرتے ہوئے موت کا آجانا سعادت کا باعث ہے اور ظالموں کے ساتھ زندگی بسر کرنا ذلت و خواری کا سبب ہے :* فَإِنِّي لَا أَرَى الْمَوْتَ إِلَّا سَعَادَةً وَ الْحَيَاةَ مَعَ الظَّالِمِينَ إِلَّا بَرَما *،(3)
امامؑ کے اس کلام سے پتہ چلتا ہے کہ جو قوم و ملت الٰہی اہداف و مقاصد کی بقاء کے لئے ظالموں و ستمگروں سے مبارزہ کرتی ہے وہ ایک زندۂ جاوید قوم و ملت ہوا کرتی ہے اگرچہ اس راہ میں قتل کر دیئے جائیں، اسی دلیل کے تحت شہید راہ خدا ہمیشہ زندہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد بھی گواہ ہے :} وَلاَ تَقُولُواْ لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبيلِ اللّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاء وَلَكِن لاَّ تَشْعُرُونَ {(4) شہدائے کربلا نے بقائے اسلام کے لئے اپنی جانیں راہ خدا میں قربان کرکے حیات جاودانی حاصل کرلی ہے ۔
امام صادقؑ کا ارشاد ہے :*إِنَّ اللَّهَ فَوَّضَ إِلَى الْمُؤْمِنِ أُمُورَهُ كُلَّهَا وَ لَمْ يُفَوِّضْ إِلَيْهِ أَنْ يَكُونَ ذَلِيلًا أَ مَا تَسْمَعُ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ - وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُولِهِ وَ لِلْمُؤْمِنِينَ ۔ فَالْمُؤْمِنُ يَكُونُ عَزِيزاً وَ لَا يَكُونُ ذَلِيلًا*،(5)خدا نے مومن کے تمام امور کو ان کے حوالہ کیا ہے مگر اس لئے نہیں کیا کہ ذلیل و خوار ہو، کیا اللہ تعالی کا ارشاد نہیں سنا ہے کہ، عزت خدا و اس کے رسول اور مومنین کے لئے ہے، پس مومن صاحب عزت ہوتا ہے نہ کہ ذلیل و خوار ۔
یہ حسینی پیغام تمام مسلمانوں، آزاد اور حریت پسند انسانوں کے لئے ہے کہ ستمگروں، ظالموں اور خونخوارں کے تسلط کو قبول کرکے ذلیل و خوار نہ ہوں بلکہ اپنی پوری قوت و طاقت سے ان کا مقابلہ کرکے صاحب عزت و سربلند اور سرفراز رہیں ۔
عزت کا ایک نمونہ :
اسی عزت و سربلندی اور سرفرازی کا نمونہ آیئے کلام امام زین العابدین ؑمیں ملاحظہ فرمائیں جو واقعۂ کربلا سے متعلق ہے، امام صادق ؑفرماتے کہ امام حسینؑ کی شہادت کے بعد جب ابراہیم بن طلحہ کا حضرت زین العابدین ؑسے سامنا ہوا تو (اس نے طنز کے طور پر) کہا : "يا عَلِىَّ بْنَ الْحُسَيْنِ مَنْ غَلَبَ ؟ اے على بن الحسينؑ اس جنگ میں کس کو فتح و کامیابی ہوئی ہے ؟!
ہمارے چوتھے امام عليه السلام فرمایا :*اذا ارَدْتَ أَنْ تَعْلَمَ مَنْ غَلَبَ وَ دَخَلَ وَقْتُ الصَّلاةِ فَاذِّنَ ثُمَّ اقِمْ* اگر تم جاننا چاہتے ہو کہ فتح و جیت کس کی ہوئی ہے (امام حسين عليه السلام یا يزيد کی) تو جب نماز کا وقت آجائے اس وقت اذان اور پھر اقامت کہو، (معلوم ہوجائے گا کہ کون جیتا اور کون ہارا) ،(6)۔
حضرتؑ نے اپنے اس جواب سے سمجھا دیا کہ یزید جیسے ذلیل شخص کا مقصد اسلام اور نام رسول خدا کو مٹانا تھا مگر ہمارے والدِ بزگوار اور ان کے باوفا اصحاب کے قیام اور شہادت کی برکت سے آج بھی*لَا إلَهَ إلّا اللهُ وَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَهِ*کی آواز کی گونج میناروں سے سنائی دے رہی ہے اور تمام جگہوں پر مسلمان (یہاں تک کی شام اور یزید کے دربار میں بھی) اللہ کی وحدانیت اور محمدﷺ کی رسالت کی گواہی دے رہے ہیں ، اب دیکھو کہ فاتح اور صاحب عزت و وقار ہم ہیں اور یزید ذلیل و ناکام ہے ۔
حضرت سید الشہداء امام حسینؑ اور ان کے باوفا ساتھیوں کی مقاومت، پائیداری اور شہادت تھی کہ جس نے دین الٰہی کو ایسے پر آشوب دور میں نجات دیا اور اپنے خون سے سینچ کر گلشن اسلام کو سرسبز و شاداب بنا دیا، اگر امام حسین ؑنے قیام نہ کیا ہوتا تو حقیقی اسلام کا نام و نشاں باقی نہ ہوتا :
گر نبود حسین نامی ز اسلام نبود
ز خداوند و ز احمد ز علی نام نبود