چهل حديث روزه

جمع آوری : محمد حسين فلاح زاده
ترجمہ : شبیر حسین وزیری
* يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيامُ كَما كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُون‏ *
خدا وند عالم فرماتے ہیں:
اے ایمان والو!تم پر روزے کا حکم لکھ دیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر لکھ دیا گیا تھا تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو.(1)
1- اسلام کی بنیاد 
“قال الباقر عليه السلام:
بنى الاسلام على خمسة اشياء، على الصلوة و الزكاة و الحج و الصوم و الولايه”
امام محمد باقر فرماتے ہیں :اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے ، نماز ، زکات ، حج ، روزہ اور ولایت (رہبری اسلامی).(2)
-۲ روزے کا فلسفہ
“قال الصادق: انما فرض الله
الصيام ليستوى به الغنى و الفقير”
 “امام صادق عليه السلام فرماتے ہیں :
خدا نے روزے کو اسلئے واجب کیا ہے تاکہ اسکے ذریعے غنی اور فقیر یکساں ہو جائے”. (3)
3- روزہ اخلاص کا امتحان
“قال اميرالمومنين عليه السلام:
فرض الله ... الصيام ابتلاء لاخلاص الخلق‏”
امام على عليه السلام فرماتےہیں:
خدا نے روزے اسلئے واجب کیا ہے تاکہ اسکے ذریعے بندوں کی اخلاص کا امتحان لیا جائے.(4)
4- روزہ قیامت کی یاد دلاتی ہے
“قال الرضا :انما امروا بالصوم لكى يعرفوا الم الجوع والعطش فيستدلوا على فقر الاخرة”
امام رضا عليه السلام فرماتے ہیں:
لوگوں کو روزہ رکھنے کا اسلئے حکم ہوا ہے تاکہ بھوک اور پیاس کی تکلیف کا پتہ چلے  اور اسکے ذریعے آخرت کی بھوک اور پیاس کا احساس هو.
5- روزہ بدن کی زکات  
“قال رسول الله صلى الله عليه و آله لكل شيئى زكاة و زكاة الابدان الصيام”
“پیغمبر اسلام ﷺفرماتے ہیں:
ہر شی کی زکات ہے اور بدن کی زکات روزہ ہے”.(5)
6- روزہ جہنم کی آگ کیلئے ڈھال ہے
قال رسول الله صلى الله عليه و آله: الصوم جنة من النار.
پیغمبر اسلام ﷺفرماتے ہیں:
روزہ جہنم کی آگ کیلئے ڈھال ہے ۔ یعنی روزہ رکھنے کے ذریعے انسان جہنم کی آگ سے محفوظ رہے گا.(6)

ادامه نوشته

پیش گفتار

سجدہ اسلام اور اہل اسلام کی نگاہ میں انسان کا خالق کی بارگاہ میں نہایت فروتنی و بردباری کے ساتھ سر جھکا نے کا نام ہے جو آدمیت کے لئے ” عبودیت “ کی معراج ہے ۔ ا سی لئے قرآن مجید نہ فقط انسان کو ،بلکہ دنیا کی تمام چیزوں کو سجدہ کرنے والے کے عنوان سے تعبیر کرتا ہے ، جیسا کہ قول خداوند عالم ہے :< وَلِلَّہِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ> اور جو کچھ زمین و آسمان میں ہے ، سب اس کیلئے سجدہ کرتے ہیں۔ (۱)
اس بارے میں تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ نماز کی ہر رکعت میں دو سجدے واجب اور فرض ہیں اورانھیں انجا م دینا ضروریات دین و اسلام میںسے ہے لیکن اسکی کیفیت اوراسے انجام دینے کے طریقے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں ۔
تشیع : اس مذہب کے افراد سنت و سیرت نبی (ص)اور آپکے اہل بیت طاہرین (ع)و اصحاب آنحضرت (ص)اور تابعین کی عملی سیرت کی روشنی میں سجدہ اللہ کے لئے فقط زمین اور جو چیز ا س سے اگتی ہے ۔

ادامه نوشته

 ۱ ۔ شیعوں کا نظریہ

دوستداران اہل بیت (ع)، سنت اور سیرت معصومین (ع) کی پیروی کرتے ہوئے صرف زمین اور جو چیز اس سے اگتی ہے ( لیکن کھانے اور پہننے والی نہ ہو ) اس پر سجدہ اللہ کے لئے کرتے ہیں ، اور درگاہ خدائے یکتا و لازوال میں مزیدخشوع و خضوع ا ور فروتنی کے لئے خاک کربلاپر سجدہ کرتے ہیں اس لئے کہ خدا کے سامنے خاک پر سجدہ کرنا انسان کی فروتنی و خاکساری کی دلیل ہے جس سے انسان مقام بندگی و عبودیت کے بلند مرتبے اور اپنی پیدائش کے پہلے مقصد سے قریب ہوتا ہے ۔
بعض نے یہ گمان کیا ہے کہ مٹی پر سجدہ کرنا خود مٹی کی عبادت ہے اور مٹی کی عبادت کرنا شرک ہے ۔ ( پس مٹی پر سجدہ کرنے والے مشرک ہیں ) لہٰذا وہ مقام اعتراض میں یہ کہتے ہیںکہ شیعہ کیوں مٹی پر سجدہ کرتے ہیں ؟ ان کے جواب میں ہم یہ بتانا چاہینگے کہ یہ دو جملے الگ الگ ہیں ۔ ۱۔ < السجود للہ > یعنی سجدہ فقط اللہ کے لئے کرنا ۔ ۲ < السجود علی الارض> یعنی زمین پر سجدہ کرنا ،ان دونوں جملوں میں فرق واضح ہے لیکن جو معترض ہے وہ ان دو نوں جملوں میں فرق نہیں کرتا ہے ۔ جبکہ دونوںکے معنی روشن ہیں ایک ہے اللہ کے لئے سجدہ کرنا اور دوسرے کامطلب زمین پر سجدہ کرنایا دوسر ے الفاظ میں دونوں کو ملا کر کہیں ”زمین پر اللہ کے لئے سجدہ کرنا“ لہٰذا ہم ایسا ہی کرتے ہیں ( یعنی زمین پر اللہ کے لئے سجدہ کرتے ہیں ) یہ بنیادی بات بھی ذہن نشین رکھنا چاہئے کہ دنیا کے تمام مسلمان کسی نہ کسی چیز پر سجدہ کرتے ہیں جبکہ ا ن کا سجدہ خداکے لئے ہوتا ہے اور اسی طرح تمام حاجی حضرات مسجد الحرام کے پتھروں پر سجدہ کرتے ہیں جبکہ انکامقصد خدا کے لئے سجدہ کرنا ہے ۔
اس بیان کی روشنی میں خاک ( مٹی ) اور گھانس پر سجدہ کرنے کا مطلب خود اسکو سجدہ کرنا نہیں ہے بلکہ عبادت و سجدہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے لئے ہے ۔ یہیں سے دونوں جملوں کا فرق واضح ہو جاتا ہے کہ مٹی پر سجدہ کرنااور اللہ کے لئے سجدہ کرنا جدا ہے۔لہٰذا ہم اپنی بات کو مزید واضح کرنے کے لئے امام مکتب تشیع حضرت جعفر (ع) کے اقوال کا سہارا لیتے ہوئے اور وضاحت کرنا چاہتے ہیں :ہشام کہتے ہیں کہ میں نے جن چیزوں پر سجدہ کرنا صحیح ہے ان کے متعلق امام جعفر صادق (ع) سے سوال کیا ۔ تو حضرت (ع) نے ارشاد فرمایا : سجدہ فقط زمین اور جو چیز زمین سے اُگتی ہے ( سوائے کھانے اور پینے والی چیزوں کے ) اسی پر سجدہ کرنا چاہئے میں نے عرض کیا مولا آپ پر میری جان فدا ہو ۔ اس کی علت کیا ہے ؟ فرمایا: اس لئے کہ سجدہ خضوع و فروتنی اورعبادت پروردگار عالم ہے ، اور کھانے و پینے والی چیزوں میں یہ صلاحیت نہیں پائی جاتی کی اس سے خدا کی بارگاہ میں خضوع و فروتنی حاصل کی جا سکے ۔ اس لئے کہ اہل دنیا کھانے اور پینے کے غلام ہیں جبکہ انسان سجدہ کی حالت میں خدا کی عبادت کرتا ہے کیونکہ جو معبود اہل دنیا کو حیران اور سرگردان کئے ہو اسکے اوپر پیشانی رکھ کر خدا کی بارگاہ میں آئے بہتر نہیں ہے ( اس لئے کہ تذلل اور اپنے کو پست و بے تکبر خدا کے سامنے پیش کرنے کا نام سجدہ ہے ) زمین پر سجدہ کرنا بہتر ہے کیونکہ خدائے بزرگ و برتر کے حضور میں خضوع و خشوع کے لئے یہی حا لت سب سے زیادہ بہترہے۔ (۱)

ادامه نوشته

۔ مجبوری کی حالت میں سجدہ

گذری ہوئی بحثوں اور دلیلوں سے بہت حد تک یہ واضح ہو گیا کہ انسان کو اختیاری حالت میں زمین ( اور جو چیز اس سے اگتی ہے ) پر ہی سجدہ کرنا چاہئے کیونکہ:
۱۔ زمین اور سطح زمین پر سجدہ کرنا سنت نبی (ص) اور آپ کا حکم ہے ۔
۲۔ زمین پر سجدہ کرنا آنحضرت (ص) کی سیرت اور عملی روش ہے ۔
۳۔ زمین پر سجدہ کرنا حضور (ص) کے اصحاب کے حکم کے مطابق ہے ۔
۴۔ زمین پر سجدہ کرنا سیرت صحابہ اور تابعین اور صدر اسلام کے مسلمانوں کا وطیرہ ہے ۔
۵۔ زمین پر سجدہ کرنا ،اہل بیت اطہار (ع)کا حکم ہے ۔
۶۔ زمین پر سجدہ کرنا حضور کی عترت پاک (ع) کی سیرت عملی ہے ۔
یہاں پر ایسی روایتوں کو بیان کرناچاہتا ہوں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ انسان جب بالکل تحمل نہ کر سکے جیسااتنی شدید گرمی یاایسی شدید سردی ہو کہ جو ناقابل برداشت ہویاکسی دوسرے معقول و شرعی عذر کی بنا پر لباس کے کناروں یا کپڑے کے ٹکڑوں پر سجدہ کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔

ادامه نوشته